392 total views, 1 views today

’’جہانزیب! تم تو خواب دیکھ رہے ہو۔ مجھ سے پوچھو کہ یہاں تک پہنچنے میں مجھ پر کیا گزرتی رہی ہے، جس رات کو تمہاری پیدائش ہوئی، اس رات کو میں ایلم پہاڑ میں ایک جھاڑی کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی۔ اچانک بارش ہونے لگی۔ میرا ایک پہلو بہت زیادہ گیلا ہوجاتا، تو میں دوسری کروٹ بدل دیتا۔ صبح کی اذان سے ذرا پہلے اُس چٹان کے قریب ہلکی سے آہٹ سنائی دی۔ میں اُن دنوں اپنے تربوروں (چچا زاد بھائی) اور اُن کی حمایتیوں کے نشانے پر تھا اور ہم دونوں فریق ایک دوسرے کو ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ بات صرف پہل کی تھی، جو پہل کرنے میں کامیاب ہوتا، تو دوسرا قبر میں جا لیٹتا۔ میں چوکنا ہوگیا۔ اپنی رائفل کو نہایت آہستگی سے فائرنگ پوزیشن پر لایا اور زور سے کہا: ’خبر دار! حرکت کی، تو گولی سے اُڑادوں گا۔‘ آنے والے نے اپنا نام لے کر کہا: ’’قربان! یہ میں ہوں اور آپ کو بیٹے کی پیدائش کی خوش خبری دینے آیا ہوں۔‘‘ میں نے ایک لمبی سانس لی اور وہ شخص اوپر میرے پاس چٹان پر آکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ جانے کے لیے اُٹھا، تو کہنے لگا: ’’بی بی نے نام رکھنے کے لیے بھی کہا تھا۔ آپ جو مناسب سمجھیں۔‘‘ میں نے اُس کو کہا: ’’لڑکے کا نام عبدالحق ہوگا۔‘‘
میاں گل عبدالودود کی زندگی ہمیشہ خطرات سے کھیلتے ہوئی گزری ہے۔ اُس کی کامیابی میں عوامی جرگوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ اُن کی “Initiative” کا بہت رول رہا ہے۔ وہ خود کو ہر ایک پہلو سے منفرد اور ممتاز رکھنے کے خوگر تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن کو ایلم پہاڑ سے دلی لگاؤ تھا۔ اس پہاڑ کی رفعتوں، شادابیوں اور نشیب و فراز کی اُن کی زندگی سے گہری مماثلت ہے۔ وہ غیر محسوس طریقے سے اس پہاڑ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ اس لیے تو سوات بھر میں سے انہوں نے ایلم کے دامن میں ایک نہایت پُرسکون اور خاموش کنجِ عافیت بنوائی جس کی خوبصورتی کا چرچا چاردانگ عالم میں پھیلا ہوا ہے۔ جب وہ مرغزار میں ہوتے تھے، تو روزانہ صبح فجر کے بعد ایلم پہاڑ پر چڑھتے تھے۔ اس مقصد کے لیے ٹریک میں لا تعداد سیڑھیاں بنوائی گئی تھیں۔ پہاڑ سے اُترنے کے بعد وہ ناشتہ کرتے اور حکومت کے جانے کے بعد کے ایام میں زیادہ تر وقت تلاوتِ قرآن پاک میں گزارتے۔




باچا صیب اور والی صیب کی فائل فوٹو۔ (فوٹو: سوات نامہ فیس بک پیج)

اسی ایلم پہاڑ سے وابستہ ایک اور کہانی سنیے۔ ایک دن محافظین کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر ایک چٹان پر کھڑے تھے۔ ایک قریبی درخت سے ایک لمبی موٹی رسی جتنی بیل لٹک رہی تھی۔ کسی نے کہا: ’’فلاں آدمی اسی بیل سے لٹک گیا اور ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ ہوا میں اُڑتا ہوا دور تک چلا گیا اور پھر واپس اس چٹان پر آکھڑا ہوگیا۔‘‘ باچا صاحب کہنے لگے: ’’فلاں ایسا کرسکتا ہے، تو میاں گل کیوں نہیں کرسکتا!‘‘ اُچھل کر بیل کا سرا پکڑا اور زقند بھر کر دور تک جانے کے بعد واپس اُسی پتھر پر قدم جما کر آکھڑے ہوئے۔ محافظوں کے فق ہونے والے چہرے پھر سے تازہ ہوگئے اور اُن کی جان میں جان آگئی۔
بریکوٹ کے مضافاتی گاؤں کے ایک میاں خاندان سے تعلق رکھنے والے صاحب شیرین نامی، چملہ بونیر میں حاکم تھے۔ ہمارے گاؤں کے ایک اخوند خیل میاں صاحب جو حاکم مذکور کے بھانجے تھے۔ ان کے ساتھ ناوگئی چملہ میں مقیم تھے۔ وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ ایک دن جب وہ اپنے ماموں کے ساتھ تحصیل میں بیٹھے تھے، تو اُن کو فون آیا کہ کل بادشاہ صاحب دورے پر آئیں گے۔ اگلے دن پروگرام کے مطابق وہ اپنی لاری میں آئے، علاقے کے مسائل معلوم کرکے مناسب احکامات دیے اور پھر حاکم صاحب کے ساتھ گپ شپ لگانے لگے۔ شومئی قسمت، کسی نے کہا: ’’صاحب! یہاں ایک آدمی بہت لمبی چھلانگ لگاتا ہے۔‘‘ بادشاہ صاحب نے اُس کو فوراً بلانے کا حکم دیا۔ وہ شخص آگیا، تو بادشاہ صاحب نے اُس کو اپنی مہارت دکھانے کو کہا۔ وہ شخص ایک چارپائی سے لمبائی کے رُخ چھلانگ مار کر داد طلب نظروں سے بادشاہ صاحب کی طرف دیکھنے لگا، مگر بادشاہ صاحب اُٹھ گئے اور اُسی چارپائی سے چھلانگ لگائی۔ پھر انہوں نے کہا کہ دو عدد چارپائی ایک ساتھ لمبائی کے رُخ رکھ دو اور اُس آدمی سے کہا کہ اس سے کود کر دکھاؤ۔ حاکم علاقہ نے بادشاہ صاحب کے تیور دیکھے، تو اُس آدمی کو اشارہ سے منع کیا۔ اُس نے اتنی لمبی چھلانگ سے معذوری کا اظہار کیا۔ بادشاہ صاحب نے خود ان دونوں چارپائیوں سے چھلانگ لگا کر کہا: ’’یہ وہ تمہارا بڑ بولا کھلاڑی ہے! میاں گل کی طرح کون چھلانگ لگا سکتا ہے۔‘‘
حاکم مذکور نے بادشاہ صاحب کے جانے کے بعد اُس شخص کو بہت انعام دیا اور ساتھ ہی کہا کہ اگر وہ مطلوبہ چھلانگ لگاتا، تو بادشاہ صاحب تیسری چارپائی رکھواتے اور پتا نہیں اس کا انجام کیا ہوتا؟
جیسا کہ میری تحریر کا عنوان ہے کہ یہ باتیں کسی کتاب میں نہیں۔ اگر کوئی اس کی تصدیق کرنا چاہے، تو حاکم صاحب مذکور کا خاندان گذشتہ کئی سالوں سے گلگت میں کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہے، اُن کے بیٹے تاج محمد خان کا تو انتقال ہوگیا ہے، لیکن دوسرا نثار خان ابھی زندہ ہے۔ یہاں بریکوٹ میں پیر بابا روڈ پر اُن کے ایک بنگلے میں ایک نجی اسکول چل رہا ہے۔ اُن حاکم صاحب کے ساتھ ہمارے گاؤں کے جو اخوند خیل میاں رہتے تھے، وہ میرے رشتے میں ماموں تھے۔
چہ کوم زائے کے د زمرونو کے رجیگی
عاشقان ہلتہ پہ سوکو د بنڑو زی

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے