793 total views, 1 views today

مثمن (Octagon) اپنی ہیئت کے لحاظ سے ایک ہشت پہلو صنفِ شاعری ہے۔ مثمن میں پہلے چھے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، پھر دو مصرعے اسی بحر میں مختلف ردیف قافیے کے ساتھ۔ اسی طرح آٹھ آٹھ مصرعوں کے بند ہوتے ہیں۔
مثمن کو سمجھنے کے لیے مسدّس پر غور کرنا چاہیے۔ کیوں کہ مسدّس اور مثمن ہم شکل ہیں۔ فرق صرف مصرعوں کی تعداد کا ہے (یعنی مسدّس میں چھے اور مثمن میں آٹھ مصرعے ہوتے ہیں)۔
مثمن کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو:
کل گھر میں جو بیٹھے تھے سراسیمہ و حیراں
اس حال کے دیکھے سے ہوا حال پریشاں
غصے کے سبب چُھپ نہ سکی رنجشِ پنہاں
سمجھا میں کہ یوں بھی تو ہے مایوسی و حرماں
انصاف کرو صبر کرے کب تلک انساں
ناچار کہا طعن سے میں نے کہ مری جاں
کس سوچ میں بیٹھے ہو ذرا سر تو ہلاؤ
گو دِل نہیں ملتا ہے، پر آنکھیں تو ملاؤ
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف ادبی اصطلاحات مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، صفحہ نمبر 57-156 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے