247 total views, 1 views today

گذشتہ سالوں میں خیبر پختونخوا و ملحقہ قبائلی علاقہ جات خاص کر سوات میں خراب اور کشیدہ حالات، عسکریت پسندی، فوجی کارروائیوں اور کشت و خون کا بازار گرم رہا۔ اس کے اسباب و محرکات اور فوجی کارروائیوں کی اصل حقیقت اگر باہر کی دنیا میں متنازعہ اور مبہم ہو، تو ہو لیکن یہاں کا ہر باسی اس کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ یہاں تفصیل کی گنجائش اور ضرورت بھی نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے امور سے بحث نہیں کیا جاتی، تاہم ایک اہم پہلو یعنی مذہبی طبقے کے کردار اور اسلام کے نام کے استعمال کے بارے میں بعض غلط فہمیوں کو دور کرنے کی خاطر بات کی جاتی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ پختون معاشرے میں مذہبی پیشواؤں اور افراد جو ملا، پیر، فقیر، بابا اور حاجی صاحب وغیرہ کے القاب سے یاد کیے جاتے ہیں، کا کردار مذہبی امور کی حد تک محدود رہا ہے اور ان کا سیاست یا عرفِ عام میں دنیاوی امور و معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں۔ اس طرح کی بات 2002ء کے انتخابات سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے بھی اپنی پارٹی کے ایک اجلاس میں کی تھی۔ اس نے بھی حجرہ اور مسجد یا دوسرے لفظوں میں دنیاوی سربراہوں اور مذہبی پیشواؤں کے علاحدہ علاحدہ کردار کا ذکر اور مسجد یا مذہبی پیشواؤں کی سیاست سے سروکار نہ ہونے کی بات کی تھی۔ اس طرح بعض اہلِ قلم بھی سوات کے حوالے سے سوات کے گذشتہ بحران کے تناظر میں اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا واقعی حقیقت حال ایسی ہی رہی ہے یا یہ ایک واہمہ ہے؟
پختونوں، خاص کر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات اور سوات کی تاریخ پر نظر دواڑنے سے حقیقت کچھ اور ہی سامنے آتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان علاقوں میں نہ صرف مذہب اور مذہبی پیشواؤں یعنی ایسے افراد جن کے ناموں کے ساتھ ملا، پیر، فقیر، بابا اور حاجی صاحب کے سابقے و لاحقے جڑے ہوتے ہیں، کا اہم کردار رہا ہے بلکہ ایک خاص یعنی مسلح جدوجہد اور جنگ و جدل کے تناظر میں ان کے راہنما یا ہر اول کردار رہے ہیں، خاص کر جب بیرونی قوتوں کے مقابلے کا عنصر شامل ہو۔
یوسف زئیوں کے قبضہ کے بعد سوات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے، تو سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی میں مذہبی افراد یا پیشواؤں جیسے اخون درویزہ، اس کا بیٹا اخون کریم داد اور پوتا میاں نور با اثر رہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں اخون عبدالغفور المعروف سیدوبابا کسی حد تک با اثر رہا۔ اس کی زندگی ہی میں سولہویں صدی عیسوی میں گزرے ہوئے مشہور فروسید علی ترمذی المعروف پیر بابا ہی کی اولاد میں سے سید اکبر شاہ کو اس کی ذاتی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ پیر بابا کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے ستھانہ سے بلاکر سوات کا حکمران بنایا گیا، جس نے 1857ء میں اپنی وفات تک حکومت کی۔
اسی طرح انیسویں صدی عیسوی میں سیدوبابا کے بیٹوں کا کافی اثر و رسوخ رہا اور ان میں سے بڑے نے تو سوات کا حکمران بننے کے جتن بھی کیے لیکن اس مقصد میں کام یاب نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ سیدو بابا نے بھی اپنی زندگی میں دو دفعہ اسے حکمران بنائے جانے کی خود بالواسطہ کوشش کی تھی، لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
انیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور بیسویں صدی عیسوی کے شروع میں سعد اللہ خان المعروف سرتور فقیر نے سوات میں کافی اثر و رسوخ حاصل کیا۔ اگر چہ اس کا تعلق بونیر کے ایک با اثر پختون خاندان سے تھا، لیکن سوات میں اس کا یہ اثر و رسوخ خاندانی بنیاد پہ نہیں بلکہ اس کے انگریز مخالف ہونے اور ساتھ ساتھ مافوق الفطرت قوت کا مالک ہونے کے دعوے اور فقیر کے لقب سے تھا۔

انیسویں صدی عیسوی میں سیدو بابا کے بیٹوں کا کافی اثر و رسوخ رہا (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

بیسویں صدی عیسوی کے پہلے ربع ہی میں سنڈاکئی بابا سوات کے منظر پر ایک نمایاں فرد کے طور پر ابھر کر سامنے آیا اور سوات کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کے مریدوں کے ایک خاص حصہ کو شیخان (شیخ کی جمع) کہا جاتا تھا۔ سنڈاکئی بابا کے یہی شیخان، جنہیں آپ کی شاہین فورس بھی کہا جاسکتا ہے، ایک مسلح گروپ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور سوات میں بعض خرابیوں کے خلاف سنڈاکئی بابا کی تطہیری مہم میں حصہ لیا۔ کہتے ہیں کہ سنڈاکئی بابا کے ان شیخان میں سے ایک کا نام خان بہادر تھا۔ اس خان بہادر کے ہاں پچاس افراد کا ایک طاقتور اور مطلق العنان دستہ تھا، جو بزورِ شمشیر سنڈاکئی بابا کے احکامات نافذ کرتا تھا۔ اسی خان بہادر کے کردار اور سینہ زوری کا اظہار اس پشتو ٹپہ میں ہے کہ
آسمان تہ لار د ختو نشتہ
د زمکے سر د خان بہادر ورسیدہ نہ
یعنی آسمان پر چڑھنے کی کوئی راہ نہیں جب کہ زمین پر خان بہادر ہی کا حکم چلتا ہے اور اس کا حکم مانے بغیر جینا محال ہے۔ یاد رہے کہ اس ٹپہ کو ’’خان بہادر صاحب، سلطنت خان آف جورہ‘‘ سے جوڑا جاتا ہے، لیکن یہ دراصل سنڈاکئی بابا کے اس شیخ خان بہادر سے متعلق تھا۔
اس طرح دوسری باتوں کے پہلو بہ پہلو پیر بابا کی اولاد میں سے ہونے کے ناتے سید عبدالجبار شاہ کو 1915ء میں ستھانہ سے بلا کر سوات کا حکمران بنایا گیا، اور سیدوبابا کی اولاد ہونے کے ناتے مذہبی اثر و رسوخ رکھنے کے بل بوتے پر میاں گل عبدالودود، اس کا بھائی شیرین جان اور ان کے چچیرے بھائیوں نے بھی سوات میں سیاسی طاقت کے حصول کی خاطر کافی تگ و دو کی اور سوات کی آبادی کا ایک حصہ ان کے حلقۂ اثر میں شامل تھا اور یہ یہی مذہبی یا صوفیانہ پس منظر تھا، جو 1917ء میں میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب کے سوات کا حکمران بننے میں ممدو معاون ثابت ہوا۔
ملا، فقیر، بابا، پیر اور حاجی صاحب وغیرہ کے القاب کے حامل افراد نے پختونخوا خاص کر قبائلی علاقہ جات اور سوات کی تاریخ میں ہمیشہ سے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جسے کسی طور نہ تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ حقیر اور کم گردانا جاسکتا ہے (یاد رہے کہ ان میں سولہویں صدی عیسوی میں گزرے ہوئے سید علی ترمذی المعروف پیر بابااور بایزید انصاری المعروف پیر روخان و پیر تاریک کے نام اور کردار بھی شامل ہیں)۔ اس طرح کے افراد کا باہر کے علاقوں جیسے افغانستان، ہندوستان حتیٰ کہ ترکی سے روابط اور ان ممالک کے ممتاز اور بااثر مذہبی راہنماؤں سے ان کے رشتے بھی کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی کے حوالے سے ان کے دو ٹوک اور کسی طرح تردید نہ ہوسکنے والے شواہد موجود ہیں۔




پیر بابا کی اولاد میں سے ہونے کے ناتے سید عبدالجبار شاہ کو 1915ء میں ستھانہ سے بلا کر سوات کا حکمران بنایا گیا. (Photo: Angelfire)

علاوہ ازیں باہر سے آئے ہوئے مذہبی افراد، جو بیرونی قوتوں کے مخالف تھے اور ان کے خلاف پھرتی سے برسرِ پیکار رہے ہیں، کو پناہ اور تحفظ دینا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ سید احمد شہید کے پیروکاروں، جنہیں عرف عام میں مجاہدین اور ہندوستانی مجاہدین کہا جاتا تھا، کو بونیر اور باجوڑ میں پناہ اور مستقل اِقامت کی اجازت اور ان کی خاطر انگریزوں سے لڑائی لڑنا، خاص کر 1863ء کی جنگِ امبیلہ جس میں بونیر، سوات، دیر اور باجوڑ کے لوگوں نے برطانوی فوج کی طاقت کے سامنے بھر پور مزاحمت کی اور ان کے خلاف قریباً دو ماہ تک ڈٹ کر لڑے، اس کی ناقابلِ تردید مثالیں ہیں۔
مذکورہ بالا قسم کے مذہبی افراد کا پختونخوا میں اثر و رسوخ کا اندازہ ان جوابات سے بھی لگایا جاسکتا ہے، جو آفریدیوں نے 1897ء کے انگریزوں کے خلاف بغاوت کے بعد رابرٹ وار بورٹن کے سوالات کے جواب میں دیے تھے۔ اس سوال کہ ’’کیا چیز آپ لوگوں کو زیریں علاقوں میں لے آئی؟‘‘ کے جواب میں آفریدیوں کا کہنا تھا کہ ’’ملا ہمیں زیریں علاقوں میں لے آئے۔‘‘ اس سوال کہ ’’آپ ملاؤں کی اطاعت کیوں کرتے ہیں اور انہیں اپنے علاقوں سے نکالتے کیوں نہیں؟‘‘ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’وہ ہمارے مقابلے میں بہت طاقتور تھے۔‘‘ اور اس سوال کے جواب میں کہ ’’پھر آپ لوگوں نے انگریزوں کی چوکیوں پر حملہ کیوں کیا؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ملاؤں نے ہمیں مجبور کیا تھا۔‘‘ اس تناظر میں طالبان اور اس طرح کے دوسرے افرا دیا وہ لوگ جو مذہب کی بنیاد پر مسلح جدوجہد کی وکالت کرتے ہیں، غیر ملکیوں اور غیر مقامی افراد کو پناہ دیتے ہیں اور ہندوستان، افغانستان اور دوسرے ممالک کے ہم خیال لوگوں سے روابط رکھتے ہیں اور ان سے تعاون اور اشتراکِ عمل کرتے ہیں، کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں۔
مذکورہ بالا اور سوات و قبائلی علاقہ جات میں گذشتہ سالوں سے ہونے والے واقعات کو اگر 1897ء اور اس کے بعد کے تناظر میں دیکھا جائے، تو صورتِ حال مزید واضح ہوجائے گی۔ سرتور فقیر، جسے ملا مستان اور میڈ (دیوانہ) ملا کے القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے، جولائی 1897ء میں سوات میں نمودار ہوا اور لنڈاکی میں اِقامت اختیار کی۔ اس نے مافوق الفطرت قوتوں کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو انگریزوں کے خلاف ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ ابتدا میں لوگوں کا رویہ سرد مہری کا تھا۔ تھانڑا کے خوانین نے پولی ٹیکل ایجنٹ میجر ڈین کو سرتور فقیر کو خاص اہمیت نہ دینے کا کہا اور میاں گلان یعنی سیدوبابا کے پوتوں نے بھی اسے نظر انداز کرنے کا کہا اور مزید یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ایک نوکر کو بھیج کر اس کو لنڈاکی سے ہٹادیں گے۔
جب 26جولائی 1897ء کو سرتور فقیر ملاکنڈ اور چکدرہ کے قلعہ جات پر حملہ کی خاطر لنڈاکی سے روانہ ہوا، تو اس کے پیچھے صرف چند نوجوان اور بچے تھے۔ تاہم تھانڑا اور الہ ڈنڈ پہنچنے پر ااس کے پیچھے لوگوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا اور آئندہ چند روز میں لوگ اس کی صفوں میں جوق درجوق شامل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ ملاکنڈ میں ان کی تعداد بارہ ہزار یا اس سے زیادہ اور چکدرہ میں آٹھ ہزار افراد سے زیادہ تک پہنچ گئی اور وہ لوگ جو اس کو کچھ اہمیت نہ دینے کی بات کرتے تھے اور اس کو دیوانہ قرار دیتے تھے اور سوات کے میاں گلان یعنی سیدوبابا کے پوتے (میاں گل عبدالودود، میاں گل شیرین جان، امیر باچا اور سید باچا) جو اپنا نوکر بھیج کر اس کو لنڈاکی سے ہٹانے کی شیخی بگارے ہوئے تھے، کو بھی ہوا کے رخ کے ساتھ اس کی صفوں میں شامل ہونا پڑا، جس کے لیے ان کو بعد میں انگریزوں کو اپنی صفائی میں طرح طرح کے عذر پیش کرنا پڑے، جیسا کہ اب سوات میں بہت سارے لوگ دورانِ کشیدگی اپنے کردار کے ضمن میں مختلف قسم کے حیلے اور عذر پیش کرتے رہتے ہیں۔
ملاکنڈ اور چکدرہ پر سرتور فقیر کے جھنڈے تلے مذکورہ بالا حملے کے بعد، سات اگست 1897ء کو نجم الدین المعروف ’’ہڈے ملا‘‘ کی سربراہی میں مہمندوں نے شب قدر میں انگریزوں کے قلعے پر حملہ کیا، جب کہ اسی ماہ کی تیس تاریخ کو آفریدیوں اور اورکزیوں کے علاقوں میں بھی ملا سید اکبر المعروف ’’اکا خیل ملا‘‘ کی سربراہی میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا اور پھر 1898ء میں محسودوں نے ملا پاوِندہ کی زیرِ قیادت بغاوت کی، جب کہ بیسویں صدی میں مرزا علی خان المعروف ’’فقیر ایپی‘‘ کی سرکردگی میں بغاوت اور لڑائیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
دوسروں کو چھوڑیئے، عبدالغفار خان المعروف باچا خان کو انگریز اور حکومت مخالف علما جیسا کہ فضل محمود علی، مولوی عبدالعزیز، مولوی فضل ربی اور مولوی تاج محمد سے روابط استوار کرنے اور ان کی معیت میں کام کرنا پڑا تھا۔ اور جب مدرسوں یا اسکولوں کے قیام اور ان کے چلانے کے ضمن میں بعض ملاؤں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، تو ان کے پروپیگنڈے کی توڑ کی خاطر بہ قول باچا خان انہوں نے فضل واحد المعروف حاجی صاحب ترنگ زیٔ کو اپنے اسکولوں کا سرپرست مقرر کیا۔ عام معاشرہ میں حاجی صاحب ترنگ زیٔ کا اثر و رسوخ بھی آپ کی مذہبی حیثیت کی وجہ سے تھا۔

بیسویں صدی میں مرزا علی خان المعروف ’’فقیر ایپی‘‘ نے انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پختونوں میں مذہب کے نام کا استعمال اور مذہبی افراد یا حاجی صاحب، پیر، فقیر، بابا اور ملا وغیرہ کا اثر و رسوخ، مسلح جدوجہد، اپنے ہم خیال افراد کے ساتھ روابط اور اشتراکِ کار اور بزورِ شمشیر اپنے بعض باتوں کا نفاذ کوئی نئی بات نہیں۔ حاجی صاحب ترنگ زیٔ جسے ہر کوئی مردِ مجاہد مانتا ہے، نے بھی مہمندوں کے علاقہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں پر اپنے احکام کو بزورِ شمشیر نافذ کرنے کا عمل جاری رکھا تھا اور مخالفین یا آپ کے احکامات پر عمل نہ کرنے والوں اور انگریزوں سے راہ و رسم رکھنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال، جنگ اور ان کو جلاوطن کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔
ہمارا ایک نہایت محترم اکثر اپنے کالموں میں سوات کے پرانے عمائدین کا ذکر کرکے افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ چوں کہ ایسے بڑے موجود نہیں، لہٰذا سوات کے لوگوں کو سوات میں بھی رسوا ہونا پڑا اور 2009ء میں بھی انہیں سوات سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے پھر اپنے ایک کالم میں میاں دم خان، زرین خان، دارمئی خان، بہرام خان، جمروز خان، سلطنت خان اور بابوزیٔ، شامیزیٔ اور جِنکی خیل کے عمائدین کا ذکر کرکے اس طرح کے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بصد احترام، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ سوات اور خیبر پختونخوا کی تاریخ اس قسم کے واقعات اور مذہبی را ہنماؤں،افراد اور خوانین کے ایسے کردار اور طرزِ عمل سے اٹی پڑی ہے۔ نہ تو مذکورہ خوانین میں سے کسی نے سنڈاکئی بابا کے شیخان کے دارمئی خان کے بیٹے کے گھر سے مٹیزہ (بغیر نکاح کی رکھی ہوئی پرائی عورت) کو بزورِ شمشیر نکالنے کے اقدام کے خلاف اقدام کیے، نہ سنڈاکئی بابا اور اس کے شیخان کی دوسری کارروائیوں کا نوٹس لیا اور نہ ان کی راہ میں رکاوٹ بننے کی ہی کوشش کی۔ اس طرح اُس وقت بھی بڑے بڑے یوسف زیٔ خوانین کی موجودگی میں سنڈاکئی بابا کے شیخان ’’شاہین فورس‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے سوات میں سنڈاکئی بابا کے فرامین کو نافذ کرتے رہے۔ لیکن ان میں سے کسی کو بھی مخالف اور مزاحمت کی جرأت تک نہیں ہوئی بلکہ سوات کے اکثر سرکردہ افراد تو اس کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے۔ واضح رہے کہ ان باتوں کا مقصد نہ کسی کی تذلیل و تضحیک ہے، نہ مٹیزہ رکھنے کی غلط رسم و عادت کی حمایت ہے اور نہ سنڈاکئی بابا کے شیخان کے اپنائے ہوئے طریقۂ کار کو درست گرداننا ہے، بلکہ صرف ایک خاص صورتِ حال کو واضح کرنا ہے۔
حتیٰ کہ عبدالجبار شاہ کے دورِ حکمرانی میں جب ادین زیٔ کے معاملہ پر سوات اور دیر کے مابین اختلافات انتہا کو پہنچے، تو انگریزوں نے تھانڑا اور رانیزیٔ کے بعض خوانین کی وساطت سے نیک پی خیل اور بر سوات کے متعلقہ جرگوں کے پاس خطوط بھیجے اور ادین زیٔ میں پیش قدمی سے خبردار کیا۔ متعلقہ جرگے اور عوام شاید ان خطوط کے مندرجات سے متفق ہوجاتے، تاہم انہوں نے سنڈاکئی بابا سے مشورہ کیے بغیر کچھ کرنے سے لاچار ہونے کا اظہار کیا۔ لہٰذا سنڈاکئی بابا کو بلایا گیا، تاکہ وہ جرگہ میں موجود رہے۔ انگریزوں کے بھیجے ہوئے تھانڑا اور رانیزیٔ کے خوانین کی زبانی انگریزوں کی بات سنتے اور جرگوں کے نام ان کے خطوط دیکھتے ہوئے سنڈاکئی بابا غصے میں آپے سے باہر ہوا اور خطوط کو پھاڑ کر پاؤں تلے روند ڈالا اور لوگوں سے انگریز حکومت کے خلاف جہاد کرنے کو کہا۔ اس طرح سنڈاکئی بابا حالات پر چھا گیا اور معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گیا۔
مزید برآں سنڈاکئی بابا، حاجی صاحب ترنگ زیٔ، سر تور فقیر اور دوسرے انگریز مخالف عناصر سے رابطے میں تھا اور آخرِکار اگست 1915ء میں یہ تمام متفق ہوئے اور لوگوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے کو کہا۔ چوں کہ قبائل کا ردِ عمل پر جوش نہیں تھا، لہٰذا سرتور فقیر گھر واپس چلا گیا اور سنڈاکئی بابا ناراض ہوکر ’’کڑاکڑ‘‘ کے راستے بونیر روانہ ہوا۔ سنڈاکئی بابا کی حمایت نہ کھونے کی خاطر عبدالجبار شاہ نے اُسے منانے کی کوشش کی اور آخرِکار اُسے واپس لے آیا۔ نتیجتاً عبدالجبار شاہ کو بھی چکدرہ پر حملہ میں مجبوراً خلاف مرضی خویش اس کا ساتھ دینا پڑا اور اس کوشش کے ناکام ہونے پر جب سنڈاکئی بابا منظر سے غائب ہوا، تو عبدالجبار شاہ اور نیک پی خیل کا جرگہ اُسے ڈھونڈ نکال کر دوبارہ چندا خورہ (کبل) لے آئے۔

حاجی صاحب ترنگ زئی کا روضہ۔ (Photo: BBC)

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اُس وقت پہلے قبائلی معاشرہ تھا اور اس قبائلی سماج میں خوانین اور مَلَکوں کا ایک اہم کردار اور اثر و رسوخ ہوا کرتا تھا۔ پھر اگر چہ ریاستِ سوات وجود میں آئی، لیکن ریاست اور اس کا حکمران ابھی اتنا مضبوط اور طاقت ور نہیں تھا، لہٰذا خوانین اور مَلَکوں کا اہم کردار اور اثر و رسوخ ابھی برقرار تھا۔ اس وجہ سے سنڈاکئی بابا اور آپ کے شیخان کے اقدام پر قدغن لگانا، ان خوانین کے بس میں تھا۔ پھر ریاستِ سوات اور اس کا حکمران مضبوط اور طاقتور ہوئے اور نتیجتاً خوانین اور مَلَکوں کا اثر و رسوخ کم اور اس طرح کے امور کے ضمن میں کردار بدلا۔ پہلے والے قبائلی سماج میں خوانین اور ملکوں کا تقرر اور معزولی متعلقہ عوام کے صوابدید پہ تھی۔ وہ جسے چاہتے خان اور مَلَک کے منصب پر فائز کرتے اور جسے چاہتے، اسے اس منصب سے معزول کرتے۔ جب کہ ریاستِ سوات میں یہ اختیار آہستہ آہستہ حکمران نے لے لیا، لہٰذا وہ جسے چاہتا خان اور ملک کے منصب پر فائز کرتا اور جسے چاہتا اسے اس منصب سے معزول کرتا۔ علاوہ ازیں خان اور ملک کو ریاست سے مواجب بھی ملنے لگے جس کی رقم سے کسی خان اور مَلَک کی حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا، اور ریاست اور حکمران کی طاقت کی مضبوطی کے ساتھ نہ صرف خوانین اور مَلَکوں کا اثر و رسوخ کم اور کردار بدلا بلکہ مذہبی طبقہ یا ملا، فقیر، بابا، پیر اور حاجی صاحب وغیرہ کے القاب کے حامل افراد کا بھی۔
جب کہ ریاستِ سوات کے خاتمے کے بعد نہ تو خوانین اور مَلَکوں کے تقرر کا ریاستِ سوات والا طریقۂ کار بر قرار رہا اور نہ وہ پرانا قبائلی سماج والا طریقہ زندہ کیا گیا۔ اس طرح نہ ان کا ریاست سوات والا اثر و رسوخ اور کردار باقی رہا اور نہ وہ قبائلی سماج والا۔ لہٰذا سوات میں خوانین اور مَلَک در حقیقت رہے ہی نہیں۔ حالاں کہ اُن پرانے خوانین اور مَلَکوں کی اولاد میں سے ہر کوئی خان اور ملک ہونے کا دعوے دار ہے، لیکن اُس قبائلی سماج اور ریاستِ سوات دونوں میں، جب کہ خانی اور ملکی کا نظام موجود تھا، خاندان کا ہر فرد خان اور ملک نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ صرف وہ خاص فرد اس منصب پر فائز ہوتا اور اس لقب سے ملقب ہوتا۔
مزید برآں، سوات کے سماجی نظام میں نہ صرف ریاستِ سوات کے دور میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئیں بلکہ ریاستِ سوات کے خاتمے کے بعد یہ مزید توڑ پھوڑ کا شکار ہوا۔ اس وجہ سے سوات کے 2007ء تا 2009ء کے بحران کے تناظر میں سوات کے اُس پرانے قبائلی سماج کے خوانین اور مَلَکوں کی اولاد نہ تو اُس جیسی طاقتور رہی تھی اور نہ ان کا اِس حوالے سے ان جیسا کردار باقی تھا۔ اس وقت چوں کہ مضبوط پاکستانی ریاست اور ریاستی ادارے موجود تھے، لہٰذا اس شورش کے سدباب کے اقدام اور اس پر قابو پانا ریاست اور ریاستی اداروں کا فرض اور ذمے داری تھی، نہ کہ سوات کے عمائدین و قائدین اور عوام کی۔ تاہم اگر اس صورتِ حال میں سوات کے عمائدین و قائدین یک زبان ہوکر مشترکہ طور پہ حکومت پر دباؤ ڈالتے، تو اگر چہ اس منصوبہ بند شورش اور تباہی و بربادی کہ جس میں کئی ایک ملکی و غیر ملکی اسٹیک ہولڈرز اور قوتیں اور ان کے مفادات ملوث تھے، کوٹالا تو نہیں جاسکتا تھا، جیسا کہ دیر اور بونیر کے کیسوں میں واضح ہوا، اس کی لائی ہوئی تباہی و بربادی کی شدت کم کرنے کے امکانات موجود تھے۔
اور اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مذکورہ بالا افراد جیسا کہ سرتور فقیر، ہڈے ملا، اکاخیل ملا، ملا پاوِندہ، حاجی صاحب ترنگ زیٔ اور سنڈاکئی بابا وغیرہ کی جدوجہد اور کارروائیوں کو سامراج اور انگریز مخالف ہونے کی وجہ سے عام طور پہ دوسری نظر سے دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر اپنی جگہ، لیکن اصل چیز یا نکتہ وہ سوچ و خیالات اور ذہنی عادت (mind-set)ہے، جو اس طرح کی کارروائیوں اور جدوجہد کے پیچھے کارِ فرما ہوتے ہیں اور اس پہلو سے مذکورہ بالا افراد اور آج کی اس طرح کی کارروائیاں اور جدوجہد کرنے والوں کے بیچ کوئی فرق نہیں۔
یہ ایک عمومی المیہ ہے کہ جن لوگوں، قبائل اور اقوام وغیرہ کا ’’حال‘‘ خراب ہو، ان کو ’’ماضی‘‘ خوب اور سہانا لگتا ہے، اور اسے حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بہت کم یہ پروا کرتے ہیں کہ واقعی ماضی اتنا شان دار تھا بھی جیسا کہ خیال اور تصور کیا جاتا ہے؟؟؟

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے