1,833 total views, 1 views today

پٹھانوں کا ایک قبیلہ جو "کودئی” کے ایک بیٹے لقمان عرف خٹک کی اولاد ہونے کے دعویدار ہیں۔ وہ خود کو "کرلارنئی” شاخ کے پٹھان بتاتے ہیں۔ کرلارنئی کے "اُرمڑ” بیوی کے بطن سے دو بیٹے "کودئی” اور "ککئی” پیدا ہوئے۔ کودئی کے چھے یا سات بیٹوں میں سے ایک لقمان تھا (ایک بیٹی بھی تھی جو سید محمد کی بیوی بنی) اور لقمان کے دو بیٹے "ہونئی” اور "وردگ” تھے۔
کہانی یوں ہے کہ لقمان اپنے بھائیوں کے ساتھ شکار کھیل رہا تھا کہ ان کی ملاقات کسی اور قبیلے کی چار افغان حسیناؤں سے ہوئی۔ لقمان نے سب سے زیادہ خوش لباس حسینہ منتخب کی لیکن وہ سب سے کم حسین، گہری رنگت والی اور ٹھوس جسم کی مالک تھی۔ بھائیوں نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ "لقمان پہ خٹائی لارما” یعنی لقمان کیچڑ میں گرا ہے۔ تبھی سے اس کا نام خٹک پڑ گیا۔ تاہم، اُس بیوی سے اُس کے دو بیٹے "تورمان” اور "بولاق” پیداہوئے۔ تورمان کے دو بیٹے "ترئی” اور "ترکئی” تھے، لیکن دونوں کی اولادوں کو "تری” کہا گیا۔ چناں چہ خٹکوں کی دو شاخیں تری اور بولاق ہیں…… اور مؤخر الذکر کی نسل سے بنگی خیل ہیں۔
خٹک اپنے خد و خال، ظاہری شخصیت اور بہت سی روایات میں باقی تمام پٹھانوں سے مختلف ہیں۔ وہ ہماری سرحد پر آباد پٹھانوں میں سے انتہائی شمال پر رہتے ہیں اور پشتو کا نرم یا مغربی لہجہ بولتے ہیں۔ وہ جنگجو فطرت والے ہیں اور کئی سو سال تک اپنے پڑوسیوں کے ساتھ یا آپ میں ہی مصروفِ پیکار رہتے ہیں۔ وہ پھرتیلے، محنتی اور پٹھانوں کا موزوں ترین نمونہ ہیں۔ اگرچہ ان کا علاقہ غیر زرخیز ہے لیکن وہ اچھے کاشتکار ہیں۔ وہ حمال اور تاجر بھی ہیں۔ خصوصاً سوات اور بونیر کے ساتھ نمک کی تجارت ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ سب کے سب سُنی ہیں۔
خٹک کے موروثی دشمن مروت کا کہنا ہے: "خٹک کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی دوستی اچھی ہے، خٹک کو شیطان لے جائے۔” اور "خٹک ایک مرغی ہے۔ اسے دھیرج کے ساتھ پکڑیں، تو بیٹھ جاتی ہے، اور جھپٹ پڑیں، تو بدک جاتی ہے۔” ایک اور محاورہ یوں ہے: "اگر چہ خٹک ایک اچھا گھڑ سوار ہے، لیکن وہ صرف یہی کرسکتا ہے۔”
خٹکوں کی شادی کی رسوم کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ جب کوئی خٹک نوجوان کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو دلال کو لڑکی کے والدین کے پاس بھیجتا ہے، تاکہ اس کے عوض واجب الادا رقم کے بارے میں جان سکے۔ دلال واپس آکر بتاتا ہے کہ مثلاً لڑکی کی قیمت 300روپے ہوگی۔ اس کے علاوہ 40 روپے نقد، 10من گندم، بھیڑوں کا ایک جوڑا، 200 روپے مالیت کے زیور، ایک من گھی شادی کے موقع پر فراہم ہوگا۔ اس کے علاوہ حق مہر بھی 200 روپے ہوگا۔ اگر نوجوان اتنی رقم کا انتظام کرلے، تو اس کا ڈُوم یا باپ، یا کوئی اور قریبی رشتہ دار لڑکی کے گھر جاتا ہے۔ البتہ لڑکی کا باپ خود سامنے آنے کی بجائے اپنے ڈُوم یا مختار کے ذریعے معاملات طے کرتا ہے۔ رقم ایک چٹائی پہ بیٹھ کر گِنی جاتی ہے اور لڑکی کے ڈُوم کو دے دی جاتی ہے۔ وہ یہ رقم لڑکی کی ماں کو دیتا ہے۔ اس کے بعد دونوں دلال "شرعی نکاح” کا انتظام کرتے ہیں۔ ("ذاتوں کا انسائیکلو پیڈیا” (از "ای ڈی میکلیگن/ ایچ اے روز” مترجم یاسر جواد) شائع شدہ "بُک ہوم لاہور” کے صفحہ نمبر دو سو چھے، سات اور آٹھ سے ماخوذ)




تبصرہ کیجئے