524 total views, 1 views today

خوشحال خان خٹک ایک مشہور شاعر اور نثر نگار ہو گزرے ہیں۔ آپ کو ایک جنگجو اور صاحبِ سیف بھی تصور کیا جاتا ہے۔ آپ کا خاندان آپ کے داداد ملک اکوڑ کے وقت سے ہندوستان کے مغلیہ حکمرانوں کا وفادار رہا اور ان کی خاطر اپنے ہی پختون قبائل خصوصاً یوسف زیٔ اور مندنڑ کے خلاف پوری صلاحیت اور توانائی کے ساتھ برسر پیکار اور لڑتا رہا، جس نے خٹک اور یوسف زیٔ و مندنڑ قبائل کے بیچ ناچاقی، نفرت اور عداوت پیدا کی۔
1641ء میں اپنے والد شہباز خان کی وفات پر خوشحال خان اس کا جانشین بنا اور مغل شہنشاہ شاہ جہان نے بھی اس کو خٹک قبیلے کی سربراہی اور منصب سے نوازا۔ باپ دادا کی طرح خوشحال خان نے بھی پختون قبائل کے خلاف مغلوں کی حتی الوسع خدمت کرتے ہوئے ساتھ دیا، جس کا آپ نے اپنے اشعار میں کھل کے اعتراف کیا ہے۔ اورنگ زیب کے تخت پر قابض ہونے پہ آپ نے اورنگ زیب کی حکمرانی کو تسلیم کیا اور اس کی بھر پور انداز سے خدمت کرتے ہوئے نہ صرف یوسف زیٔ و مندنڑ قبائل کے خلاف اس کی خاطر لڑے بلکہ 1659ء میں تیراہ کی لڑائی میں آفریدیوں اور اورکزیوں کے خلاف بھی مغل فوج کا ساتھ دیا۔
تاہم بعد میں خوشحال خان اور مغلوں کے مابین ناچاقی پیدا ہوئی، جو جنوری 1664ء میں خوشحال خان کی قید ہونے پر منتج ہوئی۔ باوجود آپ کے سابقہ یوسف زیٔ مخالف کردار کے، مشکلات و مصائب کی اس گھڑی میں یوسف زئیوں نے خوشحال خان کا کنبہ مغلوں کے دست برد سے بچانے کی خاطر اپنے علاقے میں لاکر اسے تحفظ فراہم کیا۔
قید کرانے کے باوجود خوشحال خان نے آزاد ہونے پر مغلوں کے خلاف بغاوت نہیں کی اور ان کا وفادار ہی رہا۔ تاہم جب آپ کو دیوار سے لگایا گیا اور آپ کے لیے دوسری کوئی راہ باقی نہ رہی بلکہ یا تو اپنے آپ کو مغلوں کے حوالے کرتے اور یا اپنی ذاتی بقا کی خاطر مغلوں کے خلاف لڑتے (اس لیے کہ خود اس کا بیٹا بہرام خان بھی اپنے قبیلہ کی سرداری کی خاطر اس کا حریف بنا اور اس طرح خوشحال خان کا قبیلہ بھی بٹ گیا) تو خوشحال خان نے مغلوں کے خلاف پہلی بار ہتھیار اٹھایا۔ لہٰذا خوشحال خان کا مغلوں کے خلاف بر سر پیکار ہونا ’’افغان ننگ‘‘ کی خاطر نہیں تھا جیسا کہ آپ نے دعویٰ کیا ہے۔ یہ صرف آپ کی ذاتی بقا کا سوال تھا، جس کی وجہ سے خوشحال خان مغلوں کے خلاف لڑا اور جس کو اس نے ’’افغان ننگ‘‘ کا نام اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے کہ جب یوسف زیٔ و مندنڑ اور آفریدی و اورکزیٔ مغلوں کے خلاف برسرپیکار تھے، تو خوشحال خان پختونوں کے خلاف خلوصِ دل سے مغلوں کا ہاتھ بٹاتا اور خدمت کرتا رہا۔
اس پس منظر میں، مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے زیر عتاب آنے اور ذاتی بقا کی خاطر تگ و دو میں خوشحال خان نے پختونوں کو اورنگ زیب کے خلاف اکسانے اور ورغلانے کی کوشش کی اور سوات کے یوسف زئیوں کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر بہ نفس نفیس سوات کا دورہ کیا۔ سوات میں اپنے سات ماہ کے قیام کے دوران میں اس نے سوات کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور اس کے ہر پہلو کو جانچا۔ بعد میں اس نے ’’سوات نامہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔
خوشحال خان نے سوات کے چشموں، سبزہ زاروں، قدرتی حسن، زرخیزی، معطر ہواؤں، ارزانی، شان دار ماضی اور اس طرح کی دوسرے چیزوں کی تعریف و توصیف کی ہے۔ اس نے سوات میں شکار کیے جانے والے مختلف قسم کے پرندوں اور جنگلی جانوروں جیسا کہ شاہین (باز)، چکوروں (زرکے)، موسمی مرغابیوں، جنگلی بھیڑ بکریوں اور ہرنوں پر بحث کی ہے۔ اس نے مچھروں، مکھیوں، کھٹملوں اور بروڑوں کے عام ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ہر گھر میں گھرانے کے افراد کے برابر کتے ہوتے ہیں اور ان کے صحنوں میں سیکڑوں کی تعداد میں مرغیاں چل پھر رہی ہوتی ہیں۔

قید کرانے کے باوجود خوشحال خان نے آزاد ہونے پر مغلوں کے خلاف بغاوت نہیں کی اور ان کا وفادار ہی رہا۔

خوشحال خان نے سوات کے یوسف زئیوں کی آزادی کو یہ بتاتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ وہ نہ تو کسی کی رعایا ہیں اور نہ کسی کو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اس نے سوات کے قدرتی حسن اور وافر قدرتی وسائل کی تعریف کی ہے۔ تاہم یہ بھی بتایا ہے کہ یوسف زئیوں نے ایسے حسین اور قابل تعریف ملک کو محض چراگاہوں اور گھاس کے میدانوں میں بدل دیا ہے۔ اس نے مروجہ نظام ویش (نظام تقسیم اراضی) کی برائی بیان کی ہے اور اس کی بھی مذمت کی ہے کہ صرف مرد ہی اپنے آبا کی زمین کے وارث بن جاتے ہیں۔ اس نے اس پر بھی شب و ستم کیا ہے کہ کسی فرد کی وفات کے بعد بہت جلد اس کا بھائی اس کی بیوہ سے شادی کرتا ہے اور یہ کہ قتل کا بدلہ لینے میں اصل قاتل کے بجائے خاندان کے بابرکت اور با اثر شخص کو قتل کیا جاتا ہے اور ملا ان سب غلط کاموں اور بے انصافیوں کے حامی ہیں۔
اس نے سوات کے لوگوں کی مذہب کی پاس داری اور ننگ پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہونے کے دعوے دار تو ہیں، عملی طور پر مذہب کا کم ہی خیال رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان میں ’’افغان ننگ‘‘ کا کوئی تصور نہیں۔ بزدل اور کم جری ہونے کی وجہ سے میدانِ جنگ میں جانے اور جرأت کے ساتھ لڑنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ اگر چہ لڑائی میں کسی خاص کارکردگی کے حامل نہیں پھر بھی اپنی بہادری کے گن گاتے ہیں۔
خوشحال خان نے سوات میں حکومت اور سرکردہ سربراہ کی عدم موجودگی اور نتیجتاً سوات کی خراب حالت اور تباہ کن صورت حال کی بات بھی کی ہے۔ اس نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اگر چہ یوسف زئی تعداد میں بے شمار ہیں، لیکن ان کی مثال جانوروں کے گلے جیسی ہے۔ اس وجہ سے ان کی تعداد بے معنی ہے۔ مزید یہ کہ سوات کے لوگ گندے اور بدبودار گھروں میں رہائش کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں کئی ایک غلہ دان رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے غلہ ذخیرہ کرنے میں یہ ہندوؤں سے بدتر ہیں۔
خوشحال خان نے سوات کے لوگوں کی اس لیے بھی مذمت کی ہے کہ اس کے خیال میں وہ اپنے قول اور وعدوں کی پاس داری نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ معمولی فوائد، حقیر مفادات اور غیر اہم مقاصد کے حصول میں لگ جاتے ہیں اور چھوٹی باتوں پر یا تو خوش ہوجاتے ہیں یا ناخوش۔ مزید برآں صرف ذاتی مفاد کی خاطر دوست بناتے ہیں۔ ننگ اور وقار کی قیمت کی پذیرائی نہیں کرتے اور دولت کے پجاری ہیں۔ علاوہ ازیں بیویوں کی بے جا خواہشات اور ناز و نخرے برداشت کرتے ہیں اور وہ جو حکم دیتی ہیں، اس کی تابع داری کرتے ہیں۔ اپنی بیٹیوں کو دولت کی خاطر بیاہتے ہیں، جب کہ ان کے شوہر کے حسب نسب کا بہت کم خیال رکھتے ہیں۔ ان میں خوش اخلاقی اور ادب وقاعدے کا فقدان ہے اور تمام کے تمام عناد سے بھرے، حد سے زیادہ محو بالذات اور خود پسند ہیں۔ بالمشافہ وعدے تو کرتے ہیں، لیکن ان کا پاس نہیں رکھتے اور آسانی سے منھ موڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں تمام سال کام میں لگے رہتے ہیں اور کبھی بے کار نہیں بیٹھتے۔ دولت ان کا عقیدہ اور بت ہے اور ہمیشہ سونے چاندی کی چاہت رکھتے ہیں۔ نہ تو خندہ پیشانی سے مہمان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور نہ ان کے ہاں الفاظ و انسیت کا تپاک پایا جاتا ہے۔ اگر فریادی کسی مَلَک سے انصاف طلب کرتا ہے، تو مخالف فریق مَلَک کو ایک روپیہ دے کر اس کے فیصلے کو اپنے حق میں کراسکتا ہے اور یہی مَلَک اس روپیہ کی خاطر غریب معصوم کو گناہ گار ہی ثابت کردے گا۔
خوشحال خان کہتا ہے کہ سوات کے لوگ سوجھ بوجھ اور عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔ غلط عادات و امور میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بد کار کو صحیح طور سزا نہیں دی جاتی۔ اگر کوئی مکروفریب سے ڈاکٹر بن جائے، تو کوئی بھی اس کے جھوٹ کا پول نہیں کھولے گا اور اگر کوئی عیاری سے عالم یا درویش ہونے کا دعویٰ کرے، تو کوئی بھی اس کی اصلیت معلوم کرنے کی زحمت نہیں کرے گا۔ علاوہ ازیں، تمام مَلَک اور خان گدھوں جیسے بے وقوف ہیں اور ان کے تمام عالم اور شیخ جاہل ہیں۔ ان کے عالم اپنے مذہبی مقام کا دنیاوی فوائد کے لیے استحصال کرتے ہیں، یہ پروا کیے بغیر کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز؟ خصوصاً میاں نور پر لعن طعن کرتے ہوئے خوشحال خان نے اس کے مذہبی علم اور عقائد پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ میاں نور ہی مغلوں کے خلاف سوات میں لشکر اکٹھا کرنے کے آپ کے مشن کی ناکامی کا ذمہ دار تھا۔
اگر چہ خوشحال خان نے سوات کے بعض پہلو جیسا کہ سبزہ زاروں، دل کش ملکوتی حسن، زر خیزی، معطر ہواؤں، ارزانی اور شان دار ماضی کی تعریف و توصیف کی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس نے اس کے بعض پہلوؤں پر تنقید بھی کی ہے اور سوات کے لوگوں کی ان قدرتی عنایات کی قدر نہ کرنے اور مطلوبہ طرزِ عمل نہ اپنانے پر ان کی مذمت بھی کی ہے۔ اس نے نہ صرف سماجی و مذہبی برائیوں، خوانین، مَلَکوں، پیروں، فقیروں اور ملاؤں کا ان کے طرزِ عمل، رویوں، بے وقعتی اور اپنے رتبوں اور وقار کو دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی ہے بلکہ ان کی جہالت، مذہبی عقائد، اسلامی قوانین کی پائے مالی اور ساتھ ساتھ مغلوں کے خلاف آپ کی طرف داری میں لشکر بنا کر ہتھیار نہ اٹھانے پر، آپ کے زعم میں، ’’افغان ننگ‘‘ کی پاس داری نہ کرنے پر بھی مذمت کی ہے۔




خوشحال خان کہتا ہے، سوات کے لوگ سوجھ بوجھ اور عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔

خوشحال خان کی بعض باتیں درست ہیں، مثلاً مروجہ نظام ویش کی خامیوں کا تجزیہ، خواتین وارثوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا، وفات شدہ مرد کی بیوہ سے وفات شدہ کے بھائی یا دوسرے رشتہ دار کا بالعموم اس بیوہ کی رضامندی کے بغیر شادی کرنا اور قتل کے انتقام میں اصل قاتل کے بجائے اس خاندان کے سرکردہ اور زیادہ با اثر فرد کا قتل کرنا، خوانین اور مَلَکوں کے کردار مثلاً ان کی رشوت ستانی اور اپنی حیثیت کو ذاتی دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کی مذمت بھی کسی حد تک درست ہے۔ اس طرح اس کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ سوات کے لوگ سوجھ بوجھ اور فہم و فراست سے کام لینے کے بجائے سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں اور یہ بھی کہ سوات کے لوگ غلط اطوار اور امور میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ کہ بد کاروں کو صحیح طور پر سزا نہیں دی جاتی۔ اس کی یہ بات بھی وزن رکھتی ہے کہ اگر کوئی مکروفریب سے ڈاکٹر بن جائے، تو کوئی بھی اس کی پول نہیں کھولتا اور اگر کوئی مکاری سے عالم یا درویش ہونے کا دعویٰ کرے، تو بھی کوئی اس کی اصلیت سے متعلق فکر مند نہیں ہوتا اور سب کچھ چلتا ہے۔
بہر حال خوشحال خان کے تمام نِکات اور قیل و قال مبنی بر حقیقت نہیں۔ اس کی تحریر سے اس کا تعصب اور جانب دارانہ پن آسانی سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر مذکورہ بالا تمام برائیاں صرف سوات کے ساتھ مختص نہیں تھیں۔ خوشحال خان نے سوات اور سوات کے لوگوں سے متعلق جو زیادہ تر برائیاں بیان کی ہیں، وہ دوسرے پختون علاقوں اور قبائل میں بھی رائج اور پائی جاتی تھیں بلکہ بعض تو سوات سے زیادہ شدت سے اور بڑے پیمانے پرتھیں۔
خوشحال خان نے سوات کے لوگوں کی سخت محنت کرنے پر مذمت کی ہے، جو کہ قابلِ مذمت کام نہیں بلکہ لائقِ تحسین خوبی ہے۔ اس کا سوات کے لوگوں پر یہ طعن و تشنیع بھی مبنی بر انصاف نہیں کہ یہ مہمان نواز نہیں۔ اس کی غلط فہمی شاید اس کے سوات میں سات ماہ کے طویل عرصے تک قیام کی وجہ سے ہو۔ عام طور پہ زیادہ مدت تک ٹھہرنے والے فرد کو مہمان تصور نہیں کیا جاتا، بلکہ گھر کے افراد کی طرح معمول کے مطابق اس کی رکھوالی کی جاتی ہے۔ تاہم سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ خوشحال خان جیسے مہمان کا، جو زیادہ عمر مغلوں کا حامی اور یوسف زئیوں کا مخالف رہا ہو، اگر چہ پختون روایات کے تحت مہمان داری کی جاتی ہے، لیکن یقینا گرمجوشی اور تہہ دل سے نہیں۔ شاید اس بات کے ادراک میں خوشحال خان ناکام رہا ہے۔
جہاں تک خوشحال خان کا سوات کے لوگوں کے مذہبی اخلاص اور عمل پر سوالیہ نشان کا تعلق ہے، تو یہی حال دوسرے پختون علاقوں اور قبائل کا بھی تھا۔ اس کا سوات کے لوگوں کے متعلق ایسی باتیں اور امور جیسا کہ طور و اطوار، سطحی دوستی، معمولی ذاتی فائدہ کے لیے دوسروں کو بڑا نقصان پہنچانا، بیویوں کے ناز و نخرے برداشت کرنا اور ان کے ہر قسم کے احکام کی تابع داری اور اس طرح کی دوسری باتیں بھی تنقیدی پرکھ پر مکمل طور پر درست نہیں۔ یہ ایک ایسے فرد کی باتیں، تبصرے اور تاثرات ہیں جو سوات کو غصہ کی حالت میں بہ طور ایک ناکام فرد کے چھوڑ گیا تھا۔

خوشحال خان نے سوات کے لوگوں کی سخت محنت کرنے پر مذمت کی ہے، جو کہ قابلِ مذمت کام نہیں بلکہ لائقِ تحسین خوبی ہے۔

اس طرح اس کی یہ باتیں کہ کوئی بھی مغل سوات میں داخل ہو، تو وہ شہزادہ بن جاتا ہے اور سوات کے لوگوں میں ہر کوئی اس سے جاہ و منصب کا طلب گار ہوتا ہے، یہ کہ ان لوگوں سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ تلوار ہاتھ میں لیے میدان جنگ میں اتریں گے، جن کے دل مرغ مارنے پر لرزنے لگتے ہیں اور یہ کہ گویا کہ اس کی بیوی کے گھر پہ پتھر برس پڑیں گے، اگر سواتی نوجوان اس کے بستر سے جدا ہو (یعنی کہ سوات سے باہر جائے) خوشحال خان کے بے بنیاد الزامات اور نامعقول دعوؤں کا کھلا ثبوت ہیں۔ اس لیے کہ مغل شہنشاہ اکبر کی کوشش کے باوجود نہ تو سوات مغلوں کے زیر تسلط رہا ہے، نہ کوئی مغل سوات آیا ہے اور نہ سوات کے لوگوں نے مغلوں کی ملازمت کے حصول کی کوشش کی ہے، بلکہ سوات کے لوگ اکبر کے دور میں، جب اس نے سوات فتح کرنے کے لیے افواج یہاں بھیجیں، کئی سالوں تک بڑی بہادری سے مغل فوجوں کے خلاف بر سر پیکار رہے اور نہ صرف مغل افواج کی کوششوں کو ناکام بنایا بلکہ اپنی آزادی کو بر قرار رکھا۔ انہوں نے خوشحال خان اور اس کے خاندان کی طرح نہ تو کبھی مغلوں کی خدمت کی اور نہ ان کے جاہ و منصب کے طلب گار رہے۔
خوشحال خان نے سوات کے سب لوگوں پر شب و ستم کیا ہے اور جو اس کے دل میں آیا اسے ضبط تحریر میں لایا ہے، جس کا اد نے خود بھی درجہ ذیل اشعار میں اقرار کیا ہے:
دا چہ وائم دا زہ نہ یم دا مے زڑہ دے
زما زڑہ د چا د زڑہ سرہ سم نہ دے
چہ خہ کڑے زما زڑہ دے کلہ بد دے
چہ بد کڑے زما زڑہ د ہغے رد دے
یعنی یہ جو میں کہتا ہوں، یہ میں نہیں بلکہ میرا دل ہے اور میرا دل کسی اور کے دل جیسا نہیں، جسے میرے دل نے اچھا مانا ہے، وہ کب برااور جسے میرے دل نے برا مانا ہے، وہ رد ہے۔
خوشحال خان کی تحریر اس کے تعصب اور خرافات و بے تکے پن کی غماز ہے۔ تاہم اصل تصویر سوات سے متعلق اس کی تحریر کے بین السطور انداز سے بھی اخذ کی جاسکتی ہے۔
خوشحال خان کی سوات کے لوگوں سے مخاصمت اور ان پر لعن طعن کی بنیادی وجہ سوات کے یوسف زئیوں کی آپ کی خواہشات کے مطابق ہتھیار اُٹھا کر مغلوں سے نہ لڑنا تھی۔ دراصل اس بابت آپ کو بے جا توقعات تھیں جو کہ آپ کے اس شعر سے بھی عیاں ہیں کہ
چہ دَ ننگ تورہ دِ واغستہ خوشحالہ!
درومہ سوات تہ سہ خٹک سہ ئے لخکرے
یعنی اے خوشحال! جب آپ نے ننگ کی خاطر تلوار اٹھالی، تو سوات کی راہ لو، اس لیے کہ خٹک کیا ہیں اور ان کے لشکر کس گنتی میں ہیں۔
سوات کے یوسف زئیوں کا یہ طرزِ عمل اور پالیسی اپنانے کی اپنی بنیاد تھی۔ وہ خوشحال خان کا اس طرح ساتھ نہیں دے سکتے تھے، جیسا کہ خوشحال خان چاہتے تھے۔ اس لیے کہ اورنگ زیب اور میدانی علاقوں کے یوسف زئی و مندنڑ کا تعلق پہلے ہی دوستانہ ہوچکا تھا۔ خوشحال خان اور میاں نور کے نقطۂ نظر اور عقائد کے اختلاف کی وجہ سے میاں نور کے کردار نے بھی سوات میں اس کا مقصد پورا نہ ہونے میں اپنا حصہ ڈال دیا، جس کے لیے خوشحال خان نے میاں نور اور سوات کے لوگوں پر خوب لعن طعن کیا ہے۔ تاہم خود خوشحال خان کو ہی اس کی ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا جائے گا، اس لیے کہ اس نے یوسف زئیوں کو اتحادی بنانے کی خاطر سوات کا دورہ کیا، لیکن اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال کر اس نے اخون درویزہ کے عقائد،رتبہ اور کتاب ’’مخزن‘‘ کے ساتھ ساتھ خود میاں نور کے عقائد، رتبہ اور کردار کے حوالے سے بھی غیر ضروری تنازعات پیدا کیے۔ بہت عجیب و دلچسپ، جو وقت خوشحال خان کو میدان جنگ میں گزارنا چاہیے تھا، یعنی سات ماہ کا طویل عرصہ، وہ اس نے سوات میں دوروں، شکار، بحث و مباحثوں اور سوات کے عوام اور سیاسی و مذہبی قیادت کے ساتھ اختلافات پیدا کرنے میں گزارا۔

خوشحال خان کی سوات کے لوگوں سے مخاصمت اور ان پر لعن طعن کی بنیادی وجہ سوات کے یوسف زئیوں کی آپ کی خواہشات کے مطابق ہتھیار اُٹھا کر مغلوں سے نہ لڑنا تھی۔

خوشحال خان کو اپنے سابقہ دشمنوں یعنی سوات کے یوسف زئیوں سے بلاچوں و چرا حمایت اور اتحاد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ اور سوات کے یوسف زئیوں کے اتحاد کے حصول کی خاطر آپ کو لازم تھا کہ آپ اپنی تمام تر کوشش کو اپنے مقصد کے حصول پر مرکوز کرتے نہ کہ ایسے امور میں پڑتے اور مصروف ہوجاتے جو کہ مقصد فوت کرنے والے ہوں۔
یاد رہے کہ سوات کے یوسف زئیوں نے بظاہر ماضی کی مناقشات اور شکایات کو ایک طرف رکھ دیا، لیکن خوشحال خان نے نئے غیر ضروری تنازعات اور مباحثے پیدا کرکے پانسا پلٹا۔ اس وجہ سے سوات کے لوگ مغلوں کے خلاف لڑنے کی خاطر آپ کی حمایت میں لشکر نہ بنانے میں حق بجانب تھے اور یہ خوشحال خان کے ماضی کا کردار اور سوات میں اس کا طرزِ عمل ہی تھا، جس نے آپ کو سوات کے یوسف زئیوں کو بہ حیثیتِ مجموعی اپنے حق میں جیتنے میں کامیاب نہ ہونے دیا، اگر چہ بعض نے ایک لشکر بناکے ایک مغل قلعہ پر حملہ کر بھی دیا۔
(28تا 30نومبر 2012ء ، پشاور میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بہ موضوع، خیبر پختونخو خوا: ہسٹری اینڈ کلچر‘ میں راقم کے انگریزی میں پیش کردہ مقالے کی اردو تخلیص)۔

………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں




تبصرہ کیجئے