814 total views, 2 views today

سوات کے یوسف زئی کسی ایک شخص کو اپنا حکمران تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے ۔وہ اپنے اپنے سرداروں کے زیرِ قیادت دو علیحدہ ڈلوں (دھڑوں) میں بٹے رہے لیکن قومی سطح کے خطرات کے موقع پر وہ آپس کے جھگڑوں، باہمی رقابتوں اور دشمنیوں کو بھول کر مشترک دشمن کا سامنا کرتے۔ ان کی یہ خوبی اُس وقت بھی سامنے آئی جب انگریزوں نے پشاور پر قبضہ کرلیا اور سَمہ رانی زئ کے خلاف تعزیری مہمّوں کے سلسلہ میں سوات کی سرحد تک پہنچ گئے۔
سواتیوں نے اپنی آزادی کو درپیش اس خطرہ کا مثبت جواب دیا اور اپنے دفاع کے لیے وہ کسی ایک ذمہ دار سردار کی قیادت قبول کرنے اور سوات کا ایک بادشاہ نامزد کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس منصب کے کئی دعویدار تھے اور خدشہ تھا کہ انتخاب کا یہ مشکل مرحلہ ان میں مستقل پھوٹ ڈالنے کا سبب نہ بن جائے اور وقت کی اہم ترین ضرورت اتحاد کا خواب بکھر نہ جائے لیکن ستھانہ کے سید اکبر شاہ کو بادشاہ مقرر کرکے اس معاملہ کو سلجھا لیا گیا۔ جسے اخوند آف سوات نے ایک طاقتور، ذہین اور اسلامی اصولوں پر کاربند شخص قرار دیا۔ جسے سیّد ہونے کی اضافی خوبی بھی حاصل تھی۔
سیّد اکبر شاہ کا سلسلہ نسب سید علی ترمذی المعروف پیر بابا سے ملتا تھا اور وہ سیّد احمد شہید بریلوی کے حامی تھے۔ 1831ء میں بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی میں سیّد احمد کی شہادت کے بعد اُن کے بچ جانے والے پیروکاروں کو سیّد اکبر شاہ نے ہی اپنے قلعہ ستھانہ میں گھر فراہم کیا۔ یہی وہ جگہ ہے جس نے ہری سنگھ اور بعد میں رنجیت سنگھ (1824ء) کی طاقت کو للکارا تھا۔
بادشاہ بننے کے بعد سیّد اکبر شاہ نے غالیگے کو صدر مقام بنایا۔ وادیٔ پشاور میں سیّد احمد شہید کی ماتحتی میں انتظام چلانے اور محاصل جمع کرنے کا تجربہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ایک خام قسم کی انتظامی مشینری قائم کرلی۔ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے محصولات جیسے عشر وغیرہ جمع کرنے شروع کیے۔ جس پر اُن کے بادشاہ بنائے جانے کے وقت اتفاق ہوا تھا۔ جب اُن کا اقتدار مستحکم بنیادوں پر قائم ہوا، تو انہوں نے ایک باقاعدہ فوج بنانے کی ٹھانی جو بندوقوں سے مسلح ہو۔ بالآخر وہ 800 سواروں اور تین ہزار پیادہ فوج جمع کرنے میں کامیاب ہوئے جس کے پاس پانچ چھے بندوقیں تھیں۔
سید اکبر شاہ کی مستحکم طاقتور مرکزی حکومت قائم کرنے کی کوشش زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس لیے کہ لوگ چوں کہ ایک طویل عرصہ تک من مانی کرنے، آزادانہ طور طریق سے رہنے اور ایک غیر منظم طرزِ زندگی کے عادی ہوگئے تھے۔ نئی حکومت کی عائد کردہ پابندیوں اور ضوابط کے مطابق رہنا انہیں مشکل لگا۔ اس لیے "سوات کی پہلی اسلامی ریاست” سیّد کی اعلیٰ کارکردگی اور ارفع خصوصیات کے باوجود ناکام ہوگئی۔ ان کی خوبیوں کا بہر حال اعتراف کیا گیا۔
بعض معترضین اُس کے افسروں کی بدانتظامی، فوج میں مقامی افراد کی عدم موجودگی، عام لوگوں سے اُس کے ملازمین کا ظالمانہ اور نامناسب برتاؤ اور خوازہ خیلہ کے ایک اعلیٰ شریف خاندان کی بے عزتی کو اس حکومت کی ناکامی کا سبب گردانتے ہیں۔ مزید برآں اچھے سرکاری عہدوں اور فوجی مناصب پر غیر مقامی لوگوں کی تقرری نے عوام کے دلوں میں ایک مستقل تلخی پیدا کردی تھی۔
سید اکبر شاہ کی اُن مشکلات کا تعلق کسی حد تک معترضین کی ان باتوں سے بھی رہا ہوگا جن کی وجہ سے وہ ایک ایسی منظم اور مستحکم حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے جو اُن کی وفات کے بعد بھی چلتی رہتی لیکن اس خیال کی واضح تردید ضروری اور اہم ہے کہ انہیں سوات سے دورانِ حکومت نکال دیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ 11 مئی 1857ء (اپنی وفات) تک سوات کے حکمران رہے اور ان کے وفات کے دن ہی1857ء کی جنگِ آزادی کی خبر پشاور پہنچی۔
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگ کسی باقاعدہ قانون کی پاسداری اور ایک بااختیار حکومت کی اطاعت کے خواہش مند نہیں تھے۔ سرکاری ضوابط کے نفاذ، معائنوں اور پابندیوں کے لیے وہ تیار نہیں تھے اور وہ عشر کی ادائیگی سے بالکل تنگ آگئے تھے۔ خوانین اور سردار اس بات کے لیے ہر گز تیار نہیں تھے کہ اُن کے اوپر کوئی اور بااختیار طاقت ہو جو اُن کی زندگی کے معمولات میں دخل کی مجاز ہو۔ پھر یہ کہ سید اکبر شاہ کی حیثیت اس وجہ سے بھی کمزور تھی کہ غیر مقامی ہونے کی وجہ سے اُن کا سوات میں کوئی ڈلہ (دھڑا) نہیں تھا۔ اس سب پر مُستزاد یہ کہ ان کی حکومت کو یوں تو اخوند آف سوات کی سرپرستی حاصل تھی جن کی حیثیت "پوپ” سے کم نہیں تھی لیکن پھر اس کی انگریز مخالف پالیسی اور مختلف مذہبی عقائد کی وجہ سے اخوند آف سوات اُن کے خلاف ہوگئے جس سے اُن کی مشکلات بہت بڑھ گئیں۔ مزید برآں یہ کہ ان میں سے کسی ایک کی حیثیت میں استحکام کا لازمی نتیجہ دوسرے کی حیثیت کی کمزوری تھی۔ اس لیے اخوند آف سوات کا اُن کا مخالف ہو جانا لازم تھا۔
میجر راورٹی سید اکبر شاہ کو صحیح معنوں میں سوات کا بادشاہ تسلیم نہیں کرتا۔ اُس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سید اکبر شاہ کے لیے باچا کے لقب کا استعمال اُن کے بادشاہ ہونے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ دراصل سیّد ہونے کی وجہ سے ان کے لیے استعمال کیا گیا۔ لیکن راورٹی کا کمزور استدلال اس حقیقت کی مار نہیں سہ سکتا کہ سید اکبر شاہ کو باقاعدہ حکمران تسلیم کرنے کے بعد یہ لقب دیا گیا تھا ورنہ سیّد تو وہ پہلے سے ہی تھے۔ (کتاب "ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ تریالیس چوالیس سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے