384 total views, 1 views today

پرانے وقتوں میں سوات میں لڑکے بالے جو کھیل کھیلا کرتے تھے، ان میں ایک ’’اَلہ داد‘‘ بھی تھا۔ لڑکے اکثر اس کھیل کو عصر کے وقت کھیلا کرتے۔
’’اَلہ داد‘‘ لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ کھیلنے کے علاوہ الگ الگ بھی کھیلتے تھے۔ مذکورہ کھیل میں ایک کھلاڑی (لڑکا یا لڑکی) ’’خرسکانڑے‘‘ کی حیثیت سے کھیلا کرتا تھا (خرسکانڑی کو سکسکونڑے، سرسکانڑے، ببوزے یا غوباڑے بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کھلاڑی ہوتا، جو محض کھیل کے اسرار و رموز جاننے کی غرض سے کھیل کا حصہ ہوا کرتا۔ اسے اگر کھیل سے نکال بھی دیا جاتا، تو متعلقہ ٹیم یا کھیل پر کوئی اثر نہ پڑتا، مترجم)۔ خرسکانڑے بہت کم ’’اَلہ داد‘‘ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ وہ اس لئے کہ مذکورہ کھیل میں مار قدرے زیادہ کھانا پڑتی تھی، جس کی وجہ سے کھلاڑی کا بسا اوقات زخمی ہونے کا اندیشہ بھی ہوتا تھا۔
’’اَلہ داد‘‘ میں کھیلنے کی ایک حد مقرر ہوتی تھی۔ اس میں دو ٹیمیں حصہ لیتی تھیں جو تعداد میں ایک دوسرے کے برابر ہوتی تھیں۔ اگر دونوں ٹیموں میں کسی ایک کا کپتان غدار یا کاہل ہوتا، تو پوری ٹیم کی گویا شامت آجاتی تھی اور نتیجتاً دوسری ٹیم ایک طرح سے پہلی ٹیم کی مارتے ماتے درگت بنا لیتی تھی۔
کھیل کی نوعیت یوں ہوتی تھی کہ تمام کھلاڑی ایک کھلے میدان میں جمع ہوتے اور دو ٹیموں میں تقسیم ہوجاتے۔ اس کے بعد ’’ٹاس‘‘ کا منفرد طریقہ ’’لوند، وچ‘‘ اپنایا جاتا (مذکورہ طریقے میں ایک چھوٹے سے دو رُخے پتھر کا انتخاب کیا جاتا۔ پتھر کے کسی ایک رُخ پر تھوک کر اسے گیلا کیا جاتا اور دونوں ٹیموں کے کپتانوں میں سے مشاورت کے بعد کوئی ایک کپتان پتھر کے خشک یا گیلے حصہ کا انتخاب کرتا۔ پتھر کو ہوا میں اچھالا جاتا۔ نتیجتاً ٹاس جیتنے والا کپتان آگے کھیلنے کا فیصلہ کرتا۔ اس طریقے کو ’’لوند، وچ‘‘ کہا کرتے)۔ کھلاڑیوں کی تقسیم کے بعد ٹیموں کو ’’ٹاس‘‘ کے ذکر شدہ منفرد عمل سے گزرنا پڑتا۔ اس کے بعد دو تین گز لمبی رسّی لی جاتی۔ ٹاس ہارنے والا کپتان اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ایک جگہ بٹھا لیتا۔ رسّی کا ایک سرا اپنی ٹیم کے کسی کھلاڑی کو تھما لیتا جبکہ دوسرا سرا زمین پر رکھ لیتا۔ دوسری ٹیم کا کپتان اپنے ساتھیوں کو ایک جگہ چھپا کر بٹھا دیتا۔ اس عمل میں ٹاس ہارنے والے کپتان کی آنکھیں ہاتھوں کی مدد سے چھپائی جاتیں، تاکہ دوسری ٹیم کے کھلاڑی چھپتے سمے اُسے نظر نہ آئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری ٹیم کا کپتان اپنے کھلاڑیوں کو کسی محفوظ جگہ چھپنے کی آواز بھی لگایا کرتا۔ جب دوسری ٹیم کے کپتان کو یقین ہوجاتا کہ اب اس کے کھلاڑی چھپنے میں کامیاب ہوگئے، تو ہی پہلی ٹیم کے کپتان کی آنکھوں سے اپنے ہاتھ ہٹا دیتا۔ اس کے بعد دوسری ٹیم کے کپتان کو اجازت ہوتی کہ وہ پہلی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ڈھونڈ سکتا ہے۔ اگر کپتان چھپی ہوئی ٹیم کا سراغ پالیتا، تو بھاگم بھاگ اپنی ٹیم کی طرف دوڑ لگا دیتا اور رسّی اٹھا کر اپنی ٹیم کی کھوالی کرنے ہوشیار کھڑا ہوجاتا۔ اور اگر ایسا کرنے میں ناکام ہوتا، تو پھر کھیل کے اصول کے مطابق اُسے اپنی تلاش جاری رکھنا پڑتی۔ زمین پر بیٹھی ہوئی ٹیم کو ایک خدشہ رہتا کہ کہیں ہمارا کپتان دوسری ٹیم کی تلاش میں دور نہ نکل جائے، اور دوسری ٹیم کے کھلاڑی آکر مارتے مارتے کہیں ہمارا چمڑا ہی نہ ادھیڑ دیں۔ زمین پر بیٹھی ہوئی ٹیم جیسے ہی دوسری ٹیم کو اپنی طرف بھاگتے ہوئے آتے دیکھتی، تو پہلی ٹیم کے کھلاڑی چیخنا شروع کر دیتے: ’’الاداد، الاداد۔‘‘ اس نعرے کے ساتھ ہی پہلی ٹیم کا کپتان اپنے کھلاڑیوں کو بچانے کی غرض سے دوڑتے ہوئے واپسی کا راستہ اختیار کرتا اور پہنچ کر رسّی اٹھا لیتا۔ اگر کپتان بروقت نہ پہنچ پاتا، توزمین پر بیٹھی ہوئی ٹیم کی درگت بن جاتی۔ رسّی ہاتھ میں لینے کے بعد دوسری ٹیم چوکنا ہوجاتی۔ اس دوران میں دوسری ٹیم کے کھلاڑی کوشش کرتے کہ بیٹھی ہوئی ٹیم کے کسی نہ کسی کھلاڑی کو چپت رسید کریں جبکہ بیٹھی ہوئی ٹیم کا کپتان مستعدی سے رسّی پکڑے اپنی ٹیم کے گرد گول چکر کاٹتا۔ چکر کاٹتے اگر دوسری ٹیم کا کوئی کھلاڑی اس کے ہاتھ لگتا، تو اُسے ’’غَل‘‘ یعنی چور کہتے اور یوں بیٹھی ہوئی ٹیم کو گلو خلاصی مل جاتی۔
اس کے بعد دوسری ٹیم زمین پر بیٹھ جاتی اور ذکر شدہ عمل دُہرایا جاتا۔
’’اَلاداد‘‘ میں مار کھانے سے بچنے کے لئے کھلاڑی اکثر کمر سے کمر ملا کر بیٹھ جایا کرتے، یا اکثر تکیہ قسم کی چیز کمر کے ساتھ چوری چھپے باندھ لیتے، تاکہ مار پڑتے سمے درد کم محسوس ہو۔ اس کھیل میں ٹیم کا تمام تر انحصار کپتان پرہوتا۔ وہ جتنا چُست ہوتا، ٹیم کے باقی ماندہ کھلاڑیوں کو اتنا کم مار پڑتی۔
’’اَلاداد‘‘ میں اصولاً صرف کمر پر مار کھلائی جاسکتی تھی۔ یوں اگر اصول کے خلاف کسی کھلاڑی کو سر یا چہرے پر تھپڑ دیا جاتا، تو احتجاجاً لڑائی شروع ہوجاتی اور احتیاطاً کھیل بھی ختم کر دیا جاتا۔
قارئین، اگر یہ کھیل کسی کو برا دکھائی دیتا ہو، تو دکھائی دے۔ ہم اسے بہترین تصور کرتے ہیں۔ اب نیا زمانہ ہے، نیا دور ہے۔ زندگی کی اقدار بدل چکی ہیں اور وقت کے ساتھ مزید بدل رہی ہیں۔ جیسا کہ ایک پرانا ٹپہ ہے:
د یار می لور پڑے پہ لاس کی
زمہ پہ ناز پسی شوملے وررسوومہ
اب نئی اقدار اور نیا دور ہے۔ اس لئے ایک لڑکی کچھ یوں گویا ہے:
د یار می بیٹ گولہ پہ لاس کی
زم چی پہ ناز پسی ویکٹی گرزوومہ
(نوٹ:۔ درج بالا سطور شاہ وزیر خان خاکیؔ، کی تحقیقی تصنیف ’’پہ سوات کی د ماشومانو زڑی لوبی‘‘ کا اُردو ترجمہ ہیں، جسے شعیب سنز بک سیلرز اینڈ پبلشرز نے چھاپا ہے۔ کتاب، شعیب سنز جی ٹی روڈ کے علاوہ ہر اچھے بک سٹال سے حاصل کی جاسکتی ہے، مترجم)

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے