526 total views, 1 views today

مینگورہ سیدو روڈ پر واقع جہانزیب کالج کا شمار صرف خیبر پختون خوا ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے نامور کالجوں میں ہوتا ہے۔ ریاست سوات کے حکمران میانگل جہان زیب المعروف والی صاحب نے اسے اپنے نام “جہانزیب” سے موسوم کیا تھا۔ اس صوبے میں یہ کالج، اسلامیہ کالج پشاور کے پائے کا تھا اور اس کے بعد دوسرے نمبر پہ آتا تھا۔
اگرچہ عام طور پہ جہانزیب کالج کا سنگ بنیاد رکھنے یا تعمیر کے کام کے آغاز کا سال 1952ء بتایا جاتا ہے اور کالج میں لگے ہوئے ایک کتبے پر بھی 1952ء ہی درج ہے، لیکن یہ کتبہ بعد کا نصب شدہ ہے۔ اس لیے کہ اس پہ والی صاحب کے درج خطابات میں سے بعض آپ کو بعد میں ملے تھے۔ دراصل 1952ء میں کالج کا سنگ بنیاد نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اس میں کالج کی کلاسوں یعنی انٹرمیڈیٹ میں داخلے اور کلاسیں شروع ہونے کا آغاز ہو ا تھا۔ کالج کے میگزین “ایلم” کے 2002-2003ء کے شمارہ میں پروفیسر شاہ عالم خان صاحب کا انگریزی مضمون “دی سٹوری آف جہانزیب کالج” بھی اس غلطی یا غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے کافی ہے۔




جہانزیب کالج کے اندر لگا کتبہ جس پر تاریخ اور نام دونوں درج ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

پروفیسر شاہ عالم خان صاحب بتاتے ہیں کہ میں ودودیہ ہائی اسکول میں میٹرک کا طالب علم تھا کہ جب 1949-50ء کے موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد اسکول دوبارہ کھلا، تو ہم نے اسکول کے جنوبی گراؤنڈ میں اینٹوں سے بھرے ٹرک خالی کراتے ہوئے دیکھے۔ کوئی بولا کہ وہاں پر ایک کالج تعمیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ہم نہیں جانتے تھے کہ کالج کیا ہے؟ بالآخر دانش مند خان کی کلاس کے ایک طالب علم نے ہمیں وضاحت کی کہ کالج کی غرض و غایت کیا ہے۔ کالج کی بڑی عمارت کا گراؤنڈ اور پہلی منزل تیار ہوئی۔ دوسری منزل چھے سال بعد تعمیر کی گئی۔ ودودیہ اسکول کو گرایا گیا اور اس کے پہلی جماعت سے چھٹی تک کے طالب علم بنڑ، شگئی اور بلوگرام کے اسکولوں کو منتقل کیے گئے اور ساتویں، آٹھویں اور نویں کلاسوں کے طالب علم 1951ء کو جہانزیب کالج منتقل کیے گئے۔ 15 ستمبر 1952ء کو بانی یعنی والی صاحب نے کالج کو کھولنے کا اعلان کیا اور اس میں انٹرمیڈیٹ کی سائنس اور آرٹس کی کلاسوں کا آغاز کیا گیا۔ تاہم نویں اور دسویں جماعتیں کالج ہی میں رہیں۔ 1954ء میں کالج میں ڈ گری کلاسوں کا آغاز کیا گیا یعنی جب انٹر میڈیٹ کے طلبہ ڈگری کلاسوں میں داخلے لینے کے قابل ہوئے۔ تاہم بی ایس سی کلاسوں کا آغاز 1962ء میں کیا گیا۔ 1968ء میں ودودیہ ہال اور سائنس بلاک بھی بن گئے۔
جیمز ڈبلیو سپین کا جہانزیب کالج کا نو تعمیر شدہ عمارت سے متعلق بیان اور تبصرہ بھی اہم اور کافی دلچسپ ہے۔ وہ اپنی کتاب “دی وے آف دی پٹھانز” میں لکھتا ہے کہ اسکول (کالج) کی عمارت کے تازہ پلاسٹر شدہ دیواروں پہ رنگ ابھی گیلا تھا۔ پرنسپل نے ہمیں بتایا کہ یہ ابھی ہائی اسکول کے طور پہ استعمال ہو رہا ہے۔ مزید تعلیم جاری رکھنے کے قابل طلبہ اگلے سال کالج کی قائم شدہ کلاسوں میں تعلیم جاری رکھیں گے۔ اس کے بعد یہ کالج اس تعلیمی اہرام کا بالائی سرا ہوگا، جس کی بنیاد ریاست کے ہر گاؤں میں قائم ایک اسکول پہ قائم ہوگی۔ “جیمز ڈبلیو سپین” کے بیان کے مطابق اس کا خیال تھا کہ اس نے ایشیا کے عظیم تعلیمی جھوٹ کا ثبوت پکڑا، جو کہ بالائی آخر سے شروع ہوتا ہے۔ جیمز ڈبلیوسپین کو انوکھا معلوم ہونے والا یہ خیال اور منصوبہ، جس کا آغاز اوپر سے کیا جاتا ہو، اگرچہ بادی النظر میں انوکھا اور جھوٹ ہی لگتا تھا، لیکن یہ ریاستِ سوات میں آئندہ کے تعلیمی ترقی کے خیال اور منصوبے کا غماز تھا۔
والی صاحب کے دورِ حکمرانی میں کالج کے دو ہاسٹل یعنی سیدو شریف ہاسٹل اور مینگورہ ہاسٹل بالترتیب 1953ء اور 1956ء میں قائم ہوئے۔ کالج کے عملے کے لیے کالج سے متصل ایک وسیع کالج کالونی بھی تعمیر ہوئی۔ کالج گیسٹ ہاؤس، کالج کینٹین، فٹ بال اور ہاکی کے کھیلوں کے وسیع گراسی گراؤنڈز (کرکٹ اس زمانے میں پاکستان میں نامانوس اور سوات میں مفقود کھیل تھا۔ شومئی قسمت کہ اس کھیل نے نہ صرف پاکستان میں ملک کے ہر دلعزیز کھیل “ہاکی” کا بوریا بستر گول کیا بلکہ جہانزیب کالج کے ہاکی کا وسیع گراسی گراؤنڈ بھی کرکٹ اسٹیڈیم نے ہڑپ لیا) اسکواش کورٹ، لان ٹینس کورٹ، والی بال کورٹ، باسکٹ بال کورٹ، بوٹینیکل گارڈن اور کالج کا پرنٹنگ پریس بھی والی صاحب کے دور کی شاہکار یاد گار تھے۔ اس صوبے بلکہ پاکستان میں اس کالج کا اپنا پرنٹنگ پریس ہونا یقینا انوکھا اور منفرد تھا۔
جہانزیب کالج اور متعلقہ عمارات وغیرہ کا تعمیراتی خرچہ ریاستِ سوات کے سرکاری خزانے سے ہوا۔ تاہم اس کی تعمیر میں ریاستی ملیشا میں شامل سوات کے لوگوں نے بھی بڑی تکالیف و مصیبتیں جھیلتے ہوئے بڑی محنت و لگن سے کام کیا۔ اس تعمیراتی کام کے دوران میں ان کا کھانا مشہور زمانہ سخت “ننگری” ہوا کرتا تھا، جب کہ اس کام میں وہ زخمی بھی ہوتے رہے۔ لہٰذا اس میں سوات کے لوگوں کے ٹیکسوں کے پیسے کے علاوہ ان کا خون بھی شامل ہے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی “سوشل اَپ لِفٹ سکیمز” کے تحت کالج کے تعمیراتی اخراجات کے کچھ حصے اور سائنس لیبارٹری کے قیام کے لیے ایک لاکھ روپے کی گرانٹ فراہم کی تھی۔ جب کہ پر نٹنگ پریس “ایشیا فاؤ نڈیشن” نے کالج کو عطیہ کیا تھا۔
جہانزیب کالج نے سوات نہیں بلکہ پورے خطے میں جدید تعلیم کی فراہمی اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ نہ صرف سوات بلکہ آس پاس اور صوبے کے دور دراز کے علاقوں سے بھی طلبہ حصولِ تعلیم کے لیے یہاں آتے تھے۔ دلچسپ یہ کہ کالج میں انٹر میڈیٹ اور ڈگری سطح پر داخل شدہ پہلے طالب علم بالترتیب سید احمد جان آف اسمائلہ (صوابی) اور محمد اقبال آف اتمانزیٔ (چارسدہ) یعنی غیر سواتی تھے۔

تاریخی “جہانزیب کالج” سیدو شریف کی ایک یادگار تصویر۔ (Photo: Swat Valley)

جہان زیب کالج کا شمار اس کی عالی شان عمارات، ہاسٹلوں اور کالج کالونی بلکہ سب سے زیادہ معیاری تعلیم اور پُرسکون تعلیمی ماحول کی بدولت بہت جلد پاکستان کے مایہ ناز کالجوں اور تعلیمی اداروں میں ہونے لگا۔
ریاستِ سوات اور والی صاحب کی حکمرانی میں طلبہ کے اِک آدھ بار ہڑتال و احتجاج کو چھوڑ کے سب کچھ بہتر انداز میں چل رہا تھا۔ تاہم 1969ء میں ریاستِ سوات اور والی صاحب کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد کالج کا پُرسکون تعلیمی ماحول اور کالج کی یکتا حیثیت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ اردو کے پروفیسر فضل اللہ صاحب کے بقول کالج کے اس وقت کے پرنسپل پروفیسر شوکت واسطی صاحب نے جہانزیب کالج کو اسلامیہ کالج پشاور کی طرز پر خصوصی حیثیت دلوانے کی بھرپور کوشش کی (جس طرح کہ ڈاکٹر نجیب اللہ صاحب نے سیدو اور سنٹرل اسپتالوں کو خصوصی حیثیت دلوانے کی کوشش کی اور نتیجتاً ان اسپتالوں کو ڈسٹرک ہیڈکوارٹر اسپتال کی بجائے “سیدو گروپ آف ہاسپٹلز” کی خصوصی حیثیت ملی، جس کی وجہ سے ان اسپتالوں میں ڈسٹرک ہیڈکوارٹر اسپتالوں کے مقابلے میں زیادہ اور بہتر اسٹاف اور سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی)۔ تاہم سوات سے تعلق رکھنے والے اس کالج کے بعض پروفیسروں کی مخالفت کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔
لہٰذا ریاستِ سوات کے خاتمے کے بعد جہانزیب کالج کو وہ خصوصی حیثیت نہیں ملی جس کا یہ حقدار تھا اور جو اس ادارے اور اس علاقے بلکہ خطے کے لیے سود مند تھا۔ نتیجتاً اس سے بھی صوبے کے دوسرے کالجوں جیسا سلوک کیا گیا۔ اس غیر دانش مندانہ قدم کی وجہ سے نہ صرف طلبہ اور اساتذہ بلکہ کالج اور اس کے تعلیمی ماحول پر دور رس منفی اثرات پڑے اور سابقہ سخت نظم و ضبط قائم نہ رہنے کی وجہ سے کالج کا تعلیمی معیار بھی زوال پذیر ہونے لگا۔
1972ء میں کالج کے طلبہ لیڈروں نے سالانہ پروموشن امتحان کا زبردستی بائیکاٹ کروایا، جس کے نتیجے میں پرنسپل نے تمام طلبہ کو ویسے ہی اگلی کلاس کو پروموٹ کیا۔ اس عمل نے کالج کے تعلیمی معیار کی مزید خرابی اور تنزلی کی راہ ہموار کی۔ آنے والے سالوں میں ملکی سیاسی حالات، مرکزی سطح پر پالیسیوں، بے لگام طلبہ یونینوں اور ذاتی و گروہی مقاصد کی خاطر قائم مختلف سیاسی جماعتوں کی ذیلی طلبہ تنظیموں نے کالج کے تعلیمی ماحول اور سرگرمیوں کو بہت خراب اور متاثر کیا۔
کالج کی عمارت میں توسیع اور دوسری سہولیات کی خاطر مزید زمین کی فراہمی تو درکنار، گذشتہ سالوں میں ریاستی اداروں اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے کالج سے وابستہ زمین اور کالج کالونی پر قبضہ کی کوششیں ہونے لگی ہیں، جو کہ نہ تو قابلِ ستائش ہیں اور نہ کالج کے لیے ایک صحت مند اور حوصلہ افزا نشانی۔ مزید براں کالج کالونی کے بنگلوں کی دوسرے محکموں کو الاٹمنٹ اور ان سے کالج کی محرومی بھی غیر مستحسن اور لمحۂ فکریہ ہے۔

(نوٹ: یہاں پر ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب کے لکھے گئے تاریخی مضمون “جہانزیب کالج” کا آدھا حصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ باقی آدھا حصہ چوں کہ کالج کی عمارت کی خستہ حالی اور اس کو گرانے کی مذموم کوششوں سے متعلق تھا اور اب کالج کی عمارت تقریباً ڈھا دی گئی ہے، اس لیے مضمون کا ذکر شدہ آدھا حصہ حذف کیا جا رہا ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے