414 total views, 3 views today

سوات کے درباری مؤرخین اور ان کے خوشہ چین سوات میں اقتدار کی اس جنگ کو اخوند آف سوات کے خاندان کے افراد کے درمیان جاں نشینی کا مسئلہ قرار دے کر پیش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خان آف دیر رحمت اللہ خان، الہ ڈنڈ کا شیر دل خان اور اخوند کا بڑا بیٹا میاں گل عبدالحنان تینوں سوات کے تخت کے دعوے دار تھے۔ خان آف دیر رحمت اللہ خان ولد غزن خان، شیر دل خان کے حامی تھے۔ اُس وقت سوات میں دو بہت بڑے ڈلے (دھڑے) تھے۔ ان میں سے ایک کی قیادت شیر دل خان کے پاس تھی جو رانی زئ قبیلہ کے سردار تھے (اب ان کا علاقہ ملاکنڈ ایجنسی میں شامل ہے) جب کہ دوسرے کا سربراہ اخوند کا بڑا بیٹا میاں گل عبدالحنان تھا۔ سوات اور اُس اردگرد کے سارے علاقوں کا ہر قبیلہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا حامی تھا۔ بابوزئی اور رحمت اللہ خان آف دیر کے طرف داروں کے مقابلہ میں میاں گل کا پلڑہ عموماً بھاری تھا۔ "لیکن اُس کے حامیوں کی بھیڑ نے مقبوضہ دیہاتوں کی عورتوں کے ساتھ جو ناروا زیادتیاں کیں، اس کی وجہ سے اُس کی حمایت میں نمایاں کمی آگئی اور خان آف دیر کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا، جس نے اکتوبر (1879ء) میں سوات پر حملہ کر دیا لیکن باجوڑ میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے اُسے لوٹ جانا پڑا، تاہم سوات کے ادین زئ تپہ میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اُس نے ایک آدمی وہاں مقرر کردیا۔”
اپریل 1880ء میں شیردل خان کا انتقال ہوگیا اور سوات میں بڑی سیاسی طاقت رحمت اللہ خان، خان آف دیر کے ہاتھ میں آگئی۔ 1881ء کی ابتدا میں سوات کے ادین زئ تپہ کے علاقہ میں تعینات اُس کے نمائندوں کو نکال دیا گیا۔ یہ علاقہ اُس نے 1879ء میں قبضہ کیا تھا۔ لیکن دریائے سوات کے شمال میں جو علاقہ ہے وہاں اُس کا اثر و رسوخ جوں کا توں برقرار رہا۔ رحمت اللہ خان جسے سوات کی سرزمین پر ہمہ وقت برپا گروہی تنازعات و مسائل نے فائدہ پہنچایا، 1881ء میں دریا کے دائیں جانب واقع سوات بالا کا حکمران بن گیا۔ اُس کی جاہ طلبی کی تمنا یقیناً پوری ہوجاتی اور پورا سوات اُس کے زیرنگیں آجاتا اگر خان آف باجوڑ اور اپنے ہی بیٹے کے ساتھ اُس کے جھگڑے اُ سے اس کامیاب مہم کو بیچ میں ادھورا چھوڑ کر واپس جانے پر مجبور نہ کرتے۔
میاں گل عبدالحنان نے اس جماعتی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن "سوات میں ایک نمایاں سیاسی حیثیت کے حصول کی اُس کی کوششوں کو لوگوں کی مجہول مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اُس کی طرف سے مقامی قبائلی سرداروں کی حیثیت کو ختم کرنے کی جدوجہد کو حسد اور نفرت سے دیکھ رہے تھے اور انہیں خوف لاحق تھا کہ اگر اُس کا اقتدار قائم ہوگیا، تو اُس کا نتیجہ ان لوگوں سے محصولات وصول کرنا ہوگا۔ اس خیال کو یقینا ایسا لگتا ہے…… خوانین نے ہی پروان چڑھایا ہوگا۔”
میاں گل کا اثر و رسوخ جو کچھ عرصہ سے کم ہوتا ہوا دِکھتا تھا، اچانک اُس میں اضافہ ہوگیا اور 1882ء کے اختتام تک سوات کے دیگر تمام سرداروں کے مقابلہ میں اُس کی حیثیت بہت مستحکم ہوگئی۔ تاہم وہ ذاتی طورپر لوگوں میں غیر مقبول تھا "جن کے دلوں میں کسی ایک شخص کو مکمل اختیارات سونپنے کے خلاف نفرت موجود تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سوچتے تھے کہ ایک مستحکم مقتدر حکمران یقیناً محصول لے گا اور زرعی پیداوار پر بھی ٹیکس مانگے گا۔”
اس وقت تک باجوڑ میں عمرا خان کی گرفت مضبوط ہوگئی تھی اور وہ اب سوات میں اقتدار کی جنگ میں شامل ہوگیا۔ 1883ء میں خان آف دیر اور میاں گل کے درمیان سوات میں اقتدار کے حصول کی ایک سرسری سی کشمکش شروع ہوئی۔ مارچ 1884ء میں وہ ایک معاہدہ تک پہنچ گئے۔ میاں گل نے دیر ملیزئی میں رحمت اللہ خان کے اقتدار کو تسلیم کرلیا۔ اس کے بدلہ میں اُس نے وعدہ کیا کہ وہ سوات خاص کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔
1884ء سے 1890ء تک وادئی سوات سازشوں اور گروہی جھگڑوں کا مرکز بنا رہا۔ اس کی وجہ عمرا خان آف جندول کی جاہ طلب کارروائیاں تھیں۔ میاں گل کبھی تو خان آف دیر شریف خان کی حمایت کرتا جو کہ اپنے باپ رحمت اللہ خان کی وفات کے بعد اُس کی جگہ لے چکا تھا اور کبھی جندول کے خان کا ساتھ دیتا۔
اس بات کا قوی امکان تھا کہ عبدالحنان کے اقتدار کے دعویٰ کو لوگ تسلیم کرلیتے، حالاں کہ وہ اپنے باپ کی صلاحیتوں سے محروم تھا۔ ایک موقع ایسا آیا تھا کہ لگتا تھا کہ سوات کا اقتدار بلا شرکتِ غیرے اُسے مل جائے گا، لیکن اُس کی فطری کاہلی آڑے آئی۔ نہ تو وہ اپنی طاقت کو مستحکم کرسکا، نہ عوام سے تعلق کو بہتر بنا سکا۔ اور نہ اپنے حامیوں کی غارت گرانہ عادات کو قابو کرسکا جن کی وجہ سے اُسے کئی مواقع سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ وہ 1887ء میں انتقال کرگیا۔ (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 46, 47 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے