721 total views, 1 views today

خدا لگتی کہئے، تو رمضان کی آمد پر ہر طبقۂ زندگی کے افراد کا ردِعمل بھی مختلف ہوتا ہے۔ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ غریبوں کو افطاری اور سحری کی فکر لگ جاتی ہے اور متمول حضرات کے ہاں نت نئے پکوان تیار ہونے لگتے ہیں۔ بیورو کریسی اور بالائی طبقے کے سیاستدانوں کے لیے افطار ڈنر کے اہتمام ہوتے ہیں، مگر سب سے خوشگوار ردِعمل بچوں کی طرف سے آتا ہے۔ بچے خواہ کسی بھی طبقے کے ہوں، ان کے مزاج، پسند و ناپسند اور خواہشیں ایک جیسی اور معصومانہ ہوتی ہیں۔ ان کے لیے ہر افطاری، عید اور ہر سحری ایک خوش کن "ایکٹویٹی” ہوتی ہے۔
ہمارے بچپن کے روزے بھی آج کل کے بچوں کی طرح ہوتے تھے، مگر اُن دنوں غربت زیادہ اور وسائل بہت کم ہوتے تھے۔ لوگوں کی باہمی محبت اور خلوص اتنا سادہ اور زیادہ ہوتا تھا کہ ہر کسی کا وقت گزر ہی جاتا تھا۔ سب سے زیادہ رونق شام کے وقت لگتی تھی۔ بجلی اور لاؤڈ سپیکر تو تھے نہیں۔ شام کو افطاری کے اعلان کے لیے بالیگرام میں سیمنٹ گودام کے قریب توپ چلائی جاتی تھی، جس کی آواز چارباغ، بانڈی گان اور کبل وغیرہ تک سنائی دیتی تھی۔ توپ چلانے والے کا نام جمعہ خان تھا۔ ویسے اس کا پیشہ تو کان کنی تھا اور عقبہ کے قریبی پہاڑ سے پتھر نکال کر روزی کماتا تھا اور اس وقت کے مشہور کان کن یا ’’درنگیوں‘‘ میں شمار ہوتا تھا۔ ایک اور مشہور ’’درنگی‘‘ دوشم ماما تھا جو اس جز وقتی کام کے علاوہ شاہی بینڈ میں سب سے بڑا ڈرم بجاتا تھا۔




بجلی اور لاؤڈ سپیکر تو تھے نہیں۔ شام کو افطاری کے اعلان کے لیے بالیگرام میں سیمنٹ گودام کے قریب توپ چلائی جاتی تھی، جس کی آواز چارباغ، بانڈی گان اور کبل وغیرہ تک سنائی دیتی تھی۔

بچے شام ہی سے گلی کوچوں اور اونچے مقامات پر جمع ہو کر کورس میں گانے لگتے: ’’جمعہ خان، ڈز اوکہ، ڈز پہ مازیگر اوکہ، غونڈہ روپئی والہ خپلے…… لہ کالی اوکہ۔‘‘ جب ’’ڈز‘‘ کا وقت قریب ہوتا، تو جیسے پوری وادی میں خاموشی طاری ہو جاتی۔ جمعہ خان ڈیڑھ فٹ لمبا پیتل کا بنا ہوا گولہ بارودی مواد سے بھر کر اپنی تیاری مکمل کرتا۔ پھر وہ نیچے والئی سوات کے بنگلے کے صحن پر آنکھ جما کر انتظار کرتا اور جب وہاں سے اردلی سفید کپڑا ہلاکر اُسے اشارہ کرتا، وہ اس گولے کو آگ لگا کر خود دور ایک اُوٹ میں چلا جاتا۔ پہلے روشنی کی ایک نہایت خیرہ کن چمک دکھائی دیتی اور پھر اتنے زور کا دھماکا ہوتا کہ ارد گرد کی پوری وادی لرز اُٹھتی۔ ہم بچے اپنے کانوں میں اتنے زور سے انگلیاں دیتے تھے کہ ہماری پوریں دُکھنے لگتیں۔ پھر بھی اس دھماکے کی آواز کم نہ ہوتی۔
سیدو شریف بازار اس وقت چند دوکانوں پر مشتمل تھا۔ ارزانی کا یہ عالم تھا کہ آپ چار آنے کا قیمہ خرید لاتے، تو اس سے باآسانی چھے سات کوفتے بن جاتے تھے۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے بس یہی غنیمت تھی۔ گرمیوں میں آنے کا برف پورے کنبے کے لیے کام آتا تھا۔ برف کی خریداری بھی بڑی مشکل تھی اور اکثر بات تکرار اور مار کٹائی تک جاتی تھی۔ مصنوعی گھی، تیل وغیرہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ اصلی گھی چار روپیہ سیر آتا تھا، اور کچھ نہیں تو اُسی گھی میں گڑ ڈال کر کھایا جاتا تھا۔ اس سے زیادہ لذیز چیز اور کوئی ہو نہیں سکتی۔ یقین نہ آئے، تو آزما کر دیکھیں۔ ہر رمضان میں ہم مستری چاچا سے ایک سفوف سا لاتے، چٹکی بھر دہی کے ’’کنڈول‘‘ میں ڈالتے، تو بہت خوشبودار چٹنی بن جاتی۔

سیدو شریف بازار اس وقت چند دوکانوں پر مشتمل تھا۔ ارزانی کا یہ عالم تھا کہ آپ چار آنے کا قیمہ خرید لاتے، تو اس سے باآسانی چھے سات کوفتے بن جاتے تھے۔ 

افطار اور نماز کے بعد تراویح کی تیاری شروع ہوجاتی۔ بچے سب سے پہلے مساجد کا رُخ کرتے۔ پچھلی صفوں میں خاموشی سے بیٹھ جاتے، مگر تراویح شروع ہوتے ہی شرارتیں کرنے لگتے۔ لوگوں میں صبر و برداشت کا حوصلہ تھا اور بچے تو ویسے ہی سب کو پیارے لگتے ہیں۔ ہمارے افسر آباد کی سرکاری مسجد میں بھی خوب رونق ہوتی تھی، وہاں پر مقیم تمام سول اور فوجی افسران باقاعدگی سے مسجد آتے۔ ہم بھی اپنے والد کے ساتھ اسی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے تھے۔
کبھی بچے روزے رکھتے، تو دن بھر یا آوارہ گردی کرتے یا اگر موسم گرم ہوتا، تو گھروں کے اندر ہی رہتے۔ روزے پورے ہوتے پھر جب عید کی اطلاع آتی، تو دوبارہ توپ چلا کر عید کی آمد کا اعلان کیا جاتا۔ چاند دیکھنے کی زیادہ تر خبر بونیر کے علاقہ ’’بانیگڑے‘‘ سے آتی تھی۔ اسی جگہ سے تربیلہ تک کا علاقہ صاف نظر آتا تھا۔ یہاں پر ریاستِ سوات کا ایک قلعہ ہوا کرتا تھا جس میں ایک صوبیدار اور چند سپاہی مستقل طور پر موجود ہوتے تھے۔ یہ ڈگر ایکسچینج کے ذریعے سیدوشریف سے ہمیشہ منسلک رہتا تھا۔
غرض سوات کے شاہی دور کے رمضان کے مہینے بھی ایک مخصوص رنگ کے حامل تھے۔ ادغامِ ریاست کے فوراً بعد رمضان کا مہینہ آیا۔ ابھی ’’سٹیٹس کو‘‘ چل رہا تھا، تو جمعہ خان کے بیٹے نے حسب معمول ’’توپ‘‘ تیار کی اور والئی سوات کے بنگلے کے صحن کی جانب دیکھنے لگا، مگر وہاں تو مکمل خاموشی تھی۔ فلیگ سٹاف سے سبز رنگ اور سنہرے قلعہ کا شاہی علم اُتر چکا تھا۔ کہاں کی شاہی اور کہاں سفید کپڑے کا سگنل۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور دھم سے توپ چلادی، تو ڈپٹی کمشنر کے بیوی بچے خوف سے حواس باختہ ہو کر چیخنے چلانے لگے۔ میز پر سجائے گئے چھوٹے افطاری کے برتن گرگئے۔ ڈی سی صاحب بہادر غصے سے باہر آگئے اور ڈیوٹی پر موجود پولیس سے پوچھا اور انہوں نے ساری بات بتا دی، تو فوراً حکم دیا ’’توپ داغنا بند۔‘‘
اگلی شام بانڈیٔ، چارباغ اور کبل تک لوگ توپ کی آواز کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے