439 total views, 1 views today

گرین چوک سوات کے مرکزی مقام اور شہر مینگورہ کا مشہورِ زمانہ چوک ہے۔ 2008ء کے اواخر اور 2009ء کے اوائل میں یہ چوک اس وقت مزید شہرت اختیار کرگیا، جب طالبان کے عروج کے دنوں میں صبح سویرے یہاں لاشیں پڑی ہوئی ملنی شروع ہوئیں۔ مینگورہ سے تعلق رکھنے والی رقاصہ شبانہ کو دو جنوری 2009ء کی رات کو یہاں پر گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ میں یہ چوک ’’خونی چوک‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ تاہم بہت جلد یہ نام میڈیا سے غائب ہوا۔
پچھلے اے این پی دور حکومت (2008ء تا 2013ء) میں، جس کو پرانی عمارات وغیرہ کے نام بدلنے اور انہیں اپنے چہیتوں کے نام کرنے کا بے حد شوق اور کامل مہارت حاصل تھی، یہاں پر ’’فاروق شہید چوک‘‘ کا بورڈ لگادیا گیا۔ حالاں کہ نہ تو عمر فاروق خان اس چوک میں قتل ہوا تھا اور نہ یہ چوک اس کے گھر کے راستے میں واقع تھا۔ لہٰذا گرین چوک کو فاروق کے نام سے منسوب کرنے کا کوئی بھی تُک نہیں بنتا تھا۔ تاہم اگر اسے رقاصہ شبانہ کے نام سے منسوب کیا جاتا، تو پھر بھی کوئی بات اور جواز بنتا تھا، اس لیے کہ وہ یہاں قتل ہوئی تھی۔ گرین چوک کی خوش قسمتی کہ گورنمنٹ ڈگری کالج مینگورہ کو فاروق خان کے نام سے منسوب کیا گیا، اس لیے اس چوک نام ’’گرین چوک‘‘ ہی رہ گیا۔
کچھ عرصہ پہلے گورنمنٹ کالج مٹہ کا میرا ایک پرانا شاگرد محمد عمران میرے پاس آیا تھا۔ باتوں باتوں میں گرین چوک کا تذکرہ آیا۔ عمران بولا کہ میں سن چکا ہو کہ یہ ’’گرین چوک‘‘ (Green Chowk)بہ یائے معروف نہیں بلکہ ، گرین چوک (Grain Chowk) بہ یائے مجہول ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ نہیں یہ گرین چوک (Green Chowk)بہ یائے معروف ہی ہے۔
ذاتی طور پر میں (راقم) نے بچپن سے اس وقت تک پہلی بار اس چوک کے لیے یہ گرین چوک (Grain Chowk)کا نام سنا۔ اور ایسا لکھا ہوا کبھی نظر سے گزرا یاد نہیں پڑتا۔ میرے (راقم) ایک پچھلے کالم بہ عنوان، مینگورہ اور تجاوزات، میں گرین چوک کا نام بھی آیا تھا۔ اس پر امیر خسرو صاحب کا زما سوات ڈاٹ کام (www.zamaswat.com) پر لکھے گئے تاثرات میں، مئی 2013ء میں یہ بات نظر سے گزری کہ یہ گرین (green) نہیں بلکہ گرین (grain)چوک ہے۔ یہ میری دوسری باری تھی کہ اس چوک کا نام گرین چوک (Grain Chowk) کسی نے بتایا۔ لہٰذا مجھے شک گزرا کہ یہ جو نام ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں، شاید غلط ہو۔ یاد رہے کہ یہاں لبِ سڑک ایک بس اڈا ہوا کرتا تھا جو گرین اڈا (Green Adda) کے نام سے موسوم تھا۔
یہ جستجو کہ آیا یہ گرین بمعنی ’’سبز‘‘ یا گرین بمعنی ’’غلہ‘‘ ہے، مجھے ان دنوں ہی چوک کے ساتھ والے نیو گرین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ لے گیا۔ ہوٹل کے باہر لبِ سڑک اور چوک بڑے بورڈ پر جلی حروف میں اردو کے ساتھ انگریزی میں “New Green Hotel & Restaurant” لکھا ہوا تھا، لیکن میں چاہ رہا تھا کہ اندر بھی دیکھ لیا جائے کہ وہاں کیا لکھا ہوا ہے۔ تاہم وہاں پر اردو میں لکھا ہوا ملا، انگریزی میں نہیں۔ لہٰذا ہوٹل کے منیجر وغیرہ سے معلوم کرنا چاہا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ وقت چوں کہ صبح سویرے کا تھا، جب میں کالج آرہا تھا، لہٰذا کاؤنٹر پر کوئی نہیں تھا۔ تاہم ایک فرد، جو فرش صاف کررہا تھا، میرے تجسس کو دیکھتے ہوئے بولا کہ کیا ہے؟ میں بولا کہ اس ہوٹل کا نام معلوم کرنا ہے کہ یہ ’’گرِین ہوٹل (Green Hotel) ہے یا گرَین ہوٹل (Grain Hotel)‘‘ جواب ملا کہ یہ ’’گرَین ہوٹل (Grain Hotel) ہے۔‘‘ میں نے پوچھا کہ اس کا نام گرَین ہوٹل کیوں ہے؟ جواب ملا کہ یہاں سامنے باچا صاحب کے غلے کی منڈیاں تھیں، اس وجہ سے گرَین نام پڑگیا۔ میں بولا کہ یہاں تو غلے کی منڈیاں نہیں بلکہ بس اسٹینڈ تھا اور اسے ’’گرِین اڈا‘‘ کہا جاتا تھا، تو وہ بولا کہ مجھے نہیں پتا کہ یہاں کیا تھا؟
چوک کے آس پاس جملہ دکانوں وغیرہ کے بورڈوں کا بہ غور جائزہ لیا، لیکن کسی بھی بورڈ پہ انگریزی میں لکھا ہوا “Grain Chowk” نظر نہ آیا، یا تو صرف اردو میں گرِین چوک لکھا ہوا تھا اور یا ساتھ انگریزی میں بھی “Green Chowk”۔ اس طرح بعض دکانوں وغیرہ پر نام بھی انگریزی میں اس طرح لکھے ہوئے تھے کہ “Hotel Green Tower, Green Boot House, Muslim Mobile اور Mingora Swat corporation green chowk حتیٰ کہ ’’گرِین اڈا‘‘ یا ’’گرِین بس اسٹینڈ‘‘ کی جگہ پر تعمیر کیے گئے پلازہ پر بھی انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں جلی حروف میں ’’اقبال گرِین پلازہ‘‘ “Iqbal Green plaza”تحریر تھا۔ عجب اور دلچسپ کہ اسی “Iqbal Green Plaza” پر لگے ہوئے انگریزی زبان کے ایک سینٹر کے بورڈ پر درجہ ذیل الفاظ درج ہیں: AUS+Migration Consultant IELTS/English Language, Iqbal Grain Plaza Grain Chowk Mingora اس سینٹر والے صاحبان کے چوک کے نام کے بارے میں علم یا ان کا مستند ہونا ان کے اس بورڈ سے عیاں ہے۔ پلازہ پہ جلی حروف میں انگریزی میں بھی “Green” تحریر ہے جب کہ ان کے بورڈ پر “Grain”اور چوک کی سپیلنگ “Chowk” درج ہے۔ شاید یہ بورڈ یا اس کے مالکوں جیسے لوگوں کی بے احتیاطی یا لا علمی بعض لوگوں کی غلط فہمی کا ذریعہ ہو۔




چوک کے آس پاس جملہ دکانوں وغیرہ کے بورڈوں کا بہ غور جائزہ لیا، لیکن کسی بھی بورڈ پہ انگریزی میں لکھا ہوا “Grain Chowk”نظر نہ آیا۔

بہرحال اس ایک بورڈ کے علاوہ کہیں بھی کم از کم مجھے گرَین چوک (Grain Chowk) لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ علاوہ ازیں پہلے اس چوک کے قریب اور اب کچھ فاصلے پر واقع مسلم کمرشل بینک کے برانچ میں گزشتہ پچیس سال سے میرا اکاؤنٹ ہے۔ مجھے ایشو کیے گئے چیک بکس کی کاپیاں پلٹنے پر بھی کہیں بھی”Grain Chowk Branch” لکھا ہوا نہیں ملا بلکہ ہر ایک پر “Green Chowk Branch” ہی لکھا ہوا ہے۔
اس طرح ریاستِ سوات کے خاتمے کے بعد صوبائی حکومت کا 1970ء میں مقرر کردہ ’’دیر سوات لینڈ ڈیسپوٹس انکوائری کمیشن‘‘ کے ذمے داریوں میں سے ایک ریاستِ سوات کے سابق حکمران میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب کی ذاتی جائیداد اور ریاستِ سوات کی جائیداد کا تعین کرنا بھی تھا۔ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر صوبائی گورنر کے حکم پر جو حکم نامہ یا آرڈ رانتیس ستمبر 1972ء کو جاری ہوا۔ اس کے اپینڈیکس’’بی‘‘ سیڈول III، پارٹ “A”میں باچا صاحب کی دی گئی جائیداد میں نمبر 28 پر “Green Hotel occupied Said Malook as tenant” درج ہے اور نمبر 123پر “Bus stand known as Green Adda occupied by Haji Sultan Khan as tenant” درج ہے۔ اس طرح اس آرڈر میں بھی اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں “Green Hotel” اور “Green Adda” ہی تحریر ہیں۔ یہ تمام شواہد اس پر دلالت کرتے ہیں کہ صحیح نام گرِین چوک ہے نہ کہ گرَین چوک۔
اس چوک کا نام ’’گرِین چوک‘‘ کیسے پڑا؟ جیسا کہ ذکر ہوا، اس تجسس میں کہ آیا یہ ’’گرِین چوک‘‘ ہے یا ’’گرَین چوک‘‘ چوک کے آس پاس بورڈوں وغیرہ کا بہ نظر غائر جائزہ لینے کے بعد میں نے جہاں زیب کالج میں پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب سے بھی پوچھا، جو مینگورہ اور آس پاس کے حوالے سے اس طرح کی باتوں کا خوب علم رکھتے ہیں۔ خواجہ عثمان علی صاحب بولے کہ یہ دراصل گرِین چوک ہے گرَین نہیں۔ یہ ’’گرَین‘‘ والی غلط فہمی غلے کا کاروبار کرنے والے بعض افراد کی پیدا کردہ ہے۔ پہلو میں بیٹھے ہوئے پروفیسر غلام سبحانی صاحب نے اس ’’گرِین‘ ‘ والی وجۂ تسمیہ کے ضمن میں بتایا کہ اس چوک کے پاس ایک ہوٹل تھا جس کی دیواروں، دروازوں، کھڑکیوں اور پردوں وغیرہ کا رنگ سبز تھا۔ لہٰذا اس وجہ سے اس ہوٹل کانام ’’گرِین ہوٹل‘‘ پڑگیا اور اس کی مناسبت سے چوک کا نام ’’گرِین چوک‘‘۔ دونوں پروفیسرز صاحبان نے یہ بھی بتایا کہ اس ہوٹل اور چوک کے ساتھ جو بس اسٹینڈ یا اڈا تھا، وہ اس وقت سوات کا مین جنرل بس اسٹینڈ تھا اور اس کے دفاتر یا ٹکٹ گھروں، درازوں اور کھڑکیوں وغیرہ کا رنگ بھی سبز تھا۔ راقم کو بھی یاد ہے کہ واقعی ایسا ہی تھا۔
یہ گرَین (Grain) والی غلط فہمی شاید اس وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہو کہ کسی نے اردو میں لکھے ہوئے گرِین کو گرَین سمجھ رکھا ہو۔ جیسا کہ بچپن میں جب ہم مینگورہ آتے، تو گرین چوک سے نوے کلے کی جانب والی روڈ، جو اَب ائیر پورٹ روڈ کے نام سے یاد کی جاتی ہے، لیکن اس وقت بنڑ روڈ کہلاتی تھی، پر واقع دکانوں کے بورڈوں پر ’’بنڑ روڈ‘‘ لکھا ہوا دیکھ کر کبھی اُسے بنڑ (ب َنَ ڑ)اور کبھی بِنِٹر (بَ نْ ٹَ ر) پڑھتے اور سمجھتے رہے۔ بعد میں سمجھ آیا کہ یہ بنڑ (بَ نْ ڑْ)ہے۔ اس طرح کی غلط فہمیاں میونسپل کمیٹی مینگورہ کی حدود میں گذشتہ تین چار سالوں میں لگائے گئے سائن بورڈوں سے بھی پیدا ہورہی ہیں۔ مثال کے طور پر ان پر ’’مینگورہ‘‘ کے بجائے ’’منگورہ‘‘ تحریر ہے، جو کہ گیر مقامی لوگوں کے لیے اس کے تلفظ میں غلطیوں کا سبب بن رہا ہے اور شاید اسی وجہ سے ہی پشاور کے ایک معروف ٹیویشن سینٹر جسے پشاور یونیورسٹی کی اساتذہ تنظیم کا ایک پرانا مشہور فرد چلا رہا ہے، کے تشہیری پمفلٹ (جسے اخباری ہاکروں کے ذریعے سوات میں بھی تقسیم کیا گیا تھا) میں انگریزی میں اسے “Mangora” لکھا گیا تھا۔
میونسپل کمیٹی مینگورہ کی حدود میں مختلف سڑکوں پر سرکاری طور پر نصب کیے گئے سائن بوردوں پر ’’منگورہ‘‘ کے علاوہ جو دوسرے نام غلط لکھے ہوئے نظر آتے ہیں، ان میں ’’فضا گٹ‘‘ کے بجائے ’’فضا گھٹ‘‘، ’’ودودیہ ہال‘‘ اور ’’ودودیہ سکول‘‘ کے بجائے ’’ودودیا ہال‘‘ اور ’’ودودیا سکول‘‘ جہان زیب کالج کے بجائے ’’جہازیب کالج‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
اس طرح بعض افراد میڈیا پر سوات، (Swat) کے بجائے سَوات (Sawat) بولتے ہیں، جس سے سُوات کے تلفظ کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہورہی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’’چوتھے کراچی جشن ادب‘‘ کے موقع پر فروری 2013ء میں کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ سُوات ہے یا سَوات۔ محترمہ کا کہنا تھا کہ ہم تو سُوات ہی جانتے ہیں، لیکن اب میڈیا والے اسے سَوات پکارتے ہیں۔ میرا جواب تھا کہ میڈیا والے غلط تلفظ ادا کرتے ہیں، یہ سُوات ہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میڈیا سے وابستہ بعض مقامی افراد اور صحافی بھی نہ صرف سوات بلکہ دوسرے کئی ایک مقامی ناموں کا تلفظ غلط ادا کرتے ہیں اور انہیں لکھتے بھی غلط ہیں۔ جیسا کہ برہ بانڈیٔ، کوزہ بانڈیٔ، توتانو بانڈیٔ وغیرہ کے بجائے برہ بانڈہ، کوزہ بانڈہ اور توتانو بانڈہ وغیرہ اور ’’فضاگٹ‘‘ کے بجائے ’’فضا گھٹ۔‘‘

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے