712 total views, 1 views today

دینا واڈیا قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی رتن بائی جس کا نام شادی کے بعد تبدیل کر کے مریم جناح رکھا گیا تھا، سے اکلوتی اولاد تھی۔ وہ 15 اگست 1919ء کو لندن میں پیدا ہوئی۔ اس کی عمر صرف دس سال تھی کہ اس کی ماں انتیس برس کی عمر میں وفات پاگئی۔ قائد اعظم اپنی اکلوتی بیٹی سے بے حد محبت کرتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اس کی پرورش کا ذمہ اپنی پیاری بہن فاطمہ جناح کو سونپ دیا اور فرمایا کہ انہیں اسلامی تعلیمات سیکھائی جائیں، لیکن سیاست سے وابستہ ہوکر وہ اپنی بھتیجی کو زیادہ وقت نہیں دے پاتی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ننھیال کے قریب چلی گئی اور شاید اس وجہ سے ممبئی کے ایک نامی گرامی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک پارسی ’’نیولی واڈیا‘‘ سے اٹھارہ برس کی عمر میں والد کی اجازت کے بغیر شادی کی۔




قائد اعظم اپنی اکلوتی بیٹی سے بے حد محبت کرتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اس کی پرورش کا ذمہ اپنی پیاری بہن فاطمہ جناح کو سونپ دیا۔ (فوٹو بہ شکریہ ڈان)

یہ ایک ’’لو میرج‘‘ تھی اور شروعات میں اچھے تعلقات تھے، لیکن تھوڑے ہی وقت بعد دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے اور اس طرح یہ ایک کامیاب شادی ثابت نہ ہوئی۔ صرف پانچ سال بعد دونوں نے اپنے اپنے راستے جدا کر دئیے۔
دینا واڈیا کا صرف ایک بیٹا جس کا نام ’’نسلی واڈیا‘‘ اور ایک بیٹی ہے جس کا نام ’’ڈیانا این واڈیا‘‘ ہے۔ نسلی واڈیا جوکہ واڈیا گروپ کا چیئرمین ہے، اس کے دو بچے جن میں سے ایک بیٹی کا نام ’’نیس واڈیا‘‘ اور ایک بیٹے کا نام ’’جہانگیر واڈیا‘‘ ہے۔
والد محترم (قائد اعظم) کی وفات کے بعد دینا واڈیا صرف ایک مرتبہ 2004ء میں پاکستان تشریف لائی تھی۔ اس کا زیادہ تر وقت لندن میں گزرا۔ دینا واڈیا برطانیہ اور بھارت کی شہریت رکھتی تھی۔

دینا واڈیا کئی سالوں سے بیمار تھی۔ پھیپھڑو میں انفیکشن ہونے کے سبب 2 نومبر 2017ء کو وہ 98 سال کی عمر میں نیویارک میں جاں بحق ہوگئی۔

بالی وڈ کی معروف اداکارہ پریتی زنٹا نے اس سے کئی مرتبہ ملاقات کی۔ اپنے ایک بیان میں پریتی نے کہا تھا کہ میں قائد اعظم کے بارے میں پڑھی ہوں۔ میری اس پڑھائی کی روشنی میں باپ بیٹی میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔
دینا واڈیا کئی سالوں سے بیمار تھی۔ پھیپھڑو میں انفیکشن ہونے کے سبب 2 نومبر 2017ء کو وہ 98 سال کی عمر میں نیویارک میں جاں بحق ہوگئی۔

…………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے