811 total views, 2 views today

یہ جمعرات بائیس اکتوبر 2015ء کی شام چھ بجے کے قریب کی بات ہے کہ فضل محمود روخان صاحب نے فون کے ذریعے مطلع کیا کہ اگر آپ اور فضل خالق صاحب کہیں نزدیک ہیں اور میری دوکان پر تشریف لاسکتے ہیں، تو آپ کی ملاقات ایک تاریخی شخصیت سے ہوسکتی ہے۔ حسنِ اتفاق، اس وقت میں اور فضل صاحب ’’روزنامہ نئی بات‘‘ کے دفتر میں بیٹھے تھے جو روخان صاحب کی دوکان سے کوئی پانچ چھے سو میٹر کے فاصلہ پر سوات مارکیٹ میں واقع ہے۔ ایسے موقعوں پر مشر نیاز احمد خان، فضل خالق اور راقم ایک ساتھ نکلا کرتے ہیں، مگر اس روز نیاز احمد خان کسی کام سے نکلے ہوئے تھے۔ اس لیے میں اور فضل صاحب، روخان صاحب کی دوکان کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچتے ہی ایک مشر سے ملاقات ہوئی۔ روخان صاحب نے ان کا تعارف کچھ یوں کیا: ’’یہ ہیں ہمارے ہر دلعزیز پروفیسر شاد محمد خان صاحب المعروف شاد خان۔‘‘ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ایک عرصہ سے جس شخصیت کا نام سنتا چلا آ رہا تھا، وہ میرے سامنے کرسی پر رونق افروز تھی۔ ابھی میں وائس ریکارڈر نکال ہی رہا تھا کہ پروفیسر صاحب نے منھ پھیرتے ہوئے کہا کہ ’’روخان صاحب میں ان لوگوں کو انٹرویو نہیں دینے والا۔‘‘ مجھے معاً دھچکا سا لگا۔ پروفیسر صاحب نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ان کے ساتھ کوئی خاتون رپورٹر ہونی چاہئے تھی، وہ میرے سامنے بیٹھتی، ناز و ادا سے سوالات کرتی، تو سماں بندھتا۔ یہ کیا خشک انٹرویو ہوگا۔ ایسی انٹرویو دے میری جوتی۔‘‘ میں اور فضل صاحب چوں کہ پروفیسر صاحب کی شوخ طبیعت سے قطعاً ناواقف تھے، اس لیے ایک ساتھ ہماری ہنسی چھوٹی اور لمحوں میں ماحول زعفران زار بن گیا۔ میں نے اپنی چھتیس سالہ زندگی میں ایسا زندہ دل انسان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا جو ستاسی اٹھاسی سال کی عمر میں بھی بالکل جوانوں کی طرح شوخ طبیعت کا مالک ہو۔ اس روز ہماری اڑتالیس منٹ پر محیط جو نشست ہوئی، اس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے، مگر جو نِکات تاریخی حیثیت کے حامل ہیں، انھیں ذیل میں الفاظ کا جامہ پہنانے جا رہا ہوں۔ پروفیسر صاحب کے ساتھ ہونے والی نشست کی ’’آڈیو کاپی‘‘ محفوظ پڑی ہے، کسی کو کسی بھی نکتہ پر اعتراض ہو، تو راقم سے رابطہ کرسکتا ہے۔ ایک کاپی ان کے صاحبزادے داؤد خان کو بھی دی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے ان سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
بقول داؤد خان: ’’پروفیسر صاحب نے یکم جنوری 1928ء کو عبدالخالق خان کے ہاں اوڈیگرام میں آنکھ کھولی۔‘‘ ان کی تعلیمی اسناد میں تاریخ پیدائش یکم جنوری 1931ء درج ہے۔ اس شام جو باتیں ریکارڈ ہوئیں، حاضرِ خدمت ہیں:
’’1924ء کو سوات میں بلامعاوضہ اور لازمی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہر گاؤں میں یتیم خانہ اور ہر مسجد میں سکول کو لازمی قرار دیا گیا۔ ابھی یہ سلسلہ شروع ہوا تھا کہ اس وقت کے ملاؤں نے اسکولوں کے خلاف ایک تحریک شروع کی۔ سنہ 34-1933ء کو میں خود بھی جب بچہ تھا ایسی ہی ایک تحریک کا حصہ بنا تھا۔ اس تحریک کا نعرہ تھا: ’’سبق دَ مدرسے، د پارہ د پیسے، پہ جنت کے بہ زے نہ ئی، پہ دوزخ کے بہ ئے گسے۔‘‘ اسی اثنا میں خان شیر افضل خان بونیر سے آئے۔ وہ بھی تعلیم سے زیادہ لگاؤ رکھتے تھے۔ انھوں نے بھی یہ تحاریک اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ ان دنوں اتمانزو چارسدہ سے عبدالعزیز پڑھانے کی غرض سے سوات آئے تھے۔ ہم انھیں ’’استاد جی‘‘ پکارتے تھے۔ لوگ اس کی بڑی مخالفت کرتے تھے۔ اُن دنوں ایک ملاقات میں استاد جی نے خان شیر افضل خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں احمد دین طالب کا بھتیجا ہوں۔ شیر افضل خان نے ان سے پوچھا کہ آپ بھی شاعری کرتے ہیں؟ تو استاد جی نے جواباً کہا کہ نہیں میں شاعر نہیں بلکہ ایک معلم ہوں۔ یہاں بچوں کو پڑھاتا ہوں۔ شیر افضل خان نے استاد جی کو گلے لگایا اور پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا کہ ’’شاباش!‘‘ استاد جی نے شکایتاً کہا کہ یہاں تو دنیوی تعلیم کے خلاف تحاریک زوروں پر ہیں۔ شیر افضل خان کا چہرہ یہ سنتے ہی غصے سے لال بھبوکا ہوا اور ساتھ آئے ہوئے سپاہیوں کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں نقارچی بھیج دیے جائیں اور یہ پیغام ہر خاص و عام کے گوش گزار کیا جائے کہ اگر کسی نے یہ نعرہ (سبق د مدرسے، د پارہ د پیسے……) لگایا، تو اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔ ساتھ یہ بھی اعلان کر دیا جائے کہ تمام بچے استاد جی سے تعلیم حاصل کرنے باقاعدہ آیا کریں گے۔ بعد میں شیر افضل خان نے شورگر میں پانڈا کے مقام پر اسکول تعمیر کیا۔ اس کے بعد اوڈیگرام میں سربلند ملک کے گھر کے ساتھ ایک گھر کو اسکول کی شکل دی گئی۔ یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔ پھر سنہ 1935ء میں مجھے بھی اوڈیگرام کے سکول میں داخلہ مل گیا۔‘‘

مرحوم پروفیسر شاد خان اپنے بیٹے داؤد خان کو انگلی تھماتے ہوئے۔

باتوں ہی باتوں میں پروفیسر صاحب نے ایک تاریخی واقعہ بیان کیا۔ چوں کہ یہ میرے لئے بالکل ایک نیا واقعہ ہے، اس لئے نذرِ قارئین ہے: ’’ان دنوں وزیر حضرت علی فاتح الملک نے بادشاہ صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر سوات کا ہر خاص و عام تعلیم یافتہ ہوگیا، تو آپ کی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔ والی صاحب نے اس بات کی سخت مخالفت کی جس سے بادشاہ صاحب اور والی صاحب میں اختلاف نے جنم لیا۔ والی صاحب نے میرے والد (عبدالخالق خان سکنہ اوڈیگرام)، شیرزادہ خان سکنہ منگورہ اور چمن سکنہ کوکارئی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ اختلاف اس حد تک پہنچا کہ بادشاہ صاحب کو قتل اور والی صاحب کو تخت پر بٹھانے تک کا منصوبہ بنایا گیا۔ اسی دوران میں بادشاہ صاحب کو مذکورہ منصوبہ کی بھنک پڑگئی اور وقت ضائع کیے بغیر انھوں نے چاروں کو پکڑنے کا حکم دیا۔ میرے والد (عبدالخالق خان) کے علاوہ تمام رفو چکر ہوگئے۔ چمن کوکارئی سے سیدھا اوڈیگرام آئے اور سنہ 34-1933ء تا 1943ء میرے والد کے ساتھ اوڈیگرام میں رہے۔ پھر ہمارے چچا خان شیر افضل خان جو کہ اس وقت بونیر کے حاکم تھے، آئے اور بادشاہ صاحب سے کہنے لگے کہ ’’عبدالخالق میرا سگا بھائی ہے۔ والی صاحب ریاست چھوڑ چکے ہیں۔ اب آپ عبدالخالق کو بھی چھوڑ دیں۔‘‘ ان دنوں دن رات ہمارے حجرے پر فائرنگ کی جاتی تھی (بعد میں باآسانی پتا چلا کہ راز فاش کرنے والا کون تھا؟) پھر جیسے ہی والی صاحب واپس ریاست سوات آئے، تو تمام وزرا کو معزول کیا گیا اور والی صاحب کو ولی عہد مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ سپہ سالار بھی بنایا گیا۔ اس طرح میرے والد (عبدالخالق خان) ایک بار پھر کمان افسر بن گئے۔ اسی دوران میں میرے والد نے مجھے والی صاحب سے ملوا دیا۔ اس نے مجھے بیٹے کا درجہ دیا۔ اس کے بعد میری تمام عمر انھی کے ساتھ گزری۔‘‘




پروفیسر شاد خان کی 1971ء کی جنگ میں اتاری گئی ایک یادگار تصویر۔

پروفیسر شاد خان بچپن سے شوخ طبیعت کے مالک تھے جس کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ بقول ان کے: ’’یہ1941ء کی بات ہے، ہم تیسری جماعت کے طالب علم تھے کہ ایک دن ڈاکٹر شاہ عالم خان معائنہ کے لئے آئے۔ وہ ایم ایس سی پی ایچ ڈی تھے۔ انھوں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہیضے سے بچاؤ کی تدابیر کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا: ’’ہیضے سے بچاؤ کے لئے ٹیکے لگوانے چاہئیں، پانی اُبال کر پینا چاہیے اور تمام کنوؤں میں پٹنگا پلاش ڈالنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا: ’’کیا ڈالنا چاہیے؟‘‘ میں نے سینہ تان کر جواب دیا: ’’پٹنگا پلاش۔‘‘ شاہ عالم خان صاحب نے پشتو میں پوچھا: بچے! ’’دا سہ شے دے؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’مجھے کیا پتہ بس استادِ محترم نے یہی کچھ سمجھایا ہے۔‘‘ وہ ہنس دئیے اور استاد صاحب کی طرف رُخ کرکے کہنے لگے کہ ’’استاد صاحب! اسے کیمسٹری میں پوٹاشیم پرمنگنیٹ یا پرمنگنیٹ آف پوٹاش کہتے ہیں یا پھر اسے اُردو میں لال دوائی کہتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد شاہ عالم خان صاحب نے بونیر خان سے کہا کہ اپنی نبض پکڑلو۔ بونیر خان نے اپنے بازو کو ٹھیک اس جگہ سے پکڑا جہاں بلڈ پریشر چیک کرنے کی غرض سے پٹی باندھتے ہیں۔ شاہ عالم خان صاحب نے حیرت سے پوچھا کہ ’’بچے! کیا نبض یہاں ہوتی ہے؟‘‘ بونیر خان نے بلاتحمل جواباً کہا کہ ’’عجیب بات ہے۔ نبض میری ہے اور پتا آپ کو ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی شاہ عالم خان صاحب کے ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑگئے اور استاد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچے بڑے تیز ہیں۔ میں تو لاجواب ہوگیا۔‘‘
پروفیسر شاد خان کے بقول: ’’1948ء کو ودودیہ اسکول میں دو ہزار چار سو طلبہ پڑھتے تھے۔ پھر والی صاحب نے اتنی بڑی تعداد کو تقسیم کر دیا اور لگاتار اسکولوں کی تعمیر شروع کر دی۔ ایک ایک سال میں بیس بیس تیس تیس اسکول تعمیر کیے جاتے تھے۔ کالام، پٹن، شانگلہ، الپورئی کوئی ایسی جگہ نہ ہوتی ہوگی جس میں والئی سوات نے اسکول، ڈسپنسری اور اسپتال کی تعمیر نہ کی ہو۔ تعلیم کو ترجیح دینے کی وجہ سے انھیں ’’سلطان العلوم‘‘ کا خطاب ملا تھا۔ والی صاحب کہتے تھے کہ تعلیم کے حصول کے لیے عمر اور نمبرات کی کوئی قید نہیں۔ کانجو کے نوشیروان نے اُنسٹھ سال کی عمر میں جہانزیب کالج میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ ایک سال بعد فرسٹ ائیر کے امتحان میں فیل ہوگئے۔ یوں ساٹھ سال کی عمر میں ٹھیک ایک سال پڑھ کر ناکام ہونے کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ گئے۔ نیک خان پی ڈبلیو ڈی ملاکنڈ میں نوکر تھے۔ ریٹائرمنٹ لے لی، پنشن یافتہ ہوئے اور 1954ء میں میرے کلاس فیلو بنے۔ تین چار سال متواتر ایف ایس سی کے امتحانات میں ناکام ہوئے۔ بالآخر کامیاب ہونے کے بعد میڈیکل کالج گئے۔ ڈاکٹر بنے۔ چھے ماہ سرکاری ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے کے بعد ساٹھ سال کی عمر میں ایک بار پھر ریٹائر ہوئے۔‘‘
پروفیسر شاد خان نے جہانزیب کالج کے حوالے سے اپنی یادوں کو بازیافت کرتے ہوئے کہا کہ ’’لیفٹیننٹ کرنل فیض اللہ خان خٹک (سابقہ پرنسپل جہانزیب کالج) سوات میں بلامعاوضہ تعلیم فراہم کرنے کے خواہش مند تھے۔ ان کے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے میں نے کچھ لڑکوں کو اکھٹا کیا اور باقاعدہ ان کے گروپ بنا دیے۔ یہ لڑکے گروپوں کی شکل میں شانگلہ، لیلونئی، چکیسر، برسوات، کوٹا، ابوہا، ڈڈھرہ اور پارڑئی تک پہنچ گئے۔ ہمارا ایک ہی مقصد تھا کہ تعلیم کے لیے خاطر خواہ چندہ اکھٹا کیا جائے۔ مقصد نیک تھا، اس لئے ڈھیر سارا پیسہ جمع ہوا۔ بعد میں پرنسپل صاحب (لیفٹیننٹ کرنل فیض اللہ خان خٹک) نے چندہ کی رقم سے غریبوں کے لیے فری کتابوں، کاپیوں، کپڑوں، پیزار اور شیروانی تک کا بندوبست کیا۔ اس کے علاوہ جو زیادہ مستحق طلبہ تھے، ان کے لیے بیس روپیہ ماہانہ جیب خرچ بھی مقرر کیا۔ جب جہانزیب کالج میں یہ سلسلہ کامیاب ہوا، تو انھوں نے کہا کہ اب اسے اسکولوں تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اسی دوران میں، مَیں نے بی اے کا امتحان دیا اور تقریباً سنہ 1958ء کو مجھے پشاور یونیورسٹی میں ایم اے انگلش میں داخلہ مل گیا۔ پھر جب میں تعلیم مکمل کرکے واپس آگیا، تو خٹک صاحب جا چکے تھے اور ان کی جگہ خواجہ اشرف نے چارج سنبھالا تھا۔ سنہ 1961ء میں جہانزیب کالج میں مجھے بحیثیت پروفیسر پڑھانے کا موقع ملا۔ خٹک صاحب کے شروع کردہ ’’پوور فنڈ‘‘ کو میں نے جاری رکھنے کی سعی کی۔ خواجہ اشرف نے اس حوالہ سے میری مخالفت کی مگر مَیں نے انھیں درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ پھر بعد میں اس نے حساب کچھ یوں برابر کیا کہ سپورٹس فنڈ کو ٹیوشن فیس کا نام دے دیا۔ ڈاکٹر سلطانِ روم اپنی کتاب میں جس ٹیوشن فیس جمع ہونے کے حوالہ سے لکھتے ہیں، دراصل یہ وہی سپورٹس فنڈ تھا جسے خواجہ اشرف نے ٹیوشن فیس کا نام دیا تھا۔ سپورٹس فنڈ دراصل خٹک صاحب کا شروع کردہ رضاکارانہ پروگرام تھا۔ خٹک صاحب نے علی الاعلان کہا تھا کہ اگر کوئی سپورٹس فنڈ دینا چاہے، تو دے اور اگر نہ دینا چاہے، تو اس پر کوئی زور نہیں۔ یہ ایک طرح کا چندہ تھا۔ خٹک صاحب کہتے تھے کہ یوں کھیلوں کو فروغ ملے گا۔ اُن دنوں پشاور یونیورسٹی بورڈ کا سلیبس پڑھایا جاتا تھا۔ جہانزیب کالج کا پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق تھا۔ اول اول ودودیہ اسکول کی بنیاد رکھی گئی تھی، جس کا الحاق پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ تھا۔ ان دنوں امتحانی عملہ پنجاب سے آتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک ہندو دیناناتھ کھرنا بھی آئے تھے۔‘‘

پروفیسر شاد خان کی شہزادہ شہریار امیر زیب کے ساتھ ایک یادگار فوٹو۔

پبلک سکول سنگوٹہ کے حوالے سے پروفیسر شاد خان کا کہنا تھا کہ ’’والی صاحب مشنری اسکول کی ریاست سوات میں تعمیر کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے۔ میں نے انھیں کہا کہ میں ثابت کرسکتا ہوں کہ غیرمسلم ایک مسلم علاقے میں تعلیمی ادارے چلا سکتے ہیں۔ جنگِ بدر کی مثال تاریخ کا حصہ ہے جس میں ستّر مشرکین گرفتار ہوئے۔ تمام سے فدیہ لینے کا حکم صادر ہوا مگر جو غریب تھے اور فدیہ نہیں دے سکتے تھے، اُن سے کہا گیا کہ دس دس مسلمانوں کو تعلیم دیں۔ یہ ایک طرح سے ان کا فدیہ تھا۔ تقریباً دو سال تک وہ پڑھانے کے بعد آزاد ہوئے۔ اس مثال کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہاں مشنری سکول تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
نشست کے دوران میں فضل خالق صاحب پروفیسر صاحب سے گاہے گاہے سوالات پوچھتے رہے جن میں سے ایک سوال ٹراؤٹ مچھلی کو سوات لانے کے حوالے سے بھی تھا۔ جس کے جواب میں پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ ’’والی صاحب اکثر اس خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ سوات کو جنت نظیر ریاست بناؤں گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے اٹلی سے زیتون کے تین لاکھ پودے منگوائے تھے۔ ایک طرف سیدو شریف سے لے کر شیر اطرف تک اور دوسری طرف کوکڑئی تک مذکورہ پودے لگائے گئے۔ اس طرح غازی بابا میں بھی کافی سارے پودے لگائے گئے جو بعد میں جنگل کی شکل اختیار کرگئے۔ یہ پودے ہر تین سال بعد بار دیتے تھے، لیکن جیسے ہی ریاستِ سوات کا پاکستان میں ادغام ہوا، ان تمام درختوں کو بے دردی سے کاٹا گیا۔ اس طرح ناروے سے سالمن اور ٹراؤٹ مچھلی کو لایا گیا تھا اور انھیں مہوڈنڈ کالام میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ تاکہ مستقبل میں اس کی افزائشِ نسل ہو اور سوات ترقی کرے۔‘‘
پروفیسر شاد خان کے ساتھ ہونے والی اڑتالیس منٹ کی نشست میں اور بھی کئی تاریخی حوالے سامنے آئے جنھیں کسی اور موقع پر قلم بند کیا جائے گا۔ 28 جنوری 2016ء کو پروفیسر صاحب زندگی کی قید سے آزاد ہوئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی نابغہ روزگار شخصیات وجود کی قید سے آزاد ہوسکتی ہیں، ان کا وجود تو فنا ہوسکتا ہے، مگر ان کا نام اور کام کبھی فنا نہیں ہوتا۔ شائد اس لیے میں یہاں یہ رقم کرنے پر مجبور ہوں کہ’’وہ زندہ ہے!‘‘

……………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے