1,654 total views, 1 views today

تاریخی کتب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ سوات میں پختونوں کی آمد سلطان محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ ہوئی۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ محمود غزنوی خود سوات نہیں آئے تھے بلکہ اس کی فوج آئی تھی۔ اس وقت جو لوگ آئے تھے انہیں مختلف نام دئیے گئے ہیں جیسا کہ سواتیان، دہگان وغیرہ۔ باقاعدہ طور پر یوسف زئی پختون سولہویں صدی کے دوسرے عشرے میں سوات آئے ہیں۔ یوسف زئی قوم سے پہلے یہاں جو سواتی قوم آباد تھی، ان کے اپنے حکمران تھے، جنہیں جانگیری سلاطین یا جہانگیری بادشاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں زبان کے حوالہ سے ذکر’’تواریخِ حافظِ رحمت خانی‘‘ میں کچھ اس انداز سے ملتا ہے:’’در آن وقت سلاطینِ سوات وغیرہ مردم جہانگیر یہ زبانِ گبری می گفتند و رعایائے سوات زبان یادری می گفتند و در آن وقت اہلِ سوات باہمی دو زبان تکلم می کردند۔‘‘ یعنی یوسف زئیوں کی آمد سے قبل سوات میں جو لوگ رہائش پذیر تھے، ان کے حکمران گبری زبان بولا کرتے تھے جبکہ رعایا دری یعنی فارسی زبان بولا کرتی تھی (کتاب میں ’’یادری‘‘ زبان لکھا گیا ہے جبکہ کتاب کے مدیر اسے ’’دری؍ فارسی‘‘ بیان کرتے ہیں)۔ اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت اہلِ سوات دو زبانیں بولا کرتے تھے۔ ایک دری(فارسی) اور دوسری گبری۔

تواریخ حافظ رحمت خانی (Photo: Gurjar History Conference)

اب اس بحث کو آگے بڑھاتے ہیں کہ اگر یہ لوگ پختون تھے، تو یہ فارسی زبان میں کیسے بات کرتے تھے؟ بعض محققین جنہوں نے اس دور کی نسلیات پر کام کیا ہے۔ ان کے بقول جو لوگ سلطان محمود غزنوی کی فوج کا حصہ تھے اور سوات آئے تھے، ان میں پختون نہیں تھے۔ اگر ہوتے، تو لکھی گئی تاریخ میں پشتو کا ذکر ضرور آتا۔
مذکورہ تاریخی کتاب ’’تواریخِ حافظِ رحمت خانی‘‘ میں ایک اور جگہ رقم ہے: ’’سلطان اویس (اس وقت سوات کا حکمران) کی فوج کا سپہ سالار میرہندہ تھا۔ جب یوسف زئی اور سلطان اویس کی فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا، تو جب کر یم داد ابن عثمان الیاس زی ابازی نے میر ہندہ کو سلطان اویس کی صف میں دیکھا، تو اسے فارسی زبان میں آواز دی: ’’اے میر ہندہ! اگر مرد ہستی و خیال جنگ داری بیا کہ من حاضرم۔‘‘ اب وہ آدمی جو فارسی میں میر ہندہ کو آواز دے رہا ہے،وہ پختون ہے، لیکن مدمقابل کے ساتھ فارسی بول رہاہے۔ آگے لکھا گیا ہے: ’’و درآن وقت مردم یوسف زئی از کابل تازہ آمد بودند، فارسی خوب می گفتند۔‘‘ یعنی اس وقت یوسف زئیوں کی کابل سے تازہ آمد ہوئی تھی۔ اس لیے وہ فارسی میں آسانی اور روانی کے ساتھ بات کرسکتے تھے۔ اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ یوسف زئیوں کی آمد سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے فارسی استعمال کی ہے یا دوسری زبان؟ محمود غزنوی کے ساتھ جو افغان قبیلے یہاں آئے تھے، ان کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ لوگ نسلاً پختون تھے کہ نہیں۔ محققین کی اس طویل بحث اور دیگر شواہد سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہیہ لوگ نسلاً پختون تھے یا نہیں مگر پختو زبان بولتے تھے۔




اوڈیگرام (سوات) میں قائم ہزار سالہ پرانی سلطان محمود غزنوی مسجد۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اب یہ سوال کہ سوات کی مٹی پر پختو زبان کی پہلی تحریک کیسے اٹھی؟ تو اس حوالہ سے عرض ہے کہ ایک عام تاثر یہ ہے کہ قوم پرستی یا پختو زبان کیلئے پہلا قدم پیرروخان (بایزید انصاری) نے اٹھایا ہے۔ اس حوالہ سے کئی لوگوں نے دفتر کے دفتر سیاہ کئے ہیں۔ ایک کتاب’’ د پیر روخانہ تر باچا خانہ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، مگر جب ہم ’’مخزن‘‘ اور ’’ خیرالبیان‘‘ کے متن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ پیرروخان سے اخوند درویزہ بڑے قام پرست ہیں اور انہوں نے پختو زبان کے حوالہ سے زیادہ بات کی ہے۔

پیرروخان سے اخوند درویزہ بڑے قام پرست ہیں۔ (Photo: Pashto Academy Peshawar)

اس حوالہ سے مخزن سے چند مثالیں حاضر خدمت ہیں:
درویزہ بیان پہ پختو کڑ
پہ پارس پہ عرب کی عالمان دی
خپل قام ورتہ پہ خپلہ ژبہ وائی
ولی کم سوک پیدا شوی لہ افغانانو
یعنی جب پارس اور عرب میں لوگ اپنی بولی بولتے ہیں، تو پھر ہم اپنے لوگوں کے ساتھ اپنی بولی کیوں نہ بولیں؟ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ یہاں سوات میں قام پرستی کی سوچ اخوند درویزہ سے پروان چڑھی ہے۔
دوسری جگہ اخوند درویزہ کہتے ہیں:
درویزہ چی عربی پختو کوینہ
دائے واڑہ شفقت پہ افغانان دے
ہر چی دا بیان پہ یاد کہ
افغانانو لرہ دا بیان تمام دے
یعنی یہ اس علاقہ میں پہلا شخص ہے جو پختو زبان کی بات کرتا ہے اور اس نکتہ پر زور دیتا ہے کہ جس طرح دیگر اقوام اپنی اپنی بولیاں بولتی ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ پختون قوم اپنی بولی نہیں بولتی؟ یہ سلسلہ آگے چل کر اس کے بیٹے اخوند کریم داد کے اشعار میں بھی ملتا ہے:
کریم داد ہ تہ سہ بے باطنو نہ ئے
چی پہ پختو ژبہ دی پوھہ خلقہ کہ
کریم داد کے بعد عبدالحلیم کہتا ہے:
واورئی یارانو دا بیان ئے پہ فارسی وو
پہ پختو ژبہ د حلیم د خلے گفتار شی
اخوند درویزہ کی کتاب کا سوات پر گہرا اثر رہاہے۔ اس حوالہ سے خوشحال خان خٹک کے کچھ اشعار ملا حظہ ہوں جن سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اخو ند درویزہ کی سوچ یا ان کی کتاب’’ مخزن‘‘ کا یہاں کتنا اثر تھا۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
کہ ژوندے شی افلاطون
سوات کی اووینی سکون
اکوزئی وتہ بیان کہ
کتابونہ د فنون
ہدایہ کفایہ دوانڑہ
پہ پختون کاندی موزون
دوی بہ وائی چی داسہ دی
مخزن خہ دے د اخون
دوسری جگہ کہتے ہیں:
مخزن د درویزہ، د میاں نور شیخی پیری
اثالث بالخیر د حمزہ خانی میری
داددری توکہ ڈیر قدر ڈیر عزت لری پہ سوات کی
وخدائے ورتہ خکارہ دی وئیل نہ شی پہ زیری
ایک اور جگہ یوں کہتے ہیں:
دوہ کارہ دی پہ سوات کی کہ خفی دی کہ جلی
مخزن د درویزہ دے بل دفتر د شیخ ملی
اس طرح یہ بھی اس حوالہ سے کوٹ کر نے کے لائق ہے کہ
یو کتاب دے درویزہ سرہ جوڑ کڑے
چی د سوات خلق ئے لہ علمہ دے موڑ کڑے
یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مخزن ہر طرح سے ایک اسلامی کتاب ہے، مگر میں نے کوئی پندرہ سے زائد حوالہ جات اس میں سے ایسے نکالے ہیں جن سے یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس دور میں جتنا قام پرست درویزہ تھا، کوئی اور نہیں تھا۔
(نوٹ:۔ یہ تحریر ڈاکٹر محمد علی دینا خیل کے پشتو مقالہ کا ترجمہ ہے جو انہوں نے حالیہ جہانزیب کالج کے شعبۂ تاریخ کے یک روزہ سیمینار میں پیش کیا تھا۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر محمد علی دینا خیل بہت جلد مفصل تحریر شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، از مترجم۔)

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے