547 total views, 1 views today

آج کی نشست میں ایک ایسی کہانی کو بیان کرنا مقصود ہے جو دو کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ خدا بخشے، ایک کردار اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ کہانی کو آگے لے جانے سے پہلے ایک کردار کو ’’پیر‘‘ اور دوسرے کو ’’مرید‘‘ کا نام دے دیتے ہیں، تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے۔
کہانی پہلے کردار یعنی مرید سے شروع ہوتی ہے جو سیکڑوں کتب کے مطالعہ کے بعد ایک طرح سے ’’آئیڈیل ازم‘‘ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی شخصیت حضرتِ جونؔ ایلیاکے ان اشعار کے مصداق پروان چڑھتی ہے کہ
اِن کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
اِن میں اِک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدۂ عشرتِ انجام نہیں پاسکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پاسکتا
الغرض مرید کتابوں سے سیکھتا ہے کہ ظلم جس بھی شکل میں ہو، ’’ظلم‘‘ ہے۔ اور سب سے بڑا جہاد، ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ مرید یہ باتیں پلے باندھ کر زندگی کے میلے میں قدم رکھتا ہے۔ ابتدا میں وہ ہکا بکا رہ جاتا ہے کہ کتابوں سے جو کچھ اس نے سیکھا ہوتا ہے، عملی زندگی میں اس کا شائبہ تک نہیں مل رہا ہوتا۔ نتیجتاً وہ پوری دنیا کو بدلنے کی سعی لاحاصل میں جُت جاتا ہے۔ کہیں کوئی کیلے کا چھلکا بیچ سڑک پھینکتا ہے، تو مرید کا ناریل چٹخ جاتا ہے۔ کوئی ڈرائیونگ کرتے سمے بلاضرورت ہارن بجاتا ہے، تو مرید کے تن بدن میں گویا آگ سی لگ جاتی ہے۔ القصہ معمولی سی بے قاعدگی بھی اُس پر بوجھ سی بن جایا کرتی ہے اور یوں لوگ اُسے ایک طرح سے ’’پاگل‘‘ تصور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ خدا کی کرنی، ایسے میں اُسے پیر کی شکل میں فرشتۂ رحمت مل جاتا ہے۔ حضرتِ پیر اُسے ’’آئیڈیل ازم‘‘ سے نکل آنے کا درس دینا شروع کر دیتے ہیں اور اس حوالے سے مرید کو دو الگ کہانیاں سناتے ہیں۔ جاری کہانی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پیر کی بیان کردہ کہانیوں کو بھی رقم کرتا چلوں۔ پہلی کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ’’ایک دفعہ ایک شخص مطالعہ میں مصروف ہوتا ہے کہ ایک چھوٹی سی چڑیا کمرہ کے اندر آکر قید ہو جاتی ہے۔ وہ پڑھائی چھوڑ کر کسی طرح چڑیا کو پکڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ چڑیا کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے ساتھ مٹیالا رنگ بالکل نہیں جچ رہا۔ وہ الماری میں سے نیلا رنگ نکال کر چڑیا کے بال و پر رنگ دیتا ہے۔ جب چڑیا مکمل طور پر نیلا رنگ لے لیتی ہے، تو وہ اُسے چھوڑ دیتا ہے۔ چڑیا جیسے ہی قید سے اُڑ کر اپنی برادری میں واپس لوٹتی ہے، تو پوری برادری مذکورہ چڑیا پر پل پڑتی ہے، اور اسے چونچ مار مار کر اتنا زخمی کر دیتی ہے کہ اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ وہ شخص یہ سارا منظر دیکھ رہا ہوتا ہے اور گہری سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر کیوں چڑیا کو اتنی بے دردی سے مارا گیا؟ کافی سوچ بچار کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اگر چڑیا کو نیلا رنگ نہ دیا گیا ہوتا، تو اس کی برادری اسے ہرگز غیر نہ سمجھتی، اور یوں وہ بے موت نہ مرتی۔‘‘

دوسری کہانی کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ’’ایک دفعہ ایک ضعیف الاعتقاد قسم کا شخص گھر سے خالص دودھ کی تلاش میں نکلتا ہے۔ خوش قسمتی سے اسے گھر کے پاس ہی ایک دکان کے اوپر لگے بورڈ پر یہ الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں: ’’یہاں خالص دودھ ملتا ہے۔‘‘ وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر اس وقت کی مناسبت سے پندرہ یا بیس روپے فی کلو ’’خالص دودھ‘‘ کے ادا کرتا ہے، مگر اسے خلافِ توقع پانی ملا ہوا پتلا دودھ ملتا ہے۔ وہ شخص دکان دار کے ساتھ بھڑ جاتا ہے کہ آپ نے جب اپنی دکان کے بورڈ پر جلی حروف میں ’’خالص دودھ‘‘ کا دعویٰ رقم فرمایا ہے، تو پھر اس منافقت کے کیا معنی ہیں؟ بات تو تو میں میں سے جوتی لات تک پہنچ جاتی ہے۔ نتیجتاً دکان دار اس شخص کے گھر جا کر اس کے بڑے بیٹے سے شکایت کر دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ ’’تمہارا والد پاگل ہوگیا ہے۔‘‘ اس طرح ہر روز کسی نہ کسی بے قاعدگی کی وجہ سے شخصِ مخصوص آستین چڑھاتا ہے اور بعد میں لوگ اس کے بیٹے کے پاس آکر وہی پرانا راگ الاپتے ہیں کہ ’’تمہارا والد پاگل ہوگیا ہے۔‘‘ زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو کے مصداق اس کے بڑے بیٹے کے ذہن میں یہ بات گھر کرجاتی ہے کہ واقعی والد صاحب پاگل ہوچکے ہیں، اور یوں ذہنی طور پر ایک صحت مند انسان کو پاگل خانہ بھیج دیا جاتا ہے۔‘‘
حضرتِ پیر دونوں کہانیاں اپنے مرید کے گوش گزار کرکے اسے تلقین فرماتے ہیں کہ ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ میرے پہنے ہوئے کپڑے سب کو ’’فٹ‘‘ ہوں، یا پھر میرے جوتے سب پہنیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہو؟ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ جس طرح ہر شخص کے کپڑوں یا جوتوں کا سائز مختلف ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح خیالات بھی سب کے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ زندگی کی نیا اس سچ کے ساتھ پار لگائی جاسکتی ہے کہ اس دنیا سے کم از کم ایک غلط آدمی کو کم کرنا ہے۔ اور وہ غلط آدمی کوئی اور نہیں ہماری اپنی ذات ہے۔ ہم خود بدلیں گے، اپنی سوچ کو بدلیں گے، تو ہی زندگی بدلے گی، بصورت دیگر چڑیا کی طرح اپنی ہی برادری کا شکار ہوں گے ، یا پھر پاگل خانہ جانا پڑے گا۔‘‘
شائد آپ یہ جان کر حیران ہوں کہ وہ پیر کوئی اور نہیں بلکہ ’’نالۂ بے باک‘‘ کے سلسلہ سے کالم لکھنے والے سوات کے سینئر صحافی محمود رفیق بابو تھے، جو ٹھیک ایک سال پہلے 15 جنوری 2017ء کو اپنے جملہ مریدوں کو داغِ مفارقت دے کر چلے گئے۔




محمود رفیق بابو کی ایک یادگار تصویر

اس میں کوئی شک نہیں کہ محمود رفیق بابو نے راقم جیسے کئی نالائقوں کو جینے کا گُر سکھایا اور جب انہیں پتا چلا کہ اب اِس نالائق سحابؔ کے لیے اُن کا دامن خالی ہے اور جو اُن کے پاس تھا، وہ سب کچھ اسے منتقل ہوچکا، تو بڑے خلوص سے راقم کو “باباجی” کے پاس بھیج دیا۔ اب راقم پچھلے آٹھ دس سالوں سے یہاں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔
اکثر بابو جانی کی باتوں سے جھڑنے والے ان پھولوں کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
من کی جوت جگا دے مولا
ہجر کی آگ بجھا دے مولا
ہم ہیں بندے سارے تیرے
سارے فرق مٹا دے مولا
تیری دودھ اور شہد کی نہریں
میری پیاس بجھا دے مولا
تو چاہے تو ہوسکتا ہے
روتی آنکھ ہنسا دے مولا

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے