1,413 total views, 3 views today

گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ سوات کے سالنامہ ’’ماندور‘‘ کے سال 2003-04ء کی اشاعت میں ڈاکٹر سلطان روم صاحب کا ایک تحقیقی مضمون ’’یو سو متلونہ او دَ ھغے پس منظر‘‘ چھپا تھا۔ مجھے چوں کہ روزِ اول سے کہاوتوں کا پس منظر جاننے کا شوق ہے اور ’’شوق دا کوئی مول نئیں‘‘ کے مصداق اس کی خاطر میں نے مختلف ادوار میں کئی کشٹ اٹھائے ہیں لیکن وہ تمام کے تمام کشٹ صرف اردو کہاوتوں کے لیے بھوگے ہیں۔ اس لیے لگے ہاتھوں ڈاکٹر صاحب سے ان کا مذکورہ مضمون ترجمہ کرنے اور اخبار کے صفحہ کی زینت بنانے کی اجازت لی، تاکہ اپنی مادری زبان ’’پختو‘‘ اور اپنے مادرِ وطن ’’سوات‘‘ کا حق ادا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی جائے۔ ذیل میں دی گئ دس کہاوتوں کا پس منظر جانیے اور ڈاکٹر صاحب کی لمبی عمر کی دعا کیجیے۔
کہاوت کے حوالہ سے ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب لکھتے ہیں کہ ’’کہاوت خاص واقعہ سے جنم لیتی اور بنتی ہے۔ ہر کہاوت اپنے پیچھے کوئی خاص واقعہ یا تاریخ رکھتی ہے۔ کہاوتیں اگرچہ چھوٹے چھوٹے جملے ہوتی ہیں لیکن وزن دار اور بامعنی ہوتی ہیں۔یہ ابنِ آدم کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ہر کہاوت کے پیچھے اپنی ایک تاریخ اور پس منظر ہوتا ہے لیکن دوسری خاص باتوں اور واقعات کی مناسبت سے اسے برجستہ بیان کیا جاتا ہے اور اس سے بولنے والے کا مطلب اُس مخصوص بات کے سِیاق و سِباق میں آسانی کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔ کہاوت ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو دنیا کی تمام زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ ادب کی دیگر اصناف کی طرح کہاوت بھی ایک زبان سے دوسری زبان میں جگہ پاتی ہے مگر ایسی کہاوتیں بھی بے شمار ہیں جو ہر زبان اور مقامی واقعات کی اپنی پیداوار ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کہاوتیں اکثر مختلف علاقوں میں ایک دوسرے سے تھوڑے سے مختلف الفاظ میں پائی جاتی ہیں یا بالفاظ دیگر ایک کہاوت ہر علاقہ میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اکثر کہاوتیں جو الفاظ میں تھوڑی سی تبدیل ہوتی ہیں، ان کا پس منظر بھی مختلف بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ ایسی کہاوتیں اور ان کا پس منظر دیا جاتا ہے جن کا تعلق گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ سوات کے ملحقہ علاقوں سے ہے۔
1:۔ ’’ماندور پہ باران کے خپلہ حصہ اخلی خو زرغونہ نہ کوی۔‘‘
’’ماندور‘‘ اس پہاڑ کا نام ہے جو مٹہ کالج کی پشت پر تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے اور جس کے نام پر کالج کے میگزین کا نام بھی ’’ماندور‘‘ ہی رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود کہ جو بارش علاقہ پر برستی ہے، وہ ماندور پر بھی برستی ہے مگر علاقہ کے دوسرے پہاڑوں کے برخلاف یہ پیڑ پودوں اور دوسری ہریالی سے پاک و صاف ہے۔ اس لیے کہاوت مشہور ہے کہ ’’ماندور پہ باران کے خپلہ حصہ اخلی خو زرغونہ نہ کوی۔‘‘ اس کے لیے اردو میں کہا جاسکتا ہے کہ ماندور بارش کے پانی میں اپنا حصہ لیتا ہے مگر فائدہ (ہریالی کی شکل میں) نہیں دیتا۔
یہ کہاوت اس طرح بھی زبان زدِ عام ہے کہ ’’ماندور پہ باران کے خپلہ حصہ اخلی خو بوٹی نہ زرغونئی۔‘‘ یہی کہاوت اس طرح بھی مشہورہے: ’’ماندورہ، دَ واورُو برخہ سمہ اخلے اؤ دَ لرگو درپکے خس نشتہ۔‘‘ یہاں اس بات کا ذکر بجا ہوگا کہ ’’ماندور‘‘ راجپوتانہ میں ایک اہم جگہ کا نام ہے جو کہ جودھپور سے شمال کی طرف واقع ہے۔
2:۔ ’’گیر پیر شکر درہ۔‘‘
شکردرہ گاؤں سیبوجنی کا نچلا سرا ہے اور نیک پی خیل کے عین سامنے واقع ہے۔ یہ گاؤں ایک ایسی جگہ واقع ہے کہ اگر کوئی نیک پی خیل کی طرف سے جانا چاہتا ہے، تو اُسے کئی موڑ لینا پڑتے ہیں اور اگر کوئی مٹہ کی طرف سے جانا چاہے، تو بھی اولذکر صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک آدمی گاؤں ’’شکر درہ‘‘ جانا چاہتا تھا، اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے راستے میں ایک آدمی سے پوچھا کہ شکردرہ (گاؤں) کہاں ہے؟ اس نے جواباً کہا کہ ’’اُس طرف موڑ لو پھر اِس طرف موڑ لو، اس طرح آخر میں ایک بار پھر اُس طرف موڑ لوگے، تو ہی شکردرہ پہنچو گے۔‘‘ اسی موڑ در موڑ اور ’’گیر پیر‘‘ کی وجہ سے کہاوت ’’گیر پیر شکر درہ‘‘ کا جنم ہوا۔
یہ کہاوت اس طرح بھی مشہور ہے: ’’گیر پیر ٹق شکردرہ۔‘‘
3:۔ ’’لکہ دَ سیند چالیار تہ اَڑم دے۔‘‘
چالیار گاؤں ازیخیل میں دریائے سوات کی بائیں جانب خوازہ خیلہ سے آگے واقع ہے۔ یہ گاؤں لمبے عرصے سے دریا کی ضد پر ہے۔ دریائے سوات نے نہ صرف اس گاؤں کے کھیتوں پر دستِ تصرف دراز کیا بلکہ آبادی تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوا۔ یوں آبادی کو ایک طرح سے خطرہ لاحق ہوا۔ اس لیے کہاوت مشہور ہوئی کہ ’’لکہ دَ سیند چالیار تہ اَڑم دے۔‘‘
چوتھی کہاوت بوجوہ ترجمہ کرنے سے کترا رہا ہوں۔ دراصل ایک عرصہ پہلے (غالباً سنہ دو ہزار چار عیسوی) مذکورہ کہاوت ڈاکٹر سلطان روم اور مٹہ کالج کی انتظامیہ کے لیے دردِ سر بن چکی ہے۔ کیوں کہ کہاوت میں سمبٹ گاؤں کے حوالے سے ایک ایسے واقعہ کا ذکر ملتا ہے جسے گاؤں والوں نے ان ادوار میں اپنی انا کا مسئلہ بنایا تھا اور نوبت احتجاجوں اور ٹریفک کے نظام میں خلل ڈالنے تک پہنچی تھی، اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ بھڑوں کے چھتے کو نہ چھیڑا جائے۔ چوتھی کہاوت کو رکھ چھوڑتے ہیں اور چلتے ہیں پانچویں کہاوت کی طرف۔
5:۔ ’’زما رازق بل دے نہ چے دَگوالیریٔ گل دے۔‘‘
گوالیریٔ گاؤں، مٹہ کے علاقہ میں گاؤں ’’برتانڑہ‘‘ سے آگے واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گوالیریٔ میں ایک گل نامی آدمی تھا۔ ایک اور آدمی اس کے ساتھ دہقان تھا۔ گل نے دہقان کو کام سے فارغ کر دیا۔ پھر کیا تھا جو بھی اُس دہقان سے ملتا یہی رٹ لگاتا کہ ’’گل نے تمھیں کام سے فارغ کر دیا ہے۔‘‘ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بے چارہ دہقان پھٹ پڑا اور کہا کہ ’’زما رازق بل دے دا نہ چے دَ گوالیریٔ گل دے۔‘‘ اور اس کے یہی الفاظ کہاوت کا روپ دھار گئے۔
6:۔ مانڑپیتئی د میلمنو قوتئی، یو سخکال راغے اؤ بل پروس کال۔‘‘
مانڑپیتئی گاؤں ازیخیلو میں خوازہ خیلہ سے آگے جی ٹی روڈ سے فاصلہ پر واقع ہے۔ پرانے زمانے میں پیدل سفر کیے جاتے تھے۔ لوگ شاہ راہِ عام کے ساتھ آباد گاوؤں میں مہمان ہوا کرتے تھے۔ ان گاوؤں میں مہمان عام اور زیادہ ہوا کرتے تھے۔ گاؤں مانڑپیتئی چوں کہ عام راستہ سے ایک طرف واقع تھا، اس لیے یہاں مہمانوں کا رواج نہیں تھا اور کافی حد تک لوگ مہمانوں سے ناآشنا تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ایک مہمان مانڑپیتئی آیا۔ ایک سال بعد ایک اور مہمان آیا۔ اہلِ مانڑپیتئی کو یہ بات بڑی عجیب لگی۔ انھیں یہ دو عدد مہمان حد سے زیادہ لگے۔ کہنے لگے کہ ’’مانڑپیتئی دَ میلمنو قوتئی۔‘‘ کسی نے پوچھا کہ یہاں کتنی تعداد میں مہمان آتے ہیں؟ جواب دیا گیا کہ ’’یو سخکال راغے او یو پروس کال۔‘‘ یہاں سے کہاوت مشہور ہوئی کہ ’’مانڑپیتئی دَ میلمنو قوتئی، یو سخکال راغے اؤ بل پروس کال۔‘‘
7:۔ ’’تیارہ شانگواٹئی دہ خو لرگی پرے سورول غواڑی۔‘‘
شانگواٹئی، سیبوجنی علاقے کا ایک مشہور گاؤں ہے۔ گزرے زمانوں میں قبائیلی لڑائیاں لڑی جاتی تھیں۔ ریاست سوات کے قیام کے بعد لمبے عرصے تک قبائلی اور ’’ڈلہ ایز‘‘ جنگیں جاری رہیں۔ ان ادوار میں مخالف فریقوں نے ایک دوسرے کے بعض گاوؤں کو نقصان پہنچایا، جن میں ایک گاؤں شانگواٹئی بھی نذرِ آتش ہوا۔ ریاستِ سوات کے حکمران نے فیصلہ کیا کہ جن کے ہاتھوں آبادیوں کو نقصان پہنچا ہے، انھیں سرے سے ان علاقوں کو آباد کرنا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ شانگواٹئی کی صرف آبادی نذرِ آتش ہوئی تھی، دیواریں ویسی کی ویسی کھڑی تھیں۔ جس فریق کے ذمے شانگواٹئی کی بحالی کا کام تھا، اس کے لیے یہ اتنا مشکل کام نہ تھا۔ اس لیے کہ دیواریں تیار تھیں۔ صرف چھتیں تعمیر کرنا تھیں۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے:’’’تیارہ شانگواٹئی دہ خو لرگی پرے سورول غواڑی۔‘‘ یوں اُن کی یہ بات ایک مشہور کہاوت کا روپ دھار گئی۔
یہ کہاوت اس طرح بھی کہی جاتی ہے: ’’تیارہ شانگواٹئی دہ خو برگے پے سورول غواڑی۔‘‘
8:۔ ’’کرکیلہ بل لہ او شپے لہ بلکاریٔ لہ۔‘‘
بلکاریٔ گاؤں چپریال سے کچھ ہی فاصلہ پر شامیزو کے علاقہ میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ آدمی تھے جو دن کے وقت کام یا دھقانی کسی اور جگہ کیا کرتے تھے او رات گزارنے بلکاریٔ آیا کرتے تھے۔ اہلِ بلکاریٔ کو ان کی یہ روش پسند نہیں آئی اور کہہ گئے کہ ’’کرکیلہ بل لہ او شپے لہ بلکاریٔ لہ۔‘‘ یہ بات، کہاوت بن گئی۔
9:۔ ’’دَ دروشخیلے غورے دے، لرے وینی او نزدے نہ وینی۔‘‘
برہ درشخیلہ اور کوزہ درشخیلہ، شامیزو میں دو بڑے اور مشہور گاؤں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ درشخیلہ میں ایک آدمی تھا جس کا ایک بڑا گلھڑ (دَ مریٔ بیماری چے پہ پختو کے ورتہ مونگ ’’غُوَر‘‘ وایو) تھا۔ اس وجہ سے وہ نیچے نہیں دیکھ سکتا تھا اور ہمیشہ اوپر ہی دیکھا کرتا تھا۔ نتیجتاً وہ نزدیک پڑی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتا تھا اور دور پڑی اشیا اسے باآسانی نظر آجاتی تھیں۔ یہاں سے کہاوت مشہور ہوئی: ’’دَ دروشخیلے غورے دے، لرے وینی او نزدے نہ وینی۔‘‘
10:۔ ’’گیرہ زما او واک ئے دَ باز خیلے۔‘‘
بازخیلہ، شامیزو میں برہ درشخیلہ سے قبلہ رُو ایک گاؤں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بازخیلہ میں ایک آدمی نے داڑھی رکھی تھی، جو کہ چھوٹی تھی۔ گاؤں کے لوگ اسے کہا کرتے تھے کہ تمھاری داڑھی چھوٹی ہے اسے بڑھاؤ۔ وہ لوگوں کی باتوں سے تنگ آگیا اور داڑھی بڑھالی۔ اس کے بعد لوگ اسے کہنے لگے کہ یہ مقدار میں زیادہ ہے، اب اسے تھوڑا کم کردو۔ اب کی بار اس نے تنگ آکر داڑھی پھر کم کرلی۔ لوگ ایک بار پھر ’’نہا دھو کر‘‘ اس کے پیچھے پڑ گئے۔ نتیجتاً اس نے تنگ آکر کہا کہ ’’گیرہ زما دہ او واک ئے دَ باز خیلے۔‘‘
یوں یہ بات، کہاوت کا روپ دھار گئی۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے