1,671 total views, 1 views today

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بولی جانے والی اکثریتی زبان ’’سندھی‘‘ ہے۔ وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے اندازہ لگا کر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سندھی زبان سندھ میں آریاؤں بلکہ دراوڑوں سے پہلے کی زبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے سندھی زبان کو اس خطے کی اصلی زبان بتایا اور اسے پروٹو ڈراویڈین قرار دیا، یعنی دراوڑوں سے پہلے کی زبان۔ یہ دعویٰ کرنے والوں میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ڈاکٹر غلام علی الانا اور سراج الحق میمن وغیرہ شامل ہیں۔ بعض مستشرقین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’’سندھی‘‘ دراوڑی زبان سے تعلق رکھتی ہے۔ دیگر قدیم زبانوں مثلاً سنسکرت، عربی وغیرہ سے بھی سندھی کا بہت قریبی تعلق رہا ہے۔
ڈاکٹر غلام حیدر سندھی نے لکھا ہے کہ میں نے سندھی زبان کے نقوش معلوم کرنے کیلئے جب سوات اور شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا، تو پتا چلا کہ سوات کالام میں بولی جانے والی زبان گاؤری اور دیگر زبانوں کا سندھی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ دورانِ تحقیق یہ بھی معلوم ہوا کہ خالص سندھی سات اصوات ان وادیوں میں بولی جانے والی زبانوں میں ابھی تک موجود ہیں۔ یہ بات بھی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ کالامی یا گاؤری زبان اور سندھی میں تذکیر و تانیث، جمع واحد، حروفِ جار اور اسم صفت کی ترتیب و تراکیب وغیرہ میں بھی کافی مشابہت نظر آتی ہے۔




سندھی حروف تہجی۔ (Photo: salrc.uchicago.edu)

ڈاکٹر غلام حیدر سندھی لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ ان کی آپس میں لسانی قربت اور وہ تاریخی تعلق ہے جو مدتوں پہلے سندھی اور ان وادیوں میں بولی جانے والی زبانوں کے درمیان رہا ہوگا۔ سندھی زبان میں باون حروف تہجی ہیں۔ ان میں بارہ ایسے ہیں جو تلفظ کی حد تک سندھی، اردو، پنجابی اور سرائکی میں مشترک ہیں، مگر لکھنے میں ان کی اشکال مختلف ہیں۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ سندھی ایک قدیم زبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھی ادب بھی قدیم ہے۔ سندھی لوک ادب کے علاوہ سندھی زبان میں شاعری اور نثر کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ سندھی لوک داستانوں میں لیلا چنیسر اور عمر ماروی کی داستانیں بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے کہ سندھی شاعری میں “شاہ عبداللطیف بھٹائی” اور “سچل سرمست” کے ناموں سے ناواقف ہوں۔ اگلی کسی نشست میں سندھی زبان کے مختلف لہجوں پر بحث کی جائے گی۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے