702 total views, 1 views today

اس تحریر کے لیے سردار جی سنگھ کی کتاب ’’بابا گرونانک‘‘ سے مدد لی گئی ہے۔

بابا گورو نانک جی مشہور سکھ مذہب کے بانی پاکستانی مٹی کے بیٹے تھے۔ آپ پندرہ اپریل 1469ء کو موجودہ پاکستان کے مشہور شہر ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے۔ ذات کے لحاظ سے آپ راجپوت تھے۔ یہ شہر پاکستان کے ضلع فیصل آباد میں واقع ہے۔ آپ کے والد کا نام کلیان داس تھا جو گاؤں میں پٹواری تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ٹرپتا دیوی تھا جو مذہبی اور رحمدل خاتون تھیں۔ آپ کا خاندان غریب نہیں تھا۔ اس خاندان میں پیار و محبت اور دولت کی فراوانی تھی۔ آپ کی دائی مسلمان تھیں، جن کا نام دولتاں تھا۔ اس لیے زیادہ امکان ہے کہ مسلمانوں کے طریقہ کے مطابق دولتاں زچہ کی خدمت کے وقت وضو سے ہوں گی اور نومولود کی ولادت کے وقت اُس کے ہونٹوں پر مسلمانوں کے طریقہ کار کے مطابق رحمان و رحیم کا نام اور دعائیں ضرور ہوتی ہوں گی جن کی برکات سے یہ بچہ آگے جاکر ایک قابلِ عزت رہنما بن گیا۔ مذکورہ بالا کتاب نے آپ کی تاریخ پیدائش بیس نومبر 1469ء بھی لکھی ہے۔
بابا گورو نانک جس زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ اُس زمانے میں ہندوستان میں مسلمانوں (پٹھانوں) کی حکومت آپس کی دشمنیوں کی وجہ سے کمزور ترین ہوگئی تھی اور موجودہ افغانستان کی طرف سے مغلوں کا سیلاب آنا شروع ہوگیا تھا۔ چوں کہ افغانستان سے آنے والے یہ لوگ بہت زیادہ خونخوار اور لٹیرے تھے، اس لیے بابا نے اُن کو قہرِ خداوندی قرار دیا۔ ڈھائی تین صدیاں بعد ایک اور مقامی مسلمان صوفی بابا بلھے شاہ نے افغانوں (درانی کے لوگ) کے بارے اسی قسم کا فقرہ کہا کہ ’’بلھے بس تیرے تو دو ٹکڑے ہیں ایک وہ جو کھا لیا اور دوسرا وہ جس سے اپنا ستر چھپایا۔ باقی سب کچھ درانیوں کا ہے۔‘‘

’’بلھے بس تیرے تو دو ٹکڑے ہیں ایک وہ جو کھا لیا اور دوسرا وہ جس سے اپنا ستر چھپایا۔ باقی سب کچھ درانیوں کا ہے۔‘‘(Photo: LUMS)

پہلی صدی ہجری کے صرف چند سال اسلامی تعلیمات ریاست و حکومت پر عمل ہوتا رہا، لیکن جونہی مسلمانوں نے بھی بادشاہت شروع کی، تو علمائے حق کو ایک طرف ہونا پڑا۔ لہٰذا مختلف ممالک پر مسلمان تو حکمران تھے، لیکن حکومت اسلامی کبھی بھی اور کہیں بھی نہ رہی۔ یہی حالت ہندوستان کی تھی جس میں حکمران تو مسلمان (اچھے یا برے) تھے لیکن وہ اسلامی نظریۂ حکومت اور اسلامی نظریۂ حقوق العباد کے عموماً پابند نہیں ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دولتمند ہندوستان کی دولت آج تک غیر ہندوستانیوں کے لیے پُرکشش رہی ہے۔ حکمران خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، دولت جمع کرنے کی لالچ سے فارغ نہیں تھے۔ اس لیے ہندوستان میں عام آدمی اس وقت بھی بھوکا، پیاسا، ننگا اور محروم تھا اور آج بھی پوری دنیا میں عوام بورژوا طبقے کی لوٹ کھسوٹ کا شکار ہیں۔ آج افغانستان آدھے سے زیادہ پاکستان کے علاقے پر دعویٰ کرتا ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ ان زرخیز زمینوں کو اپنی ملکیت اور یہاں کے مزدوروں اور کسانوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ ساڑھے پانچ سو سال قبل گورو نانک نے افغان حکمرانوں کے خلاف حقائق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’بادشاہ قصائی ہیں، ان میں فرض کی سمجھ ختم ہوچکی ہے، بادشاہ چیتے کی مانند ہیں اور اُن کے لگان جمع کرنے والے کتوں کی طرح ہیں جو لوگوں کو جاکر دونوں اوقات میں بیدار کرتے ہیں، ان کے غلام لوگوں کو اپنے پنجوں سے زخمی کردیتے ہیں اور ان کا خون رذیل کتوں کی طرح چاٹتے ہیں۔‘‘ (صفحہ نمبر 25)




بادشاہ چیتے کی مانند ہیں اور اُن کے لگان جمع کرنے والے کتوں کی طرح ہیں جو لوگوں کو جاکر دونوں اوقات میں بیدار کرتے ہیں. (Photo: sada tv network)

ڈیورنڈ لائن پر بک بک ہم اپنے لڑکپن سے سنتے ہیں۔ بات حدود ریاست کی نہیں زرخیز زمینوں کی ہے۔ حالاں کہ پاکستان کی زمینیں پاکستانی اقوام کی ہیں۔ ان پر مغربی اور مشرقی لوگوں کا دعویٰ غلط ہے۔
چوں کہ مسلمان حکمران قرآن و سنت کے اصولِ حکمرانی کو ہندوستان میں نہ اپنا سکے تھے، اس لیے عوام میں محرومی اور بے چینی تھی، جس سے رد عمل کے طور پر مختلف غیر مسلمان مصلحین پیدا ہوئے۔ انہوں نے عام آدمی کی حالت سدھارنے کے لیے مختلف تعلیمات کی پرچار کی۔ بابا گورو نانک اُن مصلحین میں اول نمبر پر ہیں۔ چوں کہ حکومتیں عوام کو قتل اور لٹ جانے سے نہ روک سکتی تھیں، اس لیے آپ نے عوام کو اپنا دفاع آپ کرنے کا اصول سمجھایا اور یہ بتایا کہ اپنی اور اپنے خاندان کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہا کرو، یعنی خود انحصاری کی ہدایت۔
سکھ مت میں دس بزرگ نمایاں ترین ہیں، جن میں گورونانک پہلے نمبر پر اور گورو گوبند سنگھ جی (متوفی سات نمبر 1708ء) دسویں تھے۔ انہوں نے سکھ مذہب میں بہت کام کیا اور سکھوں کو مزید کسی کو گورو ماننے سے منع کیا۔ (صفحہ 37)۔ گورو اُس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں کی اصلاح اور حفاظت و رہنمائی کرتا ہو۔

گورو گوبند سنگھ جی، متوفی سات نمبر 1708ء۔ (Photo: dailypost.in)

گورو نانک جی بلا کے ذہین تھے۔ ہر بات کی تہہ تک پہنچنے کی آپ کی عادت بچپن سے تھی۔ ہندی علوم کے ساتھ ساتھ آپ نے عربی اور فارسی اپنے مسلمان استاد مولوی قطب الدین سے سیکھی اور ظاہر ہے کہ آپ نے ان زبانوں کی کتب کا بھی مطالعہ کیا ہوگا۔ آپ انسانوں کے درمیان اچھے اور برے کے قائل نہیں تھے، بلکہ سب کو برابر سمجھتے تھے۔ یہی نظریہ قرآن کا ہے کہ ’’تم سب کو ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا کیا گیا، تم کو مختلف قبائل و اقوام میں صرف اس لیے تقسیم کیا گیا کہ تم پہچانے جاؤ اور خدا خوفی ہی بڑے ہونے کا سب ہوتا ہے۔‘‘ گورو نانک نے انسانوں کے درمیان اونچ نیچ کے اصول کی سختی سے تردید کی۔ (صفحہ نمبر 65)۔
سلطان پور کے حکمران دولت خان لودھی نے آپ کو اپنے اناج کے ذخیروں اور کھیتوں کھلیانوں کا نگران افسر مقرر کیا اور آپ نے یہ ملازمت مکمل دیانت اور امانت کے ساتھ انجام دی۔ دعا کے ایک طلب گار سے آپ نے یہ مطالبہ کیا کہ پہلے اپنی تمام ناجائز کمائی ہوئی دولت خیرات میں غربا کو تقسیم کرو۔ نواب دولت خان سے ایک دفعہ آپ نے فرمایا: ’’میری خواہش ہے کہ تم ایک اچھے مسلمان بن جاؤ۔ اپنی ریاست کو اللہ کی ملکیت تصور کرو۔ (صفحہ نمبر 88) آپ نے کہا ’’خدا کی باتوں کو سمجھنا آسان کام نہیں بصیرت اور آگاہی صرف خدا کی رحمت سے ملتی ہے۔‘‘

بابا گرونانک، دولت خان لودھی کی دوکان میں بیٹھے ہیں۔ (Photo: Exotic India Art)

آپ نے سچائی کی تلاش میں لمبے سفر کیے۔ ہر مذہب کے بزرگوں سے ملے۔ آپ کی تعلیمات سے انسان دوستی، پُرامن بقائے باہمی اور خود انحصاری اور خود اعتمادی کے اسباق ملتے ہیں۔ آپ دنیا کے جانے پہچانے مذہب سکھ مت کے بانی ہیں۔ یہ آپ کی اخلاص اور قابلیت کی بڑی نشانی ہے۔ آپ بائیس ستمبر 1539ء کو کرتارپورہ میں فوت ہوئے۔ آپ کی تعلیمات اور ہدایات میں گہری سچائیاں پنہاں ہیں جن کو صاحبانِ بصیرت ہی جانتے ہیں۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے