894 total views, 1 views today

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے سے دونوں ممالک کے عوام کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے، خاص کر سکھ قوم کو۔ کیوں کہ سکھوں کا تقریباً اسی فیصد ’’ہیرٹیج‘‘ پاکستان میں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سکھوں کے پہلے ’’بابا گورونانک جی‘‘ اور تیسرے گورو ’’گورو رام داس جی‘‘ کا جنم ’’استھان‘‘ پاکستان کے لاہور اور ننکانہ صاحب میں ہوا ہے۔ جب کہ سکھ سلطنت کی بنیاد رکھنے والے پہلے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی جنم بھومی اور سمادھی بھی وطن عزیز میں ہی واقع ہے۔ اس کی وجہ سے سکھ قوم کے لیے پاکستان کی دھرتی خاصی اہمیت کی حامل اور متبرک سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کے ویزوں میں نرمی کے باوجود بھارتی حکومت حیلے بہانے بناکرسکھ یاتریوں کو ڈرا دھمکا کر پاکستان آنے سے روکتی ہے۔ ’’مہاراجہ رنجیت سنگھ‘‘ کی ایک سو انہتر ویں (169) برسی کے موقع پر پاکستانی حکومت کی جانب سے تقریباً ًہزار ویزے جاری کیے گئے تھے۔ پر ہمیشہ کی طرح بھارتی حکومت نے صرف دو سو اسّی (280) سکھوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی۔ خیر، بھارت کی کس کس ستم ظریفی کا رونا روئیں گے؟ آج پاکستان کے بہادر سپوت ’’مہاراجہ رنجیت سنگھ‘‘ کی برسی لاہور کے گورودوارہ ’’ڈیرہ صاحب‘‘ میں منائی جا رہی ہے۔ جس میں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے بھی سکھ شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔
قارئین، مہاراجہ رنجیت سنگھ کون تھے اور کہاں پیدا ہوئے؟ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی کو شائد اس بارے میں علم نہ ہو۔ کیوں کہ اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ’’امپورٹڈ ہیروز‘‘ کو زیادہ ترجیح دی ہے اور اس مٹی پر جنم لینے والوں کو کم۔ کبھی کبھی تو دل خون کے آنسوروتا ہے جب کسی مذہب یا قومیت کی بنیاد پر حقیقی تاریخ کو مسخ کرکے اس کے امیج کواتنا متنازعہ کرکے پیش کر دیا جاتا ہے کہ دوسروں کے ذہن میں ہمیشہ اس مذہب یا قومیت کا منفی اثر رہتا ہے۔ اس دھرتی کے دلیر فرزند ’’راجہ پورس‘‘ نے سکندر اعظم کو پسپا کیا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب شیرِ پنجاب ’’رنجیت سنگھ‘‘ زندہ تھے، تو انگریزوں کی ہمت نہیں ہوئی اُن کے علاقوں میں گھسنے کی۔ عدم تشدد کا پرچار کرنے والے ’’خان عبدالغفار خان‘‘ تک کوبھی نہیں بخشا گیا۔ خیر، ہم صحافیوں کا کام ہے کہ قارئین کے سامنے اصل حقائق لائیں، جو تاریخ مذہب یا قومیت کی بنیاد پر مسخ کی گئی ہے، اسے اصل روح کے ساتھ اپنی نئی نسل تک پہنچاناہمارا فرض ہے۔
شیرِ پنجاب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سترہ سو اسّی عیسوی (1780ء) میں گوجرانوالہ (پاکستان) میں ایک سرادر ’’مہان سنگھ‘‘ کے ہاں ’’راج کور‘‘ کے بطن سے جنم لیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے والد سکرچکیہ مشِل (قبیلہ) کے سردار تھے۔ رنجیت سنگھ بارہ سال کے تھے جب ان کے والد مہان سنگھ وفات پا گئے۔ اس کے بعد سکرچکیہ قبیلے کی سرداری رنجیت سنگھ کی ماں ’’راج کور دیوان لجپت رائے‘‘ اور رنجیت سنگھ کی ساس ’’صدا کور‘‘ کے ہاتھوں میں تھی۔ رنجیت سنگھ کی ساس ’’صدا کور‘‘ کو میدانِ جنگ میں جنگی داؤ پیچ میں کمال کی مہارت حاصل تھی۔ اس نے بچپن میں ہی ننھے رنجیت سنگھ کو نیزہ بازی، گھڑ سواری، تیر اندازی اور تلوارچلانے کے گُر سکھائے۔ رنجیت سنگھ نے پہلی جنگ دس سال کی عمر میں لڑی اور میدانِ جنگ سے فتح یاب ہوکر واپس لوٹے۔ دلیری ان کی رگ رگ میں سمائی تھی اور کیوں نہ ہوتی، ان کے دادا ’’چراٹ سنگھ‘‘ کی بہادری کے قصے جو عام تھے۔
قارئین، یہاں یہ ذکر کرنابھی مناسب سمجھتا ہوں کہ رنجیت سنگھ کا پہلا نام ’’بودھ سنگھ‘‘ تھا، لیکن چھوٹی عمر میں پہلی جنگ جیت کر مقامی لوگوں نے ان کا نام ’’رنجیت‘‘ رکھا، جس کے معنی ہیں:’’ہر جنگ جیتنے والا۔‘‘ یہی سے رنجیت سنگھ کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔
سترہ سو ستانویں (1797ء) عیسوی میں جب رنجیت سنگھ 17 سال کے ہوئے، تو قبیلے کی سردارانہ ذمہ داریاں ان کے کاندھوں پر ڈال دی گئیں۔ یوں وہ سکرچکیہ کے نئے سردار چنے گئے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک آنکھ سے کانے تھے۔ ان کی ایک آنکھ بچپن میں چیچک بیماری کی نذر ہوئی تھی۔
کہتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے ایک دفعہ دربار میں جب کسی نے ان کی آنکھ کے متعلق پوچھا، تو مہاراجہ کا جواب بڑا دلچسپ تھا۔ کہاکہ ’’رب نے مجھے آنکھ سے اس لیے کانا کیا، تاکہ میں اپنی رعایا کو ایک آنکھ سے دیکھوں۔‘‘




مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک آنکھ سے کانے تھے۔ (Photo: The Express Tribune)

رنجیت سنگھ نے اٹھارہ سو ایک (1801ء) عیسوی میں امرتسر کو اپنی ریاست میں شامل کیا۔ ادھر لاہور میں لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ مقامی سکھوں اور کچھ باہر سے آئے ہوئے لٹیروں نے ہر ایک کا ناک میں دم کر کھا تھا۔پورے لاہور میں کسی کا جان ومال محفوظ نہ تھا۔ ظلم اور بر بریت کے اس گرم بازار سے تنگ ہوکر مقامی لوگوں کا ایک وفد رنجیت سنگھ کے دربار میں پیش ہوا اور تختِ لاہور پر براجمان ہونے کی دعوت دی۔ اس زمانے میں شاہ زمان جس کا قبضہ تختِ لاہور پر بھی تھا، اس کے بھائیوں کی بغاوت پورے افغانستان میں زور پکڑ رہی تھی۔ اس لیے شاہ زمان بھی رنجیت سنگھ سے ٹکر لینے کی بجائے واپس افغانستان چلا گیا، تاکہ افغانستان میں اٹھنے والی بغاوقت کی سرکوبی کرسکے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ جب تختِ لاہور پر بیٹھ گئے، تو مقامی سکھ اور ہندوؤں پر لاگو جزیہ یعنی ٹیکس ختم کردیا گیا اور پورے لاہور میں دوبارہ امن و امان کا دور شروع ہوگیا۔
رنجیت سنگھ کے بارے میں مشہور کہ آپ ہمیشہ بھیس بدل کر لاہور کی گلیوں اور محلوں میں جاکر مقامی لوگوں کے مسائل سنتے تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کے وہ اپنے دادا ’’چراٹ سنگھ‘‘ اور اس کے ساتھیوں (جن میں پنجابی مسلم، ہندو اور سکھ شامل تھے)، جو دن رات اسی تگ و دو میں رہتے کہ کیسے پنجاب کے عوام کو باہر سے آنے والے حملہ آوروں سے بچایا جاسکے؟ کا خواب پوارکرسکیں۔
مہارجہ رنجیت سنگھ کی سر پرستی میں سکھوں نے کشمیر، گلگت، ہزارہ، شکارپور اور پشاورسے لے کر جمرود تک پھیلی ہوئی حدود اپنی ریاست میں شامل کرلیں۔ اور باہر سے آنے والے حملہ آور جو افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہوتے، ان کا راستہ ہی بند کر دیا۔
ایک دفعہ مہاراجہ پشاور میں تھے کہ مقامی ہندو، دربار میں شکایت لے کر آئے۔ شکایت یہ تھی کہ ’’حضور! مسلمان جب صبح کی اذان دیتے ہیں، تو ہمارے بچے نیند سے جاگ جاتے ہیں۔ ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا اذان پر پابندی لگا دی جائے۔ مہاراجہ نے جواباً کہا، ٹھیک ہے۔ آپ میری رعایا ہیں۔ آپ کی تکلیف دور کرنا میرا فرض ہے۔ آج سے ہی اذان بند ہوگی، لیکن آپ نے ہر نماز کے وقت مسلمانوں کے گھروں میں جاکر بتانا ہوگا کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ہندوؤں نے مہاراجہ کے حکم کی تعمیل کی اور بڑی خوشی سے واپس چل دیے۔لیکن دو دن یہ ڈیوٹی کرنے کے بعد ایک بار پھر دربار میں مہاراجہ کے حضور پیش ہوئے اور درخواست کی،حضور والا! بس اذان دوبارہ شروع کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔ یہ والی ڈیوٹی بڑی مشکل ہے ۔ مہاراجہ نے انہیں مخاطب ہوکر کہا، ہر مذہب کے عقائد اور ان کے رسم و رواج کا احترام کرو۔ یہی میری ریاست کا قانون ہے۔‘‘
مشہور کتاب ’’تحقیقاتِ چشتی‘‘ کا اگر مطالعہ کیا جائے، تو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عدل و انصاف کا پتا چل جاتا ہے کہ اس دور میں انصاف کا کتنا بول بالا تھا؟ ان کی ر یاست کا قانون تھا کہ جب بھی کسی علاقے پر حملہ کرنا ہو، تو وہاں کے ہر مذہب کی عبادت گاہوں، خواتین اور بچوں کو محفوظ بنانا اولین فرائض میں شامل تھا۔ عدل و انصاف کی کڑیاں صرف سکھوں تک محدود نہ تھیں بلکہ ہندو مسلم اور عیسائی ہر کسی کے لیے یکساں تھیں۔
قارئین، شیرِ پنجاب نے صرف جنگیں نہیں لڑیں بلکہ علم و ادب پر بھی ان کی خاص توجہ مرکوز تھی۔ ان کے زمانے میں جب کسی کو اردو، فارسی، عربی اور دیگر زبانیں آتیں، تو انہیں خصوصی وظیفہ دیا جاتا۔ اپنی آرمی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے انہوں فرنچ اور برطانیہ کے فوجی جرنیلوں سے ٹریننگ کروائی۔ ماڈرن آرٹ گیلری کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی۔ ماڈرن موسیقی اور مو سیقاروں کی حوصلہ افزائی بھی ان کے دور میں ہوئی۔ جدید ادویہ اور ڈاکٹرز کو برطانیہ اور دیگر ممالک سے لاکر انہیں اپنی ریاست کے عوام کی خدمت پر مامور کیا۔ دربار میں مسلم، سکھ، ہندواورانگریز وں کے بڑے بڑے ادیبوں اور عالموں کی بیٹھک لگتی تھی۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کا چالیس سالہ سیکولر حکمرانی کا دورانیہ ان کی موت تک ہی محدودو تھا۔ رنجیت سنگھ اٹھارہ سو تیس (1830ء) عیسوی میں جگر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور آخرِکار ستائیس جون اٹھارہ سو انتالیس (1839ء) عیسوی میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کے گزرنے کے بعد ان کے فرزند سردار ’’کھڑک سنگھ‘‘ خالصہ راج کے نئے مہاراجہ چنے گئے، پر بہت جلد ہی مہاراجہ کاخاندان اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گھِر گیا۔ انہی سازشوں سے فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے “خالصہ راج” کاخاتمہ کردیا۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے