413 total views, 1 views today

سوات میں سب سے پہلا احتجاجی مظاہرہ 1940ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ہوا۔ مجھے اس کی ٹھیک تاریخ تو یاد نہیں، کوئی اگر تجسس و تحقیق کرنا چاہے، تو شیرا افضل خان بریکوٹی کی خودنوشت ’’تاریخ روزگار‘‘ پڑھ لے۔ یہ احتجاج ان طلبہ نے کیا تھا جو ودودیہ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر غلام جان طاہر خیلی کے حق میں اور عنایت اللہ خان کے خلاف تھے۔ ان طلبہ میں جو نام بعد میں زیادہ مشہور ہوئے ان میں سرفراز جان کمانڈر صاحب آف مینگورہ، فضل ودود تحصیل دار بریکوٹ اور بریکوٹی صاحب قابل ذکر ہیں۔ اول الذکر دونوں حضرات تو توبہ تایب ہوکر ریاست کے سایۂ عافیت میں واپس آگئے اور کامیاب زندگی گزارنے لگے۔ البتہ بریکوٹی صاحب کراچی چلے گئے اور بعد ازاں ولایتِ فرنگ میں جا بسے۔
دوسرا احتجاجی جلوس انتیس جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام کے اگلے دن سیدو شریف سے روانہ ہوا۔ مینگورہ کے مختلف بازاروں سے ہوتا ہوا مین بازار میں جلسہ کی شکل اختیار کرگیا۔ مین بازار چوک سے چند قدم آگے محلہ وزیر مال صاحب میں واقع مویشیوں کے ایک باڑے کی چھت پر پی پی پی کا ترنگا لہرا رہا تھا۔ یہ اس پارٹی کا سٹی آفس تھا اور ’’اسلمے‘‘ نامی ایک ٹوپیاں بنانے والے کا بیٹا اس کا اولین بانی رُکن اور جنرل سیکرٹری تھا۔ بعض شرپسند عناصر اُس دفتر پر حملہ آور ہوگئے۔ اسلمی کے بیٹے نے مشکل سے جان بچائی اور بھاگتے وقت رستم نامی ایک موچی کے سینے پر چھری کے وار کرگیا۔ رستم کو تو فوری طور پر سیدو اسپتال پہنچایا گیا اور جلوس واپس سیدو شریف کی جانب روانہ ہوا، جہاں پر آج کل نیشنل بینک کا مین برانچ اور دیگر کئی منزلہ عمارتیں ہیں، یہ ایک درختوں اور پھولوں پر مشتمل جگہ تھی اور اس پر محمود الحسن بٹ نامی پنجابی کا شہد کی مکھیوں کافارم تھا۔ فارم میں ایک خوب صورت چھوٹا سا شو روم تھا، جس کے شیشے والے نازک شلفوں پر خوب صورت ٹن کے ڈبوں میں شہد پیک کیا گیا رکھا تھا۔ ان ڈبوں پر ریاستی علم کا مونوگرام ہوا کرتا تھا، اور اس کے گرد لکھا ہوتا تھا ’’بائی اپوائنٹمنٹ ٹو ہز ہائی نس دی رولر آف سوات (By Appointment to H.H the Ruler of Swat) ادغامِ ریاست سے چند ہفتے پہلے حکمرانِ سوات نے ایک فرمان کے ذریعے مسٹر بٹ کو مذکورہ مونوگرام استعمال کرنے سے روک لیا تھا۔ کیوں کہ موصوف کے بارے میں یہ خبر پھیل گئی تھی کہ وہ قادیانی ہے اور پاکستان کا ایجنٹ ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان کے انگریزی اخبارات میں کافی لے دے ہوئی تھی اور یہ خبر اس شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوئی تھی "The Ruler withdraws his blessings” جلوس کے شرکا نے فارم پر ہلہ بول دیا۔ ساری کھڑکیاں اور دروازے توڑ ڈالے اور خالی اور بھرے ہوئے ٹین کے ڈبے لوٹ کر چلتے بنے۔ جلوس سیدو شریف پہنچ کر منتشر ہوگیا۔
اگلے ہی روز پاک آرمی اور ایف سی سوات میں داخل ہوگئی۔ اعلان ہوا کہ جس گھر سے بھی ’’پاک ہنی‘‘ والے لوٹے برآمد ہوئے، ان لوگوں کو گرفتار کرکے ہری پور جیل بھیج دیا جائے گا۔ یہی حکم غالباً سواتیوں کی نفسیات معلوم کرنے کا ایک حربہ تھا۔ اُن کی مزاحمت ہوا میں دھواں بن کر تحلیل ہوگئی۔ لوگوں نے راتوں رات پاک ہنی والے ڈبے یا تو زمین میں گاڑ دیے یا سیدوشریف خوڑ میں پھینک دیے۔ بعض بدفطرت لوگوں نے دوسروں کو پھنسانے کے لیے ان کے گھروں کے آگے ڈال دیے، مگر فوج نے اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ صرف لوگوں کو خوف زدہ کرنا تھا اور ان کا یہ مقصد بہت آسانی سے حاصل ہوا۔ سواتی ایسے ڈھے گئے کہ پھر اُٹھ نہ سکے۔
اس جلوس کے چند دن بعد ایک جلوس خواتین کا بھی نکلا تھا۔ اس جلوس کی قیادت ’’رنڑا دائی‘‘ نامی ایک خاتون کررہی تھیں۔ وہ بہت دلیر اور جرأت مند خاتون تھیں۔ اس کے ہاتھ میں ریاست کا جھنڈا تھا اور بلا خوف و خطر سیکورٹی والوں کو نظر انداز کرکے جا رہی تھی۔ یہ جلوس مینگورہ شہر کے بازاروں میں گھوم پھر کر واپس آگیا۔ اس جلوس میں شریک خواتین نے مردوں کی غیرت کو للکارا، مگر لوگ سیکورٹی اداروں کے ساتھ جدید اسلحہ کے خوف سے انگلی تک ہلا نہیں سکتے تھے۔
اُدھر والی صاحب کی طرف سے مسلسل پیغامات آرہے تھے کہ کوئی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرے اور آئندہ کے لیے عظیم تر پاکستان کی خدمت کے لیے خود کو تیار کریں۔ ’’سوات پہلے بھی پاکستان کا حصہ تھا، اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘ اس قسم کے جذبات کا اظہار انھوں نے بارہ دسمبر 1949ء کو اپنی رسمِ تاج پوشی کے موقعہ پر قوم کے نام پہلے شاہی خطاب میں کیا تھا اور پاکستان کے اولین وزیراعظم لیاقت علی خان اس موقعہ پر موجود تھے۔
ایک اور احتجاجی جلوس اس روز نکلا تھا جس روز زمرد کان میں ایف سی کی فائرنگ سے لا تعداد لوگ شہید اور زخمی ہوئے تھے۔ اس جلوس میں لوگوں نے دلی جوش و ولولہ سے حصہ لیا تھا۔ اس میں عوام کے علاوہ سرکاری ملازم بھی شامل تھے۔ کمشنر کے دفتر کے سامنے ہزاروں لوگوں کا مجمع جمع ہوگیا تھا۔ فوج نے خوب حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے۔ خفیہ اداروں کے اہلکار جلوس کے اندر گھومتے اور سرکاری ملازمین کے نام نوٹ کرتے رہتے۔ محمد اکرم نامی کرائم برانچ کا ایک انسپکٹر میرے پاس آیا اور مجھے کھینچتا ہوا جلوس کے باہر لے گیا۔ اس نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کو کہا۔ میں گھر آگیا۔ اگلے چند ہفتے سرکاری لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی رہی۔ ان لوگوں پر ہری پور اور دیگر جیلوں میں مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ بڑی جدوجہد اور کوششوں کے بعد ان لوگوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ کچھ تو ملازمت پر بحال ہوئے اور کچھ کو نکالا گیا۔
اس کے بعد سواتیوں نے کبھی سر اُٹھانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے