454 total views, 1 views today

ہمارے گاؤں سے گزرنے والی عام شاہراہ پر اکثر بحالی کے نام پر کھلا مذاق دیکھنے کو ملتا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا گھٹیا کوالٹی والا کام نہیں دیکھا۔ کسی کو شک ہو تو خود آکر دیکھ لے۔ ایک ’’لے مین‘‘ بھی اس پر تھو تھو کرے گا۔ ایک بزرگ نے (جس وقت کام جاری تھا) مسجد سے نکلتے وقت سامنے شاہراہ پر جاری کام کا جائزہ لیتے ہوئے مجھ سے سوال کیا: ’’صاحب، آپ کو امان اللہ خان یاد ہے؟‘‘ پھر خود ہی کہنے لگا: ’’وہ واقعی “نر” آدمی تھا۔‘‘
یہ نصف صدی سے زیادہ کی بات ہے۔ ہم پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے جب پہلی بار سیدو شریف اور مینگورہ کے درمیان سڑک پر پختگی کا کام شروع ہوا۔ اس وقت شاید کسی سواتی نے تارکول کا نام سنا ہو۔ والی صاحب مرحوم کی حکمرانی کے ابتدائی سال تھے۔ ایک بیرونی شخص کو سڑک کی پختگی کا کام ٹھیکہ پر دیا گیا تھا۔ اُس کا نام غالباً عبدالطیف خان تھا۔ وہ خاکی رنگ کے پتلون اور ہلکے زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے دن میں کئی بار کام دیکھنے کے لیے آتا تھا۔ ہم نے اس کے مختلف مراحل دلچسپی سے دیکھے۔ روڑی کوٹنے اور بچھانے کا مرحلہ اور پھر اس پر تارکول کے تین تہہ بچھانے اور بجری ڈالنے کا عمل۔ ٹھیکے دار مذکور منھ میں بجھا ہوا پائپ لیے، ادھر اُدھر گھومتا رہتا اور ہدایات دیتا جاتا تھا۔
کچھ عرصہ بعد ہم نے ایک اور شخص کو اس پائپ اور پتلون والے کی جگہ کام کرواتے دیکھا۔ وہ بہت خوبصورت شخص تھا۔ ہم ذرا بڑے ہوگئے تھے اور کبھی کبھی ’’شمع‘‘ دہلی نام کا فلمی میگزین پڑھنے کو ملتا۔ اس میں دلیپ کمار کی بعض تصاویر حیرت انگیز طور پر اس نئے ٹھیکہ دار سے مماثلت رکھتی تھیں بلکہ وہ دلیپ سے زیادہ دلکش نقو ش کے مالک تھے۔ یہ دلیپ کے عروج کا دور تھا اور پورے برصغیر میں ان کا توتی بولتا تھا۔
ہمارے ممدوح کا نام ہمیں ’’امان اللہ خان‘‘ بتایا گیا اور ساتھ یہ بھی کہ موصوف مینگورہ کے رہنے والے ہیں۔ پھر ہم ملازمت کے شعبے میں آگئے، تو موصوف سے کئی بار ملنے کا موقعہ ملا اور اُن کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا بھی۔ ان معلومات اور ذاتی مشاہدات پر مبنی کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
امان اللہ خان کے والد کا نام رحمت اللہ خان تھا۔ ان کا صرف ایک بھائی تھا، جن کو لوگ نادر خان کے نام سے جانتے تھے۔ نشاط چوک سے آپ شمال کی طرف ایک گلی میں گھس جائیں، تو آپ کو ایک خوبصورت مسجد نظر آئے گی جو ’’امان اللہ خان مسجد‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے قریب ہی اُن کا اس زمانے کی مناسبت سے ایک عالی شان حجرہ اور رہائش گاہ تھی۔ امان اللہ خان ٹھیکیداری کا کام شروع کرنے سے پہلے والی سوات کے خصوصی باڈی گارڈ دستے میں شامل تھے۔ اس خصوصی گارڈز میں بھرتی ہونا بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی اور سوات کے اعلیٰ خاندانوں کے جوان اس میں لیے جاتے تھے۔ مرحوم والی صاحب نے ان کو ٹھیکیداری کے میدان میں اُتارنے کا فیصلہ کیا، تو سڑکوں کی تعمیر نو اور پختگی کا کام ان کو تفویض کیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے امان اللہ خان کا نام اور کام دونوں نمایاں ہوتے گئے۔ شخصی وجاہت میں تو وہ اپنی مثال آپ تھے ہی، دولت کے آتے ہی ان کی شخصیت میں مزید نکھار آگیا۔ جدید ترین مغربی لباس اور نئی سے نئی گاڑی رکھنا اُن کا معمول بن گیا۔ وہ نہایت نفیس ذوق کے مالک تھے اور لباس میں جدت اور کوالٹی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ نظم و ضبط میں بے مثال اور نہایت سخت تھے۔ کام کے دوران میں جب گاڑیوں کے آنے جانے پر بندش لگتی، تو مجال ہے کہ کوئی اس کی موجودگی میں گاڑی گزار سکتا۔
ایک دفعہ فضاگٹ کے قریب کسی پاکستانی افسر نے جو سیر کے لیے ریاست آیا تھا، تارکول کے اسپرے کے دوران میں اپنی جیپ آگے لے جانے کی کوشش کی، تو امان اللہ خان نے اُسے جیپ سے اترواکر اس کی بڑی بڑی مونچھ کو زور سے کھینچا، تو ایک طرف کی مونچھ ان کے ہاتھ میں آگئی۔ اس واقعہ سے بڑا ’’ڈپلومیٹک ایشو‘‘ کھڑا ہوگیا، مگر مرحوم والی صاحب نے اس معاملے کو ٹھنڈا کروایا۔
امان اللہ خان ہمارے گاؤں کے بزرگ کے مطابق واقعی ’’نر‘‘ آدمی تھا۔ پاکستان کی ریاست سوات میں دخول کے بعد موصوف نے ٹھیکیداری کو خیر باد کہا۔ پشاور میں اُن کی تعمیر کردہ عمارت ’’امان سنیما‘‘ کئی سالوں تک شہر کی خوبصورت ترین عمارت شمار ہوتی رہی۔ امان اللہ خان نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور ائیر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال کے ابتدائی راہ نماؤں میں شامل تھے۔ مرحوم دل کے عارضے کے علاج کے لیے امریکہ بھی گئے تھے۔ مشہور ہٹلر مولوی ان کی مسجد کے پیش امام رہے تھے۔ رحمت اللہ خان اور ہٹلر مولوی کے درمیان اکثر چھیڑ چھاڑ ہوتی رہتی تھی، جو عوامی دلچسپی کا باعث بنتی تھی۔ کسی موقعہ پر اُن کے بارے میں بھی عرض کردوں گا جو صرف سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہوگا۔ الغرض، مرحوم امان اللہ خان کئی خوبیوں کے مالک تھے اور در حقیقت ’’نر‘‘ پختون تھے۔

………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے