639 total views, 1 views today

’’ادھیانہ سٹڈی سرکل‘‘ کے روحِ رواں، سماجی شخصیت اور سوات کے سینئر صحافی فضل خالق صاحب نے مولانا نعمت اللہ ساکن سلام پور سوات کو منصور حلاج اور اس کے نظریے پر روشنی ڈالنے کے حوالہ سے ایک نشست کے لیے بلوایا تھا۔ مولانا کی شخصیت کے سحر میں تو ہم پہلے سے جکڑے ہوئے تھے، مگر جیسے ہی یہ نشست برخاست ہوئی، تب سے ان کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ ان سطور کے آگے جو کچھ رقم ہونے جا رہا ہے، وہ من و عن مولانا نعمت اللہ کی گفتگو ہے جسے الفاظ کا جامہ پہنانے کا شرف ناچیز کو حاصل ہے۔ درمیان درمیان میں قوسین میں دی جانے والی سطور راقم کی طرف سے ہیں۔
تصوف کسے کہتے ہیں؟تصوف دراصل ’’صفائی‘‘ کو کہتے ہیں۔ یہ بابِ تفاعل ہے۔تَقَمََّصَ یعنی اس نے قمیص پہن لی۔ اس طرح تصوف کے معنی صوفیت یا صفائی اختیار کرنے کے ہیں۔ لفظ ’’تصوف‘‘ پہلی بار حضرتِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سنہ 538ء میں استعمال کیا تھا۔ حضرت کا ایک دوست تھا، جو اُن سے کنارہ کشی اختیار کر گیا تھا۔ انہوں نے خط میں حضرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہوچکے ہیں۔ یہ بات لائقِ تحسین نہیں۔ آپ ضرور اپنے ذکر و اذکار کیجیے، مگر ساتھ ساتھ کاروبارِ زندگی سے بھی منھ مت موڑیے۔ ’’لا رہبانیت فی الاسلام‘‘ یعنی یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کہ کنارہ کش ہوکر ذکرِ الٰہی میں غرق ہوا جائے۔ ذکرِ الٰہی کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ از حد ضروری ہے۔
علما و محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ صوفی میں چند باتیں لازمی طور پر موجود ہوں گی۔ یہ کہ صوفی اسماعیل علیہ السلام کی طرح تابع دار ہوگا۔ اُس میں ایوب علیہ السلام کی طرح صبرکا مادہ ہوگا۔ اِس طرح اُس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح شوق، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح فقر اور اخلاق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ہوں گے۔
دوسری صدی ہجری تک تصوف اور علم ساتھ ساتھ پروان چڑھتے گئے۔ جو شخص عالم و فاضل ہوتا اور لوگوں کی اصلاح کرتا، وہ شیخ یا صوفی کہلاتا۔دوسری صدی ہجری گزرتے ہی حالات نے پلٹا کھایا اور مولانا اور صوفی کی راہیں الگ ہوئیں۔ اس طرح دو نظریے وجود میں آئے۔ ایک وحدت الوجود کہلایا جب کہ دوسرا وحدت الشہود۔نظریۂ وحدت الوجود کے قائل حسین ابن منصور حلاج تھے۔ یہ 309 ہجری (بمطابق 922 عیسوی) کو پیدا ہوئے تھے۔اُس زمانے میں آپ عالم بھی مانے جاتے تھے اور صوفی بھی۔
ایک بات کی وضاحت یہاں از حد ضروری ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی جسم میں دو اعضا (دل اور دماغ) پیدا کیے ہیں۔ انہیں آپ ترازو کے دو پلڑے تصور کرلیں۔ آپ کو ان پلڑوں میں اعتدال کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہے۔ آپ کے دماغ میں اللہ رب العزت کا علم (علومِ دینیہ) ہوگا، جب کہ دل میں عشق الٰہی ہوگا۔ اگر دونوں پلڑوں میں کانٹا کسی ایک طرف زیادہ جھکا،تو سمجھیں بندہ گمراہ ہوگیا۔ مثلاً دماغ میں علم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، تو گمراہی کی طرف راغب ہونا لازم ہے۔ اس حوالہ سے ابلیس کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اُس کے ساتھ علم کی کوئی کمی نہیں تھی، مگر عشق الٰہی کی کمی ضرور تھی، جس کی بنا پر وہ گمراہ ہوا۔ اس حوالہ سے حافظِ الپورئی رحمتہ اللہ علیہ کا شعر ہے
شپگ لکہ کلونہ عزازیل پر طاعت تیر کڑو
اونختو د خرہ شانی د کِبر پہ چقڑی
یعنی عزازیل نے چھے لاکھ سال اطاعت میں گزارے لیکن بالآخر ایک گدھے کی مانند غرور کی کیچڑ میں پھنس گیا۔
حاصلِ کلام یہ ہوا کہ علوم دینیہ کے ساتھ عشقِ الٰہی یکساں ضروری ہے۔ اس طرح اگر عشق دل میں بستا ہو اور دماغ علومِ دینیہ سے خالی ہو، تو پھر ایسا شخص بدعات و رسومات کا شکار ہوگا۔
منصور ابن حلاج کے حوالہ سے روایت ہے کہ اُس دور میں اس نام کے دو اشخاص پائے جاتے تھے۔ ایک تھے منصور حلاج اور دوسرے تھے حسین ابن منصور حلاج، حلاج کے معنی ’’روئی کا کام کرنے والا‘‘ کے ہیں۔ یہاں تذکرہ حسین ابن منصور حلاج کا ہورہا ہے (وکی پیڈیا پر آپ کا پورا نام ابو المغیث الحسین ابن منصور الحلاج درج ہے، راقم)۔
اب تھوڑا سا ذکر اس نظریے کا ہو جائے جس پر حسین ابن منصور حلاج قائم تھے۔ یہ نظریہ ’’وحدت الوجود‘‘ کہلاتا ہے۔اس نظریہ کے مطابق صوفیا میں ایک اصطلاح ’’ہمہ اوست‘‘ رائج ہے۔ اگر زیادہ آسان الفاظ میں کہا جائے، تو صوفیا کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ نظر آتا ہے، جو کچھ بھی موجود ہے، یہ عینہٖ اللہ کی ذات ہے۔ بالفاظ دیگر کائنات میں موجود تمام چیزوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا وجود داخل ہے (وکی پیڈیا کے مطابق ’’وحدت الوجود ایک صوفیانہ عقیدہ ہے جس کی رو سے جو کچھ اس دنیا میں نظر آتا ہے، وہ خالقِ حقیقی کی مختلف شکلیں یا خالقِ حقیقی کے وجود کا ایک حصہ ہے‘‘، راقم )۔
اس زمانے میں ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (366 ہجری) نے مذکورہ نظریہ کو رد کیا ہے۔ اور وہاں سے ’’نظریۂ وحدت الشہود‘‘ نے جنم لیا ہے۔ مؤخر الذکر نظریہ کو پروان چڑھانے میں امام رازی رحمۃ اللہ علیہ، ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ عربی، مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا کردار اظہر من الشمس ہے۔
جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ شبلی رحمۃاللہ علیہ دونوں منصور حلاج کے ہم عصر تھے اور دونوں ہی نظریۂ وحدت الشہود کے قائل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہم عصر منصور حلاج کے پاس گئے تھے اور انہیں صاف الفاظ میں بتایا تھا کہ یہ ’’نعرۂ انالحق‘‘ یا پھر ’’سبحانی سبحانی انا تقدس سبحانی سبحانی من یرانی‘‘جیسے کلمات ادا نہ کیے جائیں۔ بادشاہِ وقت ان باتوں کے خلاف ہے اور حکم عدولی کی وجہ سے جان سے بھی ہاتھ دھویا جاسکتا ہے۔
اب آتے ہیں نظریۂ وحدت الشہود کی طرف۔ اس کے مطابق ’’ہمیں جو بھی شے نظر آ تی ہے، واحد ہے مگر کسی کی وجہ سے ہے۔ یعنی جو بھی چیز ہمیں نظر آ تی ہے، یہ واحد نہیں ہے بلکہ واحد کا فرد ہے۔ بالفاظِ دیگر اللہ ایک ہے، جو چیزیں ہمیں کائنات میں نظر آ رہی ہیں، وہ اُس ایک ذات کی مخلوق ہیں۔ ( مولانا شبلی علیہ الرحمہ کے بقول، ’’وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے نظریے میں فرق یہ ہے کہ وحدت الوجود کے عقیدے کے لحاظ سے ہم ہر شے کو خدا کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح حباب اور موج کو بھی پانی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن وحدت الشہود میں یہ اطلاق جائز نہیں۔ کیوں کہ جس طرح انسان کے سائے کو انسان کہنا محال ہے، اسی طرح اَظلالِ صفات کو خدا نہیں کہا جا سکتا‘‘ راقم۔)
منصور حلاج کو صرف اس ایک جملہ ’’انا الحق‘‘ کی وجہ سے پھانسی نہیں دی گئی تھی بلکہ اُن کے کچھ کام ظاہری طور پر شریعت کے خلاف تھے۔ مثلاً آپ چار تا چھے سو رکعت نفل نماز ایک رات کے دورانیہ میں ادا کرتے تھے۔ اس حوالہ سے علامہ شبلی نے ان سے ایک دفعہ پوچھا تھا کہ 8 گھنٹے رات میں آپ چار یا چھے سو رکعت نفل نماز کیسے ادا کرتے ہیں؟ اگر دو رکعت ادا کرنے میں محض دو منٹ بھی صرف ہوں، تو اس سے پورے چھے سو منٹ (یعنی 10 گھنٹے) بنتے ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے؟ دوسری بات یہ کہ آپ ’’انا الحق‘‘ کا نعرہ کیوں لگاتے ہیں؟ آپ تو حق نہیں۔
تیسری بات یہ تھی کہ منصور حلاج کے عقیدہ کے مطابق فرعون کو اس کے دعوے ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ کی وجہ سے کافر نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس لیے کہ اُس دور میں فرعون بادشاہ تھا اور رب کے معنی بادشاہ کے ہیں، تو وہ واقعی اس زمانے میں بڑا بادشاہ تھا۔
کہا جاتا ہے کہ جس وقت منصور حلاج کو تختۂ دار پر چڑھایا جا رہا تھا، تو اُس وقت حضرتِ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اُن کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ شرع ظاہر دیکھتی ہے، اس لیے تمہیں انا الحق کا نعرہ نہیں لگانا چاہیے مگر حضرتِ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحت کا آپ پر کچھ اثر نہ ہوا۔ اس کے علاوہ علامہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہیں اس حوالہ سے آگاہ فرمایا تھا، مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے!
واضح رہے کہ تصوف میں دونوں نظریات کے ماننے والوں کے اسباق (کلمہ، درود شریف، مراقبہ، نوافل، ذکر و اذکار وغیرہ) حضرت حسن بصری اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے ایک جیسے چلے آ رہے ہیں۔کُل سترہ طریقے ہیں جن میں چار (قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سروردیہ) زیادہ مشہور ہیں۔ان سب کے اسباق ایک جیسے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل نہیں۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے