269 total views, 1 views today

سعید احمد سعیدؔ کو میں جانتا نہ پہچانتا ہوں۔ البتہ اُن کے متعلق سن ضرور رکھا ہے کہ وہ اک انتہائی شریف، ملنسار اور خاکسار بندہ ہے۔ اُس کی شرافت، بھلے مانسی اور خوش اخلاقی کا ذکر مجھے میرے ادبی دوست میاں علی نواب پریشانؔ نے اُس وقت کیا جب اُن کی کتاب ’’شعر او شعور‘‘ مجھے تحفتاً دے رہے تھے۔ جب میں نے اُن سے پوچھا کہ موصوف کہاں کے ہیں؟ تو کہنے لگے، ’’اشاڑے۔‘‘ جی ہاں! شبنمؔ اور خادمؔ کا اشاڑے، جمال، ناشادؔ، مہجورؔ، راہیؔ اور ایوب کا اشاڑے، جسے خدانے قدرتی حسن، سیاست اور علم و ادب کے ہنر سے بھی آراستہ کر رکھا ہے۔ پریشانؔ نے مجھے مزید حیران و پریشان اُس وقت کیا جب کہا کہ ’’موصوف ریاضی کے پروفیسر ہیں اور انگلینڈ سے علمِ ریاضی میں پی ایچ ڈی کرکے آئے ہیں۔‘‘ میں نے سوچا کہ کہاں علمِ ریاضی کا گنجلک اور پُر پیچ علم اور کہاں پشتو ادب کی سبک گام شہزادی؟ لیکن ان سر پھروں کا کیا کیا جائے جنہوں نے اپنے جنوں کی بدولت اپنی ’’ماں بولی‘‘ کو بھی زندہ رکھا ہے اور ضرورتوں کو بھی۔ سعید کو اپنی ماں اور اُس کی بولی (پشتو) سے عشق ہے، تو ریاضی اُس کی ضرورت۔ بقول نذیر تبسمؔ
عشق اور ضرورت میں اِک عجیب ناتا ہے
وصل کس سے ہوتا ہے، یاد کون آتا ہے
جب میں نے کتاب میں اپنے دوست سعید اللہ خادمؔ کا مضمون پڑھا، تو پتا چلا کہ موصوف حافظِ قرآن بھی ہیں اور خطاط بھی۔ اتنی ڈھیر ساری صفات اور جہات قابل داد ہی نہیں واجب الداد بھی ہیں۔ خادمؔ کے علاوہ محبی ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی، رحمت شاہ سائلؔ اور میاں علی نواب پریشانؔ جیسے اساتذہ نے بھی کتاب پہ دیباچے لکھے ہیں۔
187 صفحات کی اس مجلد کتاب کا گیٹ اَپ بھی خوبصورت ہے اور ٹائٹل بھی۔ جس طرح ٹائٹل پہ دھنک کے رنگ دھرتی کو منور کر رہے ہیں، اسی طرح سعیدؔ کی شاعری کے مضوعات بھی اپنا جداگانہ رنگ رکھتے ہیں۔ یہاں اگر اِک طرف ماورائی دنیا کے قصے ہیں، تو دوسری طرف انسان دوستی، وطن دوستی، علم دوستی، مذہب سے لگاؤ، اتحاد، اتفاق اور بھائی چارے کا درس بھی موجود ہے۔ اُسے جتنی محبت اپنی مرحومہ ماں سے ہے، اتنی ہی محبت اُسے اُس کی زبان پشتو سے بھی ہے۔ اسی لیے برملا کہتے ہیں کہ
د پت، خیگڑے،تورے اور وفا یو مجموعہ دہ
ہیس کلہ پختو نہ دہ د یو سو خبرو توری
جب کہ ماں کی جدائی میں لکھتے ہیں کہ
ستا د مینے ڈگے سترگے زما مورے
او خوگے خوگے خبرے پہ زڑہ پورے
سنگہ ہیرے بہ زماشی سنگہ ہیرے؟
چی پہ شان ئی ما ونہ لیدلے نورے
ستا یادونہ پہ ہر لوری رانہ تاؤ دی
خیر کہ ستا نہ دی چاپیرہ خاورے تورے




ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ کا شعری مجموعہ “شعر اور شعور” سوات کے ہر اچھے بک سٹال سے بارعایت دستیاب ہے۔

سعید کے ہاں محبوب کے عارض و کاکل،اُس کی جدائی میں رونے دھونے اور مر مٹنے کے قصے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اُن کے ہاں اِک سنجیدہ پن، قوم کا اجتماعی درد اور راہِ راست پہ آنے اور لانے کی باتیں ہیں، لکھتے ہیں:
سعید بہ سنگہ د جانان سترگے او شونڈے ستائی
چی گلدرے د پختونخوا پہ وینو سرے پرتے دی
یا یہ بھی کہ
نہ مو جومات کے سوک محفوظ دی نہ پہ کور دننہ
رنگینہ خاورہ کے بے رنگہ زندگی تیر یگی
اور یہ بھی کہ
سہ کافرے سترگے وے چی ہر سہ ئے لوخڑہ کڑل
کلہ می راتلو پہ خکلی سوات د ورانیدو یقین
پختونوں کے انتشار، اُن کی بدحالی اور آنے والے دنوں کی قیامتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
رازیٔ چی د یو والی لمن ونیسو پہ گڈہ
دے کرکو، زان زانو خو مونگ بے کچہ کڑو کمزوری
اُسے موجودہ نظام سے چڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدرالحکیم حکیم زئی کو یہ کہنا پڑا کہ ’’وہ دو قومی نظریے کا قائل نہیں۔‘‘ اُسے ایسے نظام کی تلاش ہے جو انسانیت، اجتماعیت اور آفاقیت کا درس دیتا ہو۔ اسی لیے وہ تڑپ کر کہتا ہے کہ
لٹون د دخمن مہ کوئی بل ہیچ چرتہ ملگرو
زمونگ د ارمانونو قاتل دا سپیرہ نظام دے
ذرایہ شعر بھی ملاحظہ ہو
چی میشتہ می دے اشنا پہ تصور کے
زائے بہ نہ کڑمہ دنیا پہ تصور کے
د تیارو خبرے کلہ پہ ما لگی
زہ لرم سپینہ رنڑا پہ تصور کے
چوں کہ سعید کی پرداخت علمی گھرانے میں ہوئی۔ اس لیے اُن کی عملی زندگی میں بھی اس کا بھرپور عکس موجود دکھائی دیتا ہے۔ وہ بندوں کی بندگی کا قائل نہیں اسی لیے بے ساختہ کہہ ڈالتا ہے کہ
ستا کرم دے چی دی زان تہ پہ سجدہ کڑم
گنی گران بہ می ژوندون ووپہ سجدو کی
جب کہ دوسروں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
ہسے پہ خُلہ باندے اسلام دے زمونگ
نور رواجونہ د ہندوانو کوو
تقویٰ سبب د عزت گنڑو مگر
عزت خالص د مخایانو کوو
فکری حوالوں کے ساتھ ساتھ اُن کی شاعری میں فنی محاسن بھی بڑے خوبصورت در و بست کے ساتھ موجود دکھائی دیتے ہیں۔ ذرا ان اشعار میں اُن کا بانکپن، نزاکت اور نازک خیالی ملاحظہ ہو، جس میں صنعتِ تلمیح بھی ہے، استعارہ بھی اور کنایہ بھی، لکھتے ہیں:
د لیدلو تاب می نشتہ پہ ککو کے
زکہ یار رانہ پٹ کڑے زان حجاب کے
ستا دحسن جواب نشتہ پہ دنیا کے
نہ یا سمین کے، نہ لالا کے، نہ گلاب کے
رعایتِ لفظی اور تجنیس کی مثال دیکھیے
زہ کہ تور شمہ د عشق پہ تور سعیدہؔ
خو دی تور تہ می پسخیگی فریختے
اس ہائیکو میں مجازِ مرسل کی مثال ملاحظہ ہو (تھوڑی ترمیم پہ معذرت)
بیامی پہ قبر فاتحہ مہ لولہ
ژوند کی پیدا می کڑہ اسباب د ژوندون
خدائیگو چی پروت درنہ پہ اوورکے یمہ
قارئین، اب ایسا بھی نہیں کہ وہ مکمل طور پر زاہدِ خشک ہی ہیں۔ اُن میں کہیں کہیں شوخی و ظرافت کے ساتھ ساتھ رومان کی جھلک بھی نظر آجاتی ہے۔ ذرا اس ہائیکو میں سائنٹیفک شوخی ملاحظہ ہو
چی تہ پروٹان شوے، نیوکلس لہ لاڑے
زہ الیکٹران شوم ہم د دغے ایٹم
زکہ ہر وخت درنہ چاپیرہ چورلم
ذرا رومان کی ہلکی سی جھلک بھی ملاحظہ ہو
پہ لوئی ہنر زما د ہر ارمان نیوکہ کوی
رازی کہ نہ خو د راتللو وعدہ کلکہ کوی
یا یہ بھی کہ
احسان ئے دے پہ ما باندے د غرہ ہمرہ سعیدہ
کوی د رنزور زڑہ چی می دوا پہ خاموشی
الغرض! ’’شعراوشعور‘‘ جس کے نام میں تجنیس حرفی ہے۔ ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ کا اِک ایسا سنجیدہ شعری تحفہ ہے جو ہر کسی کو تحفے میں دینے اور لائبریری میں رکھے جانے کے قابل ہے۔
نچوڑ د اشاڑوال سعید د ہلو زلو دا دے
د مینے د مسلک سرہ دنیا تہ رسیدل

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے