606 total views, 1 views today

عرب دنیا میں آثارِ قدیمہ کی بہتات ہے، اور یہ ان تاریخی اقوام کی باقیات ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ تاریخ میں کئی سارے ایسے موڑ آئے ہیں، جہاں حق اور باطل کا زبردست ٹکراؤ ہوا ہے۔ اس ٹکراؤ کے باعث اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سرخروئی عطاکی اور نافرمانوں کو عذاب کا مزا چکھا کر دنیا کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا۔ عرب کی سرزمین ایسے آثار سے بھی بھری پڑی ہے جن کی وجہ سے تازگی، فرحتِ قلبی اور ذہنی شادمانی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے آثار ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتے ہیں۔ ان آثار کے جھروکوں میں ہمیں اسلاف کی حیرت انگیز زندگی دکھائی دیتی ہے۔ دنیا میں تین طرح کی اقوام ہیں جن کے آثار آج دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ ایک تو اللہ کے نیک بندے ہیں، جن کی باقیات اہلِ حق کے لیے مؤجبِ طمانیت ہیں، جب کہ دوسری معذب اقوام ہیں، وہ اقوام جنہوں نے حق ماننے کا انکار کیا اور اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کردیا۔ اس طرح تیسری صورت ان اقوام کی ہے جو کسی ریاستی لڑائی، آپس کی چپقلش یا کسی بادشاہ کے ستم کا نشانہ بن کر تباہ ہوگئیں۔
عرب میں اول الذکر کے آثارِ قدیمہ میں اللہ کا سب سے پہلا گھر بیت اللہ کعبۃ اللہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے اول آباد گھر ہے۔ انسان کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس مقصد کی یاد دہانی کے واسطے کسی مرکز کا ہونا ضروری تھا۔ اس مرکز کی جانب سفر کرنا، وہاں قیام کرنا اور خالقِ حقیقی کے ساتھ راز ونیاز کرنا انسانیت کے لیے روزِ اول سے بھی ضروری تھا اور آج بھی لازم ہے۔ چناں چہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو آباد فرمایا، تاکہ انسانوں کو اجتماعیت کا مرکز فراہم کیا جاسکے۔ اس گھر کی بنیادیں حضرتِ آدم علیہ السلام اور فرشتوں نے اٹھائی تھیں۔ بعد ازاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے اس کی تعمیر نو کی، اور آج تک یہ قدیم معبد آباد ہے ۔
کعبۃ اللہ کے ساتھ اور بھی کئی ایسی چیزیں ہیں جن کا ذکر آثارِ قدیمہ کے باب میں ضروری ہے۔ اور ان کے بغیر اسلام کے ان مرکزی آثار کا ذکر پورا نہیں ہوتا۔ ان میں صفا مروہ، آبِ زم زم اور ان کے ساتھ پیش آنے والا وہ مشہور واقعہ جو حضرت اسماعیل علیہ السلام اور بی بی ہاجرہ کی داستان سناتا ہے۔
جزیرہ عرب میں اس کے علاوہ بھی کئی متمدن اقوام کے آثار ملے ہیں۔ ان میں قومِ صالح، قومِ ثمود اور قومِ شعیب خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان اقوام کے آثار کو اسلام نے منہدم کرنے کا حکم نہیں دیا۔ تاہم چوں کہ یہ معذب اقوام کے آثار ہیں جن کے بارے میں رسولؐ اللہ نے خاص احکام ارشاد فرمائے۔ ان احکام کا ذکر ہم آگے چل کرکریں گے ۔
اسلام کے دیگر آثار میں سے ان غزوات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے، جو مختلف علاقوں میں لڑے گئے۔ ان میں سرِفہرست غزوۂ بدر ہے، جہاں حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن لڑائی ہوئی تھی۔ اس دن کو یوم الفرقان بھی اس واسطے کہا گیا ہے کہ اس دن اسلام سربلند ہوا اور کفروشرک کا بت دھڑام سے گر گیا۔ عرب میں ایک انقلابی تبدیلی یہاں سے شروع ہوتی ہے اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ اسلام روم و فارس کی سرحدات پر ہلہ بولنے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔ سو میدانِ بدر اسلام کے کارزارِ حیات کا وہ پہلا پڑاؤ ہے جہاں سے جہاد جیسے عظیم الشان فریضے کی باقاعدہ افتتاح ہوئی۔ اس کے بعد میدانِ اُحد، تبوک اور حنین بھی اسلام کی یادگاروں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور آج بھی تاریخ کے اوراق ان مناظر میں قاری کو لے کے چلتے جاتے ہیں۔
اسلام کی تاریخ میں متبرک آثار کی ایک خاص انفرادیت ہے۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ آثار نہ تو مقصود بالذات ہیں کہ ان کی یا تو عبادت کی جاتی ہے یا ان سے کسی قسم کی امید اچھائی یا برائی کی، کی جاسکتی ہے بلکہ ان آثار کو محض یاددہانی، اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسولؐ اللہ کے اتباع کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجرِ اسود کو مخاطب کرکے کہا: ’’تو تو ایک سنگِ اسود ہے۔ تم میں بذاتِ خود نہ خیر دینے کی طاقت ہے اور نہ شر پہنچانے کی سکت! بس، میں اس لیے تمہیں چومتا ہوں کہ میرے محبوب نبی پاکؐ نے تمہیں چوما تھا۔‘‘
اس کے برعکس اگر دیگر ادیان کو دیکھا جائے، تو وہاں اکثر منجمد چیزوں کو ہی مقصود بالذات سمجھ کر ان کی تعظیم کی جاتی ہے۔ پھر ان کی عبادت کی جاتی ہے اور ان سے مرادیں مانگی جاتی ہیں۔ اسلام میں خانہ کعبہ کو ہی لیجیے۔ اس کی طرف منھ کرکے تمام مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ اس کو متبرک مقام کے طور پر محبت کا مرکز گردانتے ہیں، لیکن حکم یہ ہے کہ یہ محض ایک مرکز ہے، ایک جائے نماز، اِدھر اُدھر انتشار کی بجائے ایک محورِ عبادت جس کی طرف سب مل کر رُخ کریں، لیکن عبادت اس کی نہیں بلکہ اس کے اور تمہارے رب کی کرنی ہوگی!

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے