516 total views, 1 views today

جب یوسفزئی کی آبادی مورا نامی پہاڑ تک پہنچ گئی، تو سوات کے بادشاہ سلطان اویس کو یہ بات ناگوار گزری۔ اسے یوسفزئی قوم سے خطرہ لاحق ہوا کہ ہونہ ہو یہ سوات پر قبضہ جمانے کی خاطر ایک دن پیش قدمی بھی کرلیں گے۔ اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ یوسفزئیوں کا اتنا قریب آجانا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ یہ سوات کے زوال کا پیش خیمہ ہے۔ اس امر کی فکر کی جانی چاہئے کہ کس طرح ان کے سوات پر قبضے کے خیال کو ختم کیا جائے۔ امیروں نے ایک عجیب مشورہ دیا جوکہ سنگدلی اور بے وقوفی کا ایک بدترین امتزاج تھا۔ کہا کہ آپ اپنی بیوی کو جو ملک احمد کی ہمشیرہ ہے، قتل کردیں۔ تاکہ یوسفزئی کی آمد و رفت یہاں سے منقطع ہوجائے اور ان تک ہمارے حالات کی خبریں نہ پہنچ سکیں۔ سلطان اویس نے اپنے درباریوں کے مشورے پر اپنی بیوی کو نہایت دردناک طریقے سے چھریاں مار کر ہلاک کردیا اور منگلور میں دفنا دیا۔

یوسفزئیوں کا سردار ملک احمد خان بابا۔

’’ملکۂ سوات‘‘ کے نام سے مشہور یوسفزئیوں کے سردار ملک احمد کی بہن ایک پاکباز اور نیک خاتون تھیں۔ جب یوسفزئیوں کو اس بہیمانہ قتل کی خبر پہنچی، تو ان کا خون کھول اٹھا۔ برادری کے لوگوں نے ملک احمد کو مشورہ دیا کہ سلطان اویس کو اس ظلم کی سزا دینی چاہئے لیکن ملک احمد ایک زیرک سردار تھا۔ اس نے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے بطور تعزیتی رسم کے مطابق سوگائے بیل سلطان کے پاس بھیجے اور کہلا بھیجا کہ یہ حکم الٰہی تھا جس سے کوئی چارہ نہ تھا۔ اگر آپ کو ہم سے ناتا پسند ہو، تو دوسرا رشتہ بھی حاضر ہے۔ اس کے بعد سلطان کی اجازت سے ملک احمد نے بیس آدمیوں کے وفد کے ساتھ سوات آکر ہمشیرہ کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور سلطان سے تعزیت کی۔ سلطان جی میں خوش ہو رہا ہوگا کہ چلو یوسفزئیوں کو سبق مل چکا ہے، اب انہیں سوات پر قبضے کا خیال نہیں ستائے گا۔ تاہم یہ اس کی بھول تھی اور ایک دن وہ سوات کو اپنے ہاتھوں سے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔




ملکۂ سوات کا مرقد (فوٹو: ماجد ایف مسعود)

ملکۂ سوات کی یہ کہانی اور یوسفزئیوں کی سوات پر قبضے کی داستان تفصیل کی متقاضی ہے۔ یہاں اس واقعے کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قدرت نے دنیا میں بھی مکافات عمل کا سامان رکھا ہے۔ کوئی اگر ظلم کرے، تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اب بات آئی گئی ہوگئی۔ ایک دن اسے اپنے کیے کی سزا دنیا میں بھگتنی پڑے گی اور آخرت میں اللہ تعالی کے حضور وہ رسوا ہوگا۔ بالخصوص ایک ناتواں ذات اور معاشرے کے کمزور صنف پر روا رکھا جانے والا ظلم قدرت نے کبھی نہیں بخشا ہے۔ قدرت نے مظلوم کی داد رسی اور ظالم کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا ہے۔
سوات میں ایک ملکہ نہیں کہ اس پر یہ ظلم کیا گیا۔ یہاں چاروں طرف پردہ دار اور عفت مآب ملکائیں معاشرتی ظلم کی چکیوں میں پس رہی ہیں۔ بہنوں اور بیٹیوں کو میراث سے محروم رکھنا یہاں کا عام رواج ہے۔ بہن یا بیٹی کو خدا تعالیٰ نے ایک حق عطا کیا ہے لیکن ایک بھائی ساری زندگی اس پہ سانپ بن کر اسے کھاتا رہتا ہے۔ کسی دن اگر وہی بہن اس بھائی کے منہ لگے اور کچھ مانگے تو صلواتیں سننی پڑتی ہیں کہ یہ کیا میرے ہاتھوں کی کمائی کو مجھ سے چھینتی ہو؟ اگر وہ ڈرتے ڈرتے پوچھے کہ جس باپ کا تو بیٹا ہے اس نے مجھے بھی تو پیدا کیا تھا، سو اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں میرا بھی تو کچھ بنتا ہے، تو بھائی کا غصہ آسمان کو چھونا شروع کرتا ہے۔ عجیب عجیب واقعات سننے میں آرہے ہیں۔ دھوکے، فریب اور بچوں کی سی لے دے کے ذریعے بہنوں کا حق دبانا ہمارے غیرت مند مردوں کا وطیرہ ہے۔ ایک جاننے والے کے بارے میں سنا ہے کہ اس نے عدالت میں جائیداد کے کاغذات بنوا کر ساری جائیداد بیٹوں کے نام کرکے بیٹیوں کو اس سے محروم کردیا۔ گو ازروئے شرع باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی کمائی کسی کو دے کسی کو نہ دے لیکن یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ اولاد کو فاقہ زدہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ نیز ان کے ہاتھ پیر باندھ کر معاشرتی ظلم کے سامنے نہیں ڈالنا چاہئے۔
لمحۂ موجود میں سیکڑوں کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن میں بہنوں نے بھائیوں پر جائیداد کے مقدمات دائر کیے ہیں۔ میراث کی تقسیم میں شریعت کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے، تو ایسی نوبت نہیں آئے گی۔ قرآن نے صاف الفاظ میں عورت کا حصہ متعین کیا ہے۔ میراث میں ایک عورت کو مرد کا نصف ملنا چاہئے۔ خواتین کو معاشرے میں عزت کا مقام عطا کرنا چاہئے۔ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے انہیں مکمل تفریح کی اجازت دینی چاہئے۔ ان کے پسند و ناپسند کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کو ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔ اگر تم محروم رکھوگے، تو ایک دن ان میں بیداری آجائے گی اور قانونی طریقے سے اپنا حق مانگے گی۔ پھر تم روؤگے چلاؤگے کہ بہن مجھ سے میرا رزق چھین رہی ہے جبکہ تم اب تک اسی کے حق کو کھارہے ہوتے تھے۔ اب جب وہ اپنا حصہ مانگ رہی ہے، تو تمہیں تکلیف ہو رہی ہے۔ جج صاحبان کی خدمت میں گزارش ہے کہ ان کیسوں کو ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد نمٹائیں۔ ان کیسوں کو دیگر کیسوں کی طرح سالوں کی طوالت کا شکار نہ ہونے دیں، ورنہ یہ مظلوم بہنیں جو اَب تک خاموش بیٹھ کر بھائیوں کو اپنا حصہ کھاتے دیکھ رہی تھیں، مزید تاخیر کی متحمل نہیں ہوسکتیں!

لمحۂ موجود میں سیکڑوں کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن میں بہنوں نے بھائیوں پر جائیداد کے مقدمات دائر کیے ہیں۔ (Photo: Panoramio)

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے