692 total views, 1 views today

سید اکبر شاہ کے بعد اُن کا بیٹا سید مبارک علی شاہ تخت نشیں ہوا، جو مبارک شاہ کے نام سے زیادہ معروف ہے، لیکن چوں کہ سواتی کسی مضبوط حکومت کے ماتحت زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے وہ اُسے بادشاہ تسلیم کرنے میں پس و پیش کر رہے تھے۔
دوسری جانب اخوند آف سوات کو اس بات کا بھی خوف تھا کہ کہیں سید مبارک شاہ، سپاہ (وہ ہندوستانی سپاہی جو اپنی بغاوت کی ناکامی کی وجہ سے مردان سے سوات آئے تھے اور مبارک شاہ سے مل گئے تھے) کی مدد سے سوات میں اپنی حیثیت اتنی مضبوط نہ کر لے کہ جس سے اُس کی اپنی پوزیشن کمزور ہوجائے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بڑے بیٹے کو تخت پر بٹھانا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے اس سلسلہ میں اپنا مخالفانہ کردار ادا کیا۔ اس پہلو پر اُولف کیرو، سرن زیب سواتی اور ضلع پشاور کے گزٹیئر نے روشنی ڈالی ہے۔ بالآخر مبارک شاہ کو چند ماہ کے بعد 55ویں مقامی انفینٹری کے سپاہیوں کے ساتھ ساتھ اقتدار سے الگ کرکے سوات سے بے دخل کر دیا گیا، جس کے نتیجہ میں سوات کی پہلی ریاست اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ جہاں تک ان متنازعہ بیانات کا تعلق ہے کہ 1857ء میں سید اکبر شاہ کی وفات کے بعد سیدو بابا (اخوند) نے بذاتِ خود 1877ئ میں اپنی وفات تک حکومت کی یا "یہ کہ انہوں نے سیدوشریف کو اپنا دارالحکومت بنایا” تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ دراصل اخوند سیاسی منصب کے لیے کوئی دعویٰ پیش کرنے یا خود کوئی دُنیوی عہدہ قبول کرنے کے سلسلہ میں حد درجہ محتاط تھے۔ اور "ان کی زندگی میں ان کا کوئی دُنیوی منصب قبول کرنے کے بارے میں کبھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوا۔”
مئی 1871ء اور جون 1875ء میں اخوند نے اپنے بڑے بیٹے (میاں گل عبدالحنان) کو سوات کا بادشاہ منتخب کرانے کی باالواسطہ کوششیں ضرور کیں، لیکن ان مواقع پر بھی انہوں نے خود اس کا نام تجویز نہیں کیا۔ اس طرح اخوند اپنی اس کوشش میں ناکام ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ تخت کے اور بھی بہت مضبوط دعوے دار موجود تھے۔ "پنجاب اور اُس کے زیرنگیں علاقوں کے انتظام و انصرام” کے بارے میں ایک رپورٹ اس بات کی تہہ تک پہنچتے ہوئے بیان کرتی ہے: "اخوند کی انتہائی سِن رسیدگی اور اُس کی جاں نشینی کے جھگڑوں نے ملک میں انتشار کی کیفیت پیدا کردی تھی۔ اہم ترین دعوے دار اخوند کا بیٹا میاں گل اور سوات کے طاقتور ترین قبائل میں سے ایک کے سردار شیر دل خان ہیں ان کا تعلق رانیزئی سے ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اُن کے اس دعویٰ کی حمایت کرتی ہے۔”  (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 45 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے