867 total views, 1 views today

سیدو بابا نہ صرف ریاست سوات بلکہ پورے خیبر پختونخوا میں مذہبی طور پر ایک بلند پایہ حیثیت کے حامل انسان تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے جدید ریاست سوات کی بنیاد رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
فضل ربی راہیؔ اپنی کتاب ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ صفحہ 166 پر سیدو بابا کے حوالے سے کچھ یوں رقمطراز ہیں: ’’اخوند صاحبِ سوات کا اصل نام عبدالغفور اور والد کا نام عبدالواحد تھا۔ آپ سوات کے علاقے شامیزئی میں جبڑی کے مقام پر 1794ء میں پیدا ہوئے۔ آپ افغان قوم کے مہمند قبیلے صافی سے تعلق رکھتے تھے، تاہم بعض مقامی بزرگوں کا خیال ہے کہ ان کا تعلق گوجر قوم سے تھا۔ اخوند صاحبِ سوات کو نہ صرف سوات بلکہ پورے خیبر پختونخوا میں”سیدو بابا” کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔‘‘

سیدو بابا کا روضہ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اسی کتاب کے صفحہ نمبر 176 پر رقم ہے کہ ’’سیدو بابا نے سب سے پہلا جہاد 1835ء میں پشاور کے قریب شیخان کے مقام پر امیرِ کابل دوست محمد خان کی معیت میں سکھوں کے خلاف کیا۔‘‘
ایک انگریز مؤرخ ٹونی جیکس اپنی کتاب “Dictionary of Battles and Sieges” میں مذکورہ جہاد کی تاریخ 6 مئی 1834ء لکھتے ہیں۔
سیدو بابا نے سپل بانڈئی میں مقیم ہو کر شادی کی۔ آپ کے دو فرزند میاں گل عبدالحنان اور میاں گل عبدالخالق پیدا ہوئے۔ 1848ء میں سپل بانڈئی کو خیرباد کہہ کر آپ مستقل سکونت کے لیے سیدو چلے آئے۔ اس وقت سیدو کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہ تھی، لیکن جب آپ نے اسے اپنی دائمی سکونت کے لیے منتخب کیا، تو اس کی اہمیت اور وقعت میں یکدم اضافہ ہوا۔ آپ کی وجہ سے سیدو تبدیل ہو کر “سیدو شریف” بن گیا۔

سیدو بابا کا خاص پلنگ۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

راہی صاحب کے مطابق: ’’1849ء میں جب سکھوں کو شکست دے کر انگریزوں نے پشاور پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا تو اخوند صاحب نے سوات، ملاکنڈ اور بونیر کو انگریزوں کے تسلط سے بچانے کے لیے اپنے تمام وسائل جمع کیے۔ پشتونوں کی باہمی دشمنی ختم کروانے اور ایک مضبوط و مستحکم محافظ فوج ترتیب دینے کے لیے آپ نے بار بار جرگے کیے اور شرعی حکومت کے قیام پر زور دیا۔ چنانچہ پہلی بار آپ نے “ستھانہ” کے سید اکبر شاہ کی نگرانی میں 1849ء میں حکومت قائم کی۔ یہ حکومت نازک اور ناگفتہ بہ حالات میں قائم ہوئی تھی اور ابھی اچھی طرح مستحکم بھی نہ ہوئی تھی کہ 1857ء میں سید اکبر شاہ وفات پا گئے۔ اس کے بعد بھی سوات میں مستحکم حکومت قائم کرنے کے لیے آپ نے اپنی مساعی جمیلہ جاری رکھیں۔
“جب ستمبر 1863ء میں انگریزی فوج کا ایک دستہ ملکا نامی گاؤں کو تباہ کرنے کے لیے بونیر کے علاقہ میں داخل ہوا، تو وہاں کے لوگوں نے انگریزوں کی خلاف شدید مزاحمت شروع کی۔ اخوند صاحب کا جذبۂ جہاد بھی شدت اختیار کرگیا اور آپ 26 اکتوبر 1863ء کو باقاعدہ جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ انگریز فوج کے پاس ہر قسم کا جدید اسلحہ تھا اور ان کی تعداد دس ہزار تک تھی۔ اس مسلح اور منظم فوج کے مقابلے میں اخوند صاحب کے ساتھی معمولی دیسی ہتھیاروں یا محض لکڑی اور پتھروں سے مسلح تھے اور ان کی تعداد سات ہزار سے زائد نہ تھی۔ یہ لڑائی پوری شدت سے امبیلہ اور ملکا وادئ بونیر کے پہاڑی مورچوں میں 20 اکتوبر 1863ء سے شروع ہو کر 27 دسمبر 1863ء تک جاری رہی۔

امبیلہ میں برطانوی فوجی دستہ کھڑا ہے۔ (Photo: The British Empire)

“اخوند صاحب اور ان کے ساتھیوں نے نہتے ہونے کے باوجود بریگیڈئیر جنرل سرنیول چیمبرلین کی افواج کا جس جوانمردی سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کے صفحات میں ایک یادگار دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزوں کو بہت جانی نقصان اٹھانا پڑا، خود چیمبرلین بھی شدید زخمی ہوا۔ مجاہدین کی اکثریت بھی شہید ہوئی۔ انگریزوں کو اس لڑائی میں کوئی علاقہ نہیں ملا، لہٰذا انہوں نے ملکا میں آگ لگا دی۔ مجاہدین ختم نہ ہوئے اور انہوں نے اپنا مرکز دوسری جگہ بنالیا۔‘‘
دوسری طرف انگریزوں کے حوالے سے سیدو بابا کی پالیسی کو ڈاکٹر سلطان روم اپنے ایک مضمون “Abd al-Ghafur, the Akhund of Swat” میں تدبیر پسند اور اطاعت شعار رقم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سلطان روم کے مطابق سیدو بابا نے اس وقت علمِ مزاحمت بلند کیا جب قبائل نے ان پر زور ڈالا۔
سیدو بابا 21 جنوری 1887ء کو وفات پا گئے۔ سوات کے مرکزی شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلہ پر سیدو شریف میں آپ کا مزار واقع ہے۔




سیدو بابا کا مزار (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

سیدو بابا کی وفات کے بعد تین مختلف انگریز شعرا نے مرثیے بھی لکھے ہیں جو اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ جارج ٹی لینیگن (1886-1846) کے مرثیے کا ایک بند ملاحظہ ہو:
WHAT, what, what
?What’s the news from Swat
,Sad news
,Bad news
Comes by the cable led
,Through the Indian Ocean’s bed
Through the Persian Gulf, the Red
-Sea and the Med
iterranean he’s dead
!The Ahkoond is dead
(کیا کیا کیا؟
سوات سے کیا خبر ہے؟
افسوسناک خبر
بری خبر
تار کے ذریعے آئی ہے
بحرِ ہند سے ہوتی ہوئی
خلیجِ فارس سے ہوتی ہوئی،
بحرِ احمر اور بحیرۂ روم سے ہوتی ہوئی
کہ آخوند اب نہیں رہے)
سیدو بابا کے مزار کو ان کے پوتے میاں گل عبدالودو المعروف بادشاہ صاحب نے سن 1943ء میں تعمیر کیا۔ مزار میں سفید سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اسے اس وقت ہندوستان سے لایا گیا تھا۔ سنگ مرمر کے ساتھ ساتھ اس میں لکڑی کا بھی بہترین استعمال کیا گیا ہے۔ مزار کے ساتھ ایک مسجد بھی ملحق ہے۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ریاستِ سوات دور کی خوبصورت عمارات میں سیدو بابا مزار اور مسجد کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔

سیدو بابا مسجد کا اندرونی منظر۔ مشہور ہے کہ اس کے لئے سنگ مرمر ہندوستان سے لایا گیا تھا۔ (امجد علی سحابؔ)

مسجد کے ساتھ ہی چشمہ بھی موجود ہے جسے “سیدو بابا چینہ” کہا جاتا ہے۔ چشمے کو پشتو زبان میں “چینہ” کہتے ہیں۔ سات آٹھ سال پہلے سیدو بابا چشمے میں نایاب قسم کی رنگ برنگی مچھلیاں پائی جاتی تھیں۔ ان مچھلیوں کے بارے میں مقامی طور پر مشہور تھا کہ جب بھی کوئی انہیں پکڑ کر گھر لے جاتا اور پکانے کی کوشش کرتا تو یہ ہلکی آنچ پر بھی مائع یا بھاپ کی شکل اختیار کرلیتی تھیں اور کسی کے ہاتھ کچھ نہ آتا تھا۔ اس کو ایک طرح سے سیدو بابا کی کرامت بھی مانا جاتا تھا۔
آج کل چشمے میں مقامی لوگوں نے لاتعداد بجلی کی موٹریں اتاری ہیں اور مقامی آبادی اس سے پانی حاصل کر رہی ہے  مختلف اوقات میں برقی رو پانی میں دوڑنے کی وجہ سے مچھلیاں ایک ایک کر کے ختم ہوگئیں اور اب یہ عالم ہے کہ چشمے کا پانی پینے کے لائق بھی نہیں رہا ہے۔

سیدو بابا چینہ جس میں بجلی کی کئی موٹریں اتاری گئی ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

سیدو بابا مزار پر زائرین جوق در جوق حاضری دینے آتے ہیں جس کی وجہ سے سیدو بابا میں میلے کا سماں رہتا ہے۔ ہر سال تین قسم کے لوگ بڑی تعداد میں یہاں حاضر ہوتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو اپریل کے مہینے میں اپنی فصل کاٹ کر شکریہ کے طور پر سیدو بابا مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو گرم علاقوں سے جون تا اگست مسلسل چھوٹی بڑی ٹولیوں کی شکل میں آتے رہتے ہیں۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو عید کے موقع پر سیدو بابا حاضری دینے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دور ایسا بھی تھا جب سیدو بابا کے عرس کے موقع پر کافی سارے لوگ حاضر ہوتے تھے ۔ لڑکیاں شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے مزار پر حاضری دینے سہیلیوں کے ساتھ آتی تھیں۔ اس رسم کو یہاں مقامی طور پر “کوربن والے” کہتے ہیں۔
سیدو بابا مزارکے ساتھ ایک چھوٹا مگر پررونق بازار ہے جس میں چوڑیاں اور خواتین کی ضرورت کی اشیا بکثرت ملتی ہیں۔ بازار میں بیشتر مقامی لوگوں کی دکانیں ہیں جہاں سے ان کو روزگار میسر ہے۔

سیدو بابا بازار میں رات کو بھی خاصی رونق رہتی ہے۔ (فوٹو: فضل خالق)

اب بھی سیاح، مقامی لوگ اور زائرین سوات کی سوغات اور مختلف تحائف خریدنے سیدو بابا بازار آتے ہیں۔ سالہا سال سے مقیم یہاں کے مقامی دکاندار روایتی مٹی کے بنے برتن تیار کرتے ہیں جو زائرین بطور نشانی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
سیدو بابا مزار میں شورش سے پہلے بڑی تعداد میں فقیر ہوا کرتے تھے جن کو ’بابا کے ملنگ‘ کہا جاتا تھا۔ انہیں زائرین خیرات و صدقات دیتے تھے ۔ ملنگ زائرین کو جھاڑ پھونک سے مختلف بیماریوں سے نجات دلواتے تھے نیز بیماروں کو دعائیں دیتے تھے ۔ اس تمام تر عمل پر زائرین کا پکا یقین ہوا کرتا تھا۔ اب مزار کے احاطے میں اک آدھ ملنگ بمشکل دکھائی دیتا ہے۔

سیدو بابا آیا ہوا ایک معتقد ملنگ کے ساتھ بیٹھا ہے (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

یہاں پر باقاعدہ لنگرخانہ، مہمان خانہ، سیدو بابا کا کمرۂ خاص اور دیگر تبرکات تھے جن کواب بند کر دیا گیا ہے اور صرف خصوصی درخواست پر ان کی زیارت کی جا سکتی ہے ۔ سیدو بابا مزار نہ صرف عقیدت مندوں کے لیے ایک قابل احترام جگہ ہے بلکہ اس کے ساتھ سوات کی انگریز سامراج کے خلاف مزاحمت کی تاریخ بھی وابستہ ہے۔

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے