527 total views, 2 views today

ونسٹن ایس چرچل برطانیہ کا ایک مشہور سیاست دان اور وزیراعظم گزرا ہے۔ اس نے دوسری جنگِ عظیم میں بہ حیثیت وزیراعظم جرمنی کا مقابلہ کرنے، اُسے شکست سے دوچار کرنے اور اتحادیوں کو فتح سے ہم کنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم اس کی شہرت دوسری جنگ عظیم میں بحیثیت وزیراعظم اس کے کردار اور کامیابی سے بہت پہلی کی ہے جس کی وجہ ابتداً کیوبا کی جنگ سے متعلق اس کی رپورٹنگ تھی، لیکن اصل سبب 1897ء میں سوات اور باجوڑ سے متعلق اس کی وہ رپورٹنگ ہے جو پہلے الہ آباد کے پانیئر اور لندن کے ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہوئی اور بعد میں ترمیمات اور اضافہ جات کے ساتھ “The Story of the Malakand Field Force” کے نام سے کتابی شکل میں چھپی۔
ہوا یوں کہ 1897ء میں پختون قبائل میں انگریز حکومت کے خلاف ہندوستان کی شمال مغربی سرحد پر وزیرستان تا سوات شورش کی ایک لہر اُٹھی۔ اس کی پہلی کڑی جون 1897ء میں وزیرستان میں مائیزر کے علاقہ میں انگریز پولی ٹیکل افسر اور فوجی دستہ پر حملہ اور نتیجتاً پیدا ہونے والی لڑائی تھی۔ اس کے بعد جولائی 1897ء میں سرتور فقیر کی سرکردگی میں سوات کے لوگوں نے سوات سے ملاکنڈ اور چکدرہ کی انگریز چوکیوں پر حملے کیے جس کی وجہ سے ایک ہفتہ تک جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں اگر برطانوی فوج کی مدد کے لیے ہندوستان سے فوجی دستے بھیجے گئے، تو بونیر اور باجوڑ تک کے لوگ سوات کے حملہ آوروں کی کمک اور امداد کے لیے ملاکنڈ اور چکدرہ پہنچے۔ برطانوی فوج نے مسلسل اور سخت مزاحمت اور لڑائی اور ہندوستان سے کمک پہنچنے کی بدولت یکم اگست 1897ء کو ملاکنڈ اور 2 اگست کو چکدرہ سے حملہ آور قبائل کو پسپا کرکے منتشر ہونے اور گھروں کو واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ بعد ازاں اگست 1897ء میں مہمند، آفریدی اور اورکزیٔ قبائل نے انگریزوں کے خلاف شورش اور حملے کرکے ان کے لیے سخت مشکلات پیدا کیں۔ پختون قبائل کی یہ شورش، یلغار اور حملے اگر چہ آخرِکار ناکام بنادیے گئے اور برطانوی افواج ان قبائل کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوگئیں لیکن یہ شورش اپنے پیچھے بعض وقتی لیکن کئی ایک دور رس نتائج و اثرات چھوڑ گئی۔

سر ونسٹن چرچل کی فائل فوٹو (Photo: almasryalyoum.com)

ان وقتی اور دور رس اثرات و نتائج کے علاوہ یہ شورش اپنے پیچھے کئی افسانوں اور رومانوی داستانیں بھی چھوڑ گئی جن میں سے بعض نے تو گویا حقیقت اور عقائد کی شکل اختیار کی۔ ان افسانوی اور رومانوی عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ ونسٹن چرچل 1897ء کی شورش کے وقت اُس برطانوی فوجی دستوں میں شامل تھا، جنہوں نے ملاکنڈ میں قبائل کے حملوں کے بدلے میں مزاحمت کی اور مقابلہ کیا اور اس نے جو رپورٹنگ کرکے الہ آباد سے ’’پانیئر‘‘ اور لندن سے ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ میں شائع کی (جو بعد میں کتابی صورت اختیار کرگئی) یہ ان کے آنکھوں دیکھے احوال کی رپورٹنگ ہے اور یہ کہ وہ جس چوکی میں ٹھہرے تھے، وہ انہی کے نام سے چرچل پکٹ کے نام سے موسوم ہے۔
اس رومانوی اور افسانوی خیالات کو موجودہ دور کے بعض مصنفین اور معزز اہلِ قلم کی تحاریر نا دانستہ طور پر حقیقت کا روپ دینے اور ایک تاریخی سچائی بنانے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر محمد پرویش شاہین صاحب کی کتاب ’’دیر کوہستان‘‘ میں ’’یادگارِ چرچل‘‘ کے عنوان کے تحت صفحہ 60 پر تحریر ہے کہ ’’اس وقت مشہور انگریز مسٹر چرچل جو کہ بعد میں برطانیہ کے ایک نام آور سیاستدان اور وزیراعظم بن گئے، بڑی کم عمری میں اس جنگ کا حال برطانیہ کے اخبارات کے لیے لکھتے اور بھیجا کرتے تھے۔ چرچل نے یہاں کافی شہرت پائی اور اپنی قوم کی خاطر برستی گولیوں کے سائے میں کام کرتے رہے۔ چرچل نے یہاں جو کچھ دیکھا تھا اور ان پر جو کچھ گزری تھی۔ ان کو اپنی دو مشہور کتابوں “May early life” اور “Malakand Field Force” میں نہایت شستہ زبان اور بہترین سٹائل میں درج کیا۔ ان دو کتابوں نے ان کو ایک لافانی شہرت بخشی۔‘‘
اس طرح محمد اعجاز قاسم نے چرچل کی کتاب ’’دی سٹوری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ کے پشتو ترجمہ (جو کہ ’’دی ہسٹری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ کے غلط نام سے شائع ہوئی ہے) پر اپنے تاثرات میں چرچل کی اس کتاب کو اس کی فوجی خدمات کے وقت ان پختون علاقوں میں لڑائیوں کی آنکھوں دیکھی روئیداد قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو چرچل کی مذکورہ کتاب کا پشتو ترجمہ از شہباز محمد، صفحہ ب)۔ اسی طرح کتاب کے مترجم شہباز محمد صاحب نے بھی اپنی ابتدائیہ میں صفحہ 1 پر یہ تحریر کیا ہے کہ ونسٹن چرچل 1897ء کی ملاکنڈ کی لڑائی میں لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اور ڈیلی ٹیلی گراف اور پانیئر کے سرکاری نامہ نگارکی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس عینی شاہد نے یہ کتاب سال 1897ء میں لکھی اور 1898ء میں شائع کی تھی۔
جب کہ محمد نواز طاہرؔ صاحب نے بھی اس ترجمہ کے لیے لکھے گئے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ 1897ء میں ملاکنڈ کی مہم کا ایک عینی گواہ جو بہ نفس نفیس اس مہم میں انگریز فوج کا ایک سرکردہ رکن تھا اور بعد میں عالمی تاریخ میں اپنے لیے ایک بڑے لیڈر کے طور پر دائمی مقام حاصل کیا۔ یہ ان دنوں کا ایک نوجوان افسر لیفٹیننٹ ونسٹن چرچل تھا۔ اس نے ذاتی مشاہدہ پر اپنے نقطۂ نظر سے اس مہم کا جو آنکھوں دیکھا احوال اپنی اس کتاب میں محفوظ کیا ہے، وہ پختونوں کے لیے عبرت ناک بھی ہے اور فکر انگیز بھی اور یہ کہ ملاکنڈ مہم کے متعلق ونسٹن چرچل کی لکھی ہوئی یہ کتاب جو اس مہم اور استعماری استبدادیت کا آنکھوں دیکھا احوال ہے۔۔۔۔ (ملاحظہ ہو مذکورہ کتاب کے پشتو ترجمہ کے صفحات 9,8)۔
اگر چہ مسٹر چرچل برطانوی فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدہ پر فائز تھا، تاہم “John Marsh” کی کتاب “The Young Winston Churchill” اور “Charles Eade” کی ایڈٹ کردہ کتاب “Churchil: By his contemporaries” سے پتا چلتا ہے کہ ملاکنڈ کی لڑائی کے وقت چرچل نہ تو ملاکنڈ میں تھے اور نہ ہی ہندوستان میں۔ اس وقت وہ مئی کے مہینہ سے فوج سے چھٹی پر انگلستان گئے ہوئے تھے۔ اس لڑائی کی خبر اُسے انگلستان ہی میں گوڈووڈ (Goodwood)میں ریس کورس میں اخبار کے ذریعے ملی، جس پر اس نے ایک انگریزی اعلیٰ فوجی افسر بنڈن بلڈ سے رابطہ کیا۔ جنہوں نے 1895ء میں ملاکنڈ میں سوات کے لوگوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور کچھ 18 ماہ قبل ایک ملاقات میں چرچل سے سرحد میں ہونے والی لڑائی کی صورت میں ساتھ لینے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے کہ اس طرح کی لڑائی میں شمولیت کی چرچل کو بہت خواہش تھی۔
چرچل کی بدقسمتی سمجھ لیجیے کہ جس موقع کا وہ شدید منتظر تھا، اُس وقت وہ نہ صرف یہ کہ موقع پر موجود نہیں تھا بلکہ سات سمندر پار انگلستان میں تھا۔ تاہم ملاکنڈ میں لڑائی کی خبر ملتے ہی اُس نے بلاتأمل ’’گوڈووڈ‘‘ چھوڑ کر لندن کی راہ لی اور وہاں سے ’’بنڈن بلڈ‘‘ سے ٹیلی گرام کے ذریعہ رابطہ کی کوشش کی اور اُسے اس کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے اس کے دستہ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ جواب کا انتظار کیے بغیر چرچل لندن سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوا اور خلافِ توقع اس کی شدید خواہش کے باوجود اُسے راستہ میں بھی کسی بھی پڑاؤ پر بنڈن بلڈ کا جواب موصول نہیں ہوا۔




چرچل کی بدقسمتی سمجھ لیجیے کہ جس موقع کا وہ شدید منتظر تھا، اُس وقت وہ نہ صرف یہ کہ موقع پر موجود نہیں تھا بلکہ سات سمندر پار انگلستان میں تھا۔ (Photo: History Extra)

بمبئی پہنچنے پر 22 اگست 1897ء کو اسے بنڈن بلڈ کا پیغام ملا جس میں خلاف توقع بتایا گیا تھا کہ “Very difficult. No vacancies. come up as a correspondent. will try to fit you in.”یعنی ’’بات بہت مشکل ہے۔ سٹاف میں کوئی خالی آسامی نہیں۔ لہٰذا ایک نامہ نگار کی حیثیت سے آجاؤ۔ بعد میں کوشش کی جائے گی کہ آپ کو کھپایا جائے (ملاحظہ ہو “Charles Eade”کی ایڈٹ کردہ کتاب “Churchill: By his contemporaries” صفحہ 50)
نتیجتاً چرچل نے ایک طرف ہندوستان میں الہ آباد پانیئر کے ایڈیٹر سے اس کے مضامین چھاپنے کی بات کی جس پر اُسے بتایا گیا کہ اُسے کوئی بڑا اعزازیہ نہیں ملے گا۔ دوسری طرف اُس نے انگلستان میں اپنی والدہ لیڈی رینڈالف چرچل سے رابطہ کرکے وہاں پر کسی اخبار سے معاملات طے کرنے کو کہا۔ جس پر اس کی والدہ نے ڈیلی ٹیلی گراف سے معاملہ اس پر طے کیا کہ چرچل کو فی کالم 5 پونڈ ادا کیے جائیں گے۔ اس وقت دوسرا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ چرچل کی چھٹی ختم ہونے والی تھی، لہٰذا اُسے ہندوستان کی شمال مغربی سرحد پر جانے سے پہلے اپنے کرنل سے اپنے رجمنٹ سے چھٹی میں توسیع لینا تھی۔ کرنل نے اُسے اجازت دی اور مسٹر چرچل فوج کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ ایک جنگی نامہ نگار کی حیثیت سے ملاکنڈ کے لیے روانہ ہوا۔
یاد رہے کہ اس دوران میں ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ ختم ہوچکی تھی اور ’’بنڈن بلڈ‘‘ کو بارہ ہزار افراد پر مشتمل ملاکنڈ فیلڈ فورس اور اس تعزیری مہم کا سربراہ بنایا گیا تھا جس کا مقصد ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ میں حصہ لینے والے قبائل کے خلاف تادیبی کارروائی کے طور پر لشکر کشی کرنا تھی۔
جس وقت مسٹر چرچل ملاکنڈ پہنچے، تو ملاکنڈ فیلڈ فورس سوات کی مہم ختم کرکے ملاکنڈ واپس آچکی تھی۔ تاہم ’’بنڈن بلڈ‘‘ بونیر والوں کے خلاف تادیبی کارروائی میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہاں موجود نہیں تھے اور پانچ دن بعد واپس آئے۔ اگر چہ ملاقات کے وقت بنڈن نے چرچل کو بولا کہ تم اچھے وقت پر پہنچے ہو، آئندہ چند ہفتوں میں تم لکھنے کے لیے بہت کچھ پاؤگے، لیکن جیسا کہ ذکر ہوا نہ صرف ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ پہلے ہی ختم ہوچکی تھی بلکہ سوات میں ملاکنڈ فیلڈ فورس کی تعزیری کارروائی بھی ختم ہوچکی تھی۔ خود چرچل کے بیان کے مطابق ملاکنڈ فیلڈ فورس 26 اگست 1897ء کو تھانہ واپس ہوئی اور بالائی سوات میں مہم کو ختم کیا گیا (ملاحظہ ہو چرچل کی کتاب ’’دی ملاکنڈ فیلڈ فورس ‘‘ صفحہ 86)۔
لہٰذا چرچل نہ تو ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ کے وقت یہاں پر لڑنے والی برطانوی فوج کا حصہ تھا، نہ ملاکنڈ فیلڈ فورس کی سوات میں تعزیری فوجی کارروائی کے دوران میں ہی وہ اس میں شامل تھا۔ حتیٰ کہ پانیئر اور ڈیلی ٹیلی گراف کے جنگی نامہ نگار کے طور پر بھی نہیں۔ وہ ملاکنڈ فیلڈ فورس کے ساتھ بہ حیثیت نامہ نگار باجوڑ اور اتمان خیل کے خلاف تعزیری مہم کے وقت شامل ہوا۔ تاہم بعد میں جب ماموند قبیلہ کے ہاتھوں برطانوی فوج کو شدید جانی نقصان پہنچا، تو اُسے 31ویں پنجاب انفینٹری میں تعینات کیا گیا۔
پس ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ اور ملاکنڈ فیلڈ فورس کی سوات میں تعزیری کارروائی کی مسٹر چرچل کی کتاب میں درج روئیداد، چشم دید یا عینی گواہ کی روئیداد نہیں بلکہ بعد میں سنی سنائی باتوں اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ جہاں تک اُس کے چشم دید واقعات کے بیان کا ذکر ہے، اُن میں بھی اُس نے بعد میں ترامیم کی ہیں اور دوسرے مأخذ سے معلومات شامل کی ہیں جس کا اس نے خود اپنی کتاب ’’دی سٹوری آف دی ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ کے دیباچہ میں ذکر کیا ہے۔
اس طرح نہ صرف یہ چرچل کے ملاکنڈ فیلڈ فورس کے سارے مندرجات، چشم دید واقعات کی روئیداد نہیں اور یہ کہ ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ اور سوات میں ملاکنڈ فیلڈ فورس کی تعزیری مہم کے مندرجات سارے کے سارے دوسرے مأخذ اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں بلکہ چرچل غیر حقیقت پسندانہ اور مبالغہ آمیز منفی باتوں کو تحریر کرنے کا بھی مرتکب ہوا ہے۔
مثال کے طور پر پختونوں کے بارے میں وہ صفحہ 6پر لکھتے ہیں کہ “Their wives and their womankind generally have no position but that of animals. They are freely bought and sold and are not infrequently bartered for rifles. Truth is unknown among them”.
یعنی ’’ان کی بیویاں اور عورت ذات جانوروں جیسی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی کھل کے خرید و فروخت ہوتی ہے اور بعض اوقات بندوق کے بدلہ میں دی جاتی ہیں۔ سچ کا ان میں نام و نشان تک نہیں۔ ‘‘

ملاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ اور ملاکنڈ فیلڈ فورس کی سوات میں تعزیری کارروائی کی مسٹر چرچل کی کتاب میں درج روئیداد، چشم دید یا عینی گواہ کی روئیداد نہیں بلکہ بعد میں سنی سنائی باتوں اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ (Photo: Kobo.com)

یاد رہے کہ اس سے بہت پہلے سترھویں صدی عیسوی میں خوشحال خان خٹک نے اپنی کتاب ’’سوات نامہ‘‘ میں سوات کی عورتوں کے ضمن میں جو باتیں لکھی ہیں، ان سے چرچل کے مغالطوں کی نفی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر خوشحال خان خٹک نے اگر چہ عورتوں کو میراث میں حصہ نہ ملنے اور بھائی کی وفات کے بعد اس کی بیوہ سے اس کی رضامندی حاصل کرنے کو کوئی اہمیت دیے بغیر اس کے دیور کی اس سے شادی کے رواج کی مذمت کی ہے، تاہم اس نے سوات کی عورتوں کی آزادی اور خاندانی امور میں اثر و رسوخ پر سوات کے مردوں پر لعن طعن کی ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں انہیں زن مرید گردانا ہے۔
جب کہ میجر راورٹی نے بھی 1862ء میں چھپنے والے سوات سے متعلق اپنے ایک مضمون “An account of Upper and Lower Suwat, and the Kohistan, to the source of the Suwat River, with an account of the tribes inhabiting these valleys.” کے صفحات 274-273اور اپنی کتاب “Notes on Afghanistan and Baluchistan” (جلد اول، شائع شدہ1878ء) کے صفحہ 211 پر سوات کے لوگوں کے بارے میں پائے جانے والے اس تأثر کے ضمن میں کہ وہ آفریدیوں کی طرح اپنی بیویوں کو فروخت کرتے ہیں یا جانوروں یا کسی دوسری قسم کی چیزوں کے تبادلہ میں دیتے ہیں، پر بحث کرتے ہوئے اس پائے جانے والے عام خیال اور تأثر کی مثالوں اور دلائل کے ذریعہ پُرزورا الفاظ میں تردید کی ہے، اور اپنے بیان کو اس فقرہ پر ختم کیا ہے کہ “It, therefore, appears almost impossible that men, who are so much subject to and so obedient to their wives, would venture to sell them, or even dare to make the attempt.” یعنی ’’سوات میں شوہروں کا بیویوں کو بیچنا یا مال کے بدلے میں دینا اس وجہ سے ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مرد جو اپنی بیویوں کے اتنے تابع دار اور تابع فرمان ہوں، ان بیویوں کے بیچنے کی کبھی حرکت کریں گے یا اس قسم کی کوشش کی جرأت کریں گے۔‘‘
اگر چہ خوشحال خان خٹک اور میجر راورٹی کے سوات کے مردوں کی اپنی بیویوں کے اتنے تابعدار یا زن مرید ہونے کی بات میں بھی مبالغہ پایا جاتا ہے اور صورتحال کبھی بالکل اس طرح نہیں رہی ہے، لیکن سوات میں اس وقت سے ہی بیویوں کا بحیثیت مجموعی ایک اہم مقام اور حیثیت رہی ہے جو کہ دوسرے پختون علاقوں سے بڑی حد تک مختلف ہے۔ لہٰذا یہاں کی صورتحال کا دوسرے علاقوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔
جب کہ مذہبی طبقہ یا گروہ کے متعلق چرچل کی کتاب کے صفحہ 7 پر یہ بے سروپا بات بھی تحریر ہے کہ “…..and no man’s wife or daughter is safe from them”. ’’اور کسی بھی فرد کی بیوی یا بیٹی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں۔‘‘ اگر چہ سوات میں مذہبی طبقہ یا گروہ کا اثر و رسوخ ہمیشہ سے رہا ہے، لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف قسم کی رہی ہے۔ سواتی معاشرہ میں کسی بھی شخص کے اگر غیر عورت سے ناجائز تعلقات سامنے آتے ہیں، خواہ اس کا تعلق مذہبی طبقہ سے ہو یا غیر مذہبی طبقہ سے، تو نہ صرف اس کی عزت و وقار ہی ختم ہوجاتا ہے بلکہ وہ واجب القتل گردانا جاتا ہے۔ اور دوسروں کی عورتوں پر کھلی دست درازی کا تو اس وقت کے قبائلی معاشرہ میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، حتیٰ کہ اب بھی اس طرح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
افسوس کہ جس طرح 1897ء کی جنگ کے نتیجہ میں چرچل، سوات اور اس کے باشندوں کے متعلق سنی سنائی باتوں اور اپنی خواہشات کی بنیاد پر غیر حقیقت پسندانہ اور مبالغہ آمیز منفی باتوں کو صفحہ قرطاس پر لانے کا مرتکب ہوا ہے، سوات کے 2007ء تا 2009ء کے المیہ کے نتیجے میں بھی سوات، اس کی تاریخ اور باشندوں کے متعلق افسانوی اور رومانوی داستانیں، غیر حقیقت پسندانہ اور کئی حوالوں سے مبالغہ آمیز منفی باتیں اخبارات، رسائل و جرائد، کتابوں اور دوسرے ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی جارہی ہیں، جو کسی طور پر مستحسن نہیں۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے