968 total views, 1 views today

بارھویں صدی کے طبیب، فلسفی اور ارسطو اور افلاطون کے مفسر اور معقولات کے عظیم مفکر ’’ابنِ رشد‘‘ کی زندگی بھی مشکلات میں ہی گزری۔ وہ قرطبہ کے قدیم خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ قاضی بھی رہے۔ بعد میں انہوں نے اعلان کیا کہ جو بھی انسانی اعضا کے بارے میں علم حاصل کرلے گا، اللہ پر اس کا ایمان راسخ ہوجائے گا۔ وہ الموحد حکمران یوسف اور یعقوب کے مشیرِ خاص بھی رہے۔ وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے خطیب اور یونانی فلسفے کے شارح مانے جاتے تھے۔ اکمل الدین احسان اوغلو نے ان پر جو تھیسس لکھا ہے، اس کا عنوان ہے: ’’مسلم تہذیب کو یورپ کی دین۔‘‘ ٹامس ایکویناس اور دانتے نے یونانی فلسفہ، یونانی زبان سے نہیں سیکھا بلکہ ابن رشد کی شرح اور ان کے اضافے سے سیکھا۔ چوں کہ وہ معقولات کے فلسفی مانے جاتے ہیں، اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہیں تصوف سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ حالاں کہ وہ تصوف سے بہت متاثر تھے۔
ابنِ رشد کو فقہا سے کوئی رغبت نہیں تھی۔ ان کا مقصد وحی اور عقل، فلسفہ اور ایمان اور تحقیق اور اقدار کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ فقہا کے مقابلے میں فلسفیوں کے لیے اس بات کی زیادہ گنجائش ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر کریں۔ کیوں کہ وہ سائنس اور فلسفے کی سچائیوں کو زیادہ جانتے ہیں۔ چوں کہ حق ایک ہے، اس لیے وحی اور سائنس میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ لیکن سائنس اور فلسفہ، الٰہیات کی ضد ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ وہ کمتر مفکروں کی تشریح اور تفسیر کے سوا اور ہے ہی کیا؟
ابنِ عربی کی طرح ابنِ رشد پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور جلا وطن کردیا گیا۔ (ضیاء الدین سردار کی ترجمہ شدہ کتاب ’’جنت کے لیے سرگرداں‘‘ (مترجم، مسعود اشعر) کے صفحہ نمبر 299-300 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے