529 total views, 2 views today

بیسویں صدی کا پہلا نصف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نہایت انحطاط کا دور جانا جاتا ہے۔ ایک طرف سید احمد شہید کی تحریک کی ناکامی مسلمانوں کے لیے شدید احساسِ کمتری کا باعث بن گئی۔ دوسری طرف برصغیر کے مسلمان زور و شور سے تحریکِ خلافت چلا کر مقاماتِ مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کی حفاظت کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوگئے تھے کہ اچانک 1924ء میں ترکی کے حکمرانوں نے اسی خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا خود ہی اعلان کر دیا۔ اس واقعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم امہ کی یکایک کمر ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد ہندو مسلم فسادات نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ ایسے میں شدھی اور سنگھٹن جیسی تحاریک مسلمانوں کو بالجبر ہندو بنانے اور اور طرح طرح کے مظالم ڈھاتی گئیں۔ مسلمان اگر چہ کافی تعداد میں تھے، لیکن وہ ایک منقسم قوم کی حیثیت سے مختلف جھنڈوں سائے تلے کام کر رہے تھے۔
ان حالات میں ایک بیس بائیس سالہ نوجوان اُٹھ کھڑا ہوتا ہے جو مسلمانانِ ہند کے درد کو سمجھتا ہے۔ ان کو بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ تمہارے زخموں کا مرہم نہ تو قوم پرستی میں ہے اور ہی اہلِ مغرب کے عقائد میں بلکہ تمہارے دکھوں کا مداوا صرف اور صرف اسلام پرستی میں ہے۔ یہ آواز اس اعتماد اور یقین کے ساتھ اٹھتی ہے کہ ہندوستان کی فضاؤں میں اس کی بازگشت ہر جگہ سنائی دیتی ہے۔ دنیا اس نوجوان کو سید ابوالاعلی مودودی کے نام سے جانتی ہیں۔
1926ء میں شدھی تحریک کے سربراہ سوامی شردھانند کے ایک مسلمان کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حملوں کا ایک ایسا زبردست سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ جامع مسجد دہلی میں مولانا محمد علی جوہر بڑی دردمندی کے ساتھ اظہار کرتے ہیں کہ ’’کاش، کوئی شخص اسلام کے فلسفۂ جہاد کی وضاحت کرتا، تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، ان کا سد باب ہوسکے۔‘‘ سید مودودی دل میں عزمِ مصصم کرتے ہیں اور 25 سال کے عمر میں ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کے عنوان سے وہ شہرہ آفاق کتاب تصنیف کرتے ہیں جس کے بارے میں ڈاکٹر علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کو میں ہر ایک مسلمان کو پڑھنے کے لیے پیش کرتا ہوں۔




’’جماعت کی تشکیل میں جو چیز میں نے پیشِ نظر رکھی، وہ یہ تھی کہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابل اعتماد ہوں۔‘‘

سید مودودی سب سے پہلے مسلمانانِ ہند کے فکری اور نظریاتی نشوونما کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1932ء کو ترجمان القران کے نام سے ایک رسالہ نکالتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ مغربی تہذیب و افکار کے غلبے کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلام کو ایک نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مسلمانانِ ہند کو اسلام کے نظامِ تہذیب، سیاسی نظام، معاشی نظام، نظامِ فکر اور نظامِ تعلیم سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 1938ء کو ڈاکٹر علامہ اقبال ان کو پنجاب منتقل ہونے کا مشورہ دیتے ہیں جس کے بعد وہ لاہور کو مستقل جائے مسکن بنا لیتے ہیں اور قریباً 8 سال مسلسل انفرادی طور پر ترجمان القرآن کے ذریعے مسلمانوں کی ذہنی آبیاری کرنے کے بعد سید مودودی اجتماعی جد و جہد کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ’’جماعت اسلامی‘‘ کا قیام عمل میں لاتے ہیں۔ ساتھ ہی کثرت رائے سے جماعت کے پہلے امیر منتخب ہوجاتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے قیام کے حوالے سے سید مودودی تین وجوہات لکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ خدانخواستہ اگر مسلم لیگ پاکستان کے حصول میں ناکام ہوجائے، تو مسلمانوں کے لیے متبادل جماعت موجود ہو۔ دوسری یہ کہ اگر ملک تقسیم ہوجائے، تو ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی کوئی نمائندہ جماعت موجود ہو۔ تیسری وجہ یہ کہ جو ملک مسلمانوں کے قبضے میں آجائے اسے اسلامی حکومت کے راستے پر کیسے ڈالا جائے؟
جماعتِ اسلامی کے قیام کے حوالے سے سید مودودی اپنی کتاب ’’جماعت اسلامی کے 29 سال‘‘ میں کچھ یوں رقم طراز ہیں: ’’میں یہ یقین رکھتا تھا کہ مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ ایک مشنری قوم کی حیثیت اختیار کریں اور اس غلط فہمی میں نہ پڑیں کہ وہ بھی دوسری قوموں کی طرح محض ایک قوم ہیں۔‘‘
آگے لکھتے ہیں کہ ’’جماعت کی تشکیل میں جو چیز میں نے پیشِ نظر رکھی، وہ یہ تھی کہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابل اعتماد ہوں۔‘‘
ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’میں نے رائے قائم کی کہ اصل اہمیت کثرتِ تعداد کی نہیں بلکہ قابلِ اعتماد سیرت و کردار رکھنے والے کارکنوں کی ہے۔ خواہ تھوڑے ہی افراد ملیں، جن میں سے ایک ایک فرد کی سیرت قابل اعتماد ہو، جس کے قول اور عمل پر لوگ بھروسا کرسکیں۔‘‘
یہ تھا جماعتِ اسلامی کے قیام کا ایک مختصر سا خاکہ۔ میری کوشش ہے کہ آج کی ’’سیاسی‘‘ جماعت اسلامی اور سیدی کی ’’نظریاتی‘‘ جماعت اسلامی کا تقابلی جائزہ قارئین کے سامنے پیش کروں۔ تقریباً تین سالوں سے میں ضمیر پر یہ تحریک کا قرض سمجھتا ہوں، انشاء اللہ آئندہ آنے والے مضامین میں اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا۔اللہ تعالی ہمیں حق دیکھنے، سمجھنے اور بولنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے