332 total views, 1 views today

بادشاہ خان، جندول کے عمرا خان کی تقلید پر عمل پیرا نظر آتا تھا لیکن علاقہ کا اُس کا انتظام ایسا تھا کہ وہ سردار اور عوام جن کی مدد اس کام کے لیے اُسے درکار تھی، وہ اُس سے برگشتہ ہوتے چلے گئے ۔ سوات بالا کے قبائل مسلسل جنگ و جدل اور نواب کی غارت گری سے پیدا شدہ تناؤ سے تنگ آچکے تھے۔ نواب کے نمائندوں کا رویہ انتہائی ناقابلِ برداشت تھا۔ حتیٰ کہ وہ اُس کے حامیوں کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ حکومت کی عدم موجودگی سے انصاف کا حصول اورتنازعات اور معاملات کا حل ناممکن تھا۔ موقع بہ موقع وہ انگریز سرکار کے پولی ٹیکل ایجنٹ سے رسمی و غیر رسمی انداز سے استدعا کرتے رہے تھے کہ شاید یہ حکومت ان کو تحفظ فراہم کرسکے لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
نواب نے دائیں جانب کے قبائل سے کہا کہ وہ جندول کے خلاف اُس کے اقدام میں مدد کے لیے لشکر بھیجیں۔ اُس نے نیک پی خیل علاقہ کے باشندوں پر میدانی لشکر بھیجنے میں تاخیر پر فی ملکیت تین روپیہ جرمانہ عائد کردیا۔ نواب کے قبضہ اور اُس کے ظلم و جبر نے ہندوستانی مجاہدین کو بھی اقدام پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے سوات بالا میں دریا کے بائیں جانب جِنکی خیل کے علاقہ میں نواب کے خلاف ایک قلعہ بنانے کے لیے سرتور فقیر تک رسائی کی۔ اس سلسلہ میں وہ بونیر اور غوربند کے جرگوں سے ملے۔ سرتور فقیر نے اُن سے وعدہ کیاکہ نواب کو زیر کرنے کے بعد وہ انگریز حکومت سے نبرد آزمائی کے مسئلہ پر غور کریں گے۔ تاہم نواب نے سرتور فقیر کو اس پیغام کے ساتھ 800 روپے بھیجے کہ یہ اسلحہ خرید نے کے لیے ہیں۔ سرتور فقیر نے پہلے تو رقم لینے سے انکار کیا، لیکن پھر اس یقین دھانی پر کہ نواب اب انگریزوں کا دشمن بن گیا ہے، رقم لے لی۔ نواب نے فقیر کو سالانہ 400 من غلہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ حالاں کہ سر تور فقیر اس کے بعد مقابلتاً لاتعلق رہا لیکن ان علاقوں کی سیاست میں اُسے بطور ایک عنصر کے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سواتیوں نے ایک بار پھر عشر ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لیے نواب نے اس کے حصول کے لیے سید بادشاہ خان کو بھیجا۔ میاں گل عبدالودود نے بھی لوگوں سے کہا کہ وہ ادائیگی کر دیں۔ نواب دائیں جانب کے قبائل سے بزور عشر لینے میں کامیاب تو ہوگیا،لیکن خاصی تاخیر کے بعد۔ یہ قبائل جو آپس کے جھگڑوں، نواب کے ایجنٹوں کی زیادتیوں اور میاں گلوں اور اُن کے باہمی تنازعات سے حقیقتاً اکتاہٹ کا شکار تھے اور جو 1913ء کے اختتام تک اپناایک حکمران مقرر کرنے کی پہلے ہی ایک کوشش کرچکے تھے۔ 1913ء میں انہوں نے عبدالجبار شاہ کے چچا زاد بھائیوں کو جو کہ بونیر میں تھے، بادشاہ بننے کی رسمی دعوت دی ۔عبدالجبار شاہ کے الفاظ میں: ’’چھے یا سات مہینے سے زیادہ قبل سوات کے لوگ ریاستِ دیر اور یاغستان کے بعض حصوں کے لوگوں کی ناقابل برداشت سرگرمیوں اور زیادتیوں اور آپس کے جھگڑوں کے خاتمہ کے لیے باہمی سوچ بچار کے بعد اس فیصلہ تک پہنچے کہ میرے مرحوم و مغفور دادا سید اکبر بادشاہ کے خاندان کے کسی فرد کو اپنا بادشاہ منتخب کرلیں۔ اس مقصد کے لیے سوات کے کچھ خاص سرکردہ افراد پر مشتمل جرگہ بونیر اور ملکا میں میرے چچا زاد بھائیوں سے گفت و شنید کے لیے ملا۔‘‘
باہمی مشوروں کے بعد ان لوگوں نے عبدالجبار شاہ کے نام پر اتفاق کیا لیکن اُس نے غور کے بعد یہ سوچ کرکہ اس میں ممکنہ مشکلات فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، جرگہ کو واپس کر دیا۔ سواتیوں نے دیر اور باجوڑ میں بھی ایک خفیہ معاہدہ کیا۔ نواب کے بھائی میاں گل جان کا اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا تھا جس کی وجہ سے باجوڑ میں اتحادوں کی اور مختلف اقدامات کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ نواب کی سازش سے میاں گل جان کو قتل کر دیا گیاجس کے بعد نواب اپنی فوج کی قیادت کرتا ہوا میاں گل جان کے حامیوں سے نمٹنے کے لیے باجوڑ پہنچا۔ دیر اور باجوڑ میں نواب کے ظلم و زیادتی کے شکار افراد نے پہلے سوات کے لوگوں کے ساتھ مل کر اُس کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کی اور پھر بعد میں سید عبدالجبار شاہ کا بھی اس مقصد کے تحت ساتھ دیا۔
کچھ ماہ گذرنے کے بعد جرگہ نے پھر عبدالجبار شاہ کو دعوت دی۔ اُس نے دوبارہ انکار کیا۔ اس کے رشتہ داروں نے اُسے ترغیب دی کہ وہ اس پیشکش کو نہ ٹھکرائے۔ اُس کی طرف سے اب بھی انکار کی صورت میں ناوہ گئی چملہ کے حضرت جمال نے اس پیشکش کو قبول کرنے کا عہد کیاجوکہ اُس کا رشتہ دار تھا۔اس پر اس بار اُس نے یہ دعوت قبول کرلی۔ جرگہ اُس کے ساتھ دو مہینے تک انتظار کرتا رہا۔ اس دوران میں دیر، سوات اور باجوڑ کے بہت سے لوگوں نے اُسے خطوط بھیجے۔ 25 جون 1914ء کو عبدالجبار شاہ چیف کمشنر سے ملا۔ اس معاملہ میں اُس سے مشاورت کی اور اُسے اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔ اُس نے ہزارہ کے ڈپٹی کمشنر کو اپنے ایک خط میں یہ لکھاکہ ’’جیسے ہی میری موجودہ حالت اور صورتِ حال میں تبدیلی آئے گی، تو اس سے اب تک کی میری وفاداری میں اضافہ ہوجائے گا۔ آئندہ میری حیثیت جو بھی بنے گی میری وفاداری اور میرا عمل مجھے مستحکم ثابت کریں گے۔ میں دعاگو ہوں کہ خدا میری وفاداری کا شاہد ہو۔‘‘
عبدالجبار شاہ نے سواتی علاقوں سے دیر کے نواب کو نکال باہر کرنے اور اپنی بطورِ بادشاہ تقرری کے انتظامات کرنے شروع کیے۔ سرتور فقیر، ہندوستانی مجاہدین اور بونیر کے لوگوں نے اُس سے وفاداری کا عہد کیا۔ دیر کے نواب کی ماں،نواب کی جگہ اُس کے بھائی محمد عیسٰی خان کو حکمران بنانے پر آمادہ ہوگئی۔ نواب کے خلاف اقدامات اور دیر اور سوات میں مستقبل کے انتظامات حتیٰ کہ دیر اور سوات کے درمیان سرحد کی حد بندی پر اتفاق الغرض سب کچھ تیار تھا۔ عبدالجبار شاہ کی سوات میں داخل ہونے کے لیے 8 ستمبر 1914ء کی تاریخ مقرر کی گئی۔ بونیر کی افواج کو اُس کے ساتھ آنا تھا۔ اسی دوران میں سوات اور باجوڑ کے لوگوں نے اس عمل میں اپنا مقررہ کردار ادا کرنا تھا۔
اس منصوبہ پر عمل درآمد شروع ہونے سے پہلے مردان کے اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بروس کو اس کی سن گن ہوگئی۔ اُس نے فی الفور عبدالجبارشاہ اور اُس کے رشتہ داروں کو بلا کر اُن سے معلومات حاصل کیں اور ان سے اس منصوبہ کو ترک کرنے اور پولی ٹیکل ایجنٹ ملاکنڈ سے ملاقات کرنے کے لیے کہا۔ پہلی جنگ عظیم چھڑگئی تھی اور ہر طرف افواہوں کا بازار گرم تھا۔ گو کہ اکثر افواہیں انتہائی احمقانہ تھیں لیکن سرحد کے اُس طرف جنگ کے بارے میں کسی کو کیا معلوم تھاکہ جنگ کیا ہے اور اُس کا اصل مطلب کیا ہے؟ مزید برآں اگر یہ لشکر بظاہر کسی خاندانی جھگڑے میں شرکت کے لیے بھی جارہے ہیں، تو بھی مِسٹر بروس کا خیال تھاکہ ’’ان کی توانائیوں کو باآسانی کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اس لیے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا متحرک ہونا نامناسب ہے۔‘‘
بروس کا مزید یہ بھی خیال تھاکہ ’’عبدالجبار شاہ اور اُس کے رشتہ داروں کو آلۂ کار کے طورپر بھی کسی سازش میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘
عبدالجبارشاہ نے فی الوقت اس منصوبہ کو ترک کردیا۔ بروس کے مشورہ پر اُس نے پولی ٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کی، جس نے اُسے تنبیہ کی کہ اگر اُس نے ایک حکمران کی حیثیت سے سوات میں داخل ہونے کا خیال ترک نہ کیا، تو انگریز حکومت نواب دیر کی مدد کرے گی۔ نتیجتاً عبدالجبار شاہ نے واپس جاکر اپنے اہلِ خاندان اور لوگوں سے کہا کہ اس وقت انگریز حکومت کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام کرنا مناسب نہیں رہے گا۔ اس طرح سواتیوں کی اپنی ریاست و حکومت بنانے کی خواہش برطانوی حکومت کے مقاصد و مفادات کی بھینٹ چڑھ گئی۔
لوگ درآن حال یہ کہ اب بھی گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، نواب کے قبضہ کے خلاف انہوں نے ایک متحدہ محاذ بنالیا۔ نواب کی خود سرانہ ظالم حکومت کے خلاف لوگوں میں پائی جانے والی نفرت و کراہیت کا اندازہ پشتو عوامی شاعری کی اس ایک مثال سے بھی لگ سکتا ہے۔
’’ہم دی زمونگ دانے ہم یے وڑی پہ مونگ پہ پورتہ
اوگورہ د دیر د نواب زور تہ‘‘
’’دیر کے نواب کی اندھی طاقت دیکھوکہ ہم اپنا ہی غلّہ اپنے کاندھوں پر اُس کے لیے ڈھو کرلے جارہے ہیں۔‘‘
نوابِ دیر کے خلاف اتحاد کا مرکزی کردار سنڈاکئی بابا تھا۔ حالاں کہ اپنے حریف بھائی کی موت کی وجہ سے نواب کی پوزیشن خاصی مضبوط ہوگئی تھی لیکن 1915ء کی ابتدا میں سوات بالا کے شامیزئی اور سیبوجنی علاقوں میں اُس کے خلاف ایک بغاوت شروع ہوگئی۔ نیک پی خیل چوں کہ اس اتحاد کا ایک حصہ تھا، اس لیے وہ بھی اس بغاوت میں شامل ہوگیا۔ باغیوں نے نواب کی افواج کو بڑا جانی نقصان پہنچایا اور اپنے علاقوں میں موجود قلعوں پر قبضہ کرلیا۔ اب نواب نے کمبٹر کے سید بادشاہ کو سواتیوں کی سرکوبی کے لیے بھیجا لیکن وہ اپنی سفارت کاری اور طاقت دونوں طریقے استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ نواب نے مزید کمک بھیجی۔ سواتیوں نے کوہستانیوں، بونیریوں، ہندوستانی مجاہدین اور عبدالجبار شاہ سے مدد مانگی۔ پولی ٹیکل ایجنٹ نے بائیں جانب کے سواتیوں کو ترغیب دی کہ وہ نواب کے خلاف لڑائی میں دائیں جانب کے سواتیوں کی مدد نہ کریں، لیکن اس جنگ میں دائیں کنارے پر آباد شامیزئی، سیبوجنی اور نیک پی خیل قبائل کو فتح نصیب ہوئی۔
اس جنگ میں سواتیوں کا ساتھ دینے کی بہ جائے میاں گل پولی ٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔ عبدالودود نے بعد میں نواب کے جنرل سے ملاقات کی۔ اس کا دوسرا بھائی بیماری کی وجہ سے اس ملاقات کے لیے نہ جاسکا۔ ان علاقوں کے سواتیوں نے اس کے باوجود ’’میاں گلوں کو عشر دینے، اور نواب کی جگہ انہیں اپنا حکمران بنانے کی پیشکش کی۔ جس کے جواب میں گل شہزادہ (میاں گل عبدالودود) نے کہا کہ چوں کہ اُس کا بھائی اُس کے ساتھ متحد ہونے کے لیے تیار نہیں…… یہ خیال اس وقت ناقابل عمل ہے۔‘ ‘
بالآخر نواب کی فوج کو مکمل شکست ہوگئی اور اسے سوات بالا سے ادینزئی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ دونوں طرف بڑاجانی نقصان ہوا، تعداد اور مارے گئے لوگوں کی اہمیت، ہردو لحاظ سے فاتحین نے پھر ایک آزاد ریاست کے قیام کی تگ ودوکی اور سنڈاکئی بابا کو اختلافات کی صورت میں حَکم تسلیم کیا گیا۔ اسی میں پانچ بڑوں کی ایک کونسل بنائی گئی جس میں شامیزئی علاقہ سے ماسم خان، سیبوجنی سے تاج محمد خان، اور نیک پی خیل سے زرین خان، امیر سلطان اور جعفر خان لیے گئے۔ یہ حکومت تھی، لیکن اصل اختیارات سنڈاکئی بابا کے ہاتھ میں تھے۔
نہ تو اس پانچ رکنی کونسل کی نامزدگی کی صحیح تاریخ معلوم ہے جسے آزاد کیے گئے علاقوں کی حکومت چلانی تھی اور نہ اس ریاست سوات کے قیام کی اصل تاریخ ہی کا پتا ہے۔ 3 اپریل 1915ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کی صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کی خفیہ سیاسی ڈائری سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ نوابِ دیر کی فوج کو مکمل شکست دے کر ادین زئی علاقہ کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس کے بعد کے ہفتہ کی ڈائری نے جو 10 اپریل 1915ء کو ختم ہورہا تھا، بتایا ہے کہ ایک پانچ رکنی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، لیکن اصل طاقت سنڈاکئی بابا کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔
تاہم دریا کے دائیں جانب کے علاقہ پر نوابِ دیر کے اقتدار کا مکمل خاتمہ مارچ 1915ء کے اختتام تک ہی ہوگیا تھا جب کہ اپریل کی ابتدا میں پانچ رکنی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس طرح ریاست سوات کی بنیاد سوات بالا میں دائیں جانب کے قبائل یعنی نیکپی خیل، شامیزئی، اور سیبوجنی نے رکھ دی۔
کونسل نے عبدالودود کو اس ریاست کی سربراہی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ ’’انہوں…… نے اُس سے کہاکہ انہیں اس بات کا دُکھ ہے کہ انہوں نے ابھی تک ان کی مدد نہیں کی۔ لیکن وہ ماضی میں اُن کی بے دلی کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہیں، اگر وہ قیادت قبول کرکے اپنا مستقبل بھی اُن کے ساتھ داؤپر لگانے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے اس سے کہا کہ اگر وہ تیار نہیں ہوئے، تو وہ کسی کو باہر سے اپنی مدد کے لیے لائیں گے اور یہ شاید ستھانہ کے سید عبدالجبار شاہ ہوں۔‘‘
میاں گل عبدالودود نے جواب میں کہا کہ ’’اُن کا تجویز کردہ اقدام چوں کہ بہت اہم ہے، اس لیے اسے ایک معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں…… نے مزید کہا کہ وہ اُس وقت تک کوئی واضح جواب نہیں دے سکتے، جب تک پولی ٹیکل ایجنٹ سے مل کر اس سلسلہ میں اُس کی رائے نہ لے لیں۔‘‘
کونسل نے نواب سے چھینے ہوئے قلعوں کو مضبوط کرنے کی کوشش شروع کی اور نواب کے خلاف باڑوہ کے خان سے اتحاد کرنے کے لیے بات چیت کی۔ لوگوں نے اس بحران میں سنڈاکئی بابا کی مدد اور خدمات کے اعتراف میں’ ’انہیں بیس ہزار لکڑی کے بڑے تنے دینے پر اتفاق کیا۔‘‘
اس کے علاوہ ’’اُن سے درخواست کی گئی کہ وہ سوات میں رک جائیں اور اُن کے سربراہ بن جائیں۔‘ ‘لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ وہ اس اعزاز کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔  (کتاب "ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 56 تا 60 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے