64 total views, 1 views today

ذہن پر زور دیتا ہوں تو 90ء کا عشرہ گویا کسی خواب کی مانند لبوں پر مسکراہٹ بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ غالباً سنہ 86ء، یا 87ء میں پہلے پہل مَیں نے اپنے چھوٹے نانا (ناناجی غلام احد (ر) ہیڈ ماسٹر کے چھوٹے بھائی) عبدالاحد المعروف ’’تاتی‘‘ کو ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے باآوازِ بلند ایک مولانا کو وعظ و نصیحت کرتے سنا تھا۔ واضح رہے کہ میری تاریخِ پیدایش یکم جنوری 1981ء ہے جب کہ سکول ریکارڈ میں یکم جنوری 1980ء درج ہے۔ ’’چھوٹے نانا‘‘ کے گھر گرمیوں میں برف اور سردیوں میں سالن لینے جانا میرا معمول ہوا کرتا تھا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ مولانا کی بھاری بھر کم آواز میں ایک رُعب سا ہوتا تھا۔ اشعار کا مترنم انداز سننے والے کو سر دُھننے پر مجبور کرتا۔ درمیان میں ایسا کوئی چٹکلا ضرور چھوڑتے جس سے چھوٹے نانا کی ہنسی چھوٹ جاتی۔ ہنستے ہنستے ان کے پیٹ میں بل پڑجاتے۔ مولانا کے منھ سے نکلنے والی ’’برمحل گل پاشی‘‘ کے علاوہ کوئی ایک بھی بات ہمارے پلے نہ پڑتی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ’’ذوقِ گل پاشی‘‘ میں مولانا کا پورے کا پورا ہاتھ ہے۔
جس وقت ہم سالن یا برف لینے چھوٹے نانا کے ہاں حاضر ہوا کرتے۔ ایسے میں دو چیزوں سے ضرور سابقہ پڑتا: ایک اخبار اور دوسری مولانا کی گرج دار آواز۔




چھوٹے نانا ’’عبدالاحد‘‘ المعروف تاتی کے عالمِ شباب اور پیرانہ سالی کے مختلف مناظر۔ (فوٹوز: سحابؔ)

یہ تو بعد میں کوئی 20، 25 سال بعد پتا چلا کہ بچپن میں ہماری سماعت سے ٹکرانے والی گرج دار آواز کسی اور کی نہیں مولانا بجلی گھر (مرحوم) ہی کی تھی۔
رضوان جلیل نے روزنامہ ’’آج‘‘ (پشاور) کی 31 دسمبر 2021ء کی اشاعت میں اپنی ایک تحریر ’’حضرت مولانا محمد امیرؒ بجلی گھر کی حیات و خدمات پر ایک نظر‘‘ میں مولانا بجلی گھر کے حوالے سے رقم کیا ہے: ’’مولانا محمد امیر بجلی گھر درہ آدم خیل کی ذیلی شاخ اخوروال کے ایک گاؤں بلاقی خیل میں خان میر مرحوم کے ہاں 1927ء میں پیدا ہوئے۔ ‘‘
دوسری جانب گل محمد بیتابؔ اپنی پشتو خاکوں پر مبنی کتاب ’’دَ دستار سڑی‘‘ (مطبوعہ ’’اعراف پرنٹرز محلہ جنگی پیخور‘‘، سنہ اشاعت ’’جون 2022ء‘‘) کے صفحہ نمبر 111 پر مولانا (مرحوم) کی تاریخِ پیدایش 1934ء اور جائے پیدایش ’’درہ آدم خیل‘‘ درج کرتے ہیں۔
مولانا بجلی گھر کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ رضوان جلیل کی تحریر بھی اس بات کا اعادہ کرتی ہے۔ بعد میں ان کے والدین نے تلاشِ معاش کے چکر میں اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر پشاور کا رُخ کیا۔
رضوان جلیل اپنی تحریر میں آگے رقم کرتے ہیں: ’’آپ کے دادا اور والد محترم ایم ای ایس پشاور صدر بجلی گھر میں بطورِ ملازم لائن مین بھرتی ہوئے۔‘‘
کہتے ہیں کہ مولانا (مرحوم) انتہائی حاضر جواب تھے۔ ایک دفعہ انہیں کسی نے کہا کہ آپ تو پیغمبرؐ کے منصب پر بیٹھے ہیں۔ کچھ تو لحاظ کریں اور اس گل پاشی (یعنی گالیاں دینے) سے اجتناب برتیں۔ مولانا نے ایک لمحہ ضایع کیے بغیر جواباً کہا کہ پیغمبرؐ کے سامنے صحابہ کرامؓ جیسی ہستیاں بیٹھا کرتی تھیں جب کہ میرے سامنے آپ جیسے نمونے بیٹھتے ہیں۔
ایک اور موقع پر کسی نے چھیڑنے کی غرض سے پوچھا کہ مولانا! آپ کبھی جہادِ کشمیر کے لیے گئے ہیں؟ مولانا تاڑ گئے کہ سوال طنزیہ ہے۔ جواباً اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوئے: ’’جیسی قوم ہوتی ہے، ویسا ہی ان کا ملا ہوتا ہے۔‘‘
اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ کچھ یوں میری یادکا حصہ ہے کہ مولانا (مرحوم) ایک دفعہ آرمی سٹیڈیم پشاور میں اپنے دینی مدرسے کے چند طلبہ کے ساتھ ہوا خوری کے لیے جاتے ہیں۔ ایسے میں نمازِ عصر کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ مولانا (مرحوم) کاندھے سے اپنی چادر اُتار کر پارک ہی کے ایک چمن میں نمازِ باجماعت کا قصد کرلیتے ہیں۔ جیسے ہی اُن کے ایک شاگرد اِقامت پڑھنا شروع کرتے ہیں، تو آس پاس گھومنے والے کچھ باوضو لوگ دوڑے دوڑے چلے آتے ہیں۔ ابھی اِقامت ختم بھی نہیں ہوپاتی کہ وہاں ایک بندوق بردار نمودار ہوکر مولانا سے یوں مخاطب ہوتا ہے: ’’اُو مولوی! کیا تمھیں پتا نہیں کہ پارک کے اندر نماز پڑھنے پر پابندی ہے؟‘‘ مولانا کی حسبِ معمول مخصوص انداز میں باچھیں کھل اٹھتی ہیں اور جواباً نفی میں سر ہلانے پر اکتفا فرماتے ہیں۔ بندوق بردار اُس کے بعد اُنہیں تھوڑے سے سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’اچھا جی، اٹھائیے اپنی چادر اور لمبے بنیے۔ یہ پارک ہے آپ کی مسجد نہیں۔‘‘ مولانا (مرحوم) اپنے مخصوص انداز میں اُس کے سراپے کا جایزہ لے کر بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں: ’’ہمیں نماز پڑھنے سے حکومتِ پاکستان نہیں روک سکتی، تو آپ کس کھیت کی مولی ہیں؟‘‘ ابھی مولانا (مرحوم) کے تکبیرِ اُولا کے لیے انگوٹھے کان کے لوؤں تک پہنچے بھی نہیں ہوتے کہ رائفل کو لوڈ کرنے کی آواز کے ساتھ تمام مقتدی اِدھر اُدھر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ مولانا (مرحوم) جیسے ہی دائیں بائیں منتشر ہوتے ہوئے مقتدیوں کو دیکھتے ہیں، تو چپکے سے چادر اُٹھا، کاندھے پر رکھ بندوق بردار کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’برخوردار! جیسی قوم، ویسا ملا…… چلتے ہیں!‘‘
گل محمد بیتابؔنے اپنی کتاب ’’دَ دستار سڑی‘‘ میں ’’بجلی گھر‘‘ کے زیرِ عنوان مولانا (مرحوم) کے بارے میں کئی دلچسپ باتیں لکھی ہیں۔ جیسے صفحہ نمبر 112 پر بیتابؔ مولانا (مرحوم) کا نام ’’بجلی گھر‘‘ پڑنے کی وجہ یوں رقم کرتے ہیں: ’’دینی علم سے فراغت کے بعد مولانا ایوب جان بنوری صاحب نے انہیں اپنے مدرسے میں مدرس کے طور پر مقرر کرلیا۔ اس کے ساتھ 26 روپے ماہانہ کے عوض بجلی گھر مسجد میں پیش امام کی ذمے داری سنبھالی۔ ٹھیک 22 سال تک مذکورہ ذمے داری ادا کرتے رہے۔ یوں بجلی گھر مسجد کے پیشِ امام ہونے کی وجہ سے عوام الناس میں ’’بجلی گھر ملا‘‘ کے طور پر مشہور ہوئے۔
صفحہ نمبر 113 پر گل محمد بیتابؔ، مولانا بجلی گھر (مرحوم) کی شخصیت کے ایک چھپے ہوئے گوشے سے پردہ کچھ یوں سرکاتے ہیں (نیچے دی گئی عبارت کو اصل متن کا خلاصہ سمجھ لیں، راقم):
بیتابؔ رقم کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انٹرویو لیتے وقت مولانا (مرحوم) نے مجھے اپنی برداشت کے حوالے سے عجیب کہانی سنائی۔ ہوا یوں کہ ایک دفعہ مولانا (مرحوم) کے پاس ایک لڑکا پڑھنے کی غرض سے آیا اور کہا کہ وہ مولانا کے گاؤں کا رہنے والا ہے۔ مولانا جب لڑکے کے والد کا نام سنتے ہیں، تو ان پر گویا بجلی گرجاتی ہے۔ دراصل مذکورہ لڑکے کا دادا، مولانا کے والدِ بزرگوار کا قاتل ہوتا ہے۔ لڑکے کے دادا کا نام ’’زین گل‘‘ ہوتا ہے جس نے بڑی بے دردی کے ساتھ مولانا کے والد کو قتل کیا ہوتا ہے۔ مولانا کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکے سے پوچھتے ہیں کہ جانتے ہو تمھارے دادا نے میرے والد کے سینے میں پانچ گولیاں اتاری تھیں؟ اس کے ساتھ لڑکے کا چہرہ فق ہوجاتا ہے۔ دوسرے ہی لمحے مولانا اُسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھاتے ہیں۔ لڑکا اس موقع پر تھر تھر کانپ رہا ہوتا ہے۔ گاڑی نمک منڈی میں قاری فیاض کے مدرسے کے سامنے رکتی ہے۔ مولانا لڑکے کو ہاتھ سے پکڑ کر قاری فیاض کے حوالے کرتے ہیں۔وہاں سے فراغت کے بعد اُسے مولانا حسن جان کے مدرسے میں داخل کراتے ہوئے مولانا (مرحوم) انہیں تاکید کرتے ہیں کہ نوجوان کی تربیت میں غفلت نہ برتی جائے، اس کے دادا کے ہاتھوں میرے والدِ بزرگوار قتل ہوئے تھے۔ اس موقع پر مولانا حسن جان، مولانا بجلی گھر (مرحوم) کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ جیسا ایمان سب کو نصیب ہو۔
رضوان جلیل کے مطابق مولانا بجلی گھر 30 دسمبر 2012ء کو انتقال کرگئے…… جب کہ نمازِ جنازہ 31 دسمبر 2012ء کو صبح 11 بجے قیوم سٹیڈیم صدر (پشاور) میں ادا کی گئی۔

مولانا محمد امیر بجلی گھر کی قبر کا اِک منظر (فوٹو: facebook.com/MolanaBijlyGhar)

خواجہ حیدر علی آتشؔ کے اس شعر کے ساتھ آج کی نشست برخاست سمجھیں کہ
اُٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے، کس کس کا ماتم کیجیے!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔