872 total views, 1 views today

قدیم شاہراہ ریشم کے دہانے پر قائم گندھارا کی سرزمین نے اپنے دامن میں متنوع تہذیبوں کو پالا پوسا ہے۔ گندھارا کی سرزمین اپنی شاندار تہذیب، پُرامن اور دلکش ثقافت کے اثرات روس کے دریائے آمو تک پہنچاتی ہے جبکہ چینی سرحدی علاقوں میں بھی اس کے آثار ملتے ہیں۔ اس کی آخری سرحد مانکیالا کا اسٹوپا تھی۔ (آزاد دائرۃ المعارف)
گندھارا موجودہ شمالی مغربی پاکستان جو مغرب میں ہندوکش پہاڑی سلسلہ کے عقب سے لے کر شمال میں ہمالیہ کے تلہٹی تک اور پنجاب میں پوٹھوہار تک جبکہ افغانستان میں جلال آباد کی سرزمین تک پھیلے ہوئے علاقوں اور ان سے منسلک تہذیب کو کہتے ہیں۔ یہ تہذیب تقریباً چھٹی صدی قبل مسیح سے لے کر گیارہویں صدی عیسوی کے آغاز تک قائم رہی۔ یہ علاقہ ایران کے ہخامنشی سلطنت کے زیر اثر رہا اور جہاں 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم آیا۔ چینی سیاح ہیون سانگ جو ساتویں صدی عیسوی میں یہاں آیا تھا، نے گندھارا کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ موجودہ پاکستان کے پشاور، چارسدہ، مردان، سوات، دیر اور باجوڑ کے علاقوں کے علاوہ پنجاب کا پوٹھوہار اور افغانستان کے کابل اور جلال آباد کے علاقے گندھارا میں شامل تھے۔ جب کہ بعض مؤرخین اور آرکیالوجسٹ کے مطابق سوات براہ راست گندھارا میں شامل نہیں تھا۔

موجودہ پاکستان کے پشاور، چارسدہ، مردان، سوات، دیر اور باجوڑ کے علاقوں کے علاوہ پنجاب کا پوٹھوہار اور افغانستان کے کابل اور جلال آباد کے علاقے گندھارا میں شامل تھے۔ (Photo: karakorumexpedition.com)

لفظ گندھارا کے کئی معنی ہیں لیکن ان میں سب سے مشہور اور مستند یہ ہے کہ گندھارا دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی ’’قند‘‘ یا ’’گند‘‘ جس کے معنی خوشبو کے ہیں اور ’’ہار‘‘ کا مطلب زمین کا ہے یعنی ’’خوشبو کی زمین‘‘ جبکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ لفظ ’’گند‘‘ یا ’’قند‘‘ جس لفظ سے نکلا ہے اس کے معنی کنویں یا تالاب کے ہیں۔ زیادہ تر مؤرخ اور آرکیالوجسٹ دوسری روایت پر ہی متفق نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ گندھارا میں شامل زیادہ تر علاقوں میں جھیلیں قائم تھیں یا اس کی سرزمین چوں کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے درمیان واقع زرخیز علاقہ تھی، تو اس لئے اسے پانی یا تالابوں کا علاقہ کہا جاتا تھا۔
محمد بن نوید کے مضمون ’’گندھارا سویلائزیشن‘‘ جو سات جولائی 2015ء کو ’’اینشنٹ ہسٹری انسائیکلو پیڈیا‘‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے، کے مطابق گندھارا کی سیاسی تاریخ کچھ یوں ہے: ہخامنشی (600-40 0BCE)، یونانی (326-32 4BCE)، موریہ (324-18 5BCE)، ہندو یونانی راج (250-19 0BCE)، تورانی یا سیتھی (2nd Century to 1st Century BCE)، پارتھیائی (1st Century BCE to 1st Century CE)، کشان (1st to 5th Century CE)، سفید ہن (5th Century CE)، ہندو شاہی (9th to 10th Century CE) اس کے بعد مسلمانوں کی فتوحات شروع ہوتی ہیں جو ہندوستان کے قرون وسطی دور میں داخل ہوتی ہیں۔
ہخامنشی اور سکندر اعظم کی حکمرانی:۔ دارا اول نے556 قبل مسیح میں گندھارا کو ہخامنشی سلطنت میں شامل کیا مگریہ سلطنت زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور بعد میں اسے ہخامنشی سلطنت میں خراج دینے والی ریاست کے طور پر پہچانا گیا جسے کشترپ کے نام سے پکارا گیا۔ اس نے بعد میں سکندر اعظم کو خراج اور مہمان نوازی دینے کا کام شروع کیا۔ آخرِکار سکندر اعظم نے اسے ہخامنشی سلطنت کے ساتھ فتح کیا۔ گندھارا میں ہخامنشی سلطنت کی حکمرانی چھٹی قبل مسیح سے 327 قبل مسیح تک رہی۔

سکندر اعظم 356 قبل مسیح تا 323 قبل مسیح۔ (Photo: Pintrest.com)

کہا جاتا ہے کہ سکندرِ اعظم گندھارا سے گزر کر پنجاب میں داخل ہوا تھا جہاں ٹیکسلاکے حکمران ’’اومبی‘‘ نے شاہ پورس کے خلاف اسے اتحاد کی پیشکش کی تھی۔ شاہ پورس مستقل طور پر ٹیکسلا اور اردگرد کے علاقوں کے لئے مستقل طور پر خفگی کا باعث رہا تھا۔ تاہم سکندر اعظم کا یہاں قیام مختصر رہا جو یہاں سے جنوب کی طرف دریائے سندھ کو پار کرتے ہوئے اپنے سفر کی واپسی میں آج کل کے بلوچستان کے علاقہ سے گزرا تھا۔
سکندرِ اعظم نے اپنی فتوحات کے دوران میں ہر علاقہ میں اچھی خاصی تعداد میں یونانیوں کو چھوڑا اور گندھار بھی ان میں شامل ہے۔ وہ یونانی کاریگروں، سپاہیوں اور اپنے پیروکاروں کو فتح کیے ہوئے ہر علاقے کی مقامی خواتین کے ساتھ شادی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا، تاکہ یونانی نسل بڑھے اور یونانی تہذیب پھلے پھولے۔
جب 323 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم فوت ہوا، تو اس کی قابض یونانی فوج جو پہلے سے واپس اپنے وطن جانے کے لیے بے تاب تھی، نے اس حکم سے قطع نظر کہ اپنی اپنی جگہوں کو نہ چھوڑا جائے، واپسی کا سفر شروع کیا۔ اس سے پہلے ہی گندھارا میں کمزور یونانی قابض علاقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا تھا۔ تاہم اچھے خاصے یونانی سنٹرز قائم کئے جاچکے تھے جوصدیوں تک گندھارا کی تاریخ کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھے۔
موریہ سلطنت:۔ 316 قبل مسیح میں مگدھ کے بادشاہ چندر گپت موریا حرکت میں آیا اور وادئی سندھ کو فتح کرتے ہوئے گندھار کو اپنی سلطنت میں شامل کرکے ٹیکسلا کو اپنی نئی قائم کردہ موریہ سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ چندر گپت کے بعد اس کے جانشین بیٹے بندوسارا نے حکمرانی سنبھالی اور اسی طرح بندوسارا کے بعد اس کا جانشین بیٹا اشوکا بادشاہت کی گدی پر بیٹھا۔

اشوکا، 304 قبل مسیح تا 232 قبل مسیح۔ (Photo: wn.com)

آزاد دائرۃ المعارف کے مطابق چندرگپت ہندوستان کی موریا خاندان کا بانی تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نندچندر خاندان کا فرد تھا جو کسی بنا پر راجہ کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت پنجاب اور سرحد کے غیر مطمئن قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا کوٹلیا کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوذ کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا ۔
اشوکانے کامیابی کے ساتھ بدھ مت کی ترویج کی اور ٹیکسلا میں دریائے تامرا کے مشرق میں ایک عظیم خانقاہ بنائی۔ یہی درماراجیکا خانقاہ ہے جو اپنے سٹوپا کے لئے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اشوکا نے اس میں بدھا کی کئی مقدس باقیات دفن کیں۔ تاہم گندھار ا اشوکا کی موت کے بعد موریہ سلطنت سے جدا ہوا۔
یونانی ہند:۔ دو سو چوراسی قبل مسیح کو یونانی، باختر (Bacteria) موجودہ شمالی افغانستان، دیمتریوس اول بادشاہ کی زیرِ کمان گندھارا پر ایک بار پھر حملہ آور ہوئے اور اسے فتخ کیا اور دیمتریوس اول ہی وہ بادشاہ تھا جس نے بھیر ماونڈ یعنی بھیر پھاڑی سے دریا کے دوسری طرف شہر آباد کیا۔ ٹیکسلا کی اس نئی آبادی کو آج کل سرکپ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس شہر کو ہیپی دامیئن منصوبے کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ اس شہر کو منیندر اول نے تعمیر کیا تھا۔ دیمتریوس سلطنت گندھارا، ارکوشیا (آج کل افغانستان کا قندھار) پنجاب اور وادیٔ گنگا کے کچھ حصوں پر مشتمل تھی۔ یہ کثیر النسلی (multi-ethnic) معاشرہ تھا جہاں یونانی، ہندوستانی، باختری اور مغربی ایرانی ساتھ رہتے تھے۔
تورانی یا سیتھی، پارتھیائی:۔ وسطی ایشیائی تورانی یا سیتھی خانہ بدوش قبیلوں کی پنجاب میں سرائیت ایک سو دس قبل مسیح میں شروع ہوئی تھی۔ یہ قبیلے شمالی علاقوں جیسا کہ بکتیا پر حملہ کرنے کے عادی تھے مگر ماضی میں ہخامنشیوں نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا تھا۔ یہ قبیلے علاقہ درنجیانہ جو کہ موجودہ ایران میں سیستان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، میں آباد ہوئے۔ یہاں سے انہوں نے پنجاب پر قبضہ کرلیا اور آہستہ آہستہ شمالی وادیٔ سندھ سے ہوتے ہوئے آخر کار ٹیکسلا پر قابض ہوگئے۔




تاریخی شہر ٹیکسلا (Photo: Bala Hijam beautiful actress of Bollywood – blogger)

پہلی صدی کی پہلی سہ ماہی میں پارتھیوں نے سیتھیوں کو زیرِ اثر کرتے ہوئے گندھارا اور پنجاب پر قبضہ کرلیا اور یوں سیتھی اور پارتھی آپس میں مخلوط ہوگئے۔
کشان:۔ تقریباً اسّی صدی عیسوی میں کشان نے پارتھیوں اور سیتھیوں سے گندھارا کی حکمرانی چھین کر یہاں کی باگ ڈور سنبھالی جنہوں نے ٹیکسلا میں دوسرے مقام پر نئے شہر کو آباد کرتے ہوئے اس کو سرسک کا نام دیا۔ یہ شہر ایک بڑے ملٹری بیس کا تصور دیتا ہے جس کے ارد گرد پانچ کلومیٹر لمبی اور چھے میٹر چوڑی دیوار بنائی گئی تھی۔ یہ شہر بدھ مت کی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور یہاں وسطی ایشیا اور چین سے زائرین آتے تھے۔ کشان دور میں فنِ گندھارا، طرزِ تعمیر اور ثقافت سب انتہائی اعلیٰ درجہ کو پہنچا۔ اسے تاریخ میں سنہری دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دراصل کشان ایک قبیلہ تھا جو پہلی صدی میں وسطی ایشیا اور افغانستان سے یہاں ہجرت کرکے آیا تھا۔ کشان قبیلے نے اپنے اقتدار کے مقام کے لئے پشاور کا انتخاب کیا تھا۔ بعد میں مشرق کی طرف مرکزی ہندوستان تک اس کو وسعت دیتے ہوئے کشان سلطنت کا قیام عمل میں لایا جو تیسری صدی عیسوی تک قائم رہی۔ تقریباً دو سو اکتالیس صدی عیسوی میں فارس کے ساسانیوں نے شاپور اول کی بادشاہت میں کشانوں کو شکست دی اور اسی طرح گندھارا سلطنت، پارس کے ساتھ ملحق ہوئی لیکن ساسانی اپنے مغربی اور شمالی سرحدوں کے مسائل کی وجہ سے براہِ راست گندھارا پر حکمرانی نہ کرسکے اور یوں یہ علاقہ کشان کی اولاد کیدار کشان یعنی چھوٹے کشان کی زیرِ اثر آیا۔
سفید ہن:۔ پانچویں صدی کے وسط تک چھوٹے کشان نے پیشرو کی روایات پر عمل پیرا ہوکر گندھارا کی باگ ڈور سنبھالے رکھی تھی کہ سفید ہن نے یہاں پر چڑھائی کرتے ہوئے گندھارا پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت تک بدھ مت اور گندھارا ثقافت کمزور پڑ گئی تھی اور رخصتی کے دہانے پر تھی۔ ہن کی چڑھائی نے گندھارا ثقافت کو جسمانی طور پر بہت نقصان پہنچایا اور اس کی رخصتی کو مزید تیز کر دیا۔ چونکہ ہن حکمران مغرب میں ساسانیوں کے خلاف گپتا سلطنت کے ساتھ اتحاد کے خواہاں تھے، گندھارا کا مذہب بدھ مت سے ہندو مت میں تبدیل ہوا اور یہی تبدیلی گندھارا ریجن کی خوشحالی کے زوال کا سبب بنی۔ ساسانیوں کے خلاف سفید ہن اور گپتا اتحاد نے بدھ مت کو اتنا مرعوب کیا کہ آخرِکار یہ شمال کی طرف چلنے لگا اور یہاں تک کہ چین اور اس کے آگے ہجرت کرگیا۔ نتیجتاً ہندومت نے بدھ مت کی جگہ لی۔

پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں سفید ہن نے یہاں پر چڑھائی کرتے ہوئے گندھارا پر قبضہ کرلیا۔ (Photo: akademiye.org)

آزاد دائرۃ المعارف، وکی پیڈیا کے مطابق افغانستان میں ان کی قوت کو ترکوں نے صدمہ پہنچایا اور برصغیر میں ایک قومی وفاق نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ جس وقت چینی سیاح ہیون سانگ اور وانگ ہیون سی نے برصغیر کی سیاحت کی تھی، اس وقت گندھارا پر کشتری خاندان کی حکومت تھی۔ ان کا دارالحکومت کاپسا (موجودہ بلگرام کابل کے شمال میں) تھا۔ البیرونی انہیں ترک بتاتا ہے۔ اس خاندان کی حکومت کے آخری حکمران کو اس کے وزیر کلیر عرف للیہ نے قید کرکے ہندو شاہی یا برہمن شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ برہمن شاہی اس علاقے کا آخری حکمران خاندان تھا جس نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔ یہ خاندان ابتدائے اسلام سے 1030ء تک حکمران رہا۔ جب افغانستان کے مشرقی حصوں پر اسلامی لشکر کا قبضہ ہوگیا، تو اس کادارالحکومت کاپسا سے گردیز، کابل، پھر اوہنڈ اور آخر میں نندانہ (جہلم کے قریب) منتقل ہوگیا۔ جہاں محمود غزنوی نے ان کا خاتمہ کردیا۔

سلطان محمود غزنوی، 971ء تا 1030ء (Photo: biography.com)

آزاد دائرۃ المعارف، وکی پیڈیا کے مطابق کشان دور گندھارا کی تاریخ کا سنہری دور رہا ہے۔ کشان بادشاہ کنشک کے دور میں گندھارا تہذیب عروج پر تھی۔ گندھارا، بدھ مت تعلیمات کا مرکز بن گیا تھا اور لوگ یہاں دور دور سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے لگے تھے۔ یونانی، ایرانی اور مقامی اثرات نے مل کر گندھارا فن کو جنم دیا تھا۔

کنشک، سنِ وفات 144ء (Photo: historypak.com)

فنِ گندھارا:۔ فنِ گندھارا جسے ایرانی، یونانی اور مقامی اثرات نے مل کر جنم دیا تھا، کو پوری دنیا میں منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ فن دراصل یونانی، ساکا، پارتھی اور کشن تہذیبوں کا نچوڑ ہے۔ گندھارا فن کی ابتدا تقریباً چوتھی قبل مسیح سے ہوتی ہے جو لگ بھگ آٹھویں صدی عیسوی تک قائم ہے یعنی سکندرِ اعظم کی آمد سے لے کر اسلامی فتوحات تک، جس میں مجسمے، سکے، پینٹنگ اور برتن وغیرہ شامل ہیں۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے