515 total views, 1 views today

یہ کوئی ستاسی اٹھاسی کی بات ہے۔ ہم طالب علم تھے۔ لا اُبالی کا زمانہ تھا لیکن گھر کے پڑھے لکھے ماحول کے سبب ہماری تربیت قلم کتاب کے ساتھ بندھی رہی۔ فارغ وقت میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ اتفاق سے وہاں بھی کارکردگی اچھی ہونے کی بنا پر کپتان کا عہدہ مل گیا۔ بہت جلد “بابو کرکٹ کلب عالم گنج” کی دھاک قرب و جوار کی پڑوسی دیہات تک بیٹھنا شروع ہوگئی۔ اُنہی دنوں بانڈیٔ (خوازہ خیلہ) کی ٹیم سے بھی میچ ہوا کرتے تھے، جس میں نزیر احمد کے ساتھ پینگیں بڑھیں۔ اُن کی خوازہ خیلہ میں کتابوں کی دکان تھی۔ وہ گراؤنڈ میں بھی میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر ششدر رہ جایا کرتے تھے۔ کہنے لگے: ’’ہم اپنی دکان میں کتابیں کرایہ پر بھی دیتے ہیں۔‘‘ بس پھر کیا تھا۔ میرا دوسرے تیسرے دن دکان آنا جانا لگ گیا۔ ایک روپیہ یومیہ کے حساب سے کتاب گھر لاتا اور دوسرے تیسرے دن کتاب واپس لوٹا کر کوئی اور کتاب اُٹھال اتا۔ دکان (حبیب بکسیلرز) میں بیٹھے حبیب الحق حیرت سے پوچھتے: ’’آپ نے اتنی جلدی کتاب پڑھ بھی لی؟‘‘ میں اثبات میں سر ہلا کر مسکرا دیتا۔ یوں نسیم حجازی کی ’’داستانِ مجاہد‘‘ سے لے کر ’’قیصر و کسریٰ‘‘ تک کا سفر طے کیا۔ اسلم راہی ایم اے کے ناول ’’اندھیروں کے ساربان‘‘ سے لے کر ’’فرنگن‘‘ تک کے لفظوں کو چاٹا۔ رضیہ بٹ سے لے کر خدیجہ مستور تک کو پڑھا۔ یہی پہ ہم منٹو، بیدی، عصمت اور جسونت سنگھ سے شناسا ہوئے۔ یہیں پہ ہم نے میرؔ، غالبؔ، مومنؔ و داغؔ جیسے اساتذہ کے دواوین پڑھے اور چنیدہ چنیدہ اشعار ڈائریوں میں نوٹ کئے۔ یہاں بھی تشنگی تمام نہ ہوئی، تو سکولوں کی لائبریریوں سے استفادہ کرنے لگ گئے۔ جہاں سے مفت میں کتابیں مل جایا کرتی تھیں۔ بعد ازاں میونسپل لائبریری مینگورہ میں احمد اللہ جیسے مہربان کی مہربانی نے تمام کس بل نکال دیئے۔




حبیب بک سیلر میں ہم منٹو، بیدی، عصمت اور جسونت سنگھ سے شناسا ہوئے۔ یہیں پہ ہم نے میرؔ، غالبؔ، مومنؔ و داغؔ جیسے اساتذہ کے دواوین پڑھے اور چنیدہ چنیدہ اشعار ڈائریوں میں نوٹ کئے۔ (Photo: tumblr.com)

وقت گزرتا گیا۔ نذیر احمد ڈی وی ایم کرنے افغانستان چلے گئے۔ وہ ڈاکٹر بن کر واپس آئے، تو ہم بھی اُن کے بھانجے شاہد الحق (مرحوم) کے ساتھ ماسٹر کرکے ماسٹر بنے بیٹھے تھے، لیکن دکان پر آنا جانا معمول رہا۔ تب تک حبیب کے ساتھ گاڑھی چھننے لگی تھی۔ آج اٹھائیس سال گزرنے کے باوجود بھی میری روٹین میں ترمیم نہیں ہوئی۔ ہر دوسرے تیسرے دن حبیب بک سیلرز نہ جاؤں، تو گویا کسی ادھورے پن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جب میں نے کالم لکھنا شروع کئے، تو اُن کے بڑے بھائی عطاء الحق جو پشاور میں انفارمیشن ڈائریکٹر ہیں، قریباً ہر کالم پہ فون کرتے اور رہنمائی و مشاورت کے بعد میری حوصلہ افزائی کرتے۔ اُن کی قدر افزائی کا میں ممنون ہوں۔ خدا بخشے ان کے ایک اور بڑے بھائی عنایت الحق بھی میرے کالم شوق سے پڑھتے، جن کا شریف النفس بیٹا سجاد ہمیں باپ جیسی محبت دیتا ہے۔

مرحوم حبیب الحق (حبیب بک سیلر، خوازہ خیلہ) کی فائل فوٹو

دکان میں بیٹھے حبیب الحق بظاہر تو اک سادہ سے دکان دار نظر آتے، لیکن اُن کے اندر علم و ہنر کے بڑے کامل جوہر موجود تھے۔ وہ بڑے ذہین، فطین اور مہین تھے۔ اُن کا ہر موضوع پہ بڑا دقیق مطالعہ تھا۔ وہ دھیمی آواز میں مسکان زیر لبی کے ساتھ گفتگو کیا کرتے تھے۔ بلا کا حافظہ رکھتے تھے۔ وہ سچے، کھرے اور اصولوں کے پکے انسان تھے۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولا کرتے تھے۔ نہ ہی روایتی دکان داروں کی طرح جھوٹی قسمیں اُٹھایا کرتے تھے۔ زید، امر، بکر سبھی اپنوں پرایوں کے لیے ایک ہی ریٹ چلایا کرتے تھے۔ ایک ہی دام بتایا کرتے تھے۔ کوئی چھیڑ کرتا، تو چہرے پہ تغیر آجاتا۔ یہی غصہ اُن کے بلڈ پریشر کا سبب بھی بن گیا۔ گزشتہ دنوں جبکہ آپ نے نصف صدی کا سفر بھی طے نہیں کیا تھا، فشارِ خون ایسا بڑھا کہ فالج آن گرا۔ فوراً پشاور کے بڑے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں تک پہنچایا گیا۔ بیماری کے تیسرے روز میں نے اُن کا فون ملایا کہ خیریت دریافت کروں۔ فون اٹینڈ نہ ہوا، تومیرا ماتھا ٹھنکا۔ تھوڑی دیر بعد اُن کے چھوٹے بھائی ریاض احمد کی کال بیک آئی اور کہا کہ ’’حبیب بات کرنے کے لائق نہیں۔‘‘ چند روز بعد اُنہیں گھر واپس لایا گیا۔ میں، احمد استاد صاحب اور عالم شیر اُن کے پُرسے کا پروگرام بنا ہی رہے تھے کہ اطلاع آئی کہ ’’حبیب بک سیلر فوت ہوگئے ہیں۔‘‘ (انا للہ و انا الہ راجعون)۔ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔
حبیب، اک شخص کا نام نہیں اک ادارے کا نام تھا۔ وہ ہر شاعر و ادیب کی حوصلہ افزائی کے لیے نقد کتابیں خرید کر دکان میں رکھ لیا کرتے تھے۔ اُنہیں پتا تھا کہ پشتو کی کتابیں نہیں بکتیں، لیکن وہ رکھ لیتے۔ اُن کی اسی ادا پہ عادل تنہاؔ فدا تھے۔ حبیب کی دکان میں مجھ سمیت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے درجنوں ٹیوٹرز کی سیکڑوں مشقیات آیا کرتیں۔ درجنوں طلبہ و طالبات کی فاصلاتی کتب، رول نمبر، رزلٹ اور دیگر خطوط آیا کرتے تھے۔ کورئیر سروس والوں کے لیے مفت میں خدمت، اساتذہ حضرات کی تنخواہوں کے چیک، گوشوارے، ٹیلی فون، بجلی اور دیگر بل جمع کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کے فارم فِل کرنا، لوگوں کی اسنادو دیگر کاغذات کی تصدیق کرنا اور رہنمائی و مشاورت کے ساتھ ساتھ علاقے بھر کی غمی و خوشی، پُرسے و بیمار کی تیمارداری کرنا اس ایک شخص کے سر تھا۔ یقینا ان کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکے گا۔ اُن پہ یہ شعر بالکل صادق آتا ہے کہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اِک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا
وہ حج پہ بھی گئے تھے۔ نہایت پارسا، نیک اور نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔ میں اپنے موبائل سے اُن کا نمبر کیسے ڈیلیٹ کر پاؤں گا؟ یہ میرے لیے اِک بہت بڑا کربناک لمحہ ہوگا۔ خدا اُن کی مغفرت کرے، اُن کی قبر مبارک نور سے بھر دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے