340 total views, 1 views today

میاں گل عبدالحنان کی جگہ اُس کے بھائی میاں گل عبدالخالق نے لی، جو دنیوی معاملات سے بالکل لا تعلق تھا۔ اس لیے اب سوات کے اقتدار کے لیے رسہ کشی عمرا خان آف جندول اور شریف خان آف دیر کے درمیان شروع ہوگئی۔ ان دونوں کا تعلق سوات سے نہیں تھا۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک تیسری طاقت یعنی انگریز بھی اس جنگ میں شامل ہوگئے۔ ان سب کے علاوہ 1880ء کی دہائی کی ابتدا میں سوات کے لوگ کابل حکومت کے ارادوں سے بھی خدشات میں مبتلا تھے جو اُن کے کچھ علاقے ہڑپ کرنے کی کوششیں کرچکی تھی۔ 1888ء میں امیرِ افغانستان کی کارروائیوں کے نتیجہ میں سوات میں پیدا ہونے والی بے چینی کی وجہ سے برطانوی حکومت نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کا فیصلہ کیا۔ حالاں کہ وہ ابھی تک باجوڑ، دیر اور سوات کے معاملات میں مداخلت سے گریزاں تھی۔ برطانوی حکومت کے احتجاج کے بعد امیرِ افغانستان نے فی الفور تسلیم کیاکہ سوات اُس کے دائرہ عمل سے باہر ہے لیکن باجوڑاور دیر پر اُس نے اپنے دعویٰ کو واپس نہیں لیا۔ بہر کیف 12 نومبر 1893ء میں ہونے والے ڈیورنڈلائن کا معاہدہ ہونے تک افغانستان کی سازشیں جاری رہیں۔ اس معاہدہ پر افغانستان کی طرف سے امیر عبدالرحمان اور برطانوی حکومت کی جانب سے مارٹیمر ڈیورنڈ نے دستخط کیے۔ اس معاہدہ کی تیسری شِق کہتی ہے:’’برطانوی حکومت اس بات پر اتفاق کرتی ہے کہ اعلیٰ حضرت امیر اسمار اور اُس کے اوپر چنک تک کی وادی کو اپنے قبضہ میں رکھے۔ اس کے بدلہ میں اعلیٰ حضرت نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت سوات، باجوڑ یا چترال بشمول ارنا وائی اور وادیٔ بشگال میں مداخلت نہیں کرے گا۔‘‘
امیر عبدالرحمان خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اُس نے باجوڑ، سوات، بونیر، دیر، چترال اور چلاس پر اپنا دعویٰ واپس لے لیا ہے۔ اس معاہدہ سے سوات پر افغانستان کا دعویٰ اور مستقبل میں اسے ضم کرنے کی کوششیں دَم توڑ گئیں۔ دوسری جانب یہاں کے معاملات میں برطانوی اثر ورسوخ بڑھ گیا۔ اس لیے کہ اب سوات بھی اُن علاقوں میں شامل ہوگیا جو ڈیورنڈ لائن کے برطانوی ہند کی طرف واقع تھے۔
گروہی جھگڑے متواتر جاری رہے جس کی وجہ سے اندرونی حالات بے یقینی اور اضطراب کا مظہر بنے رہے۔ ایک موقع پر عمرا خان الہ ڈنڈ ڈھیری اور کچھ دیگر دیہاتوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن پھر اُسے بے دخل کرکے بات چیت پر مجبور کردیا گیا۔ جب 1889ء میں بہت سے افغان پناہ گزین افغان جنرل فیض محمد خان غلزئی کی سربراہی میں سوات میں آن بسے، تو ’’ سوات کے لوگ اپنے علاقہ کے انتظام کے بارے میں منقسم سوچ رکھتے تھے۔ کچھ ہندوستان میں قائم برطانوی حکومت کی مداخلت کے طالب تھے۔ دوسرے چاہتے تھے کہ پلوسئی میں ہندوستان حکومت کے باغیوں کو بلانا چاہیے، جب کہ دیگر چاہتے تھے کہ افغان جنرل فیض محمد خان کو سربراہ بنالیا جائے۔ بہر صورت اس بات پر سب متفق تھے کہ عمراخان کی مخالفت ضروری ہے جس نے تھانہ پر حملہ کی دھمکی دی تھی اور اس بات کا پورا امکان تھا کہ وہ پورے سوات کو تاراج کر ڈالے۔‘‘
برطانوی حکام کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی کہ اخوند آف سوات جسے وہ سوات میں استحکام اور امن وامان کے قیام کے لیے بنیادی ستون قرار دیتے تھے، کی موت برطانوی مفادات کے لیے معاون ثابت ہوگی۔ ’’انہیں یقین تھا کہ ایک لحاظ سے برطانوی استعمار کے لیے اخوند کی موت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اب سوات باہم دست و گریبان دشمن گروپوں میں بٹ جائے گا، اس لیے ہر وقت ان میں سے کوئی نہ کوئی حریفوں کو زیر کرنے کے لیے برطانوی حکومت کا حلیف بننے کے لیے موجود رہے گا۔‘‘
پہلے ہی ان خوانین میں سے بعض نے اپنی ذاتی حیثیت میں ہندوستان کی برطانوی حکومت سے رسمی گفت و شنید کی کوشش کی تھی۔ 1889ء میں پہلی بار سوات کے باشندوں کے ایک حصہ نے برطانوی حکومت سے سوات کے مسائل میں باقاعدہ مداخلت کی تائید کی۔ سوات میں حکومت قائم ہونے سے پہلے اس بے یقینی کی کیفیت میں عمرا خان آف جندول، شریف خان کو دیر سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔ اُس نے سوات بالا میں پناہ لے لی۔ دیر پر قبضہ کے بعد عمرا خان اور مضبوط ہوگیا۔ اُس نے پہلے ہی انگریز حکومت سے سوات کو اپنے زیرِ قبضہ علاقہ میں شامل کرنے کے لیے ر سمی گفت گو کا آغاز کردیا تھا۔ برطانوی حکومت کے لیے اپنی وفاداری اور اِفادیت ثابت کرنے کی امید پر اپنی تیسری تحریری درخواست میں وہ یوں کہتا ہے (یہ درخواست اکتوبر 1888ء میں پیش ہوئی): ’’میری کوششوں سے باجوڑ اور سوات کے سارے سردار برطانوی حکومت کے خدمت گار بن جائیں گے۔ مناسب یہ ہوگا کہ ان سب کو میرے ما تحت کر دیا جائے۔ ان میں سے جو میرا دوست ہو، اُسے برطانوی حکومت کی طرف سے عزت افزائی حاصل ہو اور جو مجھے ناراض کرے، اُس سے ایسا سلوک کیا جائے جیسے اُس نے برطانوی حکومت کو ناراض کر دیا ہو۔‘‘
عمرا خان کمشنر پشاور کو ستمبر 1890ء کے اپنے خط میں بہت ہی بے تکلف ہوکر اپنا مقصد اورخواہش بتا دیتا ہے۔ وہ برطانوی حکومت سے کھلی چھوٹ چاہتا تھا۔ سوات کے خوانین نے بھی اپنی طرف سے برطانوی حکام سے رابطہ کرکے عمرا خان کے اچانک حملوں اور تجاوزات کے خلاف مدد مانگی۔ 1892ء میں سوات کے خوانین نے عمرا خان کے حملے بند نہ ہونے کی صورت میں ہندوستانی مجاہدین یا امیرِ افغانستان سے مدد طلب کرنے کی دھمکی دی۔




سوات میں حکومت قائم ہونے سے پہلے بے یقینی کی کیفیت میں عمرا خان، شریف خان کو دیر سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔

برطانوی حکومت کو نہ عمرا خان سے محبت تھی اور نہ ہی انہیں سواتیوں کی کوئی پروا تھی۔ انہیں صرف اپنا مفاد عزیز تھا۔ مسٹر ڈین سواتیوں کے بارے میں لکھتے ہوئے رقم طراز ہے کہ ’’ اگر ہم نے سوات کے خوانین کا اعتماد کھودیا جوکہ عمرا خان کے اس علاقہ پر قبضہ کی صورت میں یقینا ہم کھو دیں گے، تو اس اعتماد کے دوبارہ حصول کا امکان بہت کم رہے گا۔ سوات کے حالات سے یہ بات آشکارا ہے۔ وہ اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ عمرا خان اور امیر آف کابل دونوں سے اُسے خوف لا حق ہے۔ سوات کے معاملات میں عمرا خان کی مداخلت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے اس کی آزاد حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔‘‘
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ مزید کہتا ہے کہ ’’فی الوقت عمراخان سے اس ضمن میں کوئی سلسلۂ جنبانی نہیں ہونی چاہیے۔ حتیٰ کہ وہ سوات کے خلاف کوئی جارحیت آغاز کرے۔‘‘
سو ات کے خوانین کے خط کے جواب میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر نے یوں خیال آرائی کی ہے کہ ’’یہ لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے خلاف عمرا خان کی مدد سے روکیں، یا یہ کہ ہم اس پر اچھی طرح واضح کردیں کہ سوات کے معاملات سے خود کو بالکل الگ رکھے۔‘‘
عمرا خان کے ساتھ مجوزہ معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے کمشنر، پشاورڈویژن،کہتا ہے کہ ’’جہاں تک سوات کا تعلق ہے، میرے خیال میں عمرا خان کے ساتھ کوئی ایسا وعدہ کرنا غلط تھا۔ اس لیے کہ آنے والے دنوں میں ممکن ہے ہم اپنا اثرو رسوخ اُس وادی تک بڑھانا چاہیں یایہ کہ اس دوران میں عمرا خان نے اس پر قبضہ کرلیا ہو اور پھر ہم اُس کو اپنے مفادات کے لیے بطورِ آلۂ کار استعمال کرسکیں۔‘‘
تھانہ کے خوانین کے خط کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتا ہے: ’’میں اسے ـغور کرنے کے قابل نہیں سمجھتا۔ میرا نہیں خیال کہ برطانوی حکومت اس وقت وہاں کے باشندوں کے کہنے پر سوات کو زیرِ حفاظت علاقہ قرار دینے کے لیے تیار ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عمرا خان اس بات پر شدید ناراض ہوگا، اگر ہم اُس علاقہ میں اُسے مداخلت سے روکنے کی کسی کو یقین دھانی کرا دیں۔ اس لیے اگر ہم اُس سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو ایسے رابطوں کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ ان کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ لڑکر خود ہی اپنے معاملات کو ٹھیک کریں۔‘‘
گورنر جنرل ان کونسل نے اس بات سے اتفاق کیاکہ ڈین کی تجویز قابل عمل نہیں۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ’’بہتر یہی ہے کہ عمراخان کو سوات میں مداخلت سے باز رہنے کا مجوزہ انتباہ جاری نہ کیاجائے ۔‘‘
اس کے خیا ل میں ایک تویہ لازم نہیں کہ اس انتباہ کا کوئی اثر ہو اور اس سے یقینا عمرا خان برطانوی حکومت کے خلاف بہت زیادہ نالاں ہو جائے گا۔ تا ہم اُس نے یہ بات اچھی طرح واضح کردی کہ ’جب تک ہماری حکومت کو مداخلت پر مجبور نہ کردیا جائے، ہمیں ان رقابتوں اورسازشوں سے بچ کر رہنا چاہیے جو کہ سرحد کے اُس طرف کی زندگی کا لازمی جز ہیں۔ ہندوستان کی حکومت ایک موقع پر عمرا خان کی حوصلہ افزائی پر آمادہ تھی، تاکہ امیرِ افغانستان کو اس پورے علاقہ کو تاخت و تاراج کرنے سے روکا جاسکے۔ وہ مسئلہ بالکل مختلف تھا۔ لیکن اب سواتیوں اور عمراخان کے درمیان میں حائل ہونا بالکل علیحدہ بات ہے۔‘‘
1893ء میں عمرا خان کو سوات میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی، لیکن یہاں گروہی تنازعات مزید دو سال تک جاری رہے۔ اُسے سوات میں کچھ زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی کہ اُس نے چترال پر حملہ کردیا۔ نتیجتاً اُسے افغانستان فرار ہونا پڑا اور سوات زیریں میں سے انگریزوں کو گزر گاہ مل گئی۔ اس طرح سوات جو کہ 1895ء تک ایک ایسی سرزمین تھی جس پر کسی یورپی باشندے نے قدم نہیں رکھا تھا اور اس داستانی حسن کا کسی یورپی آنکھ نے حظ نہیں اٹھایا تھا۔ اُس کا بند دروازہ برطانویوں کے لیے کھل گیا۔
زیریں وادئی سوات کوتھانہ قصبہ تک ایک ڈھیلے ڈھالے برطانوی انتظام کا حصہ بنادیا گیا۔ یہ انتظام بلوچستان اور کُرّم میں بہت کامیاب رہا تھا۔ اس سے زیریں سوات سے گذرنے والا پشاور سے چترال جانے والا راستہ محفوظ ہوگیا، جس سے چترال میں تعینات فوج تک کمک پہنچانا آسان اور محفوظ ہوگیا۔ تھانہ سے آگے کی وادی اب بھی اپنے قدیمی قبائلی انتشار کا شکار رہی۔
ڈیورنڈ لائن معاہدہ سے سوات تک انگریز حکومت کا اثر و رسوخ پہنچ گیا تھا، لیکن وہ براہِ راست یہاں کے معاملات میں مداخلت سے پھر بھی گریزاں تھے۔ مقامی سرداروں کے ساتھ ان کے جو تنازعات ہوتے تھے، وہ آزادانہ طورپر انہیں نمٹا لیتے تھے۔ 1895ء کی چترال ریلیف مہم کے بہت اہم اور دور رس نتائج نکلے اور مقامی سیاست میں یہ ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا۔ باجوڑ اور دیر میں اہم سیاسی عہدوں پر قابض لوگ بدل گئے اور انگریزوں کا حامی خان آف دیر اور اُسی کی طرح کے دیگر خوانین اپنی اپنی حیثیتوں پر بحال کردیے گئے۔ انگریز حکومت نے خود کو صرف مقامی سیاست میں مداخلت کرنے کا اہل ثابت نہیں کیابلکہ مقامی سیاست اور اقتدار کی جنگ میں حصہ دار بن گئی۔ (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 47 تا 51 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے