808 total views, 2 views today

قارئین کرام! اس وقت قبلہ ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب کی نئی تالیف ’’ٹپے‘‘ میرے ہاتھ میں ہے۔ ـایک عرصہ سے ’’ٹپہ‘‘ کے حوالے سے سنتا چلا آ رہا ہوں کہ یہ پشتو لوک شاعری کی ایک قدیم صنف ہے مگر اس حوالہ سے کوئی مستند حوالہ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ اب جب کہ ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ کتاب ہاتھ لگی، تو ’’رگِ تحقیق‘‘ پھڑک اٹھی اور اپنی ذاتی لائبریری میں اس حوالہ سے ’’ٹپے‘‘ کے ساتھ دیگر کتب سے گرد اُڑانے کی ٹھان لی۔
ادب کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناتے شاعری روزِ اول سے میری گھٹی میں ہے۔ غزل کے ساتھ اگر کوئی صنف میری پسندیدہ ہے، تو وہ ’’ٹپہ‘‘ ہی ہے اور اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ میرے لیے غزل اور ٹپہ میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوا، تو میں ٹپہ کو اولیت دوں گا۔ ٹپہ میں کتنا دم ہے؟ یہ شائد ان طلبہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا، جنہوں نے کبھی میرے کلاس میں حاضری دی ہو۔ جب بھی کلاس بوریت کا شکار ہو، تو بس ایک ٹپہ ماحول کو زعفران زار بنانے کے لیے کافی و شافی ہوتا ہے۔ ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے مصداق ذیل کے ٹپے ملاحظہ ہوں:
د منزرو د خکار سڑے ووم
پہ تا مئین شوم گیدڑان می زغولوینہ
پہ تش دیدن می کار ونہ شو
را پہ شا کیگہ چی دی خپل وطن تہ وڑمہ
ٹپہ کے حوالہ سے قبلہ ڈاکٹر سلطانِ روم اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 6 پر پشتو میں رقم کرتے ہیں: ’’بعض لوگ اور لکھاری عام طور پر ٹپہ کو پشتو گیت کی ایک پرانی قسم گردانتے ہیں۔ اس لیے ٹپہ کا ذکر مذکورہ حوالہ سے کیا جاتا ہے اور کتابوں کے نام بھی اُسی طریقہ سے رکھے گئے ہیں۔ اس بات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ ٹپہ پشتو شاعری کی ایک پرانی قسم تو ہوگا، مگر اسے صرف گیت ماننا یا پشتو لوک گیت کہلوانا بالکل درست نہیں۔ کیوں کہ گیت شاعری کی ایک خاص صنف یا قسم ہے، لیکن ٹپہ کا دامن بہت وسیع ہے۔ المختصر اس میں زندگی کے ہر رُخ کا احاطہ کیا گیا ہے اور اب بھی کیا جا رہا ہے۔ شائد اس لیے ٹپہ کو ’’پشتو کا انسائیکلو پیڈیا‘‘ کہنا بے جا نہ ہوگا۔‘‘
اسی حوالہ سے درویش منش شاہ وزیر خان خاکی اپنی تحقیقی کتاب ’’پہ ٹپہ کی د سترگو ہر اڑخیز جاج‘‘ کے صفحہ نمبر 15 پر پشتو میں کچھ یوں رقم کرتے ہیں: ’’ٹپہ کو چار مختلف ناموں ٹپہ، مصرعہ، لنڈئی اور ٹکئی یا ٹیکئی سے جانا جاتا ہے۔ بطورِ خاص لوئر پختونخوا میں پشتو لوک شاعری کی اس صنف کو ٹپہ یا مصرعہ کہا جاتا ہے اور اَپر پختونخوا (افغانستان) میں اسے لنڈئی اور ٹکئی یا ٹیکئی کہا جاتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب ٹپہ کے حوالہ سے اپنی تالیف ’’ٹپے‘‘ کے صفحہ نمبر 8 پر رقم کرتے ہیں کہ ’’ٹپہ دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے مصرعے کا وزن 9 بحر جب کہ دوسرے کا 13 ہوتا ہے۔ ٹپہ بلا تردد محدود الفاظ میں پوری بات اور مطلب بیان کرنے والی صنف ہے۔‘‘
ٹپہ کے بارے میں محترمہ سلمیٰ شاہین کی دو جلدوں پر مشتمل تالیف ’’روھی سندری (ٹپے)‘‘ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کتاب کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر 10 پر محترمہ نے ٹپہ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا ہے: ’’ٹپے کی قدامت کے حوالہ سے مؤ رخین مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بعض اسے سولہویں صدی عیسوی کی صنف گردانتے ہیں اور بعض اس حوالہ سے پہلی صدی ہجری کا ذکر کرتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال اس بارے میں کچھ یوں ہے کہ جس طرح ٹپہ کے شاعر یا شاعرہ کے حوالہ سے کوئی دعوا کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا، ٹھیک اسی طرح اس کے زمانے اور دور کا تعین بھی نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب ’’ٹپے‘‘ کے صفحہ نمبر 8 پر رقم کرتے ہیں: ’’ٹپے کا استعمال بسا اوقات مقولے کی طرح بات میں وزن اور زور پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ٹپہ موقع محل کی مناسبت سے برجستہ استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
برسبیلِ تذکرہ، میں نے اپنے لڑکپن کے دور میں اللہ بخشے اپنی دادی اماں کے منھ سے کئی ٹپے سنے تھے۔ ایک دفعہ ہمارے محلے (محلہ وزیر مال، مینگورہ سوات) میں ملک خاندان کی لڑائی میں ان کے خدام کود پڑے۔ بات ’’تُو تُو، مَیں مَیں‘‘ سے ’’جوتی لات‘‘ اور بالآخر تھانہ تحصیل تک پہنچی۔ مجھے یاد ہے میری دادی نے اس وقت یہ ضرب المثل ٹپہ کہا تھا:
خانان بہ بیا سرہ خانان شی
پہ کی بہ دل شی د رامبیل چامبیل گلونہ
قارئین کرام! چوں کہ نشست کا آغاز ڈاکٹر صاحب کی تالیف ’’ٹپے‘‘ سے کیا گیا تھا، اس لیے اگر تھوڑی بہت روشنی کتاب پر نہ ڈالی جائے، تو یہ سراسر بے انصافی ہوگی۔
’’ٹپے‘‘ شعیب سنز پبلشرز کی شائع کردہ تقریباً تین ہزار مختلف ٹپوں پر مشتمل کتاب ہے۔ کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں ٹپوں کو کافی محنت کے بعد الف بائی ترتیب دے کر شائع کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی من پسند ٹپہ کو ڈھونڈنا چنداں مشکل کام نہیں۔ 336 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے اولین صفحات (5 تا 17) ’’سریزہ‘‘ کے نام سے بڑے کام کے ہیں، جن میں ڈاکٹر صاحب نے ٹپہ، اس کی ساخت اور تھوڑی بہت تاریخ پر قلم اٹھایا ہے۔ کتاب مجلد ہے، اس کا ٹائٹل دیدہ زیب ہے اور رقم بھی مناسب یعنی 400 روپیہ ہے۔ اسے اپنی ذاتی لائبریری کا حصہ ضرور بنائیں۔ جاتے جاتے ’’ٹپے‘‘ سے کچھ ٹپے حاضرِ خدمت ہیں۔ اس امید کے ساتھ کہ استادِ محترم ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی اس تالیف کو بھی ان کی دیگر کتب (تصنیف و تالیف) کی طرح سندِ قبولیت حاصل ہوگی۔
رازہ چی دوانڑہ سوات تہ لاڑ شو
تہ بہ غوزان خوری زہ بہ شونڈی سری کوومہ
بیا د سحر بانگونہ اوشو
ژوندہ اوگو تہ می راخیژہ چی دی وڑمہ
آ پخوانئی مینہ دی نشتہ
کہ د پیرس پہ عطرو ٹولہ ولامبمہ
اسرہ می تہ شی لویہ خدایہ
سوک چی بندیان اسرہ کوی ٹکری خورینہ
پخوا بہ یرہ د دشمن وہ
دا اوسنی خلق د دوست یرہ کوینہ
تباہی ٹولہ د سوات اوشوہ
خو گٹہ نورو زان لہ اوکڑلہ عالمہ
جانان پہ ھیث نہ رضا کیگی
د دروغجن ملا دی ورک شی تعویزونہ
چی د طالب نہ ئے بو جوڑ کڑو
نو فوج سوات کی خپلی پنجی خخوینہ
ما د بازونو یاری کڑی
نو ٹپسان دی راتہ نہ وھی سانگونہ

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے