59 total views, 1 views today

پُراَسرار واقعات اورحادثات کاانسانی تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ ادوار کے تنوع، انسانی تخلیقی صلاحیتوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اورجدید ٹیکنالوجی کے باوجود ابھی تک ایسے بے شمارپُراَسرار واقعات اور معمے موجودہیں جنہیں ہم حل کرنے میں ناکام ہیں۔ دیگر دنیا کی طرح پاکستانی تاریخ میں بھی بہت سارے پُراَسرار واقعات ہیں جن کی گتھی ہم آج تک سلجھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
٭ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کا قتل بھی ایک معما ہے۔ لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951ء کوراولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران میں سینے میں دوگولیاں مار کرشہید کر دیا گیا۔ ایک پولیس افسر نے قاتل سید اکبر ببراک کو فوراً موقع ہی پر گولی مار دی۔ قاتل ہزارہ کا رہنے والا ایک افغانی ماہر اور تربیت یافتہ قاتل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قاتل کو گولی مارنے والا پولیس افسر بھی اس سازش میں شامل تھا۔ لیاقت علی خان کو شہیدکرنے میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ اور گولیاں امریکی ساختہ تھیں اور یہ اعلا امریکی فوجی افسران کے استعمال میں ہوتی ہیں۔ کچھ طبقات گورنر جنرل غلام محمد اور کچھ مشتاق احمد گورمنی کو لیاقت علی خان کے قتل کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔ کچھ طبقات امریکہ کو افغان حکومت کے ذریعے لیاقت علی خان کوقتل کروانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں…… تاہم ان تمام مفروضوں اور قیاس آرائیوں کے باوجود پاکستانی تاریخ کا یہ قتل بھی ابھی تک ایک معما ہی ہے۔
٭ ان پُراَسرار واقعات میں سے ایک قتل محترمہ بے نظیر بھٹو کا ہے۔ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو ایک جلسے کے دوران میں راولپنڈی لیاقت باغ میں شہید کر دیا گیا۔ فائرنگ کے فوراً بعد خودکش دھماکا کیا گیا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی برسرِ اقتدار آئی اور ان کے خاوند آصف علی زرداری ملک کے سربراہ ہونے کے باوجود محترمہ کے قاتلوں کو تلاش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلا قیادت بھی محترمہ کے قتل سے متعلق ایک پیج پر نہ تھی۔ محترمہ کی شہادت کے فوراً بعد ان کا ریکارڑ حکومتی حکام نے قبضے میں لے لیااور متعلقہ ڈاکٹروں کو بھی اس معاملے پر بات کرنے سے روک دیا گیا۔ بدقسمتی سے تدفین سے قبل کوئی روایتی ’’آٹوپسی‘‘ تک نہ کی گئی۔ کیوں کہ محترمہ بھٹو کے شوہر نے ’’آٹوپسی‘‘ کرنے سے منع کر دیا تھا۔ اس معمے کو حل کرنے کے لیے ’’سکاٹ لینڈ یارڈ‘‘کی مدد بھی لی گئی…… مگر وہ بھی اس پُراَسرار کیس کو سلجھانے میں ناکام رہے۔ القاعدہ کمانڈر ’’مصطفی الیزیدی‘‘ نے اس منصوبے کی ذمہ داری قبول کی…… جب کہ سی آئی کے ڈایریکٹر مائیکل ہیڈن کے بقول اس پُراَسرار قتل میں محسود گروپ ملوث تھا۔ 3 اکتوبر 2006ء کو محترمہ بھٹو کی جانب سے جنرل مشرف کو لکھے گئے خط میں اعجاز شاہ، ارباب غلام رحیم، چوہدری پرویز الٰہی اور جنرل حمید گل کو اپنے ممکنہ قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ محترمہ کی چار ’’خفیہ ای میلیں‘‘ جنرل مشرف کو ممکنہ قتل کا موردِ الزام ٹھہراتی ہیں۔ اس طرح ڈھیر سارے لوگ محترمہ کے خاوند (آصف علی زرداری) کو ان کے قتل کا ذمہ دار تصور کرتے ہیں۔ تاہم اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی پاکستانی تاریخ کے اس پُراَسرار قتل کی گتھی نہ سلجھ پائی۔
٭ اس طرح تیسرا پُراَسرار قتل جنرل ضیاء الحق کا ہے۔ جنرل ضیاء الحق حادثے کے وقت ملک کے صدر اور فوج کے سربراہ بھی تھے۔ وہ 17 اگست 1988ء کو ایک C-130 طیارے کے حادثے میں شہید ہوگئے۔ بہت سے اعلا سو ل اور فوجی افسران بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے امریکہ نے ایئر فورس کی ایک ٹیم پاکستان بھیجی…… جس نے حادثے کی وجہ کو ایک تکنیکی خرابی قرار دیا۔ پاکستان کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم نے 365 صفحات پر مشتمل ’’خفیہ رپورٹ‘‘ پیش کی…… جس میں دھماکا خیز مواد کی آموں کی پیٹی میں موجودگی ظاہر کی گئی۔ جنرل حمید گل نے امریکہ کو حادثے کاممکنہ ذمے دار ٹھہرایااور بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کو اس سازش میں ملوث قرار دیا۔ کچھ لوگوں کے مطابق ضیاء الحق کو شہید کرنے کے درپے ایک حریف گروہ ’’ال ذولفقار‘‘ اور کچھ مذہبی گروہ تھے۔ کچھ اعلا فوجی افسران کو اس منصوبے کا ذمہ دار تصورکرتے ہیں…… مگر ان تمام مفروضوں کے باوجود اس پُراَسرار قتل کی بھی گتھی نہیں سلجھ پائی۔
٭ حکیم محمد سعید صاحب کا قتل بھی ایک پہیلی ہے۔ حکیم صاحب (شہید) ایک عالم، طبی محقق کے علاوہ سندھ کے سابقہ گورنر بھی رہ چکے تھے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی ہونے کے ساتھ ساتھ تقریباً 200کتب کے مصنف بھی تھے۔ 1998ء میں ’’ہمدرد لیبارٹریز‘‘ جاتے ہوئے شہید کر دیے گئے۔ اس حوالہ سے’’متحدہ قومی موومنٹ‘‘ کے نامعلوم قاتلوں کو گرفتار کرکے سزائے موت بھی دی گئی…… مگر اس قتل کے پیچھے کون تھا؟ یہ راز اب تک راز ہی ہے۔ لوگوں کی اکثریت الطاف حسین کو اس قتل کے لیے قصور وار ٹھہراتی ہے، واللہ اعلم!
٭ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو 2 مئی 2011ء کو ممکنہ طور پر ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز نے ایک آپریشن کے ذریعے شہید کرنے کادعوا کیا۔ امریکہ نے آئی ایس آئی کے سربراہ پر اسامہ کی موجودگی بارے علم ہونے کا الزام لگایا۔ اسامہ پر پینٹاگون حملے کا الزام تھا۔ امریکہ نے اسامہ کو ممکنہ طور پر مارنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا۔ اسامہ کی لاش کوسمندر میں پھینکنے، اس کی تصاویر شائع نہ کرنے اور ا س کے ڈی این اے کے فوری نتائج نے اس آپریشن کو معما بنا دیا ہے کہ آیا اسامہ ایبٹ آباد میں موجودبھی تھا یا نہیں؟ بعض لوگوں کے مطابق اسامہ ’’طالبان امریکی جنگ‘‘ کے اوایل ہی میں شہید ہوگیا تھا۔ امریکہ بس ایک نفسیاتی ڈراما رچاتا رہا۔ اسامہ کے خلاف آپریشن اور ان کی شہادت بھی اب تک ایک معما ہی ہے۔
٭ مصحف علی میرپاکستان فضائیہ کے سولھویں سربراہ تھے۔ 20 فروری 2003ء کو طیارے کے ایک حادثے میں اپنی بیوی اور دیگر افسران سمیت کوہاٹ کے قریب شہید ہوگئے۔ فضائیہ کے مطابق حادثہ پائلٹ کی غلطی اور شدید موسمی خرابی کے باعث پیش آیا۔ ایک تحقیق (صحافی جیرالڈ پوزنر کی کتاب میں موجود) کے مطابق یہ حادثہ نہیں تھا…… بلکہ مصحف علی میر سمیت تین دیگر اہم شخصیات یعنی سعودی شہزادہ ترکی بن فیصل السعود جو سعودی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی تھے…… اور اسامہ بن لادن ایک منصوبے کے تحت شہید کیے گئے ہیں۔ سعودی شہزادہ مریکہ کے ہاتھوں پاکستانی اڈوں کے استعمال کے شدید مخالف تھا۔ مصحف علی میر کی شہادت بھی دیگر پُراَسرار واقعات کی طرح ایک معما ہی ہے۔
……………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!