801 total views, 3 views today

محض 18 یا 19 سال کی عمر میں انتہائی نگہداشت وارڈ کے باہر لان میں بیٹھ کر اپنی بے کسی کا رونا رو رہا تھا کہ اتنے میں ڈاکٹرکو وارڈ کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا۔ بے اختیار میں بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ دروازے تک پہنچا، تو میرے قدم خود بخود رُک گئے۔ اُن کا بستر دروازے کے بالکل سامنے تھا۔ ڈاکٹر تیز تیز قدم اٹھاتا اُن کی بستر تک پہنچ گیا۔ میری نظر اُن کے بے جان سے جسم پر پڑی اور اس کے بعد اُس ڈاکٹر پر جو پہلے سے وارڈ میں موجود تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھوں میں چپل نما آلہ دیکھا، جسے جیسے ہی اُن کے سینے پر رکھا جاتا، تو اُنہیں ایک زوردار جھٹکا لگتا۔ یہ عمل دیکھ کر میرا دل دھکڑ پکڑ کرنے لگا۔ میں اپنے تئیں اندازے لگانے لگا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ فلموں میں کئی بار ایسے مناظر دیکھ چکا تھا جن کے آخر میں ایک چھوٹے سے کالے سکرین پر ایک سبز لکیر سیدھی دوڑ جاتی ہے اور جسم و جاں کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تین چار بار جھٹکا دینے کے بعد مذکورہ ڈاکٹر پیچھے ہٹ گیا اور وارڈ تک دوڑ لگانے والے ڈاکٹر نے دونوں ہاتھ اُن کے سینے پر رکھے اور زوردار جھٹکے سے بستر پر دراز اس سانس لیتی لاش کا سینہ دبانے لگا۔ آٹھ دس منٹ کی سعیِ لاحاصل کے بعد دونوں ڈاکٹرمایوس ہوئے۔ ان میں سے ایک کی نظر مجھ پر پڑی، تو مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔ بوجھل قدموں کے ساتھ میں ان کے پاس گیا، تو انہوں نے میرے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے پوچھا: ’’بیٹا، یہ آپ کے کیا لگتے ہیں؟‘‘ تین دن سے بستر پر پڑی اُس سانس لیتی لاش کو دیکھ کر جواب دینے کی غرض سے میں نے ہونٹ تو ضرور کھولے، مگر آواز نہیں نکلی، جیسے کھانے کے دوران میں کوئی بڑا نوالا نگلتے سمے حلق میں اٹک گیا ہو۔ ڈاکٹر نے شائد میری کیفیت بھانپ لی، انہوں نے جیسے ہی مجھے سینے سے لگایا، تو میری آنکھیں بادلِ نخواستہ ڈبڈبا گئیں۔ دوسرے ہی لمحے دو موٹے موٹے آنسو گالوں پر دوڑنے لگے۔ اور میں بس اتنا ہی پوچھ پایا: ’’کیا میرے والد نہیں رہے؟‘‘
’’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا‘‘
اور اتنا آزاد کہ جب میں تیسری اور برادرِ خورد (اجمل) ابھی ادنیٰ جماعت میں زیرِ تعلیم تھے، تو آپ ہرہفتہ تین ٹکٹ خرید کر مجھے دائیں جب کہ چھوٹے کو بائیں ہاتھ کی انگلی پکڑا کر پلوشہ اور سوات سنیما کا رُخ کرتے اور وہاں فرسٹ کلاس یا گیلری میں بیٹھ کر ہر نئی آنے والی فلم کا لطف اٹھاتے۔ کوئی قابلِ اعتراض منظر آتا، تو نظریں جھکانے کا حکم ملتا، بجا آوری میں راقم اکثر کوتاہی کا مرتکب ہوتا اور کنکھیوں سے صورتحال جاننے کی حتی الوسع کوشش جاری رہتی۔ برادرِ خورد کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ وہ مستقبلِ قریب میں راقم سے دو ہاتھ آگے نکلے۔یار دوست والد مرحوم کے اس عمل کو پسند نہیں کرتے تھے، مگر آپ تو آزاد مرد تھے، ’’عجب آزاد مرد۔‘‘ ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے اڑا دیتے۔
ٹکٹوں میں ایک اور کا اضافہ تب ہوا، جب ہماری ہمشیرہ تین چار سال کی ہوئیں۔ ہمشیرہ جتنی بڑی ہوتی جاتیں، والدِ مرحوم کی محبت اتنی شدت اختیار کرجاتی۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہماری چھٹی ہوگئی اور ہمشیرہ بلا شرکتِ غیرے ان کی محبت کی حقدار قرار پائیں۔




اجمل خان اپنے بیٹے اکمل خان کے ساتھ خوشگوار موڈ میں۔

ہمارے تایا جان گلیار المعروف نانا کے بقول والد مرحوم نے پسند کی شادی (لو میرج) کی تھی۔ ’’نانا‘‘ ہمارے والدِ بزرگوار کے چچا زاد بھائی ہیں۔ پوری دنیا دونوں کو بھائی سمجھتی تھی جب کہ خاندان میں دونوں یک جان و دو قالب کے مصداق لنگوٹیے مشہور تھے۔ تایا جان کے بقول ایک دفعہ دیدار کی غرض سے ہمارے والدِ بزرگوار کوچۂ جاناں کی گرد اُڑا رہے تھے۔ اس سے پہلے انہیں دو تین بار سمجھانے کی ناکام کوشش کی جا چکی تھی، مگر وہ عشق ہی کیا، جو سر چڑھ کر نہ بولے۔ نتیجتاً والدِ بزرگوار کے ساتھ تایا جان کو بھی وہ بے بھاؤ کی پڑی کہ سارے کس بل نکل گئے۔ تایا جان کے بقول اُس روز والد مرحوم کی خوب کلاس لی گئی۔ انگریزی محاورے کے مصداق اولاً انہیں ’’پاپ میوزک‘‘ کا سامنا کرنا پڑا اور ثانیاً (طوعاً و کرہاً) امی جان کا ہاتھ ان کے لیے مانگا گیا۔ نتیجتاً ٹھیک ایک سال بعد ہم اس خرابے میں آٹپکے۔
یہ وہ دور تھا جب دادا جان کا کار و بار خوب پل پھول رہا تھا۔ پیسے کی کوئی کمی نہ تھی۔ والدِ بزرگوار سب کے چہیتے تھے۔ پسند کی شادی ہوگئی مگر والد مرحوم کے علاوہ ماں جی گھر میں کسی کو پسند نہیں تھیں۔ دادی جان (مرحوم)بیٹے کے لیے اپنی پسند کی لڑکی بیاہنا چاہتی تھیں، پھوپیوں کے الگ خواب تھے۔ نتیجتاً ماں کے برے دن شروع ہوگئے۔ ماں جی سب کچھ چپ چاپ سہنے کی کوشش کرتیں، مگر کبھی کبھار ان کے سینے میں پکنے والا لاوا پھٹ پڑتا اور پھر…… الامان و الحفیظ!
اسی کشمکش میں پورا ایک سال بیت گیا اور ماں جی کی گود ہری ہوگئی۔ میری پیدائش کے ٹھیک ایک سال بعد (سنہ 1982ء) والد مرحوم کو غمِ دوراں سے فرار اختیار کرنے کے چکر میں نشے کی لت پڑگئی۔ تایا جان کے بقول ہم چند دوستوں کی خوب گاڑھی چھنتی تھی۔ بیٹھک میں بیٹھ کر تاش، کیرم وغیرہ کھیلتے تھے۔ ساتھ ساتھ نسوار خوری اور سگریٹ نوشی بھی کیا کرتے تھے۔ اُن دنوں ایک نئے نشے کا ذکر چھڑ گیا۔ نشہ تھا بہت مہنگا۔ دوستوں نے اسے ’’ٹرائی‘‘ کرنے کی ٹھان لی۔ کہتے ہیں کہ اس کا اثر بہت تیز تھا۔ سب نے الٹیاں کیں سوائے والد مرحوم کے۔ ’’کاش، اُس روز علی رحمان کی بھی طبیعت بگڑ جاتی، تو وہ یوں گھٹ گھٹ کے نہ مرتا۔‘‘ مجھے یاد ہے تایا جان نے یہ جملہ ادا کرتے ہوئے ایک سرد آہ بھری تھی۔
بعد میں لوگوں کو پتا چلا کہ نشہ کوئی اور نہیں بلکہ ’’ہیروین‘‘ (Heroin) تھا، جسے آج بھی یہاں علاقائی زبان میں ’’پوڈر‘‘ کہتے ہیں۔
والدہ ماجدہ کے بقول، شادی کا پہلا سال ان کی زندگی کا حاصل ہے، جس میں انہیں پروردگار کی طرف سے راقم کی شکل میں تحفہ ملا۔ آگے جاکر ماں جی کو اجمل اور سیما کی شکل میں دو تحفے اور ملے۔
میرے والد فضل رحمان (جنہیں پوری دنیا علی رحمان کے نام سے جانتی ہے) کو کوچ کرنے کے دو عشرے مکمل ہوچکے ہیں۔ وہ ایک ایسی عمر میں ہمیں داغِ مفارقت دے گئے، جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ میری تو ابھی مسیں بھی پوری طرح نہیں بھیگی تھیں۔ آفرین ہے اس عورت پر، جس نے خاوند کے گزرنے کے بعد دوسری شادی کو ترجیح نہیں دی اور دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی بہتر تربیت کی غرض سے اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا۔
17 جون (فادرز ڈے) کو دوپہر کے بعد والد مرحوم کی قبر پر پورے دس سال کے بعد گیا، تو سطور میں بیان ہونے والی کہانی ذہن کے پردے پر فلمی مناظر کی طرح گردش کرنے لگی۔ نداؔ فاضلی کی ایک شہرہ آفاق نظم سے آج کی نشست برخاست کرنے جا رہا ہوں، جو بڑی حد تک میری زندگی پر صادق اترتی ہے۔ یہ نظم ہاتھ نہ لگتی، تو شائد زیرِ نظر تحریر ادھوری ہوتی۔ نظم ملاحظہ کیجیے:
تمہاری قبر پر مَیں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا
مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتے
تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی
وہ جھوٹا تھا

وہ تم کب تھے؟
کوئی سوکھا ہوا پتا ہوا سے ہل کے ٹوٹا تھا
میری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں ابتک
میں جو بھی دیکھتا ہوں، سوچتا ہوں، وہ وہی ہے
جو تمہاری نیک نامی اور بدنامی کی دنیا تھی
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا
تمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیں
میں لکھنے کے لیے جب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوں
تمہیں بیٹھا ہوا مَیں اپنی ہی کرسی پہ پاتا ہوں
بدن میں میرے جتنا بھی لہو ہے
وہ تمہاری لغزشوں، ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہے
میری آواز میں چھپ کر تمہارا ذہن رہتا ہے
میری بیماریوں میں تم، میری لاچاریوں میں تم
تمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہے
وہ جھوٹا ہے
تمہاری قبر میں، مَیں دفن ہوں، تم مجھ میں زندہ ہو
کبھی فرصت ملے، تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے