917 total views, 4 views today

اللہ رب العزت نے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے ہر قوم، ہر جگہ اور ہر زمانے میں اپنے پیغمبر اور انبیا بھیجے، تاکہ خدا کے پیغام کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کریں اور سب سے آخر میں خاتم النبین حضرت محمد مصطفیؐ کو بھیج کر آپؐ پر نبوت اور انسانیت کی تکمیل کی۔ ظاہر ہے کہ آپؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد تبلیغِ دین اور ہدایت کا سلسلہ تو قیادت تک جاری رہنا تھا، چنانچہ تبلیغِ دین کا یہ مشن علما اور بزرگانِ دین کے سپرد کیا گیا۔ اس سلسلے میں سرورِ کائناتؐ کا یہ فرمانِ مبارک بھی ہے کہ ’’علما پیغمبروں کے وارث ہیں۔‘‘ چناں چہ اس فرمانِ رسولؐ کی روشنی میں علما، بزرگانِ دین اور صلحائے اُمت نے تبلیغ دین اور انسانوں کی اصلاح کا بیڑا اُٹھایا۔ بزرگانِ دین، علما، رہنما، مجاہدین، زاہد و عابد حضرات، مبلغینِ اسلام، مردانِ باصفا اور اللہ کے نیک اور صالح بندوں نے صحراؤں، پہاڑوں، میدانوں، گھاٹیوں اور دریاؤں کو عبور کیا اور خدا کا آخری پیغام بھٹکے ہوئے انسانوں تک پہنچایا اور اس راہ میں ہر قسم کی تکالیف کا صبر اور حوصلہ مندی سے مقابلہ کیا۔ مساجد ہوں کہ خانقاہیں، دینی مدارس ہوں یا دینی مراکز و اجتماعات، اولیا، صوفیا اور ذاکرین کے آستانے ہوں یا درود و سلام کی محفلیں، صلحا، علما اور بزرگانِ دین نے ہمیشہ ان جگہوں پر لوگوں کی دینی تربیت، روحانی بالیدگی اور باطنی صفائی کا فریضہ ادا کیا اور ان کی یہ کاوشیں اِن شاء اللہ ہمیشہ جاری رہیں گی۔ بزرگانِ دین اور خدا کے ان صالح بندوں میں ایک گمنام ولی اللہ بھی شامل ہیں جنہیں لوگ حاجی باباؒ کے نام سے جانتے ہیں۔
حاجی باباؒ کا مزار کوکاریٔ جامبیل روڈ پر ہائیر سکنڈری سکول مینگورہ سے چند گز کے فاصلہ پر دائیں جانب واقع ہے۔ یہ مزار اب ٹی ایم اے کے احاطہ میں ہے۔ قریب و متصل ہی صدیوں پرانا قبرستان ہے جہاں مقامی باشندے اپنے مردے دفناتے ہیں۔ یہاں اس بزرگ و مردِ صالح کا سادہ مگر پر وقار مرقد ہے۔




حضرت حاجی بابا رحمۃ اللہ علیہ کا مرقد (فوٹو: ماجد ایف مسعود)

حضرت حاجی باباؒ کی زندگی سے متعلق کافی معلومات تو دستیاب نہیں کہ ان کی حیات کا زمانہ کون سا ہے؟ البتہ میاں عبدالرشید اخون خیل کی تصنیف ’’علماء کبار اور مشائخ وعظام‘‘ کے مطابق حاجی باباؒ سوات کے مشہور قبیلہ متوڑیزیٔ گاؤں چارباغ کے ایک پشتون خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عرصہ ہوا راقم نے ایک دفعہ مکانباغ قاضی صاحب (مرحوم) سے حاجی باباؒ سے متعلق پوچھا تھا، تو (مرحوم) قاضی صاحب نے فرمایا تھا کہ حاجی باباؒ کا اصل نام حاجی ہارون ہے۔ یہ اپنے وقت کے عابد و زاہدانسان تھے اور یہ دو دفعہ پیدل حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس زمانے میں آج کی طرح آمد و رفت کے ایسے آسان اور تیز تر ذرائع نہیں تھے۔ اس لیے بیت اللہ تک کا دور دراز کا سفر جان جوکھوں کا کام تھا۔ بیابانوں، صحراؤں اور جنگلوں میں پیدل سفر، اوپر سے بھوک اور پیاس کی تکالیف اور راہزنوں اور ڈاکوؤں کی لوٹ مار کا خطرہ، لیکن خدا کے نیک بندے فرض کی ادائیگی اور خدا اور رسولؐ کی محبت میں ان باتوں کی پروا نہیں کرتے۔
میاں عبدالرشید کے مطابق حاجی باباؒ نے فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ اور مدینہ کی زیارت کی تھی۔ کچھ عرصہ وہاں مقیم بھی رہے تھے۔ وہ لاولد تھے۔ بزرگ اور عابد انسان تھے۔ پھر اپنے وطنِ اصلی سوات لوٹے، مینگورہ میں مقیم ہوئے اور یہیں وفات پاگئے۔ مین بازار پرانی سبزی منڈی سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر ہائیر سکنڈری سکول مینگورہ جانے والی روڈ سے لے کر میاں خواجہ بہاء الدین باباؒ کی مزار تک اور آس پاس کا نزدیک و متصل علاقہ اور محلہ حاجی باباؒ کے نام سے موسوم و معروف ہے۔
الغرض، خدا کے نیک اور صالح بندوں کی زندگیاں ہم مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے مشعلِ راہ اور قابل تقلید نمونہ ہیں۔ کیوں کہ دین و دنیا کی بھلائی اور نجات، زہد و عبادت اور خدا اور رسولؐ کی اطاعت میں ہی ہے۔
………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے