861 total views, 1 views today

ڈاکٹر محمد اشرف نے اپنی کتاب “ہندوستان عہد وسطیٰ میں” (پبلشر سٹی بک سٹور کراچی، 2007ء) میں تاریخِ برصغیر کا ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ کرکے ہنوز چھپے ہوئے گوشے بے نقاب کیے ہیں۔ اس کتاب میں ان کا مؤقف یہ ہے کہ سلاطینِ ہند کے طور طریقے بڑی حد تک ایرانی شہنشائیت کا چربہ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب خلافتِ بغداد منتقل ہوگئی، تو اس میں بہت ساری غیراسلامی، ایرانی روایات، فاتح قوم کے افکار و اطوار کا حصّہ بن گئیں۔ عربوں نے ایرانی حرم، خواجہ سرا، غلام اور نوکر، سرکاری لباس و رسوم، شاہی نشانات، فوجی نظم و نسق، اصولِ جنگ اور درحقیقت نظم و نسق سے متعلق ہر قابلِ قدر چیز کو اپنا لیا۔ خیالات کے اعتبار سے علمِ تعبیرِ خواب، مجوسیوں کی غیب دانی اور پیش گوئی کے اعتقاد کو بھی قبول کرلیا۔ سلطان کا ظلِ الٰہی کا نظریہ بھی ایرانی اعتقادات سے مستعار ہے جو اسلامی تصورِ حکمرانی سے صریحاً متصادم ہے۔ مغل شہنشاہ بابُر جب عوام کے سامنے آتا تھا، تو سامنے ایک پردہ ڈال دیا جاتا تھا، پردہ اُٹھتے ہی حاضرین پکار اُٹھتے تھے: “ظل الٰہی کی تجلی کا مشاہدہ کرو۔” جب اکبر عوام کے روبرو آتا تھا تو ایک آدمی بہ آواز بلند پکارتا تھا “اللہ اکبر”، جب کہ دوسرا شخص “جل جلالہ” کہہ کرجواب دیتا تھا یعنی خدا اس کا رتبہ بلند کرے۔ لکھتے ہیں کہ نائب الٰہی کا یہی تصور تھا کہ جس کی وجہ سے علاؤالدین خلجی اور محمد تغلق نے ایک نئے مذہب ڈالنے کا ارادہ کرلیا تھا، جب کہ اکبر نے واقعی ایک نئے دین کی بنیاد ڈال دی تھی۔

شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر

سلاطینِ دہلی جن میں ہندو راجہ بھی شامل ہیں مجموعی طور پر انتہائی شہوت پرست تھے، ان کا بیشتر وقت عورتوں اور داشتاؤں میں گزرتا تھا۔ ان کے حرم لونڈیوں اور دیگر عورتوں سے بھرے ہوتے تھے، جن کی نگرانی پر خواجہ سرا مامور ہوتے تھے۔ خواجہ سرا وہ غلام ہوتے تھے جنھیں بچپن میں قوتِ رجولیت سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ فاتح بادشاہ معزول بادشاہ کی بیگمات سے شادی کرنا اپنا حق تصور کرتا تھا، ایسی بیویوں اور داشتاؤں سے ان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ بیگمات کی تعداد کا انحصار ضرورت اور شہزادے کی طبیعت کی رغبت پر منحصر تھا۔ ہفتہ کے دنوں کی تعداد کے مساوی بیگمات رکھنا عام بات تھی جب کہ کنیزوں کی تعداد کی کوئی معینہ حد نہیں تھی۔
سلاطین دہلی نے ایرانی ساسانی بادشاہوں کی تقلید کی جس کے نتیجے میں ایرانی عیش و عشرت اور خود نمائی کا ناقابلِ تسکین جذبہ اُن پر حاوی ہوا۔ سلطان اپنے جاہ و جلال اور ٹاٹ بھاٹ سے رعایا کے دلوں میں خوف اور دھاک بٹھانے کا کام لیتے تھے (آج بھی جس کی ماہرانہ نقل پاکستان میں اُتاری جا رہی ہے)۔ بڑے بڑے کمروں کے آخری سروں پر تخت رکھے جاتے تھے، شہنشاہ بڑے طمطراق سے شاہانہ لباس زیبِ تن کیے اپنے تخت پر رونق افروز ہوتا تھا جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوتے تھے، سونے کے تاج کے وزن کو سنبھالنے کے لیے چھت سے ایک سنہری زنجیر لٹکتی تھی، یہ منظر اس قدر پُرشکوہ ہوتا تھا کہ جو شخص اسے پہلی بار دیکھتا تھا، رعب سے جھک جاتا تھا۔ اسی طرح درباری آداب اس انداز سے بنائے گئے تھے کہ عام آدمی کو لازماً سر جھکانا پڑتا تھا، یعنی وہ شخص بادشاہ کے حضور پیشانی جھکا دیتا تھا اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد تین بار تسلیم بجا لاتے ہوئے تخت کی طرف قدم بڑھا لیتا تھا۔ بادشاہ کی انفرادی زندگی اس کی ذہنیت کی صحیح عکاس ہے، خارجی دنیا میں اس پر سماجی دباؤ رہتا تھا۔ اس لیے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بعض امور میں احتیاط سے کام لیتا تھا۔ ملکی خزانہ سلطان کے رحم و کرم پر تھا۔ وہ جس طرح چاہتا، خرچ کرسکتا تھا۔ سلطان کی تخت نشینی بھی ایک ایسا ہی موقع تھا جب بے دریغ روپیہ خرچ کیا جاتا تھا۔ سلطان علاؤالدین خلجی کی تخت نشینی کے وقت جمع ہونے والی بھیڑ پر منجنیق کے ذریعے اشرفیوں کی بارش کی گئی۔ امرا کو سونا تول کر عطیہ میں دیا گیا اور یہ ضروری نہ تھا کہ جو شخص ایک بار لے گیا ہو، وہ دوبارہ نہ لے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس کے انسانی قتل کے جرم کو بالکل بھول گئے اور بے اطمینانی اور ناپسندیدگی کے بجائے پورے ملک میں عموماً خوشی منائی گئی۔ اگرچہ اس واقعے کے بیان میں مبالغے کا رنگ جھلکتا ہے لیکن بہرحال اس دور کے رواج کے مطابق یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ محمد تغلق نے شہرت کے حصول کے لیے مخصوص قسم کے تیر بنوائے جنھیں وہ بلاامتیاز ہر طرف پھینکتا رہتا تھا، جس خوش نصیب کو بھی یہ تیر مل جاتا تھا، وہ شاہی خزانے سے پانچ سو تنکے لے جاتا تھا۔ غرض سلطان اور اس کے جانشین عوام کا پیسہ پانی کی طرح بہاتے تھے۔ اس طرح کئی ایک دوسرے بھی واقعات ڈاکٹر صاحب نے درج کیے ہیں۔ چوں کہ بادشاہ کی باطنی زندگی کا ادراک اس کے انفرادی زندگی ہی سے کیا جا سکتا ہے اس لیے کسی بادشاہ کی اجتماعی زندگی سے انفرادی زندگی کو منہا نہیں کیا جاسکتا، جس طرح ہمارے بعض احباب کا خیال ہے۔




ہفتہ کے دنوں کی تعداد کے مساوی بیگمات رکھنا عام بات تھی جب کہ کنیزوں کی تعداد کی کوئی معینہ حد نہیں تھی۔ (Photo: minextlive.jagran.com)

برصغیر میں چار قسم کے طبقے موجود تھے: اہل دولت جو فوج اور امرا پر مشتمل تھا۔ اہل سعادت: جس میں علما اور سید حضرات شامل تھے۔ اہلِ مراد یعنی رقاصائیں، سازندے اور موسیقار وغیرہ۔ جب کہ ایک عام طبقہ تھا۔ یہی عام طبقہ ہی کثرت میں تھا۔ یہی عام طبقہ ہی تھا جس نے اسلامی حملوں کو بے اعتنائی کی نظروں سے دیکھا اور انھیں فاتح کی حیثیت سے بغیر کسی تردّد کے تسلیم کیا۔ عوام الناس کا سیاسی اقتدار میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ ان کے حقوق نہ ہونے کے برابر تھے۔ حکومتوں کو بھاری محصول ادا کرنا، ان کے فرائض میں شامل تھا۔ سلاطین کے گرد امرا کا ایک خاص ہالہ بنا ہوتا تھا جس کو توڑ کر داخل ہونا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہ تھی۔ ان امرا میں خطاب یافتہ مقربین اور مصاحبین شامل تھے۔ سید اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے کلاہ داران کہلاتے تھے۔ انھیں اور علما کو تقلید پسندی کے ترجمان ہونے کی حیثیت سے ایک خاص مقام حاصل تھا۔
غلام عورتیں دو طرح کی ہوتی تھیں، ایک وہ جنھیں گھریلو اور دیگر ذاتی خدمات کے لیے ملازم رکھا جاتا تھا، دوسری وہ جو عیش پرستی اور رفاقت کے لیے رکھی جاتی تھیں۔ مجموعی طور پر کنیزوں کا انتخاب ان خطوط پر کیا جاتا تھا جنھیں ایک مغل امیر نے بڑی خوش طبعی سے تجویز کیا تھا، یعنی ایک خراسانی عورت کو اس کی قوت کارکردگی، ہندو عورت بچوں کی پرورش کے لیے، ایک ایرانی عورت کو اس کی محبت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اور ماوراء النہر کی کسی عورت کو کوڑے لگانے کے لیے خریدا جائے، تاکہ باقی تینوں قسم کی عورتیں اس سے عبرت حاصل کریں۔ غلام رکھنے کا ایک عام دستور چل نکلا تھا۔ حتی کہ دکن میں طوائفیں تک خدمت اور حاضر باشی کے لیے غلام رکھنے لگے تھے۔ غلاموں کی شادیاں، غلاموں ہی سے ہوتی تھیں اور ان کی اولاد غلام کہلاتی تھی۔
ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ان ہندوؤں کی سماجی حیثیت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی جنھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ سلطان اپنے برتاؤ میں ہندو اور مسلمانوں کا امتیاز روا نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً امیر تیمور نے بلالحاظ خون ریزی کی اور اسلامی عقیدہ رکھنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی۔

امیر تیمور نے بلالحاظ خون ریزی کی اور اسلامی عقیدہ رکھنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی۔ (Photo: geourdu.com)

دیہی زندگی میں عموماً مشترکہ کنبے کا رواج تھا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ مشترکہ کنبہ زرعی سوسائٹی کا نتیجہ ہے لیکن مشترکہ کنبے کی ایک قباحت یہ ہوتی ہے کہ اس میں فرد کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے اور نتیجتاً ایسے افراد ہمت اور ذاتی بھروسے جیسی صفات سے عاری ہوجاتے ہیں، جو موجودہ زمانے کے کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
ہند میں عورت کی حیثیت دیگر معاشروں کی طرح مرد کے مقابلے میں کم تر رہی ہے۔ عورت بچپن میں بھائی، شادی کے بعد شوہر اور بڑھاپے میں بیٹے کے زیر نگرانی رہتی تھی۔ مختصر یہ کہ اس کی پوری زندگی کسی نہ کسی کی نگرانی میں ضرور رہتی تھی۔ اس طرح کڑی نگرانی اور قید میں رکھنے کے بعد اس پر ذہنی کم مائیگی کی مہر ثبت کردی جاتی تھی۔ وہ زندگی بھر خود کو اپنے شوہر کی وفادار بیوی ثابت کرنے اور اسے خوش رکھنے میں مصروف رہتی تھی۔ ہندوستانی تہذیب میں عورتوں کی پاک دامنی کو مبالغہ آمیز حد تک اہمیت دی گئی، جب کہ مرد اُن ضابطوں سے آزاد تھے۔ عورت کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی، شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان عموماً کوئی ناچاقی نہیں ہوتی تھی، کیوں کہ عورت کی شخصیت کو مکمل طور پر کچلنے کے بعد دونوں میں چپقلش کے امکانات تقریباً ختم ہو جاتے تھے۔ عورتوں کے عیوب و نقائص پر چند ایک کتابیں تحریر کی گئیں۔ انھیں بے وفا، مکار و عیار اور ذہنی طور پر پس ماندہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
مجموعی طور پر کتاب میں معاشرتی، شاہی اور سیاسی تفصیلات اکٹھی کی گئی ہیں۔ مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ اور بھی بہت قیمتی اور دلچسپ واقعات دیے گئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی ہر بات سے اتفاق کیا جائے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ انھوں نے عموماً کوئی بات بغیر حوالے کے نہیں کہی ہے۔ اس مضمون میں حوالہ جات دینے کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے ارادتاً چھوڑ دیے گئے ہیں۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے