1,254 total views, 1 views today

چاچا کریم بخش پشتو ایوارڈ کا اجرا 1992ء کو سوات ادبی سانگہ کے ایک ادبی پروگرام میں کامران خان نے کیا تھا۔ مقصد اس کا ایک ہی تھا، پشتو زبان کی ترویج و ترقی۔ چوں کہ اس مقصد کے لیے پشتون ادبا و شعرا عرصۂ دراز سے کام کر رہے تھے، تو فیصلہ یہ کیا گیا تھا کہ سال 1992ء میں پشتو ادب میں جو کتابیں شائع ہوئی ہیں، اُن کا آپس میں مقابلہ کرایا جائے اور جو کتابیں سب سے زیادہ پسند کی جائیں، اُنہیں بالترتیب پہلا اور دوسرا انعام دیا جائے، یعنی پشتو نثر اور شاعری دونوں میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے شاعر اور مصنف کو انعامات سے نوازا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ’’چاچاکریم بخش پشتو ایوارڈ کمیٹی سوات‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا، جو انتظامی امور سرانجام دینے لگی۔ اس کمیٹی کے چیئرمین کامران خان کو مقرر کیا گیا اور کو آرڈی نیٹر کے لیے راقم کا نام تجویز کیا گیا۔ کمیٹی کے کل اراکین کی تعداد 9 مقرر کی گئی جو رحیم شاہ رحیمؔ، فضل ربی راہیؔ، شیر محمد خان ایڈووکیٹ، شوکت علی شرار، فضل عظیم عظیمؔ، عثمان اولس یارؔ اور عطاء اللہ جانؔ پر مشتمل تھی۔ بعد میں اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اس طرح ضیاء الدین یوسف زیٔ، شوکت سلیم ایڈووکیٹ، عنایت الرحمان صابرؔ، حبیب الرحمان ڈائریکٹر اور ڈاکٹر فتح مند خانجی بھی اس کمیٹی میں بعد میں شامل ہوئے۔




کامران خان جنہوں نے چاچا کریم بخش ایوارڈ کا اجرا کیا۔ 

کمیٹی نے صاف و شفاف ججمنٹ کے لیے مختلف اوقات میں مختلف جج صاحبان کا انتخاب کیا۔ پہلے پانچ سال کے لیے سوات سے باہر کے حضرات سے کام لیا گیا۔ بعد میں مستقل طور پر سوات سے اعلیٰ پائے کے ججز صاحبان کا انتخاب کیا گیا۔ اس عمل میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلی ہوتی رہی۔ جلد ہی ’’چاچا کریم بخش پشتو ایوارڈ‘‘ کا شہرہ نہ صرف ملک کے طول و عرض میں ہوا بلکہ ملکی سرحدوں سے باہر مشرق وسطیٰ، امریکہ، جرمنی اور دیگر ممالک سے بھی پشتو مصنفین کی کتابیں مقابلے کے لیے آنے لگیں۔ پشتو ایوارڈ کے پروگرام کے انعقاد کے لیے 5 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی، لیکن چند ایک وجوہات کی بنا پر یہ پروگرام مختلف سالوں میں مختلف مہینوں میں ترتیب پاتے گئے، جن میں اکتوبر کا پہلا ہفتہ سرِ فہرست رہا۔ ہر سال با وقار طریقے سے ملک بھر سے آئے ہوئے پشتو زبان کی ترقی میں عملاً دلچسپی لینے والے حضرات شرکت کرنے لگے۔ بڑی بڑی قد آور ادبی شخصیات مختلف ادبی تقاریب میں صدر اور مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرتی رہیں۔ اور ہر سال دور دراز سے مقابلے میں شرکت کرنے والے مصنفین اپنی اعلیٰ پائے کی کتابوں پر ایوارڈ جیتنے لگے۔ اسی طرح ایک سال غالباً 17 جولائی کی شام کامران خان کی جائے رہائش بت کڑہ مینگورہ میں پندرہویں چاچا کریم پشتو ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت کامران خان نے کی اور مہمانِ خصوصی شیرمحمد خان چیئرمین ہلال احمر خیبر پختونخوا تھے، جب کہ مقررین میں راقم (فضل محمود روخان)، فضل ربی راہیؔ، محمد پرویش شاہینؔ، ضیاء الدین یوسف زیٔ، عثمان اولس یارؔ شامل تھے۔ انعام پانے والوں میں اباسینؔ یوسف زیٔ، فیض الوہاب فیضؔ، پروفیسر انعام اللہ جان، قیسؔ، رحیم شاہ رحیمؔ (مرحوم) صاحب شاہ صابرؔ (مرحوم) اور کوئٹہ بلوچستان سے پروفیسرسیال کاکڑ کے نام شامل تھے۔ عبدالرحیم روغانیؔ،ظفر علی نازؔ اور اظہار اللہ اظہارؔ نے اپنے اپنے مقالوں سے سامعین کو محظوظ کیا۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی اور صدرِ محفل نے انعام پانے والوں اور اُن کے ورثا کو ایوارڈ سے نوازا۔ انعام پانے والوں نے اپنے اپنے تاثرات پیش کیے۔ آخر میں مہمانِ خصوصی اور صدر محفل نے اپنی اپنی آرا پیش کیں۔

چاچا کریم بخش کی ایک نایاب تصویر (بہ شکریہ: ضیا ناصر یوسف زئی)

صدرِ محفل کامران خان (مرحوم) نے اپنی تقریر میں انعام پانے والے مصنفین کو مبارک باد پیش کی اور پشتو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے اپنی کمیٹی کی طرف سے نئی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا کہ آئندہ چندمہینوں میں ذرائع نقل و حمل یعنی موٹر کاروں، رکشوں اور سوزوکی وینوں پر پشتو زبان کے اسٹیکر لگائے جائیں گے جس پر لکھا ہوگا کہ ’’پختو بہ وایو، پختو بہ لیکو، پختو بہ لولو‘‘، تاکہ اس سے ہر پختون کے دل میں یہ بات گھر کر جائے کہ اپنی زبان بولنی اور سمجھنی ہے۔ اس طرح بیشتر پختون اپنی ماں بولی کی ترقی میں شامل ہوکر اپنا فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔

…………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے