587 total views, 2 views today

شریف خان جس نے عمرا خان اور انگریزوں کی لڑائی میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اور 1890ء سے سوات میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہا تھا، کو 1895ء میں خان آف دیر کی حیثیت پر بحال کر دیا گیا۔ اس طرح اُسے اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کے ساتھ ساتھ عمرا خان کے مفتوحہ علاقوں کا قبضہ بھی مل گیا جو کہ افغانستان فرار ہوگیا تھا۔ اب اُس کی جنوبی سرحد دریائے سوات سے ملتی تھی۔ اس لیے اُس نے ابازئی، خدکزئی، ادین زئ، شموزئ، نیک پی خیل، سیبوجنی اور شامیزئ شاخوں کو اپنی رعایا قرار دیا جوکہ دریا کے دائیں کنارے پر آباد تھے اورجن کا تعلق خوازوزئی شاخ سے تھا جوکہ یوسف زئی کی ذیلی شاخ اکوزئی سے جا ملتی تھی۔ شریف خان کا بھی نسبی تعلق اس شاخ سے تھا۔ 1896ء میں سوات بالا میں جنگ چھڑگئی اور دریا کے دائیں کنارے آباد قبائل میں اُس کی مداخلت سے عام بے چینی پھیل گئی۔
چوں کہ عمرا خان اب طویل عرصہ سے سوات پر اقتدار حاصل کرنے کی کش مکش سے باہر ہوگیا تھا، اس لیے دریائے سوات کے بائیں جانب کے کچھ حصے ایک خاص حد تک انگریزوں کے زیرِ حفاظت علاقے میں شامل کرلیے گئے۔ تاہم شریف خان سوات بالا میں مکمل بلا شرکت غیرے قوت حاصل نہ کرسکا بلکہ یہاں اُس کے مدِمقابل اور بھی کئی لوگ تھے۔ اگر چہ ہمسایہ دیر میں مضبوط خانی نظام موجود تھا، لیکن سوات میں کسی ایک شخص کو اس قسم کا اقتدار حاصل ہونا صرف خواب و خیال تھا۔ سوات میں سیاست ڈلہ (دھڑا) نظام کی بنیاد پر قائم تھی۔ ہر ایک ڈلہ (دھڑا) اپنے خان کی سربراہی میں دوسرے کی مخالفت پر کمربستہ رہتا تھا۔
1897ء میں، سیدوبابا کے پوتے سوات میں حصولِ اقتدار کی رسہ کشی میں شامل ہوگئے۔ خان آف دیر اور ان میاں گلوں کی رقابت سے ٹکراؤ کی فضا قائم ہوگئی۔ انگریزوں کی طرف سے خان آف دیر کو اجازت تھی کہ وہ دریاکے دائیں جانب آباد قبائل کے شدت پسند گروپوں کی سازشوں کا طاقت کے ساتھ خاتمہ کرے، جن پر اقتدار کا وہ دعوے دار تھا۔ سوات بالا کے قبائل کا ایک مشترکہ جرگہ ( جس میں دائیں کنارے کی چاروں خوازوزئی شاخیں اور بائیں کنارے کے موسیٰ خیل، بابوزئی اور جِنکی خیل سب شامل تھے) چک درہ میں پولی ٹیکل ایجنٹ میجر ڈین سے ملا اور اُس سے درخواست کی کہ وہ ان کے اور خان آف دیر کے معاملات میں مداخلت کرکے انہیں حل کرے۔ جرگہ نے برطانوی حکومت کو اپنی وفاداری اور امداد کا یقین دلایا۔ حکومت کی طرف سے میجر ڈین نے اپنے لائحہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ’’حکومت ان کے اندرونی نظام میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، لیکن وہ پولی ٹیکل ایجنٹ کے سامنے لائے گئے تنازعات کو حل کرنے میں ان کی مدد کرے گی۔ مزید یہ کہ برطانوی حکومت ان پر کسی قسم کا محصول نہیں لگانا چاہتی۔ وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ زیریں سوات (رانی زئی) کی طرح سوات بالا میں بھی امن وامان کی فضا قائم رہے۔‘‘
30 اکتوبر کو برطانوی حکومت اور سوات بالا کے چھے سو مَلکوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ان لوگوں کو میاں گل حضرات اپنے ساتھ لائے تھے۔
’’جرگے نے مستقبل میں اپنے علاقہ کے انتظام کا سوال اٹھایا۔ ان کی ایک بڑی تعداد نے براہِ راست ہند برطانوی حکومت کنٹرول کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر اس کے نہ تو انہیں انصاف مل سکتا ہے اور نہ ان کے باہمی تنازعات کا سلسلہ رُک سکتا ہے۔‘‘
میجر ڈین نے اس ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سوات بالا کی مذہبی اور قبائلی دونوں قسم کی قیادت کی طرف سے اطاعت کا اظہار تھی اور مزید یہ کہ یہ برطانوی حکومت کے خلاف دشمنی کے جذبات ختم کرنے کے لیے ایک اور نادر موقع کی صورت تھی۔‘‘
چوں کہ برطانوی حکومت اس علاقہ کا کنٹرول براہِ راست اپنے ہاتھ میں لینے سے دلچسپی نہیں رکھتی تھی، اس لیے اُس نے شریف خان کو یہاں مداخلت سے باز رہنے کے لیے نہیں کہا۔ نومبر 1898ء میں دائیں کنارے کے قبائل نے شریف خان کی دخل اندازیوں سے برافروختہ ہوکر سرتور فقیر سے مدد کی درخواست کی۔ وہ ان کی مدد کے لیے دریا عبور کرکے ان کے پاس آیا لیکن وہ انگریزوں کے خلاف ہوجانے سے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ انگریز حکومت جس نے شریف خان کی حیثیت میں اضافہ کرکے اُسے نواب بنا دیا تھا، دریا کے دائیں جانب کے قبائل پر اُس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرتی تھی، حالاں کہ ان قبائل پر اُس کی حکمرانی برائے نام ہی تھی۔
نواب، سوات پر مکمل قبضہ کے لیے اتنا پُرعزم تھا کہ وہ اگست 1897ء کو مینگورہ میں سوات بالا کے لوگوں سے برطانوی حکومت کے براہِ راست معاملات طے کرنے سے شدید ناراض ہوگیا۔ اُس نے اس موقع پر اپنے کچھ حواری مینگورہ بھیجے، تاکہ وہ لوگوں کو اس بات پر قائل کریں کہ انگریز حکومت سے براہِ راست معاملات طے کرنے کے بجائے نواب کے ذریعہ اُن سے بات کی جائے لیکن سوات کے لوگ جو آپس کی لڑائیوں اور نواب کی غارت گری سے تنگ آئے ہوئے تھے، اپنی ایک منظم حکومت قائم کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ نومبر 1897ء میں سوات بالا کے جرگے سے ملنے کے بعد میجر ڈین نے لکھا: ’’سوات بالا میں حکومت کی کمی کا احساس اتنا شدید ہے کہ میری معلومات کے مطابق جرگہ نے حال ہی میں اپنے کچھ سرکردہ مَلَکوں کو اپنی مہریں لگا کر ایک خالی کاغذ کے ساتھ میاں رحیم شاہ کے بھائی امیر شاہ کے پاس بھیجا کہ وہ اُن کابادشاہ بن کے سوات آجائے اور یہ کہ اس کاغذ پر جس پر اُن کی مہریں ثبت ہیں، وہ جو بھی شرائط چاہے لکھ دے۔ جہاں تک مجھے علم ہے انہوں نے اُس سے یہ درخواست چوتھی بار کی ہے۔‘‘
1901ء میں دریا کے بائیں جانب سوات بالا کے سیاسی حالات کا سالانہ انتظامی رپورٹ میں خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے: ’’حسب معمول گروہی تنازعات جاری ہیں۔ علاقہ اندرونی طورپر انتہائی مایوس کن خلفشار کا شکار ہے۔ میاں گلوں کی غیر مذہبی حکومت قائم کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔ اُس پاگل فقیر نے اپنی اہمیت کھودی ہے اور بابوزئی کے مَلَکوں نے اپنی اجتماعی قوت کو آپس میں لڑ لڑ کر پارہ پارہ کردیا ہے۔‘‘
دریا کے دائیں جانب نواب کے محصولاتِ حکام کی سختی سے لوگوں میں شدید غصہ پیدا ہوا جسے دور کرنے کے لیے اُن سے کچھ بہتر قسم کے لوگ لائے گئے لیکن نواب کے زیرِ قبضہ سارے علاقہ میں عام طورپر لوگوں میں بے اطمینانی پائی جاتی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو محاصل جمع کرنے کا طریقہ تھی اور دوسری وجہ اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے کاموں سے نواب کی لا تعلقی تھی۔ 1904ء میں ایک بار پھر نواب کی ظالمانہ و جابرانہ کارروائی سے وہی قبائل دوبارہ انتہائی برافروختہ ہوئے لیکن اس سے پہلے کہ وہ پھر سرتور فقیر سے مدد مانگیں، ملاکنڈ کے پولی ٹیکل ایجنٹ میجر ڈین نے فریقین میں معاملات ٹھنڈے کیے۔ اُس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اضطراب کی یہ کیفیت انگریز سرکار کے لیے کوئی مسئلہ نہ بنائے۔
شریف خان کا 6 دسمبر 1904ء میں انتقال ہوگیا۔ اورنگ زیب خان اُس کا جانشین ہوا جسے زیادہ تر بادشاہ خان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بادشاہ خان کے اپنے بھائی میاں گل جان کے ساتھ تعلقات باپ کی زندگی میں بھی اچھے نہ تھے۔ اُن کا تنازعہ آنے والے برسوں میں بھی جاری رہا،جس کی وجہ سے باجوڑ، دیراور سوات میں بنتے بگڑتے اتحادوں اور سازشوں کا دور دورہ رہا۔ بادشاہ خان ایک گرم مزاج آدمی تھا اور اس لیے اُس نے نہ صرف بڑی آسانی سے سوات کے اپنے زیرِ عمل داری قبائل کو ناراض کیا بلکہ ’’اپنے اکھڑپن اور لالچی مزاج سے اپنے عوام کو بھی خود سے برگشتہ کردیا۔‘‘ 1907ء میں سوات کے ڈلوں (دھڑوں) میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ عشر کی ادائیگی بند کردی گئی اور نوابِ دیر کی اطاعت کا جوا اُتار پھینکا گیا۔ دریا کے دائیں کنارے پر نواب کا اقتدار فی الوقت ختم ہوگیا۔
نواب دیر اور دائیں کنارے کے قبائل کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے۔ اگست 1909ء میں شموزئی اور نیک پی خیل کے جرگہ کی بحفاظت گھر تک پہنچانے کے بہانے اُس علاقے پر حملہ کیا گیاجس سے بہت نقصان ہوا۔ ایک برطانوی سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’نواب نے پولی ٹیکل ایجنٹ کے کہنے پر اپنی فوج واپس بلالی۔ یہ جھگڑا ثالثی کے لیے انتہائی موزوں ہے اور فریقین کے لیے قابلِ قبول عارضی امن معاہدہ کی پوری کوشش کی جائے گی۔‘‘
سوات کے علاقے ہاتھ سے نکلنے کے بعد نواب مسلسل انگریز حکومت سے تقاضا کرتا رہا کہ وہ اُس علاقہ پر اُس کے دعویٰ کے مسئلہ کو حل کرے۔ جب انھوں نے مداخلت نہ کرنے کا عندیہ دیا، تو اُس نے بے خوف ہوکر اس پر حملہ کر دیا اور 1910ء میں دوبارہ اس علاقہ پر قبضہ کرلیا اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اُس پر قلعے تعمیرکرنے شروع کر دیے۔ لوگوں نے اُس کے اس اقدام کے لیے انگریز حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، اس لیے کہ وہ اُن کا زیرِ سرپرستی تھا۔ اس نقطۂ نظر کی تصدیق آئندہ برس آنے والی اس رپورٹ سے ہوگئی جس میں نواب کی مضبوط حیثیت کو انگریز حکومت کے لیے مفید قرار دیا گیا۔ یہ رپورٹ کہتی ہے: ’’ملاکنڈ میں دیر کے نواب نے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔ باجوڑ کے سرداروں نے اُس کے خلاف کئی اتحاد بنائے لیکن اُس کا توڑ کوئی نہیں کرسکا۔ اُس نے اپنے اقتدار کو سوات کوہستان میں توسیع دے دی ہے، حالاں کہ دریا کے بائیں کنارے کے قبائل نے اپنی جانب اُس کی پیش قدمی روک دی ہے۔ اُس سے معاملہ کرنا خاصا مشکل ہے…… لیکن وہ حکومت سے وفاداری اور اُس سے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری میں مستعد ہے۔ اور یہ حقیقت کہ اُس نے اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے، ہمارے مفاد میں ہے۔‘‘
جنوری 1911ء میں نواب نے شموزئی کا علاقہ قبضہ میں کرلیا۔ اس طرح وہ چک درہ سے کوہستان تک دریا کے دائیں کنارے کے پورے علاقہ کا مالک بن گیا۔ اس کی بڑی وجہ یہاں کے قبائل کے باہمی جھگڑے تھے۔ وہ میاں گلو ں کے باہمی تنازع سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اُس نے دریا کے بائیں جانب سوات بالا میں عزی خیل کی حدود میں ایک قلعہ کی تعمیر شروع کی لیکن وہاں کے قبائل کی مزاحمت کی وجہ سے اُس پر کام روک دیا گیا۔ ابا خیل اور موسیٰ خیل نے برطانوی حکومت سے کہا کہ وہ انہیں بھی خان خیلوں کی طرح اپنے زیر حفاظت لے آئیں۔ نواب کی حکومت غیر مقبول تھی۔ اس کی بڑی وجہ اُس کے حکام کا ناشائستہ رویہ تھا۔ اس لیے اس بات کا خدشہ تھا کہ اُس کا ظلم و جبر کہیں انگریز حکومت کو مداخلت کرنے کا موقع نہ فراہم کر دے۔ (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 52 تا 55 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے