336 total views, 1 views today

(نوٹ: تصویر خیالی ہے اور اس کا “شلبانڈئی بابا” سے کوئی تعلق نہیں، مدیر لفظونہ)

مرحوم اشفاق احمد صاحب اپنے پروگرام ’’زاویہ‘‘ کا اختتام عموماً اس دعا سے کرتے تھے کہ ’’اللہ تمھیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔‘‘ شاید یہی دعا شل بانڈیٔ کے امیر المساکین کے لیے اُن کے والد نے مانگی ہوگی جن کو آسانیاں نصیب ہوگئیں اور تقسیم کی توفیق بھی۔
1970ء کی دہائی میں، مَیں بونیر میں بہ سلسلہ ملازمت مقیم تھا۔ ان دنوں بونیر کی حالت ایسی نہ تھی جیسے آج کل ہے۔ بجلی ناپید تھی۔ سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی اور پاکستانی نظام کی تمام کم زوریاں ہر شعبے میں سرایت کر رہی تھیں۔ رہائش کی سہولتیں بھی نایاب تھیں۔ ہمیں ریاستی دور کی تعمیر شدہ کالج کالونی میں ایک بنگلہ مل گیا جس میں پانی تو آرہا تھا،لیکن بجلی نہیں تھی۔ گرمیوں میں بونیر کا درجۂ حرارت ملتان کے درجۂ حرارت تک چلا جاتا ہے۔ میں نے باباجیؒ صاحب کی شہرت تو سنی تھی، لیکن اُن سے دو بدو ملاقات اور باتیں کرنے کا شرف ابھی تک نہیں ملا تھا۔ ایک دن میں دفتر سے سواڑیٔ اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہا تھا۔ موسم شاید سردیوں کا تھا، بونیر کی سردی بھی گرمیوں کی طرح شدید ہوتی ہے۔ میں نے دور سے دیکھا کہ ہمارے بنگلے کے لان میں چارپائیاں پڑی ہیں اور ان پر کئی لوگ بیٹھے ہیں۔ وہ ہفتہ وار میلہ مویشیاں کا دن تھا۔ میں سمجھا شاید ہمارے ملازم کے گاؤں والے میلہ پر آئے ہوں گے اور اب وہاں پر اُن سے ملنے آئے ہوں گے۔ جب میں قریب آگیا، تو میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ تو بابا جی صاحب اور ان کے مریدین ہیں، جن کو عرف عام میں ’’مساکین‘‘ کہتے ہیں۔ ان کے قریب اُن کے قریبی ساتھی اور خلیفہ حافظ صاحب زمین پر بیٹھے تھے اور پہاڑی پھل کاٹ کاٹ کر اُن کو کھلا رہے تھے۔ میں نے سلام کیا اور زمین پر بیٹھنے لگا، تو باباجی نے فوراً مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے قریب چارپائی پر بٹھایا اور جو ٹکڑا پھل کا حافظ صاحب دیتے، وہ مجھے کھلاتے جاتے۔ میں نے عرض کیا: ’’بابا جی! بس کریں، آپ بھی تو کھائیں۔‘‘ کچھ دیر آرام کے بعد وہ پیدل تختہ بند کے راستے شل بانڈیٔ روانہ ہوگئے۔
بونیر کی حالت میں کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی کہ اچانک اس کی قسمت جاگ اُٹھی۔ ملک میں ضیائی مارشل لا کا آغاز ہوا۔ چاہے اوروں کے لیے اس حکومت میں خیر تھی یا نہیں، بونیر کے لیے تو یہ ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوئی۔ ہوا یوں کہ ضیا کے چند قریبی جرنیل باباؒ کے مساکین تھے۔ ان میں جنرل افضال خصوصی طور پر قابل ذکر ہے، جو ضیا کے ساتھ فضائی حادثہ کا شکار ہوئے تھے۔ ایک اور نہایت اہم شخص قلات کے پرنس محی الدین بلوچ تھے جو اُن دنوں ضیائی کابینہ میں مواصلات کے وزیر تھے۔ موصوف اکثر باباجیؒ کے دربار میں حاضری کے لیے آتے تھے۔ جنرل افضال کا بھی آنا جانا رہتا تھا، تو اُن ہی کی مساعی جلیلہ کے طفیل بونیر میں جدید دور کا ڈیجیٹل ٹیلی فون سسٹم نصب ہوا اور مستقل ایکسچینج کی تعمیر تک ایک موبائل سسٹم گاڑی میں نصب شدہ مہیا کیا گیا۔ جنرل افضال ہی کی سفارش پر بونیر کی سڑکوں کی پختگی کا آغاز فضل حق گورنر کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا اور سال دو سال کے اندر تحصیل بونیر کا نقشہ ہی تبدیل ہوگیا۔ یہ آسانیاں بابا جی کے طفیل ہی سے پیدا ہوئیں، جن کا جی ایچ کیو میں ایک مقتدر حلقہ زیر اثر تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ باباجی ؒ کو خود ذاتی طور پر اللہ تعالیٰ نے دنیاوی آسانیاں بھی عطا کی تھیں۔ اُن کے وسیع دربار میں کئی لوگ روزانہ کھانا کھاتے تھے۔ کسی چیز کی کمی بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ نماز کے دوران میں روح پرور نظارے دیکھنے کو ملتے تھے۔ میں شل بانڈیٔ میں ایک پرائمری اسکول تعمیر کر وا رہا تھا۔ معائنہ کے بعد میں اکثر باباجیؒ کے ڈیرے پر حاضری دیتا۔ وہ مجھے اپنے پاس بٹھاتے مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے۔ اگر چائے کا وقت ہوتا، تو روسٹ مرغ بھی کھلاتے۔ غرض میری بہت عزت افزائی کرتے۔ اس تمام محبت اور توجہ کے باوجود میں اُن کا مرید نہ بن سکا۔ شاید وہ بھی جان گئے تھے، پھر بھی اُن کی توجہ اور محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مجھ سے میرے دوست اکثر پوچھتے تم کب باباجیؒ سے بیعت کروگے؟ میں اُن کو کہتا تھا، اصل بات یہ ہے کہ مجھ میں کانسپشن ہی نہیں ہے۔ یہ تو قسمت والوں کو ملتی ہے۔ ’’پھر وہ تمہارا اتنا خیال کیوں کرتے ہیں؟‘‘ وہ پوچھتے، دراصل اُن کو معلوم نہ تھا کہ باباجی ؒ اور میرے والد صاحب کے درمیان ایک روحانی تعلق تھا اور وہ میرے والد کی وجہ سے میرا لحاظ کرتے تھے اور مجھ جیسے گنہگار کو عزت سے دیکھتے تھے۔ ایک بار میں چھٹی پر سیدوشریف چلا گیا۔ اُن دنوں ہماری رہائش کمشنر ہاؤس کے قریب ایک سرکاری بنگلہ میں تھی۔ میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ بابا جی ؒ یہاں آئے تھے اور تین چار دن ہمارے ہاں قیام پذیر تھے۔ در اصل اُن کا کوئی بچہ بیمار تھا اور سیدوشریف اسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ والد صاحب کہتے تھے کہ یہ چند راتیں ایسی پُرسکون اور راحت بھری تھیں، لگتا تھا جیسے برکتوں کا نزول ہورہا ہو۔ رات بھر عبادات اور نوافل ہوتے رہتے اور ذکر و اذکار کا سلسلہ جاری رہتا۔ اُن کے مرید میں سے حافظ صاحب اُن کے ساتھ مقیم تھے۔ باقی لوگ آتے اور جاتے تھے، میں آج تک یہ بات سمجھ نہ سکا کہ مجھے باباجیؒ کے مساکین میں شامل ہونے کی توفیق کیوں نہیں ہوسکی، شاید میری وہ کانسپشن والی بات درست تھی۔ میں اُن پاک لوگوں میں شمولیت کا اہل نہیں تھا، میں اُن کے معیار کو کوالیفائی نہ کرسکا اور اس سعادت سے محروم رہا۔ ان تمام کے باوجود میرا خیال ہے کہ بونیر میں زیادہ تر ترقیاتی کام اور آسانیاں باباجیؒ کی شل بانڈیٔ میں موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوسکیں۔

…………………………………………..

لفظونہ اتنظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے