780 total views, 1 views today

ریاست کے قیام کے ساتھ ہی سوات کے طول و عرض میں قلعوں کی تعمیر کا آغاز ہوگیا تھا۔ قلعوں کی روایت پختون معاشرے میں کئی صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ ہر پختون کا گھر انگریزی محاورے کے مصداق اس کا قلعہ تھا۔ بڑے خان اپنی رہائش گاہوں پر برج بنا کر دشمنوں کے متوقع حملوں کا دفاع کرتے تھے۔ ریاست کی رٹ قائم رکھنے اور امن و امان کی خاطر ان قلعوں کی تعمیر ناگزیر تھی۔ یہ سلسلہ 1949ء تک جاری رہا۔ اپنے وقت کے ایک عوامی شاعر اور قلعہ جات کی تعمیر کے عمومی نگران مشرف خان صوبیدار کے ایک ’’چاربیتہ‘‘ کا ایک مصرعہ مجھے ابھی تک یاد ہے جو میں نے انہی سے 1950ء کی دہائی میں اپنے والد کے دفتر میں سنا تھا جو کچھ یوں تھا: ’’پہ سنہ 1949ء کے، کہ ما مشرف خان‘‘ یہ غالباً گوالیریٔ قلعہ کی تعمیر کا سال تھا۔
جناب ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی تصنیف ’’ریاست سوات 1915ء تا 1969ء‘‘ کے ٹائٹل پر کوٹہ فورٹ کی جو تصویر ہے اور اس پر 1956ء کا سال تعمیر درج ہے، یہ اس کی تعمیر نو کی یادگار ہے۔ اس سے پہلے عین اسی جگہ پر پرانا قلعہ تھا جو ریاست کے اولین قلعہ جات میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کی حالت بہت خستہ ہوگئی تھی۔ لہٰذا اُسے گراکر از سر نو تعمیر کیا گیا۔ یہ ادغام ریاست کے بعد بھی کئی سال تک کھڑا رہا۔




ڈاکٹر سلطان روم کی تصنیف “Swat State” کا ٹائٹل (Photo: Oxford University Press)

اسی ایک قلعے کے علاوہ ریاست کے دوسرے والی جناب میاں گل جہان زیب کے عہد حکمرانی میں اور کوئی قلعہ نہیں بنا تھا۔ بعد میں تمام قلعے سوائے کوٹہ اور گلی باغ کے مسمار کردیئے گئے۔ ان میں استعمال ہونے والا میٹریل یعنی لکڑی اور پتھر وغیرہ یا تو نیلام کردیا گیا یا پھر علاقہ کے کسی معزز فرد کو دے دیا گیا۔
ان تمام قلعوں کی وسعت، گنجائش، بلندی، برجوں کی تعداد، طرز تعمیر تقریباً ایک جیسی ہوا کرتی تھی، اگر ایک قلعہ اندر باہر سے دیکھ لیا، تو سمجھو سارے قلعے دیکھ لئے۔
صرف دو قلعے ایسے تھے جن کی طرز تعمیر اور اس میں استعمال شدہ میٹریل تمام دوسرے قلعوں سے یک سر مختلف ہے اور شاید اب بھی اصلی حالت میں موجود ہوں۔ ان میں ایک ’’گاگر‘‘ (بونیر) کا قلعہ اور دوسرا “طوطالئے” خدوخیل بونیر کا قلعہ ہے۔ یہ پکی دیواروں اور لوہے کے بڑے گیٹ والے تھے۔ ان کے برج بھی مختلف تھے اور ان میں لوہے کے موٹے پلیٹ والی چادریں لگی ہوئی تھیں۔ تمام قلعوں کی تعمیر یکساں طرز پر کی گئی تھی۔ دیواریں زیادہ موٹی اور پتھر کی ہوتی تھیں، ان میں لائن سٹون (Line Stone) استعمال ہوتا تھا۔ تین چار فٹ کی اونچائی پر لکڑی کے بڑے بڑے شہتیروں کا ’’بانڈ‘‘ لگایا جاتا تھا جے آپ نئی اصطلاح میں “Bond Beam” کہہ سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ دیوار کی پوری اونچائی تک ہوتا تھا۔ قلعہ کی دیواروں کی اونچائی دو منزلہ مکان کے برابر رکھی جاتی تھی۔ کیوں کہ قلعہ کے اندر سپاہیوں اور قلعہ دار کی رہائش کے لیے دو منزلہ مکانات بنائے جاتے تھے۔ ان مکانات اور قلعہ کی مین بلڈنگ کا میٹریل ایک جیسا ہی ہوتا تھا۔ عہدہ دار کے مکان میں دو کمرے ہوتے تھے جبکہ عملہ کے مکانات ایک بڑے کمرے پر مشتمل ہوتے تھے۔ ان مکانات کی آخری چھت پر چاروں طرف حفاظتی دیوار یا “Parapet wall” کھڑی کی جاتی تھی۔ چاروں کونوں پر بنیاد ہی سے شروع ہوکر برج تعمیر کئے جاتے تھے جن کی اونچائی باقی عمارت سے دس بارہ فٹ زیادہ ہوتی تھی۔ ہر برج کی اپنی گیلری ہوتی تھی جس میں بندوقوں کے لیے سوراخ بنے ہوتے تھے۔
قلعے کی عمارت میں داخلے کے لیے ایک ہی بڑا گیٹ ہوتا تھا جو رات کے وقت بند کردیا جاتا تھا۔ قلعہ کے گرد محل و قوع کے لحاظ سے خندق بھی ہوتی تھی جس کے اوپر گیٹ تک ایک ہی پل بنایا جاتا تھا۔ اگر جگہ میسر نہ ہوتی، تو خندق بھی نہ بنائی جاتی۔ یہ قلعے کہاں کہاں بنے ہوئے تھے؟ اس کی پوری تفصیل تو کوئی متعلقہ شخص ہی دے سکتا ہے۔ البتہ ایک خصوصیت ان قلعوں میں یہ تھی کہ ایک قلعہ سے کم از کم ایک اور قلعہ ضرور دکھائی دیتا تھا۔ تاکہ ہنگامی حالت میں ایک دوسرے سے ’’سگنل‘‘ کے ذریعے رابطہ رکھا جاسکے۔ جب مجھے ریاست کے طول و عرض میں سفر کرنے کے مواقع ملے، تو میں نے درجہ ذیل قلعے دیکھے ہیں۔
کوٹہ قلعہ، غالیگے، سرکنی (رحیم آباد) سیدو شریف، کبل، کانجو، مٹہ، خوازہ خیلہ، فتح پور، مدین، آلوچ، چکیسر، ڈگر، گاگرہ، طوطالئے، گدیزی ان کے علاوہ جو میں نے دیکھے تو نہیں تھے مگر موجود تھے وہ یہ ہیں: ’’لالکو، دیدل کماج، سر قلعہ، گوالیریٔ وغیرہ۔‘‘
میرے ایک خالو سید اظہر صوبیدار جو اسلام پور کے رہنے والے تھے وہ لالکو، دیدل اور الوچ کے قلعوں میں صوبیدار رہ چکے تھے۔ میں نے کالج لائف میں آلوچ کے قلعے میں ان کے گھر ایک ہفتہ گزارا تھا۔ اسی طرح کوٹہ قلعہ میں بھی کئی دفعہ رات کو ٹھہرنے کا موقع ملا۔ یہ راتیں مجھے بالکل افسانوی انداز کی لگتی تھیں، پُراسرار اور رومانٹک۔
والئی سوات میاں گل جہانزیب کے عہد میں جب ریاست مکمل استحکام حاصل کرچکی تھی، ان قلعہ جات کی وہ افادیت ختم ہوگئی تھی، تو انہوں نے آہستہ آہستہ ان قلعوں کو بتدریج مسمار کروایا اور ان کی جگہ دو کمروں اور ایک غسلخانے پر مشتمل پکے اور پائیدار تھانے بنوائے۔ تھانہ انچارج کے لیے بھی پختہ کوارٹر بنائے گئے جو دو کمروں، ایک باورچی خانہ اور غسل خانہ پر مشتمل ہوتے تھے۔ صرف دو قلعے رہنے دیئے گئے۔ ایک قلعہ کوٹہ جو ریاست کی حدود کے آغاز میں تھا اور دوسرا گلی باغ کا قلعہ جو نہایت “Panoramic”محل وقوع پر بنایا گیا تھا۔ آپ اس قلعے کی چھت پر یا باہر ہی کھڑے ہوجاتے تو آپ کو سوات کی حسین وادی کا ایک وسیع و عریض منظر دکھائی دیتا۔ قلعے کے پاؤں میں دریائے سوات بل کھاتا ہوا نظر آتا۔ دریا کے دونوں رُخ بہت دور تک دکھائی دیتے۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس کو دیکھنے کے لیے مقامی لوگ بھی آتے اور سیاح بھی چند لمحے کے لیے رُک کر اس قدرتی نظارے کی یادیں دل میں محفوظ کرلیتے۔

والئی سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب۔

افسوس کا مقام ہے کہ ادغام کے بعد یہ تاریخی قلعہ محفوظ نہ رہ سکا۔ نااہل حکومتوں کے پاس ان چیزوں کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں تھی اور یہ تاریخی آثار اور سوات کی عظمت رفتہ کی یہ یادگاریں منہدم ہوگئیں۔
’’آخر فنا، آخر فنا۔‘‘

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے