679 total views, 2 views today

راقم نے گذشتہ نشست میں محمد انور لشکری کی کتاب ’’دَ متلونو قیصے‘‘ سے چند کہاوتیں مع پس منظر پیش کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی، جسے سراہا گیا۔ ایک مرتبہ پھر طبع آزمائی کی خاطر مذکورہ کتاب سے مزید چند کہاوتیں پیش خدمت ہیں۔
٭ ’’زہ خپلہ د پولئی پڑق تہ ناست یم۔‘‘
کتاب ’’د متلونو قیصے‘‘کے صفحہ نمبر ایک سو بائیس پر مذکورہ کہاوت کا پس منظر کچھ یوں رقم ہے: ’’کہتے ہیں کہ ایک دن ایک آدمی کا دل چاہا کہ مکئی کے بُھنے ہوئے دانے کھائے۔ اس کے ہاں دانے نہیں تھے۔وہ گاؤں کے ایک بھٹیارے کی بھٹی کے پاس گیا اور لات مار کر بیٹھ گیا۔ جو دانہ بُھننے کے عمل میں مخصوص آواز کے ساتھ پھٹ کر بھٹی سے باہر آتا، تو وہ اسے گرما گرم منھ میں ڈالتا چلا جاتا۔ کافی وقت بیٹھ کر وہ اپنے شوق کی تکمیل میں اس عمل کو دہراتا رہا۔ اسی اثنا میں مذکورہ شخص کا دوست بھی وہاں آیا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ ہو نہ ہو بھٹی میں پڑے دانے میرے دوست ہی کے ہیں۔ آنے والے دوست نے پہلے سے بیٹھے ہوئے دوست سے کچھ کھلانے کی فرمائش کی۔ بیٹھے ہوئے دوست نے جواباً جل بھن کر کہا کہ ’’زہ خپلہ د پولئی پڑق تہ ناست یم۔‘‘
٭ ’’پیاز دے وی، پہ نیاز دے وی۔‘‘
کتاب کے صفحہ ایک سو اکتیس پر مذکورہ کہاوت کا پس منظر کچھ یوں رقم ہے: ’’کہتے ہیں کہ ایک دن کسی غریب کے ہاں ایک دوست مہمان بنا۔ غریب نے دل میں سوچا کہ اپنے دوست کی خاطر مدارت کیسے کروں گا؟ اس کے پاس پھوٹی کوڑی نہ تھی۔جیسے ہی کھانے کا وقت ہوا، تو اپنے مہمان دوست کے آگے چٹنی، چھاچھ اور پیاز رکھ دی اور یہ بھی کھانا تناول کرنے بیٹھ گیا۔ کھانا شروع کیا گیا، تو اُس نے مہمان کے سامنے مجبوراً کہا کہ خفا مت ہوئیے گا، میں آپ کی مہمان نوازی بہتر طریقے سے نہ کرسکا۔ مہمان نے جواباً کہا کہ اس میں خفا ہونے کی کوئی بات نہیں۔ ’’پیاز دے وی خو پہ نیاز دے وی۔‘‘
٭ ’’تیرے چپے ہیرے کہ راتلونکے چپے شمارہ۔‘‘
کتاب کے صفحہ نمبر ایک سو گیارہ پر اس کہاوت کا پس منظر کچھ یوں درج ہے: ’’کہتے ہیں کہ ایک آدمی دریا کنارے رونی صورت بنائے بیٹھا تھا۔ اسی اثنا میں ایک اور شخص کا وہاں سے گزر ہوا۔ مؤخرالذکر شخص نے پوچھا کہ بھئی، کیوں اتنے پریشان ہو، مسئلہ کیا ہے؟اولذکر شخص نے جواباً کہا کہ میں یہاں کب سے بیٹھا دریا میں اٹھنے والی موجوں کو گن رہا تھا، مگر اب گنتی بھول گیا ہوں۔ نتیجتاً اپنی محنت پر رونا آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی پوچھنے والے نے برجستہ کہا کہ چھوڑو یار، ’’تیرے چپے ہیرے کہ راتلونکے چپے شمارہ۔‘‘
٭ ’’دَ خلقو خُلو کے اُور وی۔‘‘
اس کہاوت کے حوالہ سے محمد انور لشکری اپنی تحقیقی تصنیف ’’دَ متلونو قیصے‘‘ کے صفحہ ایک سو دس پر کچھ یوں رقمطراز ہیں: ’’کہتے ہیں کہ ایک اندھا جواری جوے کے داؤ لگایا کرتا تھا۔ کسی نے اس سے پوچھا کہ آپ داؤ کیوں لگاتے ہیں، آپ کو تو کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا۔ اس نے جواباً کہا کہ جب میں داؤ جیتتا ہوں، تو آس پاس بیٹھے لوگ چیخ اٹھتے ہیں کہ ’’اندھا جیت گیا۔‘‘ یوں مجھے جیتے ہوئے داؤ کے پیسے مل جاتے ہیں۔آخر میں اس نے یہ کہاوت کہہ ڈالی کہ ’’دَ خلقو خلو کے اُور وی۔‘‘
٭ ’’وینزلو نہ ئے نہ وینزل خہ وو۔‘‘
کتاب کے صفحہ نمبر ایک سو تیئس پر مذکورہ کہاوت کا پس منظر کچھ یوں رقم ہے: ’’کہتے ہیں کہ ایک آدمی دریا کے کنارے گھوم رہا تھا کہ ایک موتی اس کے ہاتھ آیا۔ وہ خوشی سے جھوم اُٹھا۔ موتی چوں کہ گرد سے اَٹا تھا، اس لئے اُسے موتی کو دریا کے پانی میں دھونے کا خیال چرا۔ دیوانہ وار دھوتے دھوتے موتی اس کے ہاتھ سے دریا کے پانی میں گرگیا۔ تلاش بسیار کے بعد بھی اُس کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ وہ فرطِ اضطراب سے بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کا راستہ ناپنے لگا اور خودکلامی کے عالم میں کہنے لگا کہ ’’دَ وینزلو نہ ئے نہ وینزل خہ وو۔‘‘
٭شاہی زڑہ شوہ وار ئے تیر شو، د منگو پاتے شوہ کوزے راڈکوینہ۔‘‘
اس کہاوت کے متعلق محمد انور لشکری اپنی تصنیف کے صفحہ ایک سو بارہ پر لکھتے ہیں: ’’اس ٹپے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شاہی نامی ایک بوڑھی خاتون جو پورے سو سال تک زندہ رہی، جب آخری عمر میں کام کاج کی نہ رہی، تو اُسے اپنی جوانی کی یادیں بہت ستاتیں اور ساتھ کف افسوس بھی ملتی۔ اُس وقت کی جوان خواتین کو کام کاج کرتے دیکھتی یا پھر پانی بھرتے دیکھتی، تو ایک ٹھنڈی آہ بھرتی اور اس ٹپہ کی مدد سے اپنے جذبات و احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر گنگناتی کہ
شاہی زڑہ شوہ وار ئے تیر شو
دَ منگو پاتے شوہ کوزے راڈکوینہ
٭ ’’نہ سل مخہ وریز، نہ یو اتانیز۔‘‘
کتاب کے صفحہ ایک سو باؤن پر محولہ بالا کہاوت کا پس منظر یوں رقم ہے: ’’کہتے ہیں کہ ایک آدمی جوا کھیلا کرتا تھا اور اپنے علاقہ کی پولیس کو وقتاً فوقتاً ’’حصہ‘‘ بھی بھیجا کرتا تھا۔ ایک عرصہ بعد مذکورہ شخص نے جوا کھیلنے کا عمل چھوڑ دیا اور توبہ تائب ہوا۔ ساتھ پولیس کو بھی اطلاع دی کہ آئندہ میں کبھی جوا نہیں کھیلوں گا۔ لیکن اس کے باوجود پولیس گاہے گاہے اس پر چھاپے مارتی۔ وہ اپنی صفائی کی خاطر گاؤں کے کچھ بڑے بوڑھوں کو بھی جرگہ کی صورت تھانہ لے گیا، لیکن مسئلہ حل نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ آخر تنگ آکر اس نے گاؤں سے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) کا ایک اہلکار ساتھ لیا اور اے سی کے سامنے اپنا مسئلہ رکھ دیا۔ اس نے اہلکار کے ذریعے سو سو روپوں کے بیس نوٹ اے سی کو دے دئیے۔ اے سی صاحب نے دوسرے ہی لمحے فون کا ریسیور اٹھایااور متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او کو مطلع کیا کہ فلاں گاؤں کے خان کو آپ لوگ کیوں تنگ کرتے ہیں؟ ایس ایچ او نے جواباً فون کے ذریعے کہا کہ صاحب، یہ بندہ جوے باز ہے۔ اے سی صاحب نے دفعتاً کہا: ’’کون کہتا ہے کہ یہ جوے باز ہے؟ گاؤں کے پورے بیس مشران اس کے ساتھ آئے ہیں اور اب میرے دفتر میں بیٹھے ہیں۔ وہ سب کے سب اس کی جوا چھوڑنے کی گواہی دے رہے ہیں اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ناحق اس کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہیں۔‘‘ دراصل بیس مشران وہ بیس نوٹ تھے،جو اُس کی خدمت میں پیش کئے گئے تھے۔ اس کے بعد مذکورہ شخص کو کبھی پولیس نے تنگ نہیں کیا۔ اس نے سوچا کہ میں کتنی بار علاقہ کے مشران کو ساتھ لے کر تھانے گیا، لیکن کام نہیں بنا۔ وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’نہ سل مخہ وریز، نہ یو اتانیز۔‘‘
٭ یا بہ رور جوڑے یا بہ کور جوڑے۔
کتاب ’’دَ متلونو قیصے‘‘ کے صفحہ ایک سو تیرہ پر مصنف محمد انور لشکری محولہ بالا کہاوت کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک شخص کے گھر میں اس کی بیوی اور بھائی کا ہر وقت جھگڑا ہوا کرتا تھا۔ بھائی کہتا کہ بھابھی ہر وقت میری بے عزتی کیا کرتی ہے۔ بیوی کہتی کہ دیور میرے ساتھ ہر بات پر اَڑتا ہے اور بسا اوقات چھوٹی موٹی باتوں پر بھی مجھے پیٹتا رہتا ہے۔ یوں اس گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑا ہوا کرتا تھا۔ وہ بھلا مانس، بیوی اور بھائی کی وجہ سے ایک عجیب دو راہے پر کھڑا تھا۔ اگر بیوی کی طرفداری کرتا، تو بھائی کی ناراضگی مولنا پڑتی اور اگر بھائی کا ساتھ دیتا، تو بیوی ناک بھوں چڑھا کر میکے کا راستہ ناپتی۔ جب مذکورہ شخص کو کچھ سجھائی نہ دیا، تو مجبوراً ایک شام حجرہ میں کسی بزرگ کو اپنی کہانی سنائی اور ان سے کوئی صائب مشورہ مانگا۔ بزرگ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے کہا کہ ’’ یا بہ رور جوڑے یا بہ کور جوڑے۔‘‘
٭ چرتہ بیت اللہ، چرتہ عصمت اللہ۔
کتاب کے صفحہ نمبر ایک سو اُنیس پر کہاوت کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک نہایت مفلس آدمی جس کا نام عصمت اللہ تھا، کے لئے ایک صاحبِ ثروت نے حج کا فریضہ ادا کرنے کی خاطر داخلہ کرایا۔ جب داخلہ منظور ہوا، تو مقررہ وقت پر عصمت اللہ دیگر حجاجِ کرام کے ساتھ عربستان چلا گیا۔ اس نے جب پہلی بار حرم شریف کی دہلیز پار کی اور بیت اللہ شریف پر اس کی نظر پڑی، تو شدتِ جذبات سے بے ساختہ اس کے منھ سے نکلا کہ ’’چرتہ بیت اللہ، چرتہ عصمت اللہ۔‘‘
٭ مانکئی نہ د کمال میاں سپی نہ دی تلی، نو تہ بہ ترے سہ لاڑ شے۔
کتاب کے صفحہ اُنتیس پر کہاوت کا پس منظر کچھ یوں درج ہے: ’’مانکئی گاؤں لاہور تحصیل میں جہانگیری اور صوابی سڑک کے ساتھ آباد ہے۔ کہتے ہیں کہ عرصہ پہلے ایک کمال نامی آدمی جو کہ فقیر خیل میاں تھا اور لوگ اسے کمال میاں کہہ کر بلاتے تھے، مانکئی گاؤں میں رہائش پذیر تھا۔ اس نے دو کتے پال رکھے تھے، جو بڑے وفادار تھے۔ کمال میاں کچھ عرصہ بعد مانکئی گاؤں سے کہیں اور کوچ کرگیا۔ وہ اپنے ساتھ کتوں کو بھی لے گیا، لیکن کتے واپس مانکئی گاؤں آگئے۔ چار و ناچار کمال میاں آیا اور کتوں کو واپس ساتھ لے گیا۔ اس طرح کئی بار کمال میاں کتوں کو اپنے ساتھ لے جاتا، مگر وہ واپس مانکئی گاؤں کا رُخ کرلیتے۔ اس وجہ سے جب کوئی کراچی یا کسی دوسری جگہ مسافری کی غرض سے چلا جاتا ہے، اور دل نہ لگنے کے سبب واپس آجاتا ہے، تو لوگ اسے کہتے ہیں: ’’مانکئی نہ د کمال میاں سپی نہ دی تلی، نو تہ بہ ترے سہ لاڑ شے۔‘‘
٭ زان ما جوڑہ وو، ور ئے کڑہ بوبئی۔
کتاب کے صفحہ نمبر تریالیس پر کہاوت کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک گھر میں دو بہنیں رہا کرتی تھیں۔ دونوں جوان تھیں۔ لوگ رشتہ کے حوالہ سے ان کے گھر آیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے چھوٹی بہن خوب بن ٹھن کر رہا کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ اس کا رشتہ بڑی بہن سے پہلے ہو۔ دوسری طرف بڑی بہن اس حوالہ سے بالکل بے پروا تھی۔ دونوں بہنوں کے والدین بھی یہی چاہتے تھے کہ بڑی بیٹی کی شادی پہلے ہو۔ آخرِکار ایک بار رشتہ کی غرض سے کچھ خواتین ان کے گھر آئیں۔ خدا کی کرنی، بڑی بہن کا رشتہ طے پایا اور چھوٹی رہ گئی۔ اس لئے چھوٹی بہن کے منھ سے خودکلامی کے عالم میں یہ کہاوت نکلی: ’’زان ما جوڑہ وو، ورئے کڑہ بوبئی۔‘‘
٭ پہ رزڑو کی اسوٹا نہ سہی۔
کتاب ’’د متلونو قیصے‘‘ کے صفحہ نمبر سینتیس پر کہاوت کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ اسوٹا گاؤں ضلع صوابی کی مردان روڈ پر شمال کی طرف واقع ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار اس گاؤں کے ’’رزڑ‘‘ (رزڑ کو اردو میں ’’رجڑ‘‘ کہتے ہیں اور یہاں کی مٹھائی نہ صرف پختونوں بلکہ دیگر اقوام میں بھی یکساں طور پر مشہور ہے، مترجم) نامی علاقہ میں تمام گاوؤں کا ایک اہم اجلاس ہونا تھا۔ اجلاس میں ہر گاؤں کے چیئرمین کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ مقررہ وقت پر رجڑ علاقہ کے تمام بڑے حاضر تھے۔ بس اسوٹا گاؤں والے غیر حاضر تھے۔ انتظار میں کافی وقت بیت گیا۔ نتیجتاً ایک شخص نے تنگ آکر کہا کہ اجلاس کی کارروائی شروع کرلیں۔ دوسرے شخص نے کہا کہ اسوٹا گاؤں والے نہیں آئے ہیں۔ اولذکر نے جواباً جل بھن کر کہا:’’پہ رزڑو کی اسوٹا نہ سہی۔‘‘
٭ خوارہ چی خہ شوہ، نو مڑہ شوہ۔
محمد انور لشکری ’’دَ متلونو قیصے‘‘ کے صفحہ نمبر اِکاون پر مذکورہ کہاوت کا پس منظر کچھ یوں بیاں کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوا۔ تین چار چھوٹے بچے یتیم رہ گئے۔ بیوہ، خاوند کی فوتگی کے بعد جیسے تیسے زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ محلے والے انہیں خیرات اور زکوٰۃ و صدقات دیا کرتے تھے۔ یوں زندگی کا پہیہ چلتا رہا، یہاں تک کہ اس کے بیٹے جوان ہوگئے۔ ایک بیٹا سعودی عرب چلا گیا۔ دوسرے نے دوبئی میں ملازمت اختیار کی۔ بیوہ نے بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کئے اور دلہنیں بھی گھر لے آئی۔ الغرض، مشکل دور ختم ہوا اور زندگی بہتر طریقے سے گزرنے لگی۔ جیسے ہی اچھے دنوں کا آغاز ہوا، تو بدقسمتی سے خاتون پر فالج کا حملہ ہوا اور اس کے وجود کا آدھا حصہ بالکل بے کار ہوگیا۔ اس کے بیٹوں نے علاج معالجہ کی خاطر کافی دوڑ دھوپ کی، مگر بے سود۔ آخرِکار خاتون فوت ہوگئی۔ محلہ کی دیگر خواتین جب اس کی میت دیکھنے آتیں، تو ایک ہی راگ الاپتیں کہ ’’خوارہ چی خہ شوہ، نو مڑہ شوہ۔‘‘
٭ بد تربور پہ بد زائے کی پکاریگی۔
کتاب کے صفحہ نمبر چوّن پر رقم ہے کہ ایک آدمی کو اپنا ’’تربور‘‘ (پختون اپنے چچا زاد بھائی کو تربور کہتے ہیں) ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ بغض اور حسد کی آگ میں دونوں برابر جلتے تھے۔ خدا کی کرنی، ایک دن اولذکر تربور کے ساتھ دوسرے قبیلے کے ایک شخص کا جھگڑا ہوا۔ لاٹھیوں کا دور تھا۔ دونوں طرف سے جوتی، لات اور لاٹھی کا آزادانہ استعمال جاری تھا۔ اتنے میں مؤخرالذکر تربور کو لڑائی کا پتا چلا۔ اس کی غیرت جاگ اُٹھی، گھر سے لاٹھی لی اور بھاگم بھاگ گرم جنگ میں کود پڑا اور مخالف کی ایسی خبر لی کہ اسے میدان چھوڑنا ہی پڑا۔ لڑائی کے بعد دونوں گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ اولذکر تربور نے چلتے چلتے دل ہی دل میں سوچا کہ واقعی کسی نے سچ کہا ہے: ’’بد تربور پہ بد زائے کی پکاریگی۔‘‘
٭ دا دجنڈو کار نہ دے، ووٹونہ بہ شمارو۔
کتاب کے صفحہ نمبر ایک سو نو پر کہاوت کے پس منظر کے حوالہ سے رقم ہے کہ یہ کہاوت 2008ء کے الیکشن میں ایک آزاد امیدوار نے پیش کی تھی۔ دراصل اُس کی مخالف پارٹی کے جھنڈے تعداد میں زیادہ تھے۔ اس موقعہ پر اس کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی گنتی فیصلہ کرے گی، جھنڈوں کی تعداد سے ہرگز مرعوب نہیں ہوں گا۔ بعد میں اسے بھاری اکثریت سے کامیابی ملی اور یوں اس کا کہا پتھر کی لکیر ثابت ہوا کہ’’دا د جنڈو کار نہ دے، ووٹونہ بہ شمارو۔‘‘
٭ یو مونز پہ ہفتہ کی، ھغہ ھم پہ مامتہ کی۔
صفحہ اکتیس پر رقم ہے کہ ایک آدمی نماز نہیں پڑھتا تھا۔ ہفتہ میں بمشکل صرف جمعہ پڑھ لیتا۔ پھر ایک جمعہ ایسا آیا کہ وہ کسی اور گاؤں گیا تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا، تو اس نے اپنے دل میں کہا کہ کسی مسجد چل کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کا نام ’’مامتہ‘‘ تھا۔ وہ گاؤں میں مسجد کی تلاش میں گھومتا رہا۔ بالآخر ایک شخص سے پوچھ بیٹھا کہ مسجد کہاں ہے، مجھے نماز پڑھنی ہے۔ اس شخص نے جواباً کہا کہ یہاں تو مسجد ابھی تعمیر نہیں ہوئی ہے، اس لئے ہم خود دوسرے گاؤں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں۔ اولذکر شخص نے دل میں سوچا کہ میں تو ویسے بھی نماز نہیں پڑھتا۔ صرف ایک نماز پڑھنے کو دل چاہا، تو اس کے لئے بھی مسجد نہیں مل رہی۔پھر خود سے یوں گویا ہوا: ’’یومونز پہ ہفتہ کی، ھغہ ھم پہ مامتہ کی۔‘‘

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے