508 total views, 1 views today

صنوبر حسین کاکا جی کا ایک شعر ہے کہ
دَ ملا پہ نصیحت بہ سہ غوگ کیدی
تر منبرہ چے چغار ستا دَ پنڑو زی
یعنی ملا کے وعظ پر کوئی خاک کان دھرے گا جب تیرے ’’پنڑوں‘‘ کی آواز منبر تک جاتی ہے۔
’’پنڑے ‘‘پختون قوم کا ایک مخصوص پہناوا ہے، اس کو آپ پنجابی کھسے نہیں کہہ سکتے اور نہ سلیم شاہی جوتے۔ اگرچہ طلائی تار کا استعمال ان میں مشترک ہے، مگر ہمارے ہاں کے اس جوتے کی شکل اور بناؤٹ ان دونوں سے مختلف ہے۔ اس کا استعمال اب تقریباً متروک ہوچکا ہے اور اگر کبھی کسی کے پاؤں میں یہ نظر بھی آئیں، تو بے حد عجیب لگتے ہیں مگر بعض وضع دار لوگ اب بھی کہیں کہیں اس کو پاؤں کی زینت بناتے ہیں۔ ہمارے علاقہ موسیٰ خیل کے ایک نہایت متمول اور بزرگ خان بہروز خان تو مرتے دم تک ’’پنڑے‘‘ اور دستار پہنتے رہے۔ لوگ ایسے ’’پنڑے‘‘ پسند کرتے تھے جو ہر قدم کے ساتھ ’’چغ چغ‘‘ کی آواز نکالتے تھے۔
اگر آپ پرانے جرگوں کی تصاویر دیکھیں، تو اُن میں اکثر شرکا یہی جوتے پہنتے نظر آئیں گے۔ جرگوں میں لوگ عموماً گھٹنوں کے بل بیٹھتے تھے۔ کسی کو تھکاؤٹ محسوس ہوتی تھی، تو وہ اس طرح بیٹھتے جس کو انگریزی میں اولنگ “Owling” کہتے ہیں جس طرح اُلو بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔
پختون معاشرے میں ’’جرگے‘‘ کا بہت اہم کردار رہا ہے لیکن یہ تب تک فعال تھا جب اس قوم کے زعما میں قائدانہ صلاحیتوں کی خصوصیت موجود تھی۔ لوگ اُن سے خوف کھانے کی بجائے اُن کی عزت کرتے تھے اور اُن سے ایک احترام آمیز محبت کرتے تھے۔ یہ مشران اگرچہ عام مروجہ علوم سے عاری تھے، مگر اپنی قدیم روایات اور رسم و رواج کے امین ہوتے تھے اور وہ ہر مسئلے کا حل ان ہی روایات کی روشنی میں تلاش کرتے تھے۔ سوات کی تاریخ ایسے ہی جرگوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جس کے ذریعے کئی طوفانوں کا رُخ موڑا گیا اور ایسے فیصلے کیے گئے جن کے دور رس نتائج آج بھی نظر آرہے ہیں۔ اس طرح کا ایک جرگہ ہمارے گاؤں ابوھا میں ہوا تھا۔ یہ کبل کے سبزہ زار میں منعقدہ اُس ’’گرانڈ جرگہ‘‘ سے پہلے ہوا تھا جس میں دریائے سوات کے دائیں کنارے کے تمام خوانین نے شرکت کی تھی اور عبدالجبار شاہ کی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کرکے بادشاہ صاحب کو سوات لانے اور حکومت کی دعوت دینے پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔




میاں گل عبدالودود المعروف باچا صیب۔ (فوٹو Swat Valley

اول الذکر جرگہ کے محرکین میں موضع کوٹہ موسیٰ خیل کے چیف بہرام خان، ابوہا کے یحییٰ خان اور غالیگے کے شاکر اللہ خان شامل تھے۔ یہ لوگ دربارِ چکدرہ میں علاقہ بدر میاں گل عبدالودود کے پاس گئے اور اُن کو ابوہا میں جرگہ کے لیے دعوت دی۔ ہمارے گاؤں میں جہاں آج کل ایک جدید طرز کی پولیس چوکی بنی ہوئی ہے، یہاں پر جرگہ ہوا۔ یحییٰ خان نے اپنی چادر باچا صاحب کے لیے بچھا دی کہ وہ اس پر بیٹھ جائیں، مگر انھوں نے چادر سمیٹ کر زانوں پر رکھی اور عام طریقۂ نشست اختیار کیا۔ جرگہ کے بعد باچا صاحب نے یحییٰ خان سے کہا: “یحییٰ! سنو، اگر میں تم سے پہلے مرگیا، تو تم میری نمازِ جنازہ پڑھانا اور اگر تم پہلے مرگئے، تو میں تمہاری پڑھاؤں گا۔” اور جب یحییٰ خان کا انتقال ہوا، تو بادشاہ صاحب باوجود ضعیف العمری کے ابوھا آئے اور مرحوم کا جنازہ پڑھایا۔
زیرِ مطالعہ مضمون دراصل میں نے ’’پنڑوں‘‘ کے بارے میں ایک لطیفہ بیان کرنے کے لیے شروع کیا تھا، مگر درمیان میں خیالات کا رُخ کسی اور طرف مڑ گیا۔ کہتے ہیں کہ کسی جرگہ میں شرکا میں سے ایک شخص کی ہوا نکل گئی، لیکن اس کی آواز اتنی کمزور تھی کہ صرف ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص کو سنائی دی۔ اپنی خجالت مٹانے کے لیے مذکورہ شخص نے اپنے ’’پنڑے‘‘ کو زور سے دبا کر ’’چغ‘‘ کی آواز نکالی۔ قریبی شخص نے ہولے سے دھیمی آواز میں کہا: ’’وہ آواز ایسی نہیں تھی۔‘‘ پہلے شخص نے دوبارہ وہی عمل دہرایا، تو دوسرے نے کہا: ’’وہ ایسی نہیں تھی۔‘‘ اس طرح جب تیسری بار اُس نے پھر یہ الفاظ دہرائے، تو وہ شخص چلا کر بولا: ’’ٹھیک ہے وہ ایسی آواز نہیں تھی، تو تم کیا کرلوگے؟‘‘
وقت گزرنے کے ساتھ جب ایک لباس یا جوتا متروک ہوجاتا ہے اور کوئی قدامت پرست اُس طرز کی پوشاک کو ترک نہیں کرتا، تو لوگ اُس کی خبطی سمجھتے ہیں اور واقعی ایسی چیزیں موجودہ دور میں عجیب ہی لگتی ہیں۔ اب اگر کوئی ادھیڑ عمر ایک گز کے پائینچے والی شلوار اور لمبا ڈھیلا کرتا پہنے اور بازار میں آجائے، تو لڑکے بالے اُس کے پیچھے لگ جائیں۔

……………………………………….

لفظونہ ڈاٹ کام کی انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے