821 total views, 2 views today

پنجابی ادب میں افسانے کی روایت کے حوالے سے 1960ء تا 1970ء کے دور کو نئی کہانی کا عبوری یا ابتدائی دور کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس عرصے کے دوران کہامیں طرح طرح کے سماجی موضوعات آنے شروع ہوگئے تھے۔ اقتصادی جبر اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف ابھرنے والی لہر کے پیش نظر یوں دکھائی دیتا تھا، جیسے اس میدان میں کسی بڑی تبدیلی کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ پھر 1971ء تا 1980ء کے عشرے کے دوران میں یہ تبدیلی رونما ہونا شروع ہو گئی۔ جب کہ اس سے اگلے دور میں نئے موضوعات کے علاوہ تکنیکی تجربوں کے رجحان میں بھی خاصا اضافہ ہوا۔ اس رجحان اور اس تبدیلی کی بڑی وجہ سوچ کا انداز اور احساس کی وہ تبدیلی تھی جو عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی تھی۔ اس دور کو نئے نئے تجربات کا دور بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ تجریدی یا علامتی افسانے کا ظہور بھی اسی عہد میں ہوا اور جس طرح ترقی پسند تحریک کی زیرِ اثر جنم لینے والی سوچ کو بدلا جس کے نتیجے میں افسانوں میں کرداروں کی موجودگی کے باوجود کہانی پن اور اس کی مخصوص فضا ختم ہوتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ دوسری طرف فلسفے اور سوچ کی گہرائی نے فکر اور جذبے کی جگہ لینی شروع کر دی اور یوں موجود کو پیش کرنے اور ناموجود کی تلاش کا عمل ان افسانوں کا بنیادی جزو قرار پایا، جس کے نتیجے میں اینٹی اسٹوری کا روپ بھی سامنے آیا جس کا مطلب تھا کہ افسانے کو کہانی کے چکر سے نکال کر اس میں خیال اور فکر کی لہر دوڑائی جائے۔ چناں چہ یہ کام کہیں کردار نگاری کے حوالے سے ہوا اور کہیں آزاد تلازمہ خیال کو اس کی بنیاد بنایا گیا۔‘‘
’’افسانے کا تیسرا دور 1960ء تا 1989ء ہے، جب 1960ء کا سورج طلوع ہوتے ہی افسانے نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور نواز کے افسانوں کی کتاب ’’ڈونگھیاں شاماں‘‘ چھپ کر مارکیٹ میں آ گئی، جو کہ قیام پاکستان کے بعد چھپنے والا پہلا افسانوی مجموعہ تھا۔ 1975ء سے 1990ء تک پچاس سے زائد کتابوں اور مختلف رسائل کے خصوصی نمبروں اور منتخب افسانوں کے دو مجموعوں کی اشاعت اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں افسانہ معیاری و مقداری ہر دو اعتبار سے بڑی تبدیلیوں سے دوچار ہوا۔
قیامِ پاکستان کے بعد پنجابی افسانے کو تین ادوار میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا دور 1947ء سے 1985ء تک، دوسرا دور 1959ء سے 1971ء تک جب کہ تیسرا دور 1972ء سے 1995ء تک۔ ذیل میں ان تینوں ادوار کا مختصر جائزہ لیا جاتا ہے۔
پنجابی میں افسانے یا کہانی کو ’’گلپ‘‘ کہتے ہیں۔ گلپ ایک ہندی کا لفظ ہے، جو بنگالی زبان سے لیا گیا ہے۔ انگریزی میں اسے short story کہتے ہیں۔ یہ پہلے پہل بنگالی میں لکھی گئی۔ بنگالی سے ہندی میں آئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کہانیاں یا داستان ہائے کوتاہ انگریزی یا اردو سے پنجابی میں منتقل ہوئیں لیکن ہمیں اس سے اختلاف ہے۔ داستان طرازی ہر ایک ملک اور ہر ایک زبان کا محبوب مشغلہ ہے۔ پنجاب میں خاص طور پر قدیم الایام سے بوڑھی عورتیں اپنے بچوں کو کہانیاں سنایا کرتی تھیں، جو ان کی تعلیم و تربیت میں ممد و معاون ہوتیں۔ ہمارے ملک میں فارسی کا اثر بہت نمایاں ہے۔ سعدی کی گلستان اور بوستان، کلیلہ و دمنہ، انوار سہیلی اپنی داستانوں کے عمدہ مجموعے ہیں جو سالہا سال سے ہمارے اسلامی مدارس میں درساً پڑھائے جاتے رہے۔
کہانیوں کا دوسرا دور انگریزی عہد میں شروع ہوتا ہے۔ انگریزی میں مشہور کہانی کار اڈگرایلن پو سمرسٹ ماہام اور موسیاں اس موضوع کے لیے خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
پنجابی میں تقسیمِ ہند و پاک سے پہلے پنجابی افسانے کے متعلق، اقبال صلاح الدین ’’لعلاں دی پنڈ‘‘ میں لکھتے ہیں:(پنجابی سے ترجمہ) ’’یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ انسان نے پہلی مرتبہ کہانی کی کون سی قسم (kind) کہی؟ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ جب انسان کو بولنے کے لیے زبان، واقعات کو ذہن نشین کرنے کے لیے یادداشت اور قوتِ مشاہدہ ملی، تو اس نے کہانی کو جنم دیا۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی ابتدائی کہانیاں اس کے اردگرد بکھری زندگی جس کے ساتھ اس کا واسطہ ہے، کے بارے میں ہیں۔ جیسے زمین، حشرات الارض، پنچھی، پہاڑ، ندیاں وغیرہ جس میں ان مشکلات کو بتایا گیا جن میں ابتدائی انسان کو قدم قدم پر بٹنا پڑا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں: (ترجمہ) ’’دنیا بھر کے عالم اس بات پر متفق ہیں کہ سب سے پہلی کہانیاں جو کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں وہ ’’سپت سندھو‘‘ یعنی مغربی پاکستان کے اس علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جسے کل تک پنجاب کہا جاتا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کم از کم دو ہزار سال پہلے رگ وید میں رچا جا چکا تھا۔ اس میں دنیا کی پیدائش اور بہت سی کہانیاں ہیں جن کے بارے میں عالموں کا خیال ہے کہ یہ اس وقت کی لوک کہانیاں ہیں جنھیں رگ وید میں اکٹھا کر دیا گیا اور یہی کچھ اتھروید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے ابواب ’’کنتاب سوکت‘‘ میں اس وقت کے لوک گیت اکٹھے کیے گئے ہیں۔ ویداں کے بغیر ’’اپنشداں‘‘ کی پیدائش ہوئی۔ ان میں کہانیوں کے ذریعے زندگی کے فلسفے، حق کی تلاش اور روح کی گہرائیوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔‘‘
اس ضمن میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید رقمطراز ہیں: (پنجابی سے ترجمہ) ’’جہاں تک پنجابی کہانی کا تعلق ہے۔ دوسری کئی اصناف کی طرح اس کی شروعات بھی مذہبی ضرورت کے تحت ہوئی۔ انگریزوں نے یہاں قبضہ کرنے کے لیے اپنے مذہب کے پرچار کے لیے بہت سارے حربے استعمال کیے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ تبلیغ یہاں کی بولی میں کی جائے۔ چناں چہ چھوٹی کتابوں (جن کی تعداد سو سے زیادہ بنتی ہے) کے علاوہ 1877ء میں پنجاب رلیجس بک سوسائٹی نے ’’بائیل دیاں کہانیاں‘‘ ایک مجموعہ شائع کیا۔ جب یہ سلسلہ چل نکلا، تو مقامی لوگوں نے اس کے ردعمل کے طورپر اپنی مذہبی کہانیاں چھاپنا شروع کر دیں۔‘‘
ڈاکٹر انعام الحق آگے گیانی ہیرا سنگھ دی تحقیق کے حوالے سے لکھتے ہیں: (ترجمہ)’’پنجابی میں کہانی لکھنے کا رواج 1921ء میں لال سنگھ نے ’’کملا کالی‘‘ سے شروع کیا۔ ابتدا افسانہ نگاروں بارے روایت پر عمل کرتے ہوئے بھائی ویدسنگھ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ جنھوں نے مذہبی اور تاریخی بنیاد پر اس دیوار کو تعمیر کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد 1923ء اور 1924ء میں ’’پریتم‘‘ اور ’’پھلواڑی‘‘ رسالے نکلنا شروع ہوئے جو گور مکھی میں تھے۔ 1928ء میں جو شوافضل الدین نے فارسی انداز میں ’’پنجابی دربار‘‘ نکالا۔‘‘
وہ اس سلسلے میں مزید لکھتے ہیں: (ترجمہ) ’’اس کے علاوہ کرنل بھولا ناتھ وارث کے رسالے ’’سارنگ‘‘ گورنمنٹ کالج لاہور کے راوی اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے ’’بیکن‘‘ میں کہانیاں چھپنی شروع ہو گئیں، تو اس طرح 1930ء کے قریب قریب کہانی کا رنگ روپ نکھرتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ 1933ء میں گور بخش سنگھ نے ’’پریت لڑی‘‘ کے نام سے رسالہ نکالا، نانک سنگھ اور گوربخش اس دور کے بڑے نمایاں لکھاری تھے۔ جن میں نانک سنگھ کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’ہنجواں دے ہار‘‘ 1934ء میں چھپا۔ اس کے ساتھ ہی جوشو افضل الدین کے مجموعے ’’ادبی افسانے‘‘ اخلاقی کہانیاں اور ’’نکیاں کہانیاں‘‘ 1934ء، 1935ء اور 1936ء چھپ کے سامنے آ گئے۔ جوشوافضل الدین کے انداز تکنیک کے اعتبار سے چاہیے افسانے بہت زیادہ نہیں پھر بھی اصلاحی اور اخلاقی موضوعات کی وجہ سے ان کی اپنی اہمیت بنتی ہے۔ 1940ء تک پہنچتے پہنچتے پنجابی کہانی نے مغربی اثر قبول کرنا شروع کر دیا اور سنت سنگھ کرتارسنگھ اور موہن سنگھ وغیرہ نے اس اثر کے تحت زیادہ کہانیاں لکھیں۔‘‘
قیامِ پاکستان سے قبل جو شوا فضل دین نے پنجابی زبان میں افسانہ لکھنے کی ابتدا کی۔
اگرچہ ان افسانوں کا فنی معیار وہ نہیں جو آج کے دور میں پنجابی افسانہ نویسی حاصل کر چکی ہے لیکن خشتِ اول کی حیثیت سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ پنجابی زبان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے جدید اصناف سے روشناس کرنے والے اپنے گرد و پیش سے باخبر حقیقت پسند انسان تھے۔ چناں چہ اس کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جس طرح شاعری اپنے ماحول کی مکمل عکاسی کرتی تھی، اسی طرح دوسری اصناف میں یہ رشتہ قائم رہا، جس سے پنجابی زبان کے ادب میں معاشرے اور ادیب کے تعلق سے صحت مند اور مثبت رجحانات کو تقویت ملی۔ جوشو صاحب کے افسانوں کا موضوع وہ انسان ہے جو ان کے نزدیک کائنات کے حسن کا مرکز ہے۔ ان افسانوں میں انسان کو اسی مرتبے پر دیکھنے کی خواہش کا اظہار ملتا ہے، ان میں معاشرے کو سماجی برائیوں سے پاک رکھنے کے لیے قدرت کے اٹل اصول جس میں برائی کی سزا ضرور ملتی ہے، کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نسلی امتیاز کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھارنے پر توجہ دی گئی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد ان رجحانات میں پختگی آتی گئی اور اگرچہ پنجابی میں افسانے کی روایت بڑی مختصر ہے لیکن اس اعتبار سے بڑی توانا ہے کہ اس میں فن اور حقیقت پسندی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زبان میں لکھے جانے والے بیشتر افسانے حقیقی پس منظر اور جیتے جاگتے کرداروں پر مبنی ہیں۔
پنجابی افسانہ لکھنے والوں میں سے نواز، عبدالمجید بھٹی، انور سجاد، رشید، سلیم سیمیں، کہکشاں ملک، حنیف باوا، آغا اشرف اور امرتا پریتم کے علاوہ شمس نعمان، اصغر سرحدی، مقصود اختر، گلشن نعمانی، صادق قریشی، محمد آصف خان، شہباز ملک، افضل پرویز، رحمن مرزا، سلیم خاں گمی، لطیف منہاس، ماجد صدیقی، چوہدری محمد اکبر، نذر فاطمہ، عزیز الرحمان راہی، ایس ایم ارشاد، محمود چوہان اور اکبر لاہوری کے نام قابل ذکر ہیں، جنہوں نے نہ صرف پنجابی افسانے کو موضوع اور فن کے اعتبار سے ایک معیار دیا بلکہ اسے دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے افسانوی ادب کے ہم پلہ کرنے میں مدد دی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر دلشاد ٹوانہ ’’پنجابی کہانی کارناں‘‘ (کھوج پرکھ) میں لکھتی ہیں: (پنجابی سے ترجمہ)’’پاکستان اور ہندوستان میں کہانی مغربی ادب کے اثر سے آئی۔ اس دھرتی پر پہلا افسانہ اردو میں لکھنا شروع کیا گیا۔ اردو کے پہلے افسانہ نگار راشد الخیری ہیں جنھوں نے ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ (مطبوعہ مخزن، لاہور 1903ء) لکھا تھا۔ اس تحریر میں زنانیوں کی اخلاقی اور معاشرتی بدحالی کو موضوع بنایا۔ اس کے بعد اردو کہانیاں لکھنے والوں میں منشی پریم چند، کرش چندر، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ، سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی ہیں۔ کرینل سنگھ کیسل (پنجابی ساہت دا اتہاس بھاگ دوجا 1972ء) میں لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے انتظامیہ کو پنجابی زبان کو سکھانے کے لیے کتابیں لکھوائیں جن میں شردھا رام پوری کی کتاب ’’پنجابی بات چیت‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ یہ جدید افسانوی رنگ میں نثر کی پہلی کتاب کہی جا سکتی ہے۔ یہ 1875ء میں شائع ہوئی۔‘‘
پروفیسر ڈاکٹر دلشاد ٹوانہ مزید لکھتی ہیں: (ترجمہ) ’’اب تک کی تحقیق کے مطابق پنجابی خواتین افسانہ نگاروں میں سب سے پہلے امرجیت کور کے دو مجموعے 1942ء میں چھپے۔ اس کے بعد 1943ء میں امرتاپریتم کے دو مجموعے ’’کنجیاں‘‘ اور ’’چھپی ورھے بعد‘‘ چھپ کے مارکیٹ میں آئے۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ہندو اور سکھ لکھاری بھارت چلے گئے اور مسلمان لکھاری یہاں رہ گئے۔ 1947ء میں پاکستان میں کوئی پنجابی اخبار یا رسالہ فارسی حروف میں شائع نہیں ہوتا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد حالات میں ٹھہراؤ پیدا ہوا اور ادب کی طرف توجہ دی جانے لگی۔ 1948ء میں روزنامہ ’’آغاز‘‘ لاہور نے ایک پنجابی ایڈیشن شائع کیا جس میں کہانیاں چھپتی تھیں پرکسی خاتون افسانہ نگار کی کہانی نہیں ملتی۔ ستمبر 1951ء میں ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے ’’پنجابی‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ شروع کیا۔ اس رسالے میں خواتین افسانہ نگاروں میں نذر فاطمہ کی کہانیاں چھپی ملتی ہیں۔ حالاں کہ ا ن کا مجموعہ 1972ء میں چھپا۔ 1958ء کے آخر اور 1959ء کے شروع میں پنجابی مجلس لاہور نے ’’پنجاب رنگ‘‘ نامی ایک کتاب لڑی شائع کی جس میں رفعت، شفقت سلطانہ، نذر فاطمہ، نسیمہ اشرف علی اور رضیہ ناہید رضی کی کہانیاں چھپیں۔ 1960ء میں صوفی تبسم کی نگرانی میں (پنجابی ادب، جولائی اگست 1960ء) کہانی نمبر چھپا۔ یہ رسالہ پنجابی کا پہلا کہانی نمبر تھا۔ اس میں 18 کہانیاں چھپیں، جن میں امرتا پریتم کی کہانی ’’کرماں والی‘‘، رشیدہ سلیم سیمیں کی ’’مامتا‘‘، شگفتہ فردوس کی ’’پرواز‘‘ شامل ہے۔ 1962ء میں عبدالمجید بھٹی نے ’’دل دیاں جاریاں‘‘ کہانیوں کا مجموعہ مرتب کیا۔ ان میں رشیدہ سلیم سیمیں، ڈاکٹر شتام محمود اور نذر فاطمہ کی کہانیاں شامل تھیں۔ یہاں یہ بات نثر کی ہے کہ نذرفاطمہ اور رشیدہ سلیم سیمیں کو ابتدائی پاکستانی پنجابی افسانہ نگاروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پنجابی افسانوں کے مجموعے سب سے پہلے رفعت ’’اِک اوپری کڑی‘‘ اور نسیمہ اشرف علی ‘‘سکے پتر‘‘ 1965ء میں ایک ہی سال میں شائع ہوئے۔ رشیدہ سلیم سیمیں کا افسانوں کا مجموعہ ابھی تک شائع نہیں ہوسکا اور نذر فاطمہ کا ’’کاغذ دی زنجیر‘‘ اپریل 1972ء میں شائع ہوا۔‘‘
پنجابی افسانے کو تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے: ’’پہلا دور 1921ء تا 1946ء ہے جس میں 1877ء سے لے کر 1940ء تک ذکر کیا گیا ہے۔ 1940ء تک پہنچتے پہنچتے پنجابی کہانی نے مغربی اثر قبول کرنا شروع کر دیا، اس اثر کے تحت کئی قلمکاروں نے کہانیاں لکھیں۔ 1941ء تا 1946ء کئی مجموعے چھپ کر سامنے آئے جن میں کرتار سنگھ دُگل کے تین مجموعے ’کچا دُوھ،‘ ’’سو پرے سار‘‘ اور ’’پپل پتیاں‘‘ مطبوعہ 1941ء اور امرتا پریتم کے ’’کُنجیاں‘‘ اور ’’چھبی ورھے‘‘ مطبوعہ 1943ء بھی شامل تھے۔‘‘
پنجابی افسانے کا دوسرا دور 1947ء تا 1959ء ہے جو قیام پاکستان کے بعدشروع ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اگرچہ لکھنے والوں نے نثری اصناف میں ڈرامے کے بعد سب سے زیادہ توجہ اسی طرف دی، پھر بھی شروع شروع میں جو افسانے سامنے آئے، وہ زیادہ تر سیدھے سادے داستانوی انداز کے تھے جن میں کوئی قصہ بیان کیا گیا ہوتا تھا یا کسی خاص واقعے یا تاثر کو ابھارا گیا ہوتا تھا۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے