494 total views, 1 views today

برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے علم بردار خان عبدالغفار خان نے سرحدی عقابوں کے نشیمن سے برطانوی سامراج کو اس وقت للکارا تھا جب ان کی حکومت پر سے سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ یہ اُن کی شاندار جدوجہد، بے مثال قربانی اور لازوال ایثار کا نتیجہ ہے کہ آج اس سامراج کے لیے سورج ہی طلوع نہیں ہوتا۔ سامراج کے خلاف یہ عظیم اور اذیت ناک جنگ انھوں نے سادگی، سچائی، ایمانداری اور بے جگری کی مجسم تصویر بن کر لڑی اور آج نہ صرف وطنِ عزیز (پاکستان) آزاد ہے بلکہ ہندوستان اور ملحقہ ممالک بھی اپنے اختیار کے مالک ہیں۔
آزاد قومیں اپنی آزادی کے متوالوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں خان عبدالغفار خان کے خلاف اتنا بے جا پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ ان کی شخصیت کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ مخالف عناصر اب بھی ان کو وطن دشمن قرار دے رہے ہیں اور ان کو ایسے جرم کی سزا دے رہے ہیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ آج میکاؤلی کے پیروکار سیاست دان “غدار، غدار” کی رٹ لگا کر نہیں تھکتے اور یہ نہیں دیکھتے کہ خان عبدالغفار خان پختون قوم کے جلیل القدر فرزند ہیں اور لاکھوں پختونوں کی عزت و ناموس و آزادی کے پاسبان رہ چکے ہیں۔ آئیں، یہ دیکھتے ہیں کہ خان عبدالغفار خان کا تحریک آزادیٔ ہندوستان میں کتنا حصہ ہے؟

اردو فلموں کے لیجنڈ اداکار “دلیپ کمار” باچا خان بابا سے مل رہے ہیں۔ (Photo: The Friday Times)

خان عبدالغفار خان محمد زیٔ قبیلے کے پختونوں میں سے ہیں۔ وہ اتمان زیٔ گاؤں میں 1890ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ایڈورڈ مشن ہائی اسکول پشاور میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد بہرام خان خوانین اور زمین دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ انھیں انگریز افسروں میں عزت اور رسوخ حاصل تھا۔ مقامی طور پر نہ پڑھ سکنے کے سبب خان عبدالغفار خان کو ان کے والد نے ولایت بھیجنا چاہا مگر ماں کی مامتا نے باہر نہ جانے دیا۔ آپ 1919ء میں رولٹ ایکٹ کے خلاف تحریک میں حصہ لینے کے ذریعے سیاست میں داخل ہوئے اور چھے ماہ قید کاٹی۔ 1920ء میں ہجرت تحریک میں شریک ہوکر افغانستان گئے مگر تحریک ناکام ہونے کے سبب واپس آگئے۔ 1921ء میں آپ نے اپنے گاؤں اتمان زیٔ میں ایک دینی مدرسہ قائم کرکے اسے قوم پرستی کے نقطۂ نگاہ سے چلانا شروع کیا۔ انگریز کے چیف کمشنر سر جان میضے نے ان کے والد کو بلا کر مدرسہ بند کرنے کے لیے کہا۔ کیوں کہ وہاں انگریزوں کے خلاف تعلیم دی جاتی تھی۔ باوجود اس کے مدرسہ چلتا رہا، جس پر ناراض ہوکر انگریزوں نے انھیں ضمانت داخل کرنے کے لیے کہا۔ 1921ء میں ہی انھوں نے خلافت تحریک میں حصہ لیا اور تین سال سزا بھگتی۔ 1924ء میں جیل سے نکلے اور مسلمانوں میں غلط رسوم کے خاتمے کے لیے “انجمنِ اصلاحِ افغان” قائم کی۔ 1926ء میں سب کارکنوں کے ہمراہ کلکتہ میں کانگریس کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ 1929ء میں آل انڈیا کانگریس کے اجلاس منعقدہ لاہور میں حصہ لیا۔ 1930ء میں انھوں نے “خدائی خدمت گار تحریک” شروع کی، جسے “سرخ پوش” تحریک بھی کہا گیا۔ 1930ء میں گاندھی جی نے “ستیہ گرہ” کی تحریک شروع کی تو عبدالغفار خان نے ہزاروں افراد کے ساتھ صوبائی کانگریس کمیٹی کے تحت شاہی باغ پشاور میں کانگریس کے پروگرام “نمک کا قانون توڑنے” میں حصہ لیا۔ 22 اپریل کو جلوس نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ جب 23 اپریل کو جلوس نکلا اور قصہ خوانی بازار پہنچا، تو اس پر فائرنگ کی گئی جو چار گھنٹے جاری رہی جس میں سیکڑوں ہندو اور مسلمان مارے گئے۔ 57 افراد کے نام ظاہر کیے گئے۔ 38 لاشیں اسپتال والوں نے نامعلوم قرار دے کر دفنا دیں، 550 زخمی اسپتال میں داخل ہوئے۔ 30 اپریل 1930ء کو خان عبدالغفار خان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ 11 مئی 1930ء کو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ہوا۔ جس میں غلام محمد آف لوند خوڑ غفار خان کے پیروکار کو گرفتار کرکے تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ اس پر لوگ مشتعل ہوگئے۔ حکومت کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہوگئے۔ 26 مئی 1930ء کو ایک سردار گنگا سنگھ (جو سرکاری ملازم) تھا، بڑے بازار سے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ تانگے میں جا رہا تھا کہ ایک انگریز افسر نے اُسے اور اُس کے دونوں بچوں کو مار دیا۔ ان کا جنازہ اٹھا کر ہزاروں افراد جلوس کی شکل میں نکلے، تو انگریزوں نے آکر راستہ روک لیا۔ لوگوں نے کہا کہ وہ صرف جنازہ لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کوئی خراب ارادہ نہیں ہے، مگر انگریزوں نے فائرنگ کی جس میں 11 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ 28 فروری 1931ء کو اتمان زیٔ میں ایک بڑا جلوس نکلا، پولیس کی لاٹھی چارج کے باوجود لوگ منتشر نہ ہوئے، لہٰذا ان پر گولی چلا دی گئی اور متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔
10 مارچ 1931ء کو گاندھی ارون معاہدہ ہوا۔ دوسرے سیاسی قیدیوں کو آزاد کرلیا گیا لیکن خان عبدالغفار خان کو نہ چھوڑا گیا جس پر گاندھی نے “لارڈ ارون” سے ملاقات کرکے کہا کہ اگر باچا خان کو نہ چھوڑا گیا، تو وہ معاہدہ ختم کرکے جیل جانے کو تیار ہوجائیں گے۔ اس کے بعد گاندھی جی نے بادشاہ خان (خان عبدالغفار خان) سے جیل میں ملاقات کرکے کہا کہ انگریزوں کا کہنا ہے کہ سرخ پوش جماعت کو کانگریس میں ضم کر دیا جائے۔ بادشاہ خان اس کے لیے تیار نہ تھے لیکن سر صاحب زادہ عبدالقیوم خان کو جو انگریزوں کے آدمی تھے اور صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں انگریز کے بعد دوسرے نمبر پر تھے، کو جب پتا چلا کہ انگریز کسی طرح سے پختونوں کی طاقت توڑنا چاہتے ہیں، تو انھوں نے خان عبدالغفار خان کو کہلوا بھیجا اور “پختون ولی” کا واسطہ دے کر کسی طرح آل انڈیا پارٹی میں شامل ہونے کو کہا، تاکہ پختونوں کا زیادہ نقصان نہ ہو۔ اس پر بادشاہ خان نے حامی بھرلی اور باقاعدہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔




باچا خان بابا اور گاندھی جی کی ایک یادگار تصویر۔ (Photo: Afghanistan Times)

گجرات جیل سے نکل کر جب وہ جلوس کی صورت میں پشاور پہنچے، تو جلوس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ اس کے بعد انھیں “سرحدی گاندھی” کا خطاب دیا گیا۔ رہائی کے بعد کانگریس کے پروگرام کے تحت انھوں نے سرحد میں کانگریس کے لیے کام کیا جس پر انھیں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی رہائی کے لیے پورے صوبے میں تحریک چلی اور نتیجے میں پندرہ ہزار رضا کار جیل گئے۔ 1932ء تا 1934ء خان عبدالغفار خان ہزارہ جیل میں رہے۔ رہائی کے بعد ان کے سرحد اور پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی، لہٰذا وہ کچھ وقت واردھا میں گاندھی جی کے پاس رہے۔
1935ء میں ہندوستان کو صوبائی خود مختاری ملی۔ ڈاکٹر خان صاحب اور بادشاہ خان پر سے پابندی ختم کی گئی۔ ڈاکٹر خان صاحب سرحد گئے لیکن بادشاہ خان نے بمبئی میں آل انڈیا سودیشی نمائش کے افتتاح پر تقریر کی جس پر ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور انہیں تین سال جیل بھیج دیا گیا۔
1937ء کے آخر میں وہ دوبارہ وطن لوٹے تو ان کا زبردست استقبال ہوا اور اٹک سے پشاور تک جلوس نکلا۔ ستمبر 1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی جس میں کانگریس نے حکومت کی حمایت کا مشروط اعلان کیا۔ اس پر ناراض ہوکر بادشاہ خان کانگریس سے الگ ہوگئے اور دوبارہ “خدائی خدمت گار تحریک” کے لیے کام شروع کر دیا، مگر جب انگریزوں نے کانگریس کی شرائط تسلیم کیں، تو بادشاہ خان پھر کانگریس میں شامل ہوگئے۔ 8 اگست 1946ء میں جب آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے “ہندوستان چھوڑو” کی قرارداد پاس کی، تو سرحد میں بھی گرفتاریاں ہوئیں اور بادشاہ خان کو جیل بھیج دیا گیا۔ جہاں سے وہ 1945ء میں رہا ہوئے۔ اسی سال بہار اور بنگال میں زبردست قحط پڑا، تو بادشاہ خان نے بہار پہنچ کر پورے صوبے کا دورہ کیا۔
14 اگست 1947ء کو تقسیم عمل میں آئی۔ غفار خان نے تقسیم کے مخالف ہونے کے باوجود کانگریس کے فیصلے کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد جب فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، تو مسلم لیگ نے ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت کو بر طرف کرکے خان عبدالقیوم خان کو وزارت سونپ دی، جنھوں نے “بابڑا” میں سرخ پوشوں پر فائرنگ کروائی جس میں سیکڑوں پختون شہید ہوئے۔

عبدالقیوم خان

عبدالقیوم خان کی فائل فوٹو۔

آپ جنرل ایوب خان، آغا یحییٰ خان اور بھٹو کے دورِ حکومت تک اپنی مرضی سے افغانستان میں مقیم رہے اور بعد میں پختونوں کے ایک جرگے کی جلوس کی شکل میں 1972ء میں اپنے مادر وطن پر قدم رکھا۔
4 جولائی 1987ء کو انڈیا کے دورہ کے دوران دہلی میں اچانک غفار خان پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ 50 روز سکرات کی کیفیت سے دوچار رہنے کے بعد پاکستان واپس لائے گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں ستانوے برس کی عمر میں 20 جنوری 1988ء کو اس عظیم قوم پرست راہنما نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ خدا اُن کی مغفرت فرمائے، آمین۔
خان عبدالغفار خان کا شجرۂ نسب:۔ قوم محمد زیٔ پختون، عبید اللہ خان:۔ اپنی قوم پروری کے جرم میں دُرانیوں کے ہاتھوں تختہ دار کے سزا وار گردانے گئے تھے۔
سیف اللہ خان:۔ بونیر ضلع سوات کی جنگ میں انگریزوں کے خلاف نبرد آزما ہوئے تھے۔
بہرام خان:۔ انگریزوں کے خلاف تحریک میں خود جیل گئے تھے اور باچا خان کو قابو میں کرنے کے لیے بھی جیل میں ڈال کر پھانسی دینے کی دھمکی سنائی گئی تھی۔
خان عبدالغفار خان: تاریخ پیدائش 1890ء (عرف باچا خان) گاؤں اتمان زیٔ تحصیل چارسدہ ضلع پشاور پختون خوا۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے