66 total views, 1 views today

’’توارد‘‘ ایک شعری اصطلاح ہے جس سے مراد ہے باہم ایک جگہ اُترنا۔
دو شخصوں کا بیان کیا گیا مضمون مکمل حالت میں یا اس کا زیادہ تر حصہ ایک جیسا ہو، تو یہ ’’توارد‘‘ ہے۔
شعرا نے اسے ’’دو شاعروں کا مضمون آپس میں لڑنا‘‘ بھی بیان کیا ہے۔
دنیائے خیال میں اکثر ہوجاتا ہے کہ ایک مضمون جو پہلے سے کسی شاعر نے اپنے شعر میں باندھا، بعد میں کسی اور کے ذہن میں توارد ہوجائے۔ اس کی تین وجوہات ہیں:
پہلی، دورانِ مطالعہ کوئی خیال یا خوبصورت مضمون کسی شاعر نے پڑھ لیا جو اس کے شعور کے کسی کونے میں محفوظ ہوگیا۔ عرصے بعد اسے یاد نہ رہا کہ یہ مضمون کس کا تھا اور شعوری ارادے کے بغیر وہی مضمون دورانِ فکرِ شعر نظم ہوگیا۔
دوسری، اتفاقاً بھی کوئی ایسا خیال قدرتی طور پر ذہنِ شاعر سے ٹپک سکتا ہے، جو اس سے قبل کسی نے باندھا ہو۔
تیسری وجہ، ارادتاً کسی کے خیال کو اپنے لفظوں میں بیان کر دیا گیا (یہ سرقہ ہے)۔
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن صفحہ نمبر85-86 سے انتخاب)






تبصرہ کیجئے