584 total views, 1 views today

ہمارے بچپن کے زمانے میں سیدو شریف میں صرف ایک گھرانا سکھوں کا تھا جس کا سربراہ ’’طوطا سنگھ‘‘ نامی ایک پنساری تھا۔ اُس کابیٹا روشن لال مونا سکھ بن گیا تھا اور کلین شیو کرتا تھا۔ اس کے برعکس طوطا سنگھ کی سکھوں کی روایتی لمبی داڑھی اور کیس تھے۔ ان کی پنساری کی دکان سیدو بابا کی مسجد کے قریب برساتی نالہ کے مغربی سائیڈ پر مہتمم سلطان محمد مرحوم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تھی۔ طوطا سنگھ کے اکثر مریض مرغزار درہ سے آتے تھے۔ لوگوں کے پاس پیسہ کم تھا اور اکثر کاروبار ’’بارٹر ڈیل‘‘ کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ چائے، گڑ وغیرہ کو بھی غلے کے عوض خریدا جاتا تھا۔ طوطا سنگھ بھی دیسی گھی پیسوں کے بدلے وصول کرتا تھا۔ اس کی دوسری بات جو مجھے یاد ہے وہ اُن کا بچوں سے “Cramps” خریدنا تھا۔ وہ ایک کریمپ کے دو آنے دیتا تھا, جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی۔ اکثر لڑکے سیدو خوڑ میں کریمپس پکڑ کر اُن کے پاس فروخت کی غرض سے لاتے تھے۔ اس کی گزر بسر بہت اچھی طرح سے ہو رہی تھی کہ پچاس کی دہائی میں اچانک انھوں نے بھارت جانے کا قصد کیا۔ وہ اپنی دکان سمیٹ کر انڈیا چلا گیا۔ وہاں باوجود سیٹل ہونے کے وہ بہت اُداس تھا اور سوات اور یہاں کے لوگوں کی محبت اور رواداری کو یاد کرکے کفِ افسوس ملتا تھا۔

سیدو شریف کے اصلی نسلی رہنے والے حکمران خاندان کے علاوہ، پاپینی سادات تھے جو زمینوں کے مالک تھے اور ریاست میں اہم عہدوں پر فائز تھے۔ ان کی جدی پشتی جائیدادیں پورے سیدو شریف میں پھیلی ہوئی تھیں لیکن ان میں سے اکثر نے وہ زمینیں فروخت کر دیں۔ یہاں پر دیگر اقوام مثلاً جولاہے، تیلی اور کھیتی باڑی سے متعلق افراد بھی قیام پذیر تھے۔ تیلی لوگ کافی مالدار تھے اور دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ اور بہتر زندگی گزارنے والے تھے۔ ان میں اکثر سرکار دربار سے وابستہ تھے اور بڑے قابلِ بھروسا، امانت دار اور وفا کش تھے۔ سرکاری ملازمین کی ایک کثیر تعداد بھی دارالخلافہ میں رہتی تھی جن کی سرکاری رہائش گاہیں افسر آباد، خونہ چم اور عقبہ وغیرہ میں بنائی گئی تھیں۔ افسر آباد کو تمام سیدو شریف میں ایک امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ اگرچہ اس کے مکینوں کا اکثر تبادلہ ہوتا رہتا تھا، لیکن بڑے وزیر اور فوجی افسروں کی بود و باش یہاں پر ہوتی تھی۔ ہماری رہائش بھی یہاں پر تھی چوں کہ میرے والد مرحوم نے کئی دفعہ والئی سوات کے کہنے کے باوجود تحصیل دار کے عہدے پر باہر جانا قبول نہیں کیا تھا، تو ہم افسر آباد کے مسمار ہونے تک وہاں مقیم تھے۔ ہمارے علاوہ اس محلہ کے دوسرے باسی تبدیل ہوتے رہے اور ہمیں ریاست کے طول و عرض سے آئے ہوئے افسروں اور اُن کے بیٹوں سے آشنائی اور دوستی کا موقعہ ملتا رہا۔ میرے والد سیدو شریف میں رہنے پر اس لیے مصر تھے کہ یہاں پر ہمیں تعلیم کی سہولت گھر سے چند قدم کے فاصلے پر حاصل تھی، سوائے ابتدائی چند سالوں کے جب ہم کو شگئی اسکول جانا پڑتا تھا۔




سیدو شریف کے باسیوں کو سرکاری ملازمت کے حصول میں آسانی کے علاوہ ایک اور فائدہ یہ بھی تھا کہ غریب طبقہ کو سیدو بابا کے لنگر سے بلا ناغہ کھانا ملتا تھا۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

بچپن کی ایک بات یاد کریں، تو کئی باتیں یاد آتی ہیں۔ ہمیں ایک مولوی صاحب نے اسکول میں بتایا کہ عادل بادشاہ کو دیکھنے سے بہت ثواب ملتا ہے۔ چوں کہ ہمارا گھر سڑک کے قریب تھا، تو ہم شام کو والی صاحب کی آمد کا انتظار کرتے۔ اُن کی گاڑی پر ریاست کے گہرے سبز رنگ اور طلائی قلعے والے جھنڈے کو دیکھ کر سیلوٹ کرتے اور اُن کے چہرے کی طرف بطور خاص دیکھتے، تاکہ ہمیں بھی ثواب مل جائے۔ والئی سوات بعض سول اور فوجی افسروں کو رات کے کھانے پر بلاتے۔ اکثر افسران باری آنے پر زکام کا بہانہ کرتے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ جانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ اُن کو وہاں پر پیٹ بھرنے کا موقعہ کم ملتا تھا۔ کیوں کہ جب والی صاحب کھانے سے ہاتھ روک لیتے، تو دوسرے بھی ایسا پروٹوکول کی وجہ سے کرنے پر مجبور ہوتے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ بادشاہ ویسے بیٹھے رہیں اور مصاحب کھانا کھاتے رہیں؟ والی صاحب کا یہ بھی ایک معمول تھا کہ شکار کے موسم میں شکار کیے ہوئے پرندے افسروں اور بعض دیگر معززین کے ہاں بھجواتے تھے۔ افسر آباد کے رہائشیوں کو بھی اُن کا حصہ باقاعدگی سے ملتا تھا۔ مجھے ایک بات ابھی تک یاد ہے کہ ایک شام جب اردلی مرغیاں تقسیم کرنے کے لیے آیا، تو میرے والد صاحب سے کہنے لگا کہ صاحب بہادر نے تاکید کی تھی کہ یہ بڑی مرغابی محمد عظیم کو دینا اور یہ دو چھوٹے پرندے فلاں کمان افسر کو دینا۔

سیدو شریف کے باسیوں کو سرکاری ملازمت کے حصول میں آسانی کے علاوہ ایک اور فائدہ یہ بھی تھا کہ غریب طبقہ کو سیدو بابا کے لنگر سے بلا ناغہ کھانا ملتا تھا۔ کھانا مکئی کی موٹی موٹی گول روٹیوں اور مختلف قسم کی دالوں کے مجموعے پر مشتمل ہوتا تھا۔ اگر لنگر کے کسی ملازم سے آشنائی ہوتی، تو وہ ایک پیالہ بھر دیسی گھی بھی دال میں ڈال کر دیتا تھا۔

بس وہ دن ہوا کی طرح گزر گئے۔ سوات کو جانے کس کی نظر لگ گئی۔ ہم ایک خوابناک زندگی گزارنے والے لوگ جب ہوش میں آئے، تو سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔ ’’رہے نام اللہ کا‘‘ باقی سب فانی ہے، آخر فنا، آخر فنا۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے